by adbimiras
0 comment

سجاد ظہیر کی شعری جہات اور پگھلا نیلم/ڈاکٹر تسلیم عارف – ظہیر انور

سجاد ظہیر کی شخصیت اور شاعری پر ایک اہم کتاب

 

”سجاد ظہیر کی شعری جہات اور پگھلا نیلم“ ڈاکٹر تسلیم عارف کی پہلی باضابطہ ادبی کاوش نظر آتی ہے جو میری نظر سے گزررہی ہے۔ زیر مطالعہ کتاب کو فاضل مصنف نے تحقیق و تنقید کے زمرے میں رکھا ہے۔ کتاب کے مطالعہ سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ موصوف نے سجاد ظہیر کے چند اہم گوشوں پر بھرپور نظر ڈالی ہے۔ بالخصوص ان کی شاعری کو حوالوں اور تجزیوں سے پرکھنے کی کوشش کی ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ کتاب ان کی پی ایچ-ڈی تھیسس کا ایک حصہ ہے جو شائع کیا گیا ہے۔

آج کل کتابوں کی اشاعت میں بڑی تیز آگئی ہے۔ نئی نسلوں پر کاروان ادب کو آگے لے جانے کی ذمہ داری ہے لیکن کتابوں کی اشاعت کی بھیڑ میں مقدار تو یقینا تسلی بخش ہے لیکن معیار کی بابت سوچتے ہوئے ڈر سا لگتا ہے۔ جلد بازی میں سنجیدگی کو حرف آرہا ہے لیکن تسلیم عارف کی اس کتاب کو دیکھ کر ایک گونہ تشفی کا احساس ہوا کہ موصوف نے اپنا کام سلیقے سے کرنے کی کوشش کی ہے۔ پوری کتاب صوری اور معنوی لحاظ سے مصنف کی ہنرمندی کا ثبوت دے رہی ہے۔

سجاد ظہیر پر مواد کی کمی نہیں ہے۔ ان کی حیات اور ادبی خدمات پر اردو کے اہم ادبا اور شعرا نے اپنی رائے بھی دی ہے۔ سجاد ظہیر ترقی پسند ادب کے بانی رہے ہیں، ہم جیسے ادب کے طالب علم بھی ان کے ناول ’لندن کی ایک رات‘ یا ان کے افسانے اور ’انگارے‘ سے ان کے انسلاکات کی کچھ خبر رکھتے ہیں۔ ادبی حلقوں میں ان کی مقبولیت اور محبوبیت کا ایک جہاں معترف ہے۔ ان کی کئی حیثیتیں ہیں لیکن اس کتاب میں نہایت ہنرمندی سے ان کی شخصیت اور ’پگھلا نیلم‘ کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ ان کی پُروقار شخصیت کا ہر شخص خواہ فراق گورکھپوری ہوں کہ عبدالمنان طرزی، دو رائے نہیں رکھتے۔ جمہوری اور اشتراکی اقدار کی مقبولیت اور انسان دوستی اور انسان نوازی کے سلسلے میں ان کی خدمات نہایت اہم ہیں۔ ان ساری باتوں کا حوالوں کے ذریعہ تسلیم عارف نے اپنی خوبصورت کتاب میں قابل قدر مطالعہ پیش کیا ہے۔ ان کی شاعری کے تجزیے میں بھی مصنف نے سنبھل سنبھل کر قدم اُٹھایا ہے۔ کسی شخص پر کتاب لکھنے یا ترتیب دینے والے حضرات اکثر اپنے ممدوح کو عقیدت کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ پہلی کاوش میں تسلیم عارف نے بھی سجاد ظہیر کو اسی عینک سے دیکھا ہے۔ جہاں تک شخصیت کا تعلق ہے تو وہ بے غرض زندگی کا ایک اعلیٰ نمونہ تھے اور یہ بات شخصیت کے باب میں کھل کر سامنے آتی ہے۔ سجاد ظہیر نے اپنے وقت کے مشاہیر ادب کے ساتھ اردو ادب اور سیکولر مزاج اور انسان دوستی کی ترویج و ترقی میں نمایاں خدمات انجام دیا ہے اور انہوں نے اپنے لئے سنگین راستوں کو چن کر آنے والوں کیلئے نمونے کاکام کیا۔ ان کی شاعری اپنے وقت میں متنازع فیہ رہی ہے۔ ’پگھلا نیلم‘ ان کا واحد مجموعہ ہے، انجمن ترقی پسند مصنّفین کی ذمہ داریوں کی وجہ سے وہ شاعری کی طرف خاطر خواہ توجہ نہ دے سکے۔

’پگھلا نیلم‘ سجاد ظہیر کی نثری نظموں کا پہلا اور آخری مجموعہ ہے۔ نثری نظم، آزاد نظم وغیرہ کا چلن مغرب میں تو تھا لیکن اردو میں یہ پہلی باقاعدہ کوشش ہے۔ اس کے خلاف بھی لوگ رہے ہیں اور اس کی حمایت بھی ہوئی ہے۔ غزل کی بندش سے پرے نیز بحر، قافیہ اور ردیف کی جکڑ بندیوں سے آزاد ہو کر نظم کہنے میں سجاد ظہیر نے شاعری کی اصل کو پانے کی کوشش کی ہے۔ یوں تو دنیا کے ادب، تحریک اور علمائے ادب پر ان کی نگاہ بہت گہری تھی لیکن شاعری میں ترقی پسند ادب کے عناصر شعر کے قالب میں ڈھل گئے ہیں۔ آج جبکہ ترقی پسندی کا کہیں غلغلہ نہیں اور اس بات پر بھی یقین ہونے کے ساتھ ساتھ کہ شاعری صرف قافیہ پیمائی کا نام نہیں اور ہم سب سجاد ظہیر سے ایک طرح کی دوری پر کھڑے ہیں تو ضرورت اس بات کی تھی کہ ان کے شعری ادب کا ذرا سختی سے تجزیہ کیا جاتا۔ ایسا احتساب ان کے حق میں ضرر رساں نہیں قرار پاتا۔ اگر وہ ادب کی آفاقی کسوٹی پر پرکھتے، نہ کہ عقیدت کے حوالے سے ان کی شاعری کو احترام کی نظر سے دیکھتے۔

بہرحق، مصنف تسلیم عارف نے بیشتر موقعوں پر سجاد ظہیر کی نثری نظموں کا حتی الوسع تجزیاتی مطالعہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ بھی کچھ کم اہم بات نہیں۔ اس کتاب کی افادیت اس بات میں بھی ہے کہ ’پگھلا نیلم‘ جو نثری نظموں کے سلسلے میں بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے، شامل کتاب ہے اور سجاد ظہیر کی شاعری کے فہم میں یہ کتاب یقینا مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس کے لئے ڈاکٹر تسلیم عارف مبارک باد کے مستحق ہیں۔ کتاب نہایت خوبصورت چھپی ہے۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

Leave a Comment