رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں – ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

by adbimiras
0 comment

رسول اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا ایک امتیازی پہلو یہ بھی ہے کہ وہ پرائیویٹ اور پبلک، دو حصوں میں منقسم نہیں تھی۔ آپ جیسے گھر سے باہر نظر آتے تھے، ویسے ہی گھر کے اندر بھی تھے۔ آپ کی گھریلو اور بیرونی، دونوں زندگیوں میں حد درجہ مطابقت تھی۔ آپ کی نجی اور گھریلو زندگی ایک کھلی کتاب کے مثل تھی۔ آپؐ نے اسے نہ صرف یہ کہ کبھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، بلکہ گھر والوں، خادموں اور قریبی لوگوں کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ آپؐ کو جس حال میں بھی دیکھیں اور جو کچھ کرتے یا کہتے ہوئے پائیں اسے بغیر کسی ادنیٰ تامّل کے دوسروں سے بیان کرسکتے ہیں۔

کسی بھی فرد کی اندرونِ خانہ زندگی اس کی شخصیت کی بہترین عکاس ہوتی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ وہ باہر کی زندگی میں، جب وہ دوسرے انسانوں کے روبروٗ ہوتا ہے، تقدس کا لبادہ اوڑھ لیتا ہو اور اپنی اصل شخصیت سے مختلف صورت میں خود کو ظاہر کرتا ہو، لیکن وہ اپنے گھروالوں کو اندھیرے میں رکھنے میں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ اس کی تمام خوبیاں اور خامیاں ان کی نگاہوں کے سامنے رہتی ہیں۔ اس لیے کسی فرد کی عظمت کو جانچنے اور پرکھنے کی بہترین کسوٹی اس کی اندرونِ خانہ مصروفیات ہیں۔ دیکھنا چاہیے کہ وہ دوسروں کو جس تقویٰ، دین داری اور پرہیزگاری کی تبلیغ کررہا ہے اس پر وہ خود کتنا عمل کررہا ہے اور اپنے بیوی بچوں سے کتنا عمل کروارہا ہے؟ جس دین کی اقامت کا وہ علم بردار بنا ہوا ہے اس کو اپنے گھر میں کس حد تک قائم کرنے میں کامیاب ہوسکا ہے؟ جس سادگی و قناعت، ایثار و قربانی اور خلوص و للہیت کے فضائل وہ دوسروں کے سامنے بیان کررہا ہے اس کی جھلک اس کی اپنی گھریلو زندگی میں کس حد تک نظر آتی ہے؟ اس کسوٹی پر ہم رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کو پرکھیں تو وہ عظمت کے انتہائی اعلیٰ معیار پر نظر آتی ہے۔ بیویاں عموماً شوہروں کے رازوں کی امین ہوتی ہیں۔ وہ ان کی کم زوریوں کو چھپاتی اور کوتاہیوں پر پردہ ڈالتی ہیں، لیکن ازواجِ مطہرات کا حال یہ تھا کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے آپؐ کی خلوت کے ایک ایک معاملح کو محفوظ رکھا اور پوری سچائی اور امانت و دیانت کے ساتھ اُسے امت تک منتقل کیاہے۔ اس طرح آپؐ کی اندرونِ خانہ زندگی بھی اپنی تمام تفصیلات و جزئیات کے ساتھ ہمارے سامنے ہے۔ ہم جس طرح مستند معلومات کی روشنی میں یہ جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ گھر سے باہر جب صحابۂ کرامؓ کے ساتھ ہوتے تھے توکیا سرگرمیاں انجام دیتے تھے؟ اسی طرح ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جب آپ دوسرے انسانوں کی نگاہوں سے دور خلوت کدوں میں اپنی ازواجِ مطہرات اور بچوں کے درمیان ہوتے تھے تو آپ کا رہن سہن کس طرح کا ہوتا تھا؟ اور آپ کیا کرتے تھے؟ اس طرح ہم آپؐ کی جلوت کی زندگی کی طرح خلوت کی زندگی کو بھی اپنے لیے نمونہ بناسکتے ہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں لڑکی کی پیدائش میں عورت کا کردار – ڈاکٹرمحمدرضی الاسلام ندوی)

نوافل کی ادائی

اللہ کے رسول ﷺ اندرونِ خانہ کثرت سے نوافل کا اہتمام فرتے تھے۔ آپؐ یہ عمل دن کے مختلف اوقات میں انجام دیتے تھے۔ خاص طور پر رات کا بیش تر حصہ اسی میں گزارتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ظہر سے قبل دو رکعتیں اور ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ مغرب کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔ عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ جمعہ کی نماز کے بعد سیدھے گھر آتے تھے اوروہاں دو رکعتیں نماز پڑھتے تھے۔ (بخاری: ۹۳۷، ۱۱۶۵، ۱۱۷۲، ۱۱۸۰، مسلم: ۷۲۹)

حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إِذَا قَضٰی اَحَدُکُمْ صَلَاتَہٗ فَلْیَجْعَلْ لِبَیْتِہِ مِنْہَا نَصِیْباً فَاِنَّ اللّٰہَ جَاعِلٌ فِیْ بَیْتِہٖ مِنْ صَلَاتِہٖ خَیْراً۔ (ابن ماجہ: ۱۳۷۶، صححہ الالبانی)

’’تم میں سے کوئی شخص جب (فرض) نماز سے فارغ ہوجائے تو اپنے گھر میں بھی کچھ نماز پڑھا کرے۔ اللہ تعالیٰ گھر میں اس کے نماز ادا کرنے سے خیروبرکت کا معاملہ فرمائے گا۔‘‘

حضرت عبداللہ بن سعدؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا: گھر میں نماز ادا کرنا افضل ہے یا مسجد میں؟ جواب میں آپؐ نے فرمایا: دیکھو، میرا گھر مسجد سے کتنا قریب ہے۔ پھر بھی فرض نمازوں کے علاوہ دوسری نمازیں مسجد کے بجائے گھر میں ادا کرنا مجھے زیادہ پسند ہے۔‘‘ (ابنِ ماجہ : ۱۳۷۸، صححہ الالبانی)

حضرت ابنِ عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

اِجْعَلُوا فِیْ بُیُوْتِکُمْ مِنْ صَلَاتِکُمْ وَلَا تَتَّخِذُوْنَہَا  قُبُوْراً۔

(بخاری:۱۱۸۷)

’’اپنے گھروں میں بھی کچھ نمازیں ادا کیا کرو۔ انھیں قبرستان نہ بنالو۔‘‘

نمازِ تہجد

اللہ کے رسول ﷺ راتوں میں اٹھ کرکثرت سے اپنے رب کی عبادت کرتے اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ اس کی شہادت متعدد امّہات المؤمنین نے دی ہے۔

حضرت میمونہؓ فرماتی ہیں: نبی ﷺ نماز پڑھتے تھے، میں آپؐ کے پہلو میں لیٹی ہوئی ہوتی تھی۔ (بخاری: ۳۷۹، ۵۱۸)

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: نبی ﷺ نماز پڑھتے تھے، جب کہ میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان بستر پر لیٹی ہوئی ہوتی تھی۔ (بخاری: ۳۸۳)

بعض احادیث کا صحیح مفہوم نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض صحابہ کہتے تھے کہ اگر کسی نمازی کے سامنے سے کتّا، گدھا یا عورت گزرجائے تو اس کی نماز باطل ہوجاتی ہے، اس پر نقد کرتے ہوئے حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:

’’تم لوگوں  نے ہم عورتوں کو کتّے اور گدھے کے برابر کردیا، حالاںکہ میں بستر پر لیٹی ہوئی ہوتی تھی، نبی ﷺ تشریف لاتے اور نماز پڑھنے لگتے۔ مجھے اچھا نہ لگتا کہ میں آپ کے سامنے لیٹی رہوں، چناںچہ میں پائنتی کی طرف سے چپکے سے کھسک لیتی تھی۔‘‘

(بخاری: ۳۸۲، ۵۰۸)

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں:

’’اللہ کے رسول ﷺ ہمیشہ گیارہ رکعتیں نماز پڑھا کرتے تھے۔ آپ ؐ کے سجدے بہت طویل ہوتے تھے۔ ایک سجدہ آپؐ اتنا طویل کرتے تھے جتنی دیر میں تم میں سے کوئی شخْص پچاس آیتیں پڑھ لے۔’’                                        (بخاری: ۱۱۲۳)

