’’۲۰۲۰ ء کے گھٹن زدہ ماحول میں شکست کھائی ہوئی زندگی کا درد ذاکر فیضی جیسا افسانہ نگار ہی محسوس کر سکتا ہے‘‘
سال گزشتہ جاتے جاتے ہم سے بہت کچھ چین لے گیا،کرونا مہاماری سے زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہوا، ایک ایسا دور گزرا جس میں انسان کو سانس لینے کے لئے سوچنا پڑ گیا۔پھر بھی زمانے کے سردو گرم تھپیڑے کھاتے ہوئے زندگی کا کارواں بڑھتا رہا بڑھ رہا ہے ۔جہاں ہر کسی نے ایک دوسرے کے دردو غم ، رنج و تکلیف کا منظر دیکھا وہیں ذاکر فیضی جیسا کہانی کار سب کے ساتھ بھیڑ میں الگ الگ مناظر کو دیکھتا رہا کرب محسوس کرتا رہا۔
کیا سچ تھا اور کیا دکھایا گیا ؛کبھی عشق کے وصال نے اپنی ہوس کی بھوک مٹانے کے لئے معصوم زندگی کا گلا گھونٹا تو کبھی ہوس نے لباس بدلا اور اپنے جسم سے الگ ہو کر کسی دوسرے کے جسم پر کروٹیں لینے لگا۔ہوتا کچھ رہا دکھتا کچھ رہا ۔ اس کی اصل وجہ سماج اور میڈیا بنا کیونکہ اس نے کسی کی لٹتی جوانی دیکھی تو اسے پاگل اور وحشی کہا،کسی کا ڈھلتا ہوا حسن دیکھا تو اسے بڑھاپا کہہ دیا، کسی کی لٹتی عصمت دیکھی تو اسے رضامندی کہہ دیا، کسی دوشیزہ کی ہوس کے درندوں کے ذریعے کھائی ہوئی کچھ بچی ہوئی جلتی لاش دیکھی تو اسے قتل کہا، اپنی مرضی سے جینے کی زندگی کو لوجہاد کہا، محبت کے شجر سے لپٹی ہوئی بیل کو قاتل کہا، میری مرضی میرا جسم کا نعرہ اٹھا تو اسے لڑکیوں کے چہرے کے لئے ،کریم ،لپسٹک بنا دیا،خود کا حق چھننے کی آواز اٹھی تو اسے غیر قانونی قرار دیا۔ضحاک میں پروفیسر محمد حسن صاحب کے جملے کل بھی کچھ کہہ رہے تھے اور آج بھی کہ ’’زمانے کو لفظوں کے معنی بدلنے پڑیں گے تاکہ میرے محسن شہنشاہ کو قاتل نہ کہا جائے‘‘۔ آج کا میڈیا ایسا ہی ہے۔
ذاکر فیضی صاحب نے میڈیا کے کاروبار کو حمام میں ننگا کر دیا ۔دولت اور شہرت کے نام پر کی جارہی عیاشی کو برہنہ کر دیا،انسان کا انسان پر سے اٹھتا اعتبار چاہے وہ مرد کا عورت سے ہو یا عورت کا مرد سے ۔کہانی کا اتفاق ہی ایسا تھا کہ یا کہ حقیقت تھا کہ جب ایک عورت اپنی ہوس کی پیاس بجھانے کے لئے اپنے بچے کو زہریلے سانپ کی پناہ گاہ میں محفوظ سمجھ کر خودایک دوسرے زہریلے سانپ غیر مرد یعنی خواب گاہ میںاس سے کھیل رہی تھی تب اس کے منے کے جسم میں حقیقی سانپ نے اپنا زہر سرایت کر دیا تھا۔سچا قاری افسانہ ’’اتفاق‘‘ کے جب آخری منظر نامے پر آئے گا تو اس جملے پر ضرور رکے گا؛’’اتفاق نے دیکھا… منے کے مردہ جسم کے قریب ایک زہریلا سانپ رینگ رہا تھا‘‘سوچے گا کہ ایک عورت چند لمحے کی ہوس کی پیاس بجھانے کے لئے ایسا کیوں کر دیتی ہے۔
زندگی کہیں نہ کہیں سے تو بکھری ضرور ہوتی ہے انسان کتنا بھی سکون میں رہے لیکن اسے اپنی موجودہ زندگی سے شکایت ہوتی ہے اور جس کی زندگی اتھل پتھل کا شکار ہو اس کے بارے میں سوچنا کیسا؟ ۔ ’’ٹوٹے گملے کا پودا‘‘ ایک ایسا افسانہ ہے جو زندگی کی تصویرکشی اس طرح کرتا ہے کہ ؛
’’ اس کی نگاہ ایک کونے میں پڑے ٹوٹے گملے کی طرف گئی ، تو اسے خیال گزرا ،اس کی زندگی بھی گملے کے اس پودے کی ہی طرح ہے …اسی گملے سے شروع ہو کر اسی میں ختم‘‘۔
کہانی میں سچائی تو ہوتی ہے ضرور اس لئے کہ فرضی کہانیاں ذہنوں پر وہ تاثرات نہیں قائم کر پاتیں جو حقیقی ، اور ایک کہانی کار جو دیکھتا ہے وہی محسوس کرتا ہے وہی لکھتا ہے ۔بلکہ اس سے کچھ زیادہ بھی۔
لفظ ’’حمام ‘‘پہ مت جائے ۔جس دور کہ کہانی لکھ رہے ہیں وہ ایسا ہی ہے کہ ایک حمام میں سب ننگے۔ کہاوت پرانی ہو چکی ، لیکن کہانی تو تب بھی کہانی تھی آج بھی کہا نی ہے ۔ اس لئے شایدفیضی صاحب کو ’’ نیا حمام ‘‘ بنانا پڑا۔کبھی جب آپ اپنے کمرے میں تنہا ہوں تو ’میرا کمرہ‘ پڑھئے۔پھر سوچئے کہ کیا ’میں آدمی ہوں یا انسان ‘‘کہانی جھوٹی ہو یا سچی‘‘ورثے میں ملی ہو یا کسی ’’کوڑا گھر‘‘ سے لیکن ہے تو کہانی ہی۔ جب آپ کہو گے کہ ’’ہٹ بے‘‘کہانی لکھی ہے کہ موڈ خراب کر دیا ’’اسٹوری میں کوئی دم ہی نہیں‘‘ تب میں سوال کروں گا کہ؛ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس میں کسی کہانی کا حصہ آپ ہی تو نہیں ۔اس لئے کہ سچ کسی سے برداشت نہیں ہوتا۔رکھئے ہاتھ ’’گیتا پہ یا قرآن ‘‘ پہ قسم کھائے کہ اس کہا نی کا حصہ آپ نہیں۔مسلم ہو قرآن کا نام سنا چونک گئے ، گیتا دیکھ کے سکون کا سانس لیا کہ چلو اپنے مذہب کی نہیں کھا لیتے ہیں قسم ،لیکن رک جائے آپ ہندو ہیں تو لاؤ قرآن پہ ہاتھ رکھ کے کھا لیتے ہیں۔ لیکن یاد رکھئے گا تب بھی آپ کا ہاتھ جائے گا ،کیونکہ ہماری مملکت میں مذہب کی توہین جرم ہے ، گناہ ہے۔ ذرا سونچ کے ہاتھ رکھئے گا جلے ہوئے ہاتھ عام نگاہیں نہ دیکھ سکیں تو کیا ہو اذاکر فیضیؔ ضرور دیکھ لے گا پھر تو سچائی لکھ دے گا تب کہوگے کیا بکواس لکھتا ہے ۔ بند کرو اپنا تماشا جھوٹ ،فریب اور مکاری کا لبادہ اوڑھ کر زیادہ دن نہیں رہ سکتے ۔ اس لئے اسے سچ ماننا ہی ہوگا ۔زور زبردستی سے نہیں کیونکہ سچ ہے اس لئے۔ ( یہ بھی پڑھیں فاروقی کی افسانہ نگاری کے خلاف- رحمٰن عباس )
میں نے بہت کچھ لکھ دیا اتنا کہ فیضی صاحب کہ ایک کہانی کے برابر بھی نہیں ہوا۔ لیکن فیضی صاحب ہیں ’’نیا حمام ‘‘ بنا چکے ہیں بہت زیادہ وقت میں لیکن ایک ہی پھر بھی چاروں طرف آئینہ لگا دیا ہے جس میں عریاں ہونے کے بعد صرف جسم ہی برہنہ نظر نہیں آئے گا ،ساری کرتوت نظر آجائے گی۔
فیضیؔ صاحب کی پہلی کہانی کا مجموعہ ’’نیا حمام ‘‘ ہے ۔انھوں نے بہت زیادہ نہیں لکھا کم ہی لکھا ۔لیکن الگ لکھا ۔افسانوی لب و لہجہ میں کسی کی تقلید نظر نہیں آتی۔ کہانی کا کینوس علاحدہ ہے ۔انداز بیان الگ ہے۔اس مجموعے میں ۲۵؍افسانے اور ۵؍افسانچے شامل ہیں۔کتاب کے انتساب کے بعد پروفیسر عباس رضا نیر صدر شعبہ ٔ اردو لکھنؤ یونیورسٹی کی نظم ’’خواب کو موت آتی نہیں ‘‘ شامل ہے ۔مبارک باد نہیں دوں گا کیونکہ جیسے’’ حمام‘‘ بنایا ویسے کوئی ’’لنگر کھانا ‘‘ بھی بناؤ تاکہ پیٹ کی آگ بجھ سکے۔
بیوی کی دھمکیاں ’’میں سب سے کہہ دوں گی کہ ذاکر فیضی فرضی رائٹر ہیں ‘‘ آپ کی بیوی صرف امور خانہ داری کا ہی فن نہیں جانتی ،بہت کچھ جانتی ہیں ،کیونکہ انھوں نے آپ کو بچا لیا فرضی رائٹر ہونے سے اور فرضی شوہر ہونے سے۔
Zayer Husain Salsi
s/o Alhaj Mohammad Jafar Sahab
Mohallah:- Jafrabad (Badi Masjid)
Post:- Jalalpur,
District:- Ambedkar Nagar,
State:- U.P.
Pin Code:- 224149(INDIA)
Mobile:- 9795135631,8127767258
E-mail:- zayerhusainsalsi@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

