اردو میں جو قدیم مثنویاں تھیں، ان میں قصے بیان کیے جاتے تھے۔ ہندوستانی طرزِمعاشرت، مذہبی وقومی روایات کو موضوع بنایا جاتا تھا۔ اردو کی اولین مثنویوں میں کدم راو پدم راؤ کو اولیت حاصل ہے جو بہمنی دور میں (احمد شاہ ثالث بہمنی 865ھ) نظامی نے تصنیف کی۔ اس کے بعد وجہی کی مشہور زمانہ مثنوی قطب مشتری، غواصی کی سیف الملوک اور بدیع الجمال (1035ھ) نصرتی کی علی نامہ، ابن نشاطی کی پھول بن وغیرہ مثنویاں مشہور ہوئیں۔ بعد ازاں میراثر کی خواب و خیال، میر حسن کی سحرالبیان، دیاشنکر نسیم کی گلزار نسیم، مرزا شوق لکھنوی کی زہر عشق، بہار عشق جیسی مثنویوں کی ایک طویل روایت ملتی ہے۔ ان مثنویوں کے موضوعات حاوی طور پر معاشقے یا پھر مذہبی رواداری ہوا کرتے تھے۔ حفیظ جالندھری کی مثنوی ’شاہنامہ اسلام‘ چار جلدوں پر مشتمل ہے جس کی شہرت اظہرمن الشمس رہی ہے۔ زیر مطالعہ مثنوی ’کن فیکون‘ ماقبل کی تمام مثنویوں سے مختلف ہے۔ وہ بھی، صرف موضوع کے لحاظ سے نہیں بلکہ کرافٹ (Craft) کے اعتبار سے بھی۔
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلم بدر نے سابقہ روایت سے انحراف کیوں کیا؟ یہ تو بہت آسان تھا کہ معاشرے سے دو تین کردار اٹھا لیتے اور ان کے جذبات و احساسات کو شعری قالب میں ڈھال دیتے، اللہ اللہ خیر سلّا۔ لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ انھیں پتہ ہے کہ مثنوی کی پوری سابقہ روایت قصہ پارینہ کا حصہ بن چکی ہے۔ اگر وہ سابقہ روایت سے انحراف نہ کرتے تو موجودہ عہد کے ذہین قارئین ان سے انحراف کرتے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ آج حسن و عشق کے مضامین شاعری میں نہیں آسکتے۔ غزلوں میں آج بھی یہ مضامین باندھے جارہے ہیں، لیکن ان موضوعات کی فرسودگی سے بھلا کسے انکار ہوسکتا ہے۔ اسلم بدر کے ذہن رسا نے شعوری طور پر ایک ایسے موضوع کا انتخاب کیا جو گھِسا پِٹا نہیں تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اس مثنوی کے موضوعات الگ الگ اپنے اپنے میدان میں گھسے پِٹے ہی کہے جائیں گے۔ مذہبی افکار ہوں یا فلسفیانہ تصورات، ہندومت کی بات کریں یا بدھ اور جین مَتوں کی، منوسمرتی پر غور کریں یا عہدنامہ جدید و قدیم پر۔ ان سب پر الگ الگ ڈھنگ سے گفتگو ہوتی رہی ہے لیکن اسلم بدر نے ان تمام بکھرے ہوئے تصورات و نظریات کے مابین ایک معنوی انسلاک پیدا کرنے کی جیسی کامیاب کوشش اپنی اس مثنوی میں کی ہے، اس کی مثال اردو شاعری میں کم کم ہی ملتی ہے۔
مثنوی ’لا الہ الاّ اللہ‘ کے عنوان سے شروع ہوتی ہے:
اللہ بے مثل ذات تیری
کرتا ہوں بیاں صفات تیری
اول بھی تو اور تو ہی آخر
باطن بھی تو اور تو ہی ظاہر
تو صاحب افتخار و عظمت
عزت، ذلت تری بدولت
ہے تو ہی گرفت کرنے والا
اسفل اور پست کرنے والا
زندہ ہے تو کارساز ہے تو
برحق ہے تو بے نیاز ہے تو
اس کے بعد شاعر دربار الٰہی میں مناجات پیش کرتا ہے۔ مناجات میں بھی بصورت استفہام انسانی وجود کو چند شعروں میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ اشعار دیکھیے:
عرض و جوہر کا یہ تناسب
نفس و پیکر کا یہ تناسب
چہرے جو بن سنور رہے ہیں
سب مجھ سے سوال کررہے ہیں
ہر بزم شہود ہے سوالی
خود میرا وجود ہے سوالی
میں کیا ہوں سبب کہ استعارہ؟
منظر ہوں، نظر ہوں یا نظارہ؟
ایسا ہی اہتمام کیوں ہے؟
مربوط اتنا نظام کیوں ہے؟
ایسے سوالات کائنات اور نظام کائنات کے حوالے سے قائم کرنے کی جسارت کرنے کے لیے صرف قوت تخلیق ہی کافی نہیں، بلکہ اکتشافی شعور اور زمان و مکاں کی تفہیم بھی ضروری ہے۔ مسئلہ وجود کا ہے۔ سوال اس لیے پیدا ہورہا ہے کہ شاعر اپنے وجود کے مقصد کے تئیں سنجیدہ ہے۔
