Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
سماجی اور سیاسی مضامین

انتخابِ امیرِشریعت:سو برس بعد امارتِ شرعیہ نے کیا کھویا؟ کیا پایا؟ – ڈاکٹر صفدرا مام قادری

by adbimiras اکتوبر 15, 2021
by adbimiras اکتوبر 15, 2021 0 comment

دستورِ امارت میں اوصافِ امیر : ایک صدی کی تاریخ اور تجربات کا جائزہ

امیرِ شریعت کیسا ہونا چاہیے اور کن اوصاف کے حامل افراد کو منتخب کیا جانا چاہیے ، انھی سوالوں پرگذشتہ دنوں پوری بحث مرکوز رہی۔

آٹھویں امیرِ شریعت کے انتخاب کے مراحل میں یہ بات بڑی حد تک قابلِ توجہ رہی کہ نئے امیرِ شریعت کی پہچان کے لیے کن اشخاص پر غورو خوض کیا جائے۔امارتِ شرعیہ کے موجودہ ضابطے میں ایک بنیادی شق ہے کہ اربابِ حل و عقد کے اجلاس میں امیرِ شریعت کا انتخاب کیا جائے گا۔فی زمانہ اس مجلس میں ۸۵۱/  ارکان ہیں۔ جمہوری انداز کے دور میں ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ۸۵۱  افراد جس نام پر متّفق ہو جائیں ،اسے امیرِ شریعت بنا دیا جائے۔مگر یہ بات بہر طور سوچنے کی ہے کہ اتّفاقِ رائے کا طریقہ کیا ہوگا؟ تیسرے امیرِ شریعت کے انتخاب کے وقت مجلس میں ۶  افراد کے نام پیش ہوئے تھے جس کی وجہ سے ایک ۹ نفری کمیٹی نے اس پر غور و خوض کیا اور تیسرے امیرِ شریعت کا انتخاب پایۂ تکمیل تک پہنچا۔ یہ بات کم دل چسپ نہیں کہ اجلاس میں مولانا سیّد سلیمان ندوی ،مولانا عبدالصمد رحمانی،مولانا ریاض احمد اور مولانا منّت اللہ رحمانی کے بھی نام پیش ہوئے تھے مگر مولانا سیّد شاہ قمر الدین صاحب کے نام پر اتّفاق رائے ہوا تھا ۔

اِس زمانے کے اعتبار سے یہ بات آسان نہیں کہ ۸۵۱  افراد کی مجلس ہمیشہ کسی ایک نام پر رضامند ہو جائے ۔ ایسی صورت میں اس بات کے روشن امکانات موجود رہیں گے کہ دو،چار اور دس ناموں کی پیش کش کے بعد باضابطہ طور پر ایک ایک شخص سے موزوں فرد کے نام کی تصدیق کی جائے گی اور پھر جس نام کے تعلّق سے سب سے زیادہ لوگوں کی رائے آئے گی ، اسے امیرِ شریعت چُن لیا جائے گا۔چوں کہ طریقۂ انتخاب اور اس کی ضمنی تفصیلات کے سلسلے سے دستورِ امارتِ شرعیہ خاموش ہے، اس لیے رائج ملکی قوانین اور ایسے کاموں کے لیے عالمی سطح پر جو اطوار رائج ہیں،اُنھیں ہی آزمانا پڑے گا۔نام آپ جو بھی دیں،رائے شماری کہیں ،پرچیاں منگا لیں یا باضابطہ طور پر بیلٹ پیپر کو استعمال میں لائیں، ہر جگہ ووٹنگ کا ہی طور اور اس کی قسمیں رو بہ عمل آئیں گی جسے سادہ نظری سے ’غیر اسلامی ‘کہہ دینے سے مسائل کے حل بر آمد نہیں ہو سکتے۔(یہ بھی پڑھیں انتخابِ امیرشریعت :سو برس بعد امار ت ِشرعیہ نے کیا کھویا؟کیا پایا؟ – ڈاکٹر صفدر امام قادری حصہ 1)

دستورِ امارتِ شرعیہ کی تاریخ بہت دل چسپ ہے جس کی رُو سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہمارے اسلاف نے روایت اور تاریخ پر زیادہ بھروسہ کیا اور ایک طویل مدّت تک باضابطہ طور پر مکمّل دستور تیّار کر کے اس دائرۂ کار میں خود کو محصور کر لینے کے لیے زیادہ توجہ نہیں دی۔امارتِ شرعیہ کے موجودہ نائب ناظم، مشہورعالمِ دین اورتصنیف و تالیف کے باب میں فی زمانہ امارتِ شرعیہ کے واحد نمائندہ مولانا ثناء الہدیٰ قاسمی اپنے ایک مضمون میں اختصار کے ساتھ امارتِ شرعیہ کی دستور سازی کا خاکہ پیش کیا ہے۔ابتدائی طور پر اس دستور کا خاکہ بانیِ امارتِ شرعیہ مولانا محمد سجّادنے پیش کیا تھا۔ موجودہ اربابِ حل و عقد کی ابتدائی شکل(مجلسِ ملّی) کو قایم کرنے کی وہاں بات کہی گئی تھی، مگر مولانا سجّاد کی زندگی میں یہ کام ادھورا رہ گیا ۔ابتدائی تین اُمرائے شریعت نے اپنے دور میں دستور کی تکمیل اور عوامی طور پر اُسے جاری نہیں کیا۔ ایک صالح روایت اور قومی ضرورتوں کے پیشِ نظر فیصلے ہوتے رہے اور کبھی کوئی ایسی دشواری نہیں ہوئی کہ دستور کے بارے میں واضح فکر مندی سامنے آئے۔چوتھے امیرِ شریعت مولانا منّت اللہ رحمانی نے دستور کے پُرانے خاکے کو نئے سِرے سے مرتِّب کرنے کی کوشش کی اور ۱۹۶۶ میں دستور کا پہلا مسوّدہ ترتیب پا چکا تھا مگر اسے مجلسِ شوریٰ سے منظور کرا کر عوام کے سامنے لے آیا جائے،یہ کام ۱۹۹۱ تک مولانا منّت اللہ رحمانی کی حیات میں ممکن نہ ہو سکا۔مولانا عبد الرحمان صاحب یعنی پانچویں امیرِ شریعت کے دَور میں ۱۹۹۵ میں پھر نئے سرے سے اس دستور پر توجہ دی گئی اور ۱۹۹۶ میں مجلسِ شوریٰ کی منظوری کے بعد یہ دستور سامنے آیا۔

کسی بھی آزاد نفس کے لیے یہ بات حیرت انگیز ہوگی کہ امارتِ شرعیہ نے اپنی زندگی کے ۷۵ برس اپنے دستور اور آئین کی تکمیل میں لگا دیے ۔اس طویل مدّت میں امارتِ شرعیہ اپنی روایتوں اور تاریخ کے بڑے بڑے حوالوں کے سہارے ہی چلتی رہی۔جمہوری دَور کے تقاضے ہمیں بار بار اس بات کے لیے متنبہ کراتے رہتے ہیں کہ اداروں اور تنظیموں کے قیام کے اصول وضوابط ہمیں خود بنا لینے چاہیے اور اپنے کاموں کو آئین کے دائرے میں خوش دلی کے ساتھ لے آنا چاہیے تا کہ مطلق العنانیت نہ پیدا ہو جائے اور ہم خود شترِ بے مہار نہ بن جائیں۔ ہمارے اسلاف نے اگر چہ خلوص ،نیک نیتی اورر ایمان کے ساتھ ادارے قایم کیے،اس کی ترقّی میں منہمک رہے اور ہزاروں قربانیاں بھی پیش کیں۔مگر دستور کوحتمی شکل دینے کے معاملے میں امارتِ شرعیہ جیسے عظیم ادارے کو اتنی تساہل پسندی سے کام نہیں کرنا چاہیے تھا۔

یہ سمجھنا کہ امارتِ شرعیہ میں ہمیشہ انتخابِ امیر کے مواقع سے کوئی رخنہ پیدا نہ ہوا، یہ درست نہیں ۔تیسرے امیرِ شریعت کی مثال پیش کی جا چکی ہے۔ پہلے امیرِ شریعت کے انتخاب کے دوران بھی کوئی نہ کوئی ایسی چپقلش ضرور پیدا ہوئی ہو گی کیوں کہ مولانا ثناء الہدیٰ قاسمی نے اپنے مضمون میں مولانا محمد علی مونگیری کی تحریر سے یہ اقتباس پیش کیاہے:

’’یہ فقیر اپنے خاص محبّین سے اتنا اور کہتا ہے کہ اس وقت جو امیرِ شریعت ہیں، انھوں نے میرے ہی کہنے سے اس امارت کو قبول کیا ہے۔ اب میں تمام محبّین سے بہ اصرار ومنّت کہتا ہوں کہ اس میں کسی قسم کا اختلاف نہ کریں ۔‘‘

ان لفظوں سے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اس دور میں بھی کوئی نہ کوئی بات ایسی ہوئی ہوگی جس سے پریشانیاں پیدا ہوئی ہوں گی اورجس کے سبب مولانا مونگیری کو یہ بیان جاری کرنا پڑا۔آج سے سو برس پہلے کے میعارِ اخلاق اور خلوص کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ کوئی نہ کوئی غیر معمولی اورنزاعی صورتِ حال ضرور پیدا ہوئی ہوگی۔تب قطبِ عالم کو یہ وضاحت اور اطاعتِ امیر کے لیے خصوصی ہدایت جاری کرنی پڑی۔

امارتِ شرعیہ کے دستور کی دفعہ دس میں پانچ باتیں ترتیب وار لکھی گئیں ہیں۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اصل اقتباس پیش کر دیا جائے تا کہ اس موضوع پر گفتگو کے دوران صحیح تناظر میں بحث ممکن ہو سکے۔

۱۔ عالم با عمل ہو یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے معانی اور حقائق کا معتد بہ علم رکھتا ہو، اغراض و مصالح شریعت و فقہ اسلامی وغیرہ سے واقف ہو اور احکام ِ شریعت پر عمل پیرا ہو۔

۲۔سیاسیاتِ ہند اور سیاسیاتِ عالمِ اسلامیہ سے واقفیت رکھتا ہو، اور حتی الامکان تجربہ سے اکثر صائب الرائے ثابت ہو چکا ہو۔

۳۔ذاتی قابلیت وو جاہت کی وجہ سے عوام و خواص کے اکثر طبقات کی ایک معتد بہ جماعت پر اس کا اثر ہو۔

۴۔حق گو، حق شنو، جری اور صاحب عزیمت ہو۔

۵۔فقہی تعبیر میں اس ذات کو مایزول بہ مقصود الامارت سے تعلق نہ ہو۔

دستور ساز افراد نے زبان و بیان اور معنی کے ناپ تول کے ساتھ اگر چہ یہ اصول شامل کیے مگر ایک ایک لفظ اور بین السطور کو کرید کر انسانی شکل و شباہت کی آپ جب تراش و خراش کریں گے تو معاملات کی پیچیدگیاں از خود سامنے آجائیں گی۔وصف یا لفظ کی جمع اوصاف ہی ایسا نازک امرہے کہ اسے ترازو پر تولا نہیں جا سکتا۔جمہوری طریقۂ انتخاب پر علامہ اقبال کا شعر ہمیشہ بہ طورِ مثال پیش کیا جاتا ہے:

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گِنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے

مگر ’عالمِ با عمل‘، ’اغراض و مصالح و فقہ اسلامی یا سیاسیاتِ ہند و سیاسیات عالمِ اسلامیہ‘ سے واقفیت ،’تجربہ سے اکثر صائب الرائے ‘، ’ذاتی قابلیت وو جاہت‘،’ عوام و خواص کے اکثر طبقات کی ایک معتد بہ جماعت پر اس کا اثر‘، ’حق گو، حق شنو، جری اور صاحب عزیمت‘ وغیرہ میں سے کسی ایک وصف کو تولنے کا کون سا پیمانہ بنایا جا سکتا ہے؟اوصاف اور اخلاق کی مجموعی پرکھ میں ایک تخمینے کی گنجائش ذاتی وجوہات اور ضرورتوں کے مطابق کرنی ہی پڑتی ہے مگر ان اندازوں کو جبریہ اصول یا فیصلے کی مدد سے کیسے تولا جا سکتا ہے؟ لفظِ عالم کو ہندستان میں رواجی مذہبی تعلیم سے کچھ اس طرح سے جوڑ دیا گیا ہے کہ اس کے دائرے میں ایک خاص انداز کے کردار ہی سموئے جا سکتے ہیں۔ہمارے اسلاف کو یہ پتا تھا کہ درس کی منزلوں سے آگے بڑھنے والا آدمی اسی بنیاد پر امیرِ شریعت کے منصب کا حق دار نہ ہو جائے، اس لے اسی میں ’با عمل‘ آدمی کے مزید اوصاف شامل کیے گئے ۔اس کا مطلب یہ بھی ہواکہ درسی علم کا حامل بے عمل بھی ہو سکتا ہے جس پر نگاہِ انتخاب نہیں مرکوز ہوگی۔یہاں ایک اور بات منطق کی یہ بھی شامل ہونی چاہیے کہ اس روایتی درس کے باہر رہ کر اگر کسی نے اسلامی علوم سے معقول واقفیت حاصل کر لی ہے اور اس کے اعمال ’با عمل‘ کے دائرے میں آتے ہوں تو اسے آخر عالمِ با عمل کیوں نہ قرار دیا جائے۔ (یہ بھی پڑھیں امارتِ شرعیہ کے امیر کا انتخاب یا علماے کرام کی سیاسی بصیرت کا امتحان؟ – ڈاکٹر صفدر امام قادری حصہ 2)

یہ بات اس لیے بھی زیرِ بحث آئے گی کیوں کہ جب ابتدائی امرائے شریعت کی تعلیم و تربیت کے اعداد و شمار جمع کرتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی حیثیت موجودہ روایتی سلسلۂ درس سے علاحدہ نظام پر قایم تھی ۔یہ بات چوتھے امیرِ شریعت مولانا منّت اللہ رحمانی کے دور میں سامنے آئی جب ندوۃ العلما اور دارالعلوم دیوبند جیسے روایتی اسلامی تعلیم کے مراکز سے فراغت پا کروہ امیرِ شریعت کے منصب تک پہنچ رہے تھے۔عالم کی شناخت میں سند یافتہ ہونا اور مخصوص کتابوں کی ورق گردانی کے ثبوت فراہم کرنا اسلامی علوم کی تدریس و تبلیغ کی طویل تاریخ سے اغماز برتنے جیسا ہے۔کسی نے اپنے گانو کے کسی بوریہ نشیں کے سامنے زانوئے ادب تہہ کیا ،کسی نے اپنی مسجد کے غیر سند یافتہ مولوی کی نگرانی میں کچھ پایا ،کسی صوفی کی چٹائی پر بیٹھ کر مجاہدہ کیا یا کسی نے اپنی خواہش سے دنیا جہان کے علوم و فنون بہ شمول اسلامی علوم کے دفاتر سے اپنے قلب کو روشن کیا ۔جیسے ہی ہم نے عالم کے لیے ایک خاص نظام کے تحت فراغت کی شرط نافذ کی ،دوسری طرف سے عبد الرحیم خان خان اں کا غور و فکر کے لیے وہ مشہور دوہا سامنے آ جائے گا:

پوتھی پڑھی پڑھی جگ موا،پنڈت بھیا نہ کوئے

ڈھائی آکھر پریم کا پڑھے سو پنڈت ہوئے

گذشتہ مہینوں میں اس موضوع پر خوب خوب مباحث قایم کیے گئے ۔مولانا اور مولوی کس کے نام کا حصّہ ہو ، اس پر بھی بحث ہو گئی۔مجھے ہمیشہ سو برس پہلے کے بزرگ مولوی مہیش پرساد کی یاد آتی رہی۔قومی تحریک کے دوران مولانا محمد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی اور مولانا مظہر الحق کا ہمیشہ خیال آتا رہا۔ضرب الامثال کی دنیا میں ہم مولوی مدن والی بات کی تلاش کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔آخر پوری قوم نے انھیں اس طور پر کیوں کر قبول کیا؟یہ ہمیں کیوں یاد نہیں رہا کہ اُونچی فصیلوں میں سند دینے کے جو اسلامی ادارے نظر آ رہے ہیں، یہ محض ڈیڑھ سو برسوں کی کہانی ہے۔ اس سے پہلے اسلامی علوم کی تعلیم و تربیت کا نظام کس طور پر چلتا رہا اور ہزاروں علما اور ہندستان میں اسلامی علوم سے متعلق لکھی گئیں ہزاروں کتابیں کس طرح عالمِ وجود میں آگئیں؟آپ ان پہلوؤں پر جیسے ہی غور کریں گے، یہ بات سمجھ میں آ جائے گی کہ عالم لفظ کی آپ نا درست یا اپنے مطلب کی تعبیر پیش کر رہیں ہیں جس سے آسانی سے کوئی بھی اتّفاق نہیں کر سکتا۔

شاید یہی اسباب ہوں گے کہ۹  اکتوبر ۲۰۲۱ کو ارباب ِ حل وعقد کے اجلاس میں جہاں ہندستان بھر کے بڑے بڑے علماے کرام جمع تھے، بر سرِ مجلس کسی نے اس بات پر اصرار نہ کیا کہ اوصافِ امیر کی ہر شق پر باضابطہ طور پر بحث کر لی جائے۔علما ے کرام نے امارتِ شرعیہ کے اصل مقصد اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کے مسائل کو پیشِ نظر رکھا اور اربابِ حل و عقد کی صوابِ دید پر مکمّل اعتماد کیا کہ وہ ذاتی طور پر اور اجتماعی طور پر اوصافِ امیر کا مجموعی حیثیت سے تعین کریں اور پھر فیصلہ کر لیں۔جب اوصاف کو ترازو پر نہیں تولا جا سکتا، ایسی حالت میں انفرادی اور اجتماعی دونوں اعتبار سے اربابِ حل و عقد کے افرادکو ان کے آئینی حقوق اور ذمّہ داریوں کو ادا کرنے کی آزادی دینا حقیقتاً دستورِ امارتِ شرعیہ اور بانیانِ امارتِ شرعیہ کی ہدایات اور روایات کا حصّہ تھا جسے آئینی طور پر سب سے موزوں طریقۂ انتخاب تسلیم کیا جائے گا۔اس پر اعتراضات تو ہو سکتے ہیں مگر اس سے بہتر نظامِ انتخاب کی اس وقت کوئی دوسری صورت شاید ہی کوئی مجلس کے سامنے آئی ہو۔آٹھویں امیرِ شریعت کے انتخاب کا طریقۂ کار امارتِ شرعیہ کی روایت اس کی دستور کے عین مطابق رہا۔

 

 

[مقالہ نگار کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ میں اردو کے استاد ہیں]

safdarimamquadri@gmail.com

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

امارت شرعیہصفدر امام قادری
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
سائنس اور ٹیکنا لوجی کی معلومات اور ان کا استعمال بہتر مستقبل کے لازمی عناصر ہیں:پروفیسر اسلم جمشید پوری
اگلی پوسٹ
اے پی جے عبد الکلام کی یاد میں تحریری مقابلے کا انعقاد

یہ بھی پڑھیں

صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:...

جون 1, 2025

لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –...

دسمبر 4, 2024

معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد...

نومبر 30, 2024

دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –...

نومبر 30, 2024

باکو میں موسمیاتی ایجنڈے کا تماشا – مظہر...

نومبر 24, 2024

سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اور مدارس اسلامیہ...

نومبر 8, 2024

مسلمانوں کے خلاف منفی رویہ: اسباب اور حل...

اکتوبر 3, 2024

وقف کی موجودہ صورت حال اور ہندوستانی حکومت...

اکتوبر 1, 2024

مدارس اسلامیہ کا خود کفیل ہونا مفید یا...

جولائی 31, 2024

نہ سنبھلوگے تو مٹ جاؤگے – مفتی محمد...

جون 2, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں