جہان علم و سیاست : ابوالکلام آزاد – سعد اللہ احسان

by adbimiras
0 comment

مولانا ابوالکلام آزاد ایک ہشت پہلو شخصیت کے مالک تھے، جس کا ہر پہلو تاب ناک تھا۔ وہ بہ یک وقت ایک جادو بیاں خطیب، فقیدالمثال ادیب، بلند پایہ صحافی، جید عالم دین، مستقل مزاج، اولوالعزم اور انقلابی سیاست داں تھے۔ بنیادی طور پر مولانا آزاد کی زندگی کو دو شعبوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا علم و فن اور دوسرا سیاست۔

علم و فن

مولانا ابوالکلام آزاد کی ولادت مکہ معظمہ میں ہوئی۔ پانچ سال کی عمر میں حرم شریف میں تسمیہ خوانی ہوئی۔ 9سال کی عمر میں والد صاحب کی معیت میںمکہ سے مستقل طور پر کلکتہ منتقل ہوگئے اور اپنے والد صاحب سے اردو فارسی پڑھنی شروع کی۔ ان کے والد مولانا خیرالدین (1831 دہلی- 1908کلکتہ) ایک مشہور پیر اور جید عالم تھے۔

سید عابد حسین لکھتے ہیں:

’’ درحقیقت مولانا ایک Child Prodigy تھے۔ جو کتابیں لوگ پچیس سال کی عمر تک نہیں پڑھ پاتے، مولانا بہت کم سنی میں ہی انھیں ختم کرچکے تھے۔‘‘

(حوالہ: مولانا ابوالکلام آزاد ، رشیدالدین خاں، ص 597)

اسی سبب انھوں نے پندرہ سال کی عمرمیں ہی درسِ نظامیہ سے فراغت حاصل کرلی تھی۔ اپنی خداداد ذہانت، بلا کے حافظے اور دلچسپی و محنت سے بہت جلد مولانا آزاد ایک ایسا خزینہ بن گئے، جس میں مختلف اور متضاد علوم و فنون کی پوری ایک دنیا سمٹ کرآگئی تھی۔

صحافت و تحریر

محض 11 سال کی عمر میں مولانا تصنیف و تالیف کے میدان میں اتر چکے تھے۔ اس میدان میں ان کا دل سب سے پہلے شاعری کی طرف مائل ہوا۔ وہ خود فرماتے ہیں:

’’یہ عجیب بات ہے کہ درسیات کے باہر جس چیز سے میں سب سے پہلے آشنا ہوا وہ شاعری تھی۔‘‘

(حوالہ : ابوالکلام آزاد، عبدالقوی دسنوی، ص 19)

ان کی سب سے پہلی غزل ’’ارمغان فرخ‘‘ (بمبئی) میں چھپی۔ اسی زمانے میں طباعت کا کام بھی شروع کردیا اور دو پرچے ماہ نامہ’’ نیر نگ عالم‘‘ اورہفتہ وار’’الصباح‘‘ جاری کیا۔ ان دونوں نے جلد ہی دم توڑ دیا۔ پھر 15 سال کی عمرمیں 1903 میںانھوں نے ’’لسان الصدق‘‘ جاری کیا، جس میں معلوماتی، ادبی و اصلاحی مضامین شائع ہوتے تھے۔ 1905 میں مولانا شبلی کی دعوت پر 6 مہینے ’’الندوہ‘‘کی ادارت میں شرکت کی۔ رشیدالدین خان نے ان رسائل و جرائد کی تعداد جن سے مولانا کی وابستگی رہی ہے،16 بیان کی ہے۔

( مولانا ابوالکلام آزاد، رشیدالدین خان، ص 324)

ان میں سے دو مجلوں نے تاریخی حیثیت اختیار کرلی۔ پہلا ’’الہلال‘‘ اور دوسرا’’البلاغ‘‘۔ الہلال 1912 میں شائع ہوا اور تین برس بعد جب وہ بند ہوا تو ’’البلاغ‘‘ منظرعام پر آگیا۔ جناب مالک رام صاحب نے ’’الہلال‘‘ کے طرزِنگارش کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’الہلال‘‘ صحیح معنوں میں ہماری سیاسی، صحافتی اور ادبی تاریخ میں سنگِ میل ثابت ہوا۔‘‘

( ابوالکلام آزاد، احوال وآثار، مرتب: مسعود الحسن عثمانی، ص 44)

’’الہلال‘‘ نے اپنے ہم وطنوں، اربابِ حکومت اور اکابر علمائے دین کو للکارا۔ جہاں بھی کوئی غلط بات نظر آئی اس کی فوری گرفت کی۔ ڈاکٹر صباح الدین عبدالرحمن رقم طراز ہیں:

’’انھوں نے (مولانا آزاد) اردو ادب میں الہلال کے ذریعے سے بادل کی جوکڑک اور رعد کی جو گرج دی، وہ اس زبان کے لیے بالکل ایک نئی چیز تھی… ادعائی اور انانیتی رنگ سے بعض لوگوں کے دل میں یہ شبہ پیدا ہونے لگا تھا کہ اگر اس کے لکھنے والے نے مسیحِ موعود اور مہدی الزماں کا دعویٰ کیا تو عجب نہیں کہ لوگ اس کو تسلیم بھی کرلیں۔‘‘

(ایضاً، ص 85)

مولانا آزاد کی متعدد کتابیں منظرعام پر آئیں۔ رشیدالدین خان کے مطابق مولانا کی تصنیفات کی تعداد 58 تک پہنچتی ہے۔

( مولانا ابوالکلام آزاد: رشیدالدین خاں، ص 328)

مولانا کی تحریریں بے حد دل آویز، دل فریب، حسین اور شگفتہ ہوتی ہیں۔ مولانا کے دماغ میں اردو، عربی، اور فارسی کے حسین اشعار، پرشکوہ جملوں، نادر مثالوں اور حکیمانہ اقوال کا خزانہ تھا۔ پروفیسر محمد شعیب عمری لکھتے ہیں:

’’مولانا کی تحریریں صوری و معنوی محاسن کا جمال افروز مرقع ہوتی ہیں، یعنی الفاظ کے شکوہ اور ان کی جگمگاہٹ، فقروں کی چمک دمک اور سج دھج کے ساتھ، معانی و مطالب اور علوم و معارف کی اس قدر فراوانی ہوتی ہے جیسے زمین کی تہہ میں آب شیریں کی سوتیں بہہ رہی ہیں، تو اس کی سطح لہلہاتے ہوئے کھیتوں اور طرح طرح کے پھلوں اور رنگارنگ پھولوں سے لدی ہوئی ہے۔‘‘

( ابوالکلام آزاد، احوال و آثار، مسعود الحسن عثمانی، ص 166)

مولانا آزادکے ساحرانہ طرزِ نگارش کی عمدگی اور جمال و زیبائی ان کی کتابوں’ ’غبارِ خاط‘‘، ’ــ’ تذکرہ‘‘اورعدی مالنظیرتفسیر’’ترجمانالقرآن‘‘سےواضح ہوتی ہے۔نیزالفاظ وتراکیب کے استعمال، مطالب وادائےمطالب، ترتیب ِمواد واندازِ استدلالاور اخذِ نتائج کا سلیقہ آتا ہے۔

خطابت

بچپن میں مولانا اپنے والد بزرگ وارمولانا خیرالدین کو وعظ کہتے سنا کرتے تھے۔ مولانا آزاد کی اخاذ طبیعت ابتدا سے ہی ان کی تقلید و تتبع کی کوشش کیا کرتی تھی۔ لہٰذا وہ بچپن میں اپنے والد صاحب کے مریدوں کے سامنے جن کا دائرہ خاصا وسیع تھا، طبع آزمائی کیا کرتے۔ مریدانِ پیر اس پیرزادے کو حیرت سے سنتے اور اس کی ناقابل یقین تقریری صلاحیتوں کو خاندانی کرامتوں پر محمول کرتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مولانا کی خطابت صیقل ہوتی چلی گئی اور مظاہر حسن و جمال کا ایک ایسا مرقع بن گئی، جس کا ہر منظر آنکھوں کو خیرہ کرتا اور ہر نغمہ کانوں کو ملکوتی ترانہ معلوم ہوتا۔

اجتہاد

مولانا آزاد فطرتاً ہر میدانِ علم و عمل میں آزاد تھے۔ وہ تقلیدی جمود اور خاندانی رسوم کی تعظیم کے سخت مخالف تھے۔  چبائے ہوئے لقموں کو کھانا حرام جانتے تھے۔ اسی لیے صحافت و ادارت ہو یا ادب و انشا، سیاست و مذہب ہو یا علم وفن مولانا کا اشہب قلم سب سے جدا اور طرزِ فکر سب سے نرالا تھا۔ غبارِ خاطر میں لکھتے ہیں:

’’اعتقاد کی بنیاد علم و نظر ہونی چاہیے، تقلید و توارث پر کیوں ہو؟… یہ چبھن عمر کے ساتھ ساتھ برابر بڑھتی گئی۔ یہاں تک کہ چند برسوں کے اندر عقائد و افکار کی وہ تمام بنیادیں جو خاندان، تعلیم اور گرد و پیش نے چنی تھیں، بہ یک دفعہ متزلزل ہوگئیں اور پھر وقت آیا کہ اسی ہلتی ہوئی دیوار کو خود اپنے ہاتھوں ڈھاکر اس کی جگہ نئی دیواریں چننی پڑیں‘‘۔

مقام درویشی

مولانا آزاد کی زندگی عالمانہ وقار، تصوفانہ متانت اور استغنا و بے نیازی کی تاب ناک مثال تھی۔ مولانا کے معاندین کیسے کیسے اعتراضات کرتے، حاسدین سبّ و شتم، طنز و مزاح اور طعن و تشنیع کا کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھتے۔ لیکن جواباً مولانا کی زبانِ صدق بیاں پر نہ طنز و تضحیک، نہ ہمز و لمز حقارت کے کلمات اور نہ تمسخر کے الفاظ۔ صرف تبلیغ اور اصلاح و تنظیم کی باتیں۔ اس کے متعلق مولانا غلام رسول مہر کو ایک خط لکھتے ہوئے کہتے ہیں:

’’کوئی شخص کتنے ہی قبیح فعل کا مرتکب ہو، میں یقین کے ساتھ اسے پبلک میں برا کہنا پسند نہیں کرتا۔ ہمیشہ ایسے موقعوں پر خود اپنا نفس سامنے آجاتا ہے۔ میں چونک اٹھتا ہوں کہ اگر برا ہی کہنا ہے تو خود اپنے نفس کو برا کیوں نہ کہوں؟ اس سے زیادہ برائی کس میں ہوگی؟ بہادر شاہ کا ایک سیدھا سادہ شعر ہے، جس میں شعریت کی کوئی بات نہیں۔ لیکن میرے دل پر نقش ہوگیا۔

نہ تھی اپنی برائی پہ جب نظر

تو نظر میں برا تھا، ہر ایک بشر

پڑی اپنی برائی پہ جب نظر

تو نظر میں کوئی برا نہ رہا‘‘

( نقش ِآزاد، ص 132، مکتوب نمبر 6، مورخہ 24 مئی 1937)

مولانا کے اس بیان پر مہرِصدق ثبت کرتے ہوئے خواجہ حسن نظامی لکھتے ہیں:

’’وہ دلی کے رہنے والے تھے، قوم کے سید تھے، بڑے پیر کے بیٹے تھے، پیشہ آزادی اور بے نیازی تھا۔‘‘

( ابوالکلام آزاد: رشیدالدین خان ص 243)

قرآنی مزاج

اگر غور کیا جائے کہ مولانا آزاد کی تقریری حرارت و تاثیر، تحریری سحرانگیزی، صحافتی سنجیدگی و متانت، استغنائی مزاج و بے غرض فطرت کا منبع کیا ہے؟ تو جواب صرف ایک ہے قرآن۔

محمد شعیب عمری لکھتے ہیں:

’’اور یہ بات عرض کی جائے تو اس کو کسی طرح مبالغہ آمیز نہ سمجھا جائے گا کہ ان کی شخصیت کی تکوین و تخلیق اور تزئین و آرائش میں قرآن حکیم ہی کی روح کارفرما رہی۔ انھوں نے اپنی تمام خداداد صلاحیتوں اور دل کے کامل اخلاص کے ساتھ قرآن حکیم کا اس طرح عمیق اور وسیع مطالعہ کیا کہ اس کی روح ان کے قلب و دماغ کے ایک ایک ریشے میں جذب ہوگئی۔ ‘‘

( ابوالکلام آزاد،احوال وآثار، مسعود الحسن عثمانی، ص 16)

مولانا آزاد خود اپنے قرآنی انہماک کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’قرآن میرے شب و روز کے فکر و نظر کا موضوع رہا ہے۔ اس کی ایک ایک سورت، ایک ایک مقام، ایک ایک آیت، ایک ایک لفظ پر میں نے وادیاں قطع کی ہیں اور مرحلوں پر مرحلے طے کیے ہیں۔‘‘

( ترجمان القرآن، جلد 1، ص 19)

مولاناآزاد کے اس قرآنی مزاج کا اعتراف صرف مسلم طبقے کو ہی نہیںبل کہ غیرمسلموں کو بھی تھا۔ چناں چے مولانا آزاد صدی تقریب منعقدہ 11نومبر 1988 کے خطبۂ افتتاحیہ میںجناب راجیو گاندھی نے کہا تھا:

’’مولانا آزاد کے گہرے علم و فضل کی بنیاد مقدس قرآن اور اسلامی دینیات کی تصانیف پر قائم تھی۔

( ابوالکلام آزاد: رشیدالدین خان، ص 48)

لبابِ کلام یہ کہ فصاحت، بلاغت، کتابت، خطابت، صحافت، فراست، شرافت ان سب میں ان کا کردار آفتابِ نصف النہار کی طرح روشن تھا۔ لیکن یہ ان کی زندگی کا صرف ایک رخ تھا۔ ان کی زندگی کا دوسرا رخ متعلق ہے باب سیاست سے، جس کے دو پٹ تھے: مروت اور بغاوت۔

سیاست

اوائل عمر سے ہی مولانا آزاد ہندستان کی آزادی کے نہ صرف خواہش مند تھے بل کہ عیار برطانوی اقتدار کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا چاہتے تھے۔ بیس اکیس برس کی عمرمیں انھوں نے عالم اسلام کی سیاحت کا فیصلہ کیا۔ عراق، شام، ترکی، مصر اور فرانس کے اسفار کیے۔ وہاں کے انقلابیوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان اسفار سے لوٹنے کے بعد مولانا کے دل میں سیاسی جدوجہد اور جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا حوصلہ اور بلند ہوگیا۔ مولانا آزاد نے مسلمانان ہند کا جائزہ لیا۔ ان کی اجتماعی درماندگیاں، سماجی پسماندگیاں، اقتصادی دشواریاں، سیاسی بدگمانیاں، شکوک و شبہات اور  قومی صراطِ مستقیم سے انحراف نے مولانا کے دل و دماغ کو کچوکے لگائے اور احساسات مجروح کیے۔ وہ ہندستانی طرزِ سیاست سے بیزار تھے۔ اپنے ماحول کا سکوت اور جمود توڑنے کے لیے وہ ایک انقلابی صدا اور ایک باغی للکار بن گئے۔ یہی جذبہ انھیں میدان ِ سیاست میں کھینچ لایا۔ جس وقت مولانا آزاد نے اس میدان میں قدم رکھا، اس وقت خلوص نیت اور دلیرانہ و بے لوث کردار کی کئی ایک عظیم شخصیات ایک نئے معاشرے اور جمہوری قومی تشخیص (National And Democratic Identity) کی فضا ہم وار کرنے میں لگی ہوئی تھیں۔ جیسے بال گنگا دھرتلک، موہن داس کرم چند گاندھی، حکیم اجمل خان، جواہر لال نہرو، بیرسٹر آصف علی، راجہ رام موہن رائے وغیرہ۔ لیکن مولانا کی فکری ڈگرسب سے جدا تھی۔ مولانا آزاد شاید واحد ایسے مسلم سیاست داں تھے، جنھوں نے حالاتِ حاضرہ کے تقاضوں کے مطابق  اسلامی نظریۂ حکم رانی کو ایک نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ مولاناآزاد نے روحِ اسلام کو روحِ عصر کے ساتھ ملانے کی کوشش کی اور عالم گیر انسانیت، بنیادی انسانی حقوق اور آزادیِ ملک و قوم جیسی مثبت اور ترقی پسند قدروں کو اسلامی نظریۂ سیاست کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کی۔ ان کا یقین تھا کہ اسلامی تعلیمات میں روحِ جمہوریت کی بڑی معنویت ہے۔بل کہ سیکولر ریاست کا نقشہ خود رسول کریم ﷺ نے میثاقِ مدینہ میں واضح کردیا تھا۔ جب انھوں نے ہر مذہبی گروہ کو اپنے مذہب پر رہنے کی اجازت دے کر وفاق (Federation)کی تاب ناک مثال پیش کی۔ مولانا آزاد کا سیاسی نظریہ یہ تھا کہ ہندستان میں متحدہ قو میت پر مبنی اور ملک کی بہتری کو برقرار رکھتے ہوئے جمہوری، سیکولر، وفاقی طرزِ حکومت قائم کی جائے۔ اپنے اسی نظریے کی پرزور تبلیغ کے لیے انھوں نے ’’الہلال‘‘ جاری کیا۔ شعلہ بار تقریریں کیں۔ خطبۂ مجلس خلافت، آگرہ 25؍اگست 1921 میں صاف صاف کہا:

’’میرا عقیدہ ہے کہ ہندستان میں ہندستان کے مسلمان اپنے بہترین فرائض انجام نہیں دے سکتے، جب تک کہ وہ احکام اسلامیہ کے ماتحت ہندستان کے ہندوؤں سے پوری سچائی کے ساتھ اتحاد و اتفاق نہ کرلیں۔‘‘

اسی خطبے میں آگے فرمایا:

’’ ہندستان کے سات کروڑ مسلمان ہندستان کے 32 کروڑ ہندوؤں کے ساتھ مل کر ایسے ہوجائیں کہ دونوں مل کر ہندستان کی ایک قوم اور نیشن بن جائیں۔‘‘

( خطباتِ آزاد، مالک رام، ص 47-51)

برٹش حکومت جانتی تھی کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو غلامی کی بیڑیوں میں ہانپتے ہوئے یہ ہندستانی زنجیروں کو توڑ دیں گے اور یوں انگریزی حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی جائے گی۔ لہٰذا غیرملکی حکومت نے پانسہ پھینکا۔ یعنی فساد کے بیج بوئے۔ چالیں چلیں۔ اگرچے لوگ اب بیدار ہوچکے تھے اور جذبۂ آزادی سے سرشار تھے، مگر اس کا کیا کریں کہ دل اب بھی صاف نہیں تھے۔ اس لیے انگریزوں کی مکاریاں کام آئیں اور قومی یک جہتی کا شیرازہ پل بھر میں خاکستر ہوگیا۔ ہندومسلم اتحاد و اتفاق کی جس عمارت کی تعمیر میں مولانا نے اپنا سب کچھ نچھاور کردیا، اس کی بنیادیں متزلزل ہوگئیں۔ عوام کا کیا ذکر خواص کے دل و دماغ میں بھی تقسیم ہندکے فوائد گردش کرنے لگے۔ مولانا نے بارہا لوگوں کو سمجھایا۔ کبھی جلالی اندازمیں خطاب کیا:

’’آج اگر ایک فرشتہ آسمان کے بدلیوں میں سے اتر آئے اور دہلی کے قطب مینار پر کھڑے ہوکر یہ اعلان کردے کہ سوراج (آزادی)چوبیس گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطے کہ ہندستان ہندومسلم اتحاد سے دست بردار ہوجائے تو میں سوراج سے دست بردار ہوجاؤں گا۔ مگر اس سے دست بردار نہ ہوں گا کیوں کہ اگر سوراج کے ملنے میں تاخیر ہوئی تو یہ ہندستان کا نقصان ہوگا لیکن اگر ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالم انسانیت کا نقصان ہے۔‘‘

کبھی زخم خوردہ احساس سے لبریز افسردہ لہجے میں یہ کہا:

’’ کاش مجھ میں ایسی قوت ہوتی یا وہ شے موجود ہوتی جس کی مدد سے میں تمھارے مقفل قلوب کے پٹ کھول سکتا تاکہ میری آواز تمھارے کانوں میں نہیں بلکہ دل میں سما سکتی اور تم اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ سکتے‘‘۔

( ابوالکلام آزاد: عبدالقوی دسنوی، ص 94)

لیکن افسوس کہ عیار حکومت کی چال بازیوں، عوامی لاشعوریوں اور فرقہ وارانہ ہتھکنڈوں کے سبب قومی یک جہتی کے ضامن متحد ہندستان کو مذہب کے خنجر سے دو ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا۔ مولانا کو شدید مایوسی ضرور ہوئی مگر انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور دوبارہ پوری تندہی کے ساتھ قوم و ملت کی خدمت میں لگ گئے۔ آزادی کی پہلی سال گرہ کے موقعے پر اہل ہند کو خطاب کرتے ہوئے کہا:

’’ہم نے آزادی حاصل کرلی ہے لیکن آزادی کا صحیح طور پر کام میں لانا ابھی باقی ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ اپنی ساری قوتیں اس دوسرے کام کے لیے وقف کردیں۔ امن، اتحاد، باہمی اعتماد اور حب الوطنی کے بغیر یہ مہم سرنہیں کی جاسکتی۔‘‘

( مکاتیب ابوالکلام آزاد، مرتبہ: ابوسلمان شاہ جہاں پوری، ص 304)

مولانا ابوالکلام آزاد کو آزاد ہندستان کا پہلا وزیرتعلیم بنایا گیا۔ ان کی وزارت میں بلا تفریقِ ملت و مذہب ہندستان والوں کو علمی و فنی ترقیات حاصل ہوئیں۔بہت سی یونی ورسٹیاں قائم ہوئیں، ایک انجینئرنگ کالج میں خطاب کرتے ہوئے مولانا نے کہا تھا:

’’آزاد ہندستان میں فنی تعلیم کی بڑی اہمیت ہے، اس لیے ہندستان کی حکومت کو چاہیے کہ ایسی تعلیم کے لیے امداد دے اور ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرے۔‘‘

(ابوالکلام آزاد: عبدالقوی دسنوی،ص 134)

وفات

19؍ فروری کی صبح مولانا پر فالج کا حملہ ہوا اور 22؍ فروری 1958کو سوا دو بجے شب میں 69 سال کی عمر میں مولانا نے اپنے ساتھیوں کو، ملک بھر کے شیدائیوں کو، ہندستان کوا ور پورے عالم کو الوداع کہہ دیا -اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن- اور آخر یہ خانقاہِ عظمت ویران ہوگئی۔ استقلال و اولوالعزمی کا ستون گرگیا۔ انگریزوں کا باغی شانت ہوگیا۔ آخر وہ عبقری قائد قوم و غم گسارِ ملت جس کی مٹی علمیت، شرافت، اخلاق حسنہ اور اولوالعزمی جیسی اعلیٰ قدروں سے عبارت تھی، اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ منوں مٹی میں چلا گیا اور ایک ایسا خلا چھوڑگیا جس کی انتہا پر صرف سناٹا ہے۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

Leave a Comment