فاطمہ شیخ او رساوتری بائی پھلے کی سماجی وتعلیمی خدمات مثالی کارنامہ ہے۔پروفیسر ذاکر پٹھان
اورنگ آباد 25/جولائی
بھارت کی پہلی مسلم خاتون معلمہ فاطمہ شیخ نامی پہلی تیلگو و انگریزی کتاب کا رسم اجراء ریڈاینڈ لیڈ فاؤنڈیشن کے آفس قصیر کالونی اورنگ آباد میں سنئیر صحافی سداشیو کھنڈالکر کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ مشہور مورخ درجنوں کتابوں کے مصنف،مترجم مولف سید نصیر احمد نے بھارت کی پہلی مسلم خاتون فاطمہ شیخ پرپہلی جامع کتاب تیلگو زبان میں لکھی جس کا انگریزی ترجمہ بی وی کے پرونانندن (The First Muslim Woman Teacher of Modern India Fathima shaik) کے عنوان سے کیا ہے آج اس کتاب کا رسم اجراء عمل آیا۔اس موقع پر مقرر خصوصی ڈاکٹر ذاکر پٹھان وائس پرنسپل بدناپورکالج نے فاطمہ شیخ اور مصنف کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہوئے کہاکہ بڑے فخر کی بات ہے کہ مصنف جس کا تعلق ریاست تلنگانہ سے ہے او روہ مہاراشٹر کی مشہور سماجی انقلابی شخصیت مہاتما جیوتی با پھولے ان کی بیوی ساوتری بائی کے شانہ بشانہ خواتین او ر سماج میں تعلیمی بیداری پیدا کرنے کے کام کرتی ہیں اس پر کتاب لکھنا بڑی بات ہے۔فاطمہ شیخ کی خدمات اور کارناموں پر جس طرح سے کام ہونا چاہیئے تھا وہ نہیں ہوسکا۔ جس طرح اونچی ذات کے لوگ ساوتری بائی کی مخالفت کرتے تھے اسی طرح مسلم سماج کی طرف سے فاطمہ شیخ کی مخالفت کی جاتی تھی۔ فاطمہ شیخ نے بیواؤں کی شادیوں،ان کی تعلیم وتربیت سماج میں انہیں اعلی مقام دلانے کے لیے غیر معمولی محنت کی ہے۔اس وقت کے انگریز کلکٹر نے ان کی خدمات سے متاثرہوکر انہیں اعلی سماجی خدمات کے لیے ایوارڈ سے نوازاتھا۔
ابتداء میں کتاب اور مصنف کاتعارف پروگرام کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے فاؤنڈیشن کے صدر مرزاعبدالقیوم ندوی نے بتایاکہ آج کے دورمیں کتاب لکھنا،شائع کرنا اور اس کے بعد کتاب کا رسم اجراء رکھنا بہت مشکل کام ہوگیا ہے اس لیے فاؤنڈیشن کی جانب سے نئے لکھنے والوں کے لیے ایک پلٹ فارم بنایاگیا ہے جس کا نام”مصنف سے ملیے“ رکھا گیا ہے جہاں نئے پرانے لکھنے والوں کی ہمت افزائی اور ان کی کتابوں کی رونمائی کی تقریب منعقد کی جاتی ہے اس یہاں سے وہ اپنی بات کو عوام الناس تک پہنچا سکتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ بلاشبہ مہاتما جیوتی با پھلے اور ان کی بیوی ساوتری بائی پھلے کے سماجی کاموں میں مسلمانوں کاناقابل فراموس کردار رہا ہے اگرمنشی غفار بیگ جیوتی با کودوبارہ اسکول میں شریک نہیں کرتے،عثمان شیخ رہنے کو اور اسکول شروع کرنے کو اپنامکان نہیں دیتے جیوتی با کو سماجی وتعلیمی کام کرنے کے مواقع میسر نہیں آتے اس لیے پھلے فیملی کی زندگی میں فاطمہ شیخ ان کے بھائی عثمان شیخ کا بڑا اہم کردار رہا ہے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ان کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا جاتالیکن سیدنصیر احمد نے کتاب لکھ کراس کمی کوپورا کرنے کی کوشش کی ہے۔اس موقع پر شہرکے مشہور سنئیر وکیل شیخ انیس احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج جو لوگ مہاتماپھلے کے نام پرتنظمیں جماعتیں آرگنائزیشن او رسیاسی پارٹیاں چلا رہے ہیں انہیں چاہیے کہ پھلے فیملی کے ساتھ ساتھ ان کے مسلم معاونین کا بھی تدکرہ عزت وعظمت سے کریں۔
سنیئر صحافی اور او بی سی لیڈرسداشیو کھنڈالکرنے کہاکہ آ ج کے دور میں قومی یکجہتی اور خواتین میں مل جل کر کام کرنے کی اعلی مثال اگر کوئی دی جاسکتی ہے تووہ فاطمہ شیخ ان کے بھائی عثمان شیخ اور مہاتما جیوتی باپھلے ان کی بیوی ساوتری بائی پھلے کی زندگی وکارناموں کی دی جاسکتی ہے۔مسلمانوں کے گھر گھر،اسکول اسکول،کالج کالج فاطمہ شیخ کی زندگی پرلکھی چھوٹی چھوٹی کتابوں کو پہنچانا چاہیے جس سے معلوم ہوگا کس طرح کے نامساعد حالات میں سماج میں فاطمہ شیخ او ر ساوتری بائی نے کام کیاہے۔حکومت کی جانب سے پانچ ستمبر کو جو یومِ اساتذہ منایاجاتاہے وہ تین جنوری کو ساوتری بائی کے یومِ پیدا ئش پر منایاجانا چاہیئے۔انہوں نے فاؤنڈیشن کے ذمہ داران سے کہا کہ وہ فوری طور اس انگریزی کتاب کا اردوہندی مراٹھی میں ترجمہ شائع کریں اور اسے گھر گھر پہنچائے۔
ؒ تقریب رسم اجراء میں امان اللہ موتی والا اردو ہائی اسکول کے صدرمدرس خان جمیل احمد،طیب ظفر ٖ(ہیومن رائٹس) مہمانان خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے۔ جبکہ پروگرام کی نظامت مرزاابوالحسن علی نے کی اور مہمانانوں کا استقبال و شکریہ مرزاورلڈ بک ہاؤس کے مینجر مرزا طالب بیگ نے ا داکیا۔
*Mirza Abdul Qayyum Nadwi*
*+91 9325203227*