حضرت عائشہ ؓ آں حضرت ﷺ کے طویل قیام کا بھی تذکرہ کرتی ہیں۔ فرماتی ہیں:

’’آپ کا قیام اتنی دیر تک ہوتا تھا کہ آپ کے قدموں میں ورم آجاتا تھا۔‘‘

(بخاری، کتاب التہجد، باب قیام النبیؐ اللیل، ترجمۃ الباب)

حضرت مغیرہؓ بیان کرتے ہیں:

’’نبی ﷺ نمازوں میں اتنا طویل قیام فرماتے تھے کہ آپؐ کے پیروں (یا فرمایا: پنڈلیوں) میں ورم آجاتا تھا۔ آپ ؐ سے کہا گیا کہ آپؐ اتنا طویل قیام کیوں کرتے ہیں؟ آپؐ نے جواب دیا:

أَفَلَا اَکُوْنَ عَبْداً شَکُوْراً۔                    (بخاری:۱۱۳۰)

’’کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔‘‘

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہوے فرماتے ہیں: ’’میں نے نبی ﷺ کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی۔ آپؐ نے اتنا طویل قیام کیا کہ (میرے لیے ناقابلِ برداشت ہوگیا اور) میں نے ایک برے کام کا ارادہ کرلیا۔ شاگردوں نے دریافت کیا: کیسا برا کام؟ فرمایا: میں نے ارادہ کرلیا کہ نیت توڑ کر الگ بیٹھ رہوں۔‘‘ (بخاری : ۱۱۳۵)

حضرت انس بن مالکؓ اپنے شاگردوں سے بیان کرتے ہیں:

’’تم رسول اللہ ﷺ کو رات میں نماز پڑھتا ہوا دیکھنا چاہتے تو دیکھ سکتے تھے اور سوتا ہوا دیکھنا چاہتے تو دیکھ سکتے تھے۔‘‘ (بخاری:۱۱۴۱)

حضرت عائشہؓ کے شاگرد اسودؒ نے ان سے دریافت کیا: رسول اللہ ﷺ رات میں کس طرح نماز پڑھا کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا: آپؐ رات کے پہلے پہر سوجاتے تھے اور آخری پہر اٹھ کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ پھر(فجر سے ذرا پہلے) بستر پر تھوڑی دیر آرام کرتے تھے۔ جب مؤذن اذان دیتا تو دفعۃً اٹھ جاتے تھے۔ (بخاری: ۱۱۴۶)

دعاؤں کا اہتمام

آں حضرت ﷺ گھر میں مختلف اوقات میں دعاؤں کا اہتمام کرتے تھے۔ بستر پر سونے کے لیے جاتے وقت، بیدار ہوتے وقت، بیت الخلا میں جاتے وقت،وہاں سے نکلتے وقت، کھانا کھانے سے پہلے، کھانا کھانے کے بعد، مختلف مناسبتوں کے علاوہ بغیر مناسبتوں کے بھی، کثرت سے آپؐ سے دعائیں منقول ہیں۔ ایک مومن کا اپنے رب سے کتنا گہرا تعلق ہونا چاہیے، اسے اپنے رب سے دعا و مناجات کا کتنا اہتمام کرنا چاہیے، آں حضرت ﷺ کی زندگی اس کی عملی تفسیر تھی۔

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ جب سونے کے لیے بستر پر جاتے تو معوذات پڑھتے، داہنے ہاتھ پر پھونکتے، پھرانھیں پورے بدن پر پھیر لیتے۔ (بخاری: ۶۳۱۹)

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب بیت الخلا جاتے تو یہ دعا پڑھتے تھے:

اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ۔

(بخاری:۶۳۲۲، مسلم:۳۷۵)

’’اے اللہ میں تجھ سے شیاطین (مذکر و مؤنث) کی پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کو کثرت سے یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا کرتا تھا:

اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْہَمِّ وَالْحُزْنِ وَالْعَجْزِ وَالْکَسْلِ وَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّیْنِ وَغَلَبَۃِ الرِّجَالِ۔          (بخاری: ۶۳۶۳)

’’اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں رنج و غم، بے بسی، بے کاری، بخل، بزدلی، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبہ و تسلط (اور ظلم) سے۔‘‘

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں:

نبی ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے:

اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکَسْلِ وَالْہَرَمِ وَالْمَاثَمِ وَالْمَغْرَمِ، وَمِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَۃِ النَّارِ وَ عَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَۃِ الْغِنٰی، وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْفَقْرِ، وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، اَللّٰہُمَّ اغْسِلْ عَنِّی خَطَایَایَ بِمَائِ الثَّلْجِ وَالْبَرْدِ وَنَقِّ قَلْبِیْ مِنَ الْخَطَایَا کَمَا نَقَّیْتَ الثَّوْبَ الْاَبْیَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ خَطَایَایَ کَمَا بَاعَدْتَ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ۔      (بخاری: ۶۳۶۸)

’’اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کاہلی، بڑھاپا، گناہ اور قرض سے۔ قبر کی آزمائش اور قبر کے عذاب سے، جہنم کی آزمائش اور جہنم کے عذاب سے، مال داری کے بری آزمائش سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں فقر کی آزمائش سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے، اے اللہ میری خطاؤں کو برف اور اولے کے پانی سے دھودے، میرے دل کو خطاؤں سے اس طرح صاف کردے جیسے تو نے سفید کپڑے کا میل کچیل صاف کردیا۔ میری خطاؤں اور میرے درمیان اتنی دوری کردے جتنی مشرق و مغرب کے درمیان ہے۔‘‘

آں حضرت ﷺ کی بہت سے دعائیں ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ اور آپؐ کے خادمِ خاص حضرت انسؓ سے مروی ہیں۔ظاہر ہے کہ آپؐ گھر میں ان دعاؤں کا اہتمام کثرت سے فرماتے تھے۔

گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانا

کارِ دعوت کی بے شمار مصروفیات کے باوجود آں حضرت ﷺ گھر کے چھوٹے بڑے کاموں کے لیے وقت نکال لیتے تھے اوران کی انجام دہی میں اہلِ خانہ کا ہاتھ بٹاتے تھے۔حضرت عائشہ ؓ کے شاگرد اسود بن زید نے ایک مرتبہ ان سے دریافت کیا: ’’نبی ﷺ جب گھر میں ہوتے تھے تو کیا کرتے تھے؟‘‘ حضرت عائشہؓ نے مجمل انداز میں جواب دیا: ’’آپؐ اپنے گھر والوں کے کاموں میں مصروف ہوتے تھے، لیکن جوں ہی اذاں سنتے فوراً نماز کے لیے گھر سے نکل جاتے تھے۔‘‘ (بخاری: ۵۳۶۳) دوسری روایت میں ہے کہ اس سوال کے جواب میں حضرت عائشہؓ نے فرمایا: ’’آپؐ بھی دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان تھے۔ اپنے کپڑوں سے جوں نکالتے، اپنی بکری کا دودھ دوہتے اور گھر کے دوسرے کام انجام دیتے تھے۔‘‘ (احمد، ۶/۲۵۶)

بیوی بچوں کی دل داری

آں حضرت ﷺ گھر میں بیوی بچوں کے ساتھ بھی خاصا وقت گزارتے تھے۔ آپؐ ان کے ساتھ نرمی اور ملائمیت سے پیش آتے، خوش طبعی اور ہنسی مذاق کرتے اور ان کے ساتھ محبت و اکرام کا معاملہ فرماتے تھے۔ حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَہْلِہٖ وَاَنَا خَیْرُکُمْ لِاَہْلِی۔ (ابن ماجہ: ۱۹۷۷)

’’تم میں سے بہتر وہ شخص ہے، جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر سلوک کرتا ہو اور گھر والوں کے ساتھ معاملے کے تعلق سے میں تم میں بہتر ہوں۔‘‘

ایک مرتبہ مسجدِ نبوی کے صحن میں کچھ حبشی لوگ نیزوں کے ذریعے کرتب دکھا رہے تھے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کو وہ کھیل دیکھنے کی خواہش ہوئی۔ آپؐ نے انھیں اپنی اوٹ میں کرکے پورا کھیل دکھایا اور جب تک وہ خود اکتا کر چلی نہیں گئیں، آپ مستقل کھڑے رہے۔ (بخاری: ۵۲۳۶) ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ نے آپ ؐ کو گیارہ عورتوں کا قصہ سنایا۔ اس قصے میں ہر عورت اپنے شوہر کی خوبیاں اورخامیاں بیان کرتی ہے۔ گیارہویں عورت، جس کا نام امّ ورع تھا، اپنے شوہر کی تعریفوں کے پل باندھتی ہے۔ آں حضرت ﷺ پورے اطمینان اور سکون کے ساتھ یہ طویل قصہ ام المؤمنین کی زبانی سنتے ہیں اور آخر میں فرماتے ہیں:

کُنْتُ لَکِ کَاَبِیْ زَرْعٍ لِاُمِّ زَرْعٍ۔ (بخاری: ۵۱۸۹)

’’میں تمھارے لیے اسی طرح ہوں، جس طرح امِ زرع کے لیے ابو زرع تھا۔‘‘

اسی طرح آپ بچوں کو پیار کرتے، ان کے ساتھ خوش طبعی سے پیش آتے، ہنسی مذاق کرتے، ان کے ساتھ کھیلتے اور انھیں گود میں لے کر بوسہ دیتے تھے۔

آپ اپنے چچا عباس بن عبدالمطلبؓ کے بچوں عبداللہ، عبیداللہ اور کثیر کو ایک قطار میں کھڑا کرتے اور فرماتے: ’’جو میرے پاس سب سے پہلے دوڑ کرآئے گا اسے فلاں فلاں چیز دوں گا۔ وہ سب دوڑ کر آتے، کوئی پیٹھ پر گرتا تو کوئی سینے پر اور آپ ان سب کو بوسہ دیتے۔ (احمد، ۱/۲۱۴)

سیدہ فاطمہؓ آپ سے ملاقات کے لیے خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپؐ کھڑے ہوکر ان کا استقبال کرتے۔ ان کو بوسہ دیتے اور انھیں اپنی جگہ بٹھاتے۔ (ابوداؤد:۵۲۱۷، ترمذی: ۳۸۷۲) ان کے بچوں حضرات حسنؓ و حسینؓ، بڑی صاحبزادی حضرت زینبؓ کی بچی امامہؓ، آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہؓ کے بچے اسامہؓ اور دوسرے بچوں کے ساتھ آپؐ کے پیار محبت کے واقعات کثرت سے کتبِ احادیث میں مروی ہیں۔

اہلِ خانہ کی تربیت

آں حضرت ﷺ گھر میں بیوی بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیتے تھے۔ خود نوافل وتہجد کا اہتمام فرماتے توبسا اوقات اہلِ خانہ کو بیدار کرکے اپنے ساتھ شریک کرلیتے۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں: ’’نبی ﷺ نماز پڑھتے تھے۔ میں آپ کے بستر پر سوئی ہوتی تھی۔ آخر میں جب آپ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے بیدا رکرتے اور میں بھی وتر پڑھ کیا کرتی تھی۔ (بخاری:۵۱۲)

حضرت امِ سلمہؓ بیان کرتی ہیں: ’’ایک رات نبی ﷺ بیدار ہوئے۔ اس موقعے پر آپؐ نے ازواجِ مطہرات کو بھی بیدار کرنے کے مقصد سے زور زور سے فرمایا:

سُبْحَانَ اللّٰہِ، مَاذَا اُنْزِلَ اللَّیْلَۃَ مِنَ الْفِتَنِ؟ مَاذَا اُنْزِلَ مِنَ الْخَزَائِنِ؟ مَنْ یُّوْقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ؟ یَارُبَّ کَاسِیَۃٍ مِّنَ الدُّنْیَا عَارِیَۃٌ فِی الاٰخِرَۃِ۔                                  (بخاری: ۱۱۲۶)

’’پاک ہے اللہ کی ذات۔ آج رات کتنے فتنے نازل ہوئے ہیں اور رحمتِ الٰہی کے کتنے خزانے اترے ہیں؟ کوئی ہے جو ان کمروں والیوں کو جگادے؟ کتنی عورتیں ہیں جو اس دنیا میں لباس و زیورات سے آراستہ ہیں، لیکن آخرت میں وہ عریاں ہوں گی۔‘‘

حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں: ایک رات میں اپنی خالہ ام المؤمنین حضرت میمونہ بنت الحارثؓ کے پاس ٹھہر گیا۔ اس رات رسول اللہ ﷺ کی باری ان کے یہاں تھیں۔ آپؐ رات میں اٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔ میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے سوچا کہ میں بھی آپؐ کے ساتھ نماز میں شریک ہوجاؤں۔ چناںچہ میں جاکر آپ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا۔آپؐ ے میرے بال پکڑے اور مجھے کھینچ کر اپنی دائیں جانب کرلیا۔ (بخاری: ۵۹۱۹)

گھر میں بیوی بچوں کے درمیان مختلف طرف کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ اگر کبھی کوئی بات آپؐ ناشائستہ یا غیرمعیاری محسوس کرتے تھے تو فوراً ٹوک دیتے تھے اور بیوی بچوں کی محبت اظہارِ حق میں مانع نہ ہوتی تھی۔

ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد آپؐ دوسری ازواج کی موجودگی میں ان کا تذکرہ کثرت سے اور  بڑی محبت سے کرتے رہتے تھے۔ بسا اوقات حضرت عائشہؓ کو اس پر کچھ ناگواری ہوتی۔ ایک موقعے پر انھوں نے اس کا اظہار کردیا۔ کہنے لگیں: کیا آپ اس بڑھیا کو بار بار یاد کرنے لگتے ہیں، جب کہ اللہ نے آپ کو اس سے بہتربیویوں سے نوازا ہے۔ آپؐ نے فرمایا:

إِنِّیْ قَدْ رُزِقْتُ حُبَّہَا۔ (مسلم:۶۲۷۸)

’’ان کی محبت میرے اندر رچ بس گئی ہے۔‘‘

دوسری روایت میں ہے کہ آپؐ نے اس موقعے پر حضرت خدیجہؓ کے احسانات یاد کیے اور مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے صرف انھی سے مجھے اولادیں عطا کیں۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ کے سامنے دوسری ام المؤمنین حضرت صفیہؓ کا تذکرہ ہونے لگا۔ حضرت صفیہ پستہ قد تھیں۔ حضرت عائشہؓ نے تعریض کرتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے کہا: وہ تو بس  اس قدرہیں؟ آں حضرت ﷺ کے روئے انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوگئے۔ آپؐ نے فرمایا:

لَقَدْ قُلْتِ کَلِمَۃً لَوْ مُزِجَ بِہَا الْبَحْرُ لَمَزَجَتْہُ۔

(ابوداؤ :۴۸۷۵، ترمذی: ۲۵۰۲)

’’تم نے ایسی بات کہہ دی ہے کہ اگر اسے سمندر میں ملادیا جائے تو اس کا پانی بھی کڑوا ہوجائے۔‘‘

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: ایک بار میں نے آں حضرت ﷺ کے سامنے ایک شخص کی نقل اتاری تو آپؐ  نے فرمایا:

مَا یَسُرُّنِیْ اَنِّیْ حَکَیْتُ رَجُلًا وَ اِنَّ لِیْ کَذَا وَ کَذَا۔ (حوالہ سابق)

’’مجھے چاہیے جتنی بڑی دولت حاصل ہوجائے، پھر بھی کسی شخص کی نقل اتارنے سے مجھے خوشی نہیں ہوگی۔‘‘

ام المؤمنین حضرت امِ سلمہؓ کے لڑکے عمر (جو ان کے پہلے شوہر حضرت ابوسلمہؓ سے تھے) آں حضرت ﷺ کی پرورش میں تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کی موجودگی میںکھانا کھا رہا تھا۔ میرا ہاتھ لقمہ اٹھاتے وقت پلیٹ میں ادھر ادھر گھوم رہا تھا، آپؐ نے مجھے ٹوکا اور فرمایا:

یَاغُلَامُ، سَمِّ اللّٰہَ وَکُلْ بِیَمِیْنِکَ وَکُلْ مِمَّا یَلِیْکَ۔ (بخاری:۵۳۶۷)

’’لڑکے، اللہ کا نام لو، دائیںہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔‘‘

ملاقاتیوں کے حقوق

آدمی گھر میں ہوتاہے تو اس کے رشتے دار، دوست احباب اور دوسرے لوگ اس سے ملنے کے لیے آتے ہیں۔ ان سے کس طرح پیش آنا چاہیے؟ ان کے ساتھ کیا برتاؤ کرنا چاہیے؟ آں حضرت ﷺ کے طرزِ عمل سے اس سلسلے میں بھی رہ نمائی ملتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی چچا زاد بہن حضرت امِ ہانی بنت ربی طالبؓ بیان کرتی ہیں کہ میں آپؐ سے ملنے آئی توآپؐ نے فرمایا: مَرْحَباً بِاُمِّ ہَانِی (امّ ہانی کو خوش آمدید) (بخاری: ۳۵۷) اسی طرح جب وفد عبدالقیس آپؐ سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا تو اسے بھی آپؐ نے خوش آمدید کہا۔ (بخاری: ۶۱۷۶)

آپؐ اپنی ازواج کی سہیلیوں کے ساتھ بھی اچھے سلوک سے پیش آتے تھے اور ان کے ساتھ خیر کا معاملہ کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں: ایک بوڑھی عورت نبی ﷺ کے پاس آتی تھی۔ آپؐ اس کے آنے پر خوشی کااظہار فرماتے تھے، اس کا اکرام و احترام کرتے تھے اور اس سے فرماتے تھے: آپ کیسی ہیں؟ آپ کا حال کیسا ہے؟ آپ کیسے رہیں؟ وہ جواب دیتی: ’’خیریت سے، میرے ماں باپ قربان جائیں آپؐ پر اے اللہ کے رسول! وہ عورت واپس چلی گئی تو میں نے عرض کیا: آپ اس بڑھیا پر اتنی توجہ فرماتے ہیں؟ آپ اس کا اتنا اکرام کرتے ہیں؟ آپؐ نے جواب دیا: یہ ہمارے یہاں خدیجہؓ کے پاس آیا کرتی تھیں۔ کیا تمھیں نہیں معلوم کہ دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ایمان میں سے ہے۔‘‘ (کنز العمال ۷/۱۱۵)

ملاقاتیوں کی جانب سے اگرکبھی کسی نامناسب رویہ کا اظہار ہوتا تو اس کی اصلاح فرمایا کرتے تھے۔ حضرت سہل بن سعدؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی ﷺ سے ملاقات کے لیے آیا۔ اس نے ایک سوراخ سے گھر کے اندر جھانکا۔ اس وقت آپ  اپناسر کھجلارہے تھے۔ آپ کو پتا چلا تو آپؐ نے فرمایا: اگر مجھے معلوم ہوجاتا کہ تم سوراخ سے جھانک رہے ہو تو اسے تمھاری آنکھ میں گھسا دیتا۔ آپؐ نے مزید فرمایا: اجازت لینے کا حکم اسی لیے دیا گیا ہے تاکہ کسی ناپسندیدہ ہیئت پر نگاہ نہ پڑے۔ (بخاری: ۵۹۲۴، مسلم:۲۱۵۶)

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی ﷺ سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ آپؐ نے دریافت فرمایا: کون؟ میں نے جواب دیا: میں۔ آپؐ نے ناگواری سے فرمایا: میں میں کیا (اپنا نام بتانا چاہیے) (بخاری:  ۶۲۵۰)

ایک مرتبہ ایک شخص نے آپؐ سے ملاقات کی اجازت چاہی، آپؐ نے فرمایا: یہ اپنی قوم کا برا آدمی ہے۔ پھر اسے اندر بلالیا اور نرمی کے ساتھ ہنس ہنس کر اس سے باتیں کرتے رہے۔ جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپؐ اسے برا آدمی کہہ رہے تھے۔ پھر کیوں اس کے ساتھ نرمی سے پیش آئے اور ہنس ہنس کر اس سے باتیں کیں۔ آپؐ نے فرمایا:

اِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَۃً عِنْدَاللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنْ وَدَعَہٗ النَّاسُ اِتَّقَائَ فُحْشِہٖ۔                                  (مسلم: ۶۵۹۶)

’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے برا درجہ اس شخص کا ہوگا، جس کی فحش گوئی کی وجہ سے لوگ اس سے کتراتے ہوں۔‘‘

رسول اکرم ﷺ کی اندرونِ خانہ زندگی میں بھی ہمارے لیے اسوہ ہے۔ ہمیں اسے بھی اپنے لیے مشعلِ راہ اور نمونۂ عمل بنانا چاہیے۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

 

You may also like

Leave a Comment