اس خوبصورت کائنات اور انسان کے مابین آخر کیا رشتہ ہے؟ اس پوری مثنوی میں اسلم بدر نے اسی سوال کو حل کرنے یا یوں کہہ لیں کہ سوال کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے۔ غزل کے شاعروںنے بھی اس وسیع کائنات کے رموز کو پالینے یا ان کی وضاحت کی کوششیں کی ہیں۔ اسلام نے اس کا ایک آسان سا نسخہ پیش کیا کہ مَنْ عَرَفَ نَفسہٗ فَقَد عَرَفَ رَبَّہٗ۔
میرتقی میر نے اسی کو شعر میں اس طرح پیش کرنے کی کوشش کی ہے:
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں
معلوم اب ہوا کہ بہت میں ہی دور تھا
لیکن یہ تو محض ایک جہت ہوئی کہ خود کو پا لینے کے بعد خدا کو پالینا آسان ہے۔ اسلم بدر نے بڑی خوبصورتی سے مثنوی کی ترتیب رکھی ہے۔ حمد و ثنا اور نعت رسول کے بعد مثنوی کا باب ’جستجوئے حق‘ کے عنوان سے کھُلتا ہے۔ پھر وہی سوالات کی دنیا، اسلم بدر نے کوشش یہ کی ہے کہ پہلے سوالات کی فہرست بنائی ہے۔ اس کے بعد ان کے حل کے لیے انھوں نے علم کی ضرورت و افادیت کو پیش کیا ہے۔ سوالات اتنے ہیں اور اس قدر دلچسپ ہیں کہ سب پڑھے جاسکتے ہیں لیکن یہاں ان کے اسلوبِ سوال کو سمجھنے کے لیے صرف چند شعر پیش کیے جاتے ہیں:
زمیں آسماں کیوں ازل سے نہیں
چھپی ہے کہاں علتِ اولیں
کہاںسے کہاں تک ہے بزم وجود
خلائی ہے کیوں منظر ہست و بود
چھپی ہے کہاں منزل آفتاب
بکھرتے ہیں کیوں ٹوٹ کر یوں شہاب
زمیں کیوں عجائب سے معمور ہے
یہ سورج سے کیوں اتنی ہی دور ہے
اگر چاند ہے ایک جزو زمیں
زمیں جیسی اس میں ادا کیوں نہیں
ہم آہنگ اتنے ہیں کیوں بحر و باد
ہے برق اور بادل میں کیوں اتحاد
بس اتنا ہی کیوں ہے ہوا کا دباؤ
کہاں سے ملا ہے یہ سب رکھ رکھاؤ
امیبا ہے کیوں بے سرو دست و پا
کہاں سے اسے اذنِ حرکت ملا
اس طرح سوالات کی ایک لمبی فہرست ہے۔ انسانی وجود کو سوالوں کے دائرے میں رکھ کر خیالات اور احساسات کی روشنی میں حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر سلم بدر کے سائنسی افکار کو سمجھنا چاہیں تو یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:
سماعت مزہ، لمس، بوباس کیوں
ہے اعصاب کو ان کا احساس کیوں
بھرا کس نے خوں میں دفاعی نظام
میانِ شکم کیمیائی نظام
ہے خلیات میں وصف تقسیم کیوں
نسیجوں میں ہوتی ہے تنظیم کیوں
آخر اعصاب کو حواس خمسہ کے لیے مختص کیوں کیا گیا۔ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ سفید خون یعنی white blood corpuscles (WBC) جسم کے دفاعی نظام کو مستحکم رکھتا ہے اور شکم کے اندر ایک کیمیائی نظام ہے جس کے تحت پورا Digestive system کام کرتا ہے۔ اسی طرح انھوں نے Cell Division اور Mitosis کا ذکر کیا ہے۔ ان سب پر سوال قایم کرنے کے بعد ان کا ذہن انسان کی کم مائیگی کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ یعنی:
الجھتے ہیں ارض و سماوات سے
ہیں انجان خود اپنی ہی ذات سے
اسلم بدر کوچوں کہ مثنوی میں ایک طویل مشکل مسافت طے کرنی ہے، اس لیے وہ پھر دربار الٰہی میں دست بدعا ہوجاتے ہیں:
تمیز ایسی دے میرے ادراک کو
سمجھنے لگے ارض و افلاک کو
مرے دل سے کر دور ظن و قیاس
نظر کو حقیقت سے کر روشناس
اس کے بعد علم کی روشنی پھوٹتی ہے۔ اس باب میں علم کی غرض و غایت اور اس کے حصار کو واضح کیا گیا ہے۔ اس میں علم کی تاریخ اور اس کے ارتقا کو بڑی خوبصورتی سے دنیا کے فلسفیوں اور مفکروں کے حوالے سے پیش کیا ہے۔ قرآنی آیات کی روشنی میں بھی انھوں نے اشعار کہے ہیں۔ یہ ایک طویل باب ہے جس میں 136 اشعار ہیں۔ میں نے 25اشعار منتخب کیے ہیں۔ یہاں صر ف پانچ اشعار پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں:
علم ہے رونمائے ذات و صفات
علم ہے جستجوئے موجودات
علم کی قید میں زمان و مکاں
علم کی حد حدودِ لاامکاں
علم کی خاک کا بھی رُتبہ ہے
علم کی خامشی بھی خطبہ ہے
پڑھ! کہ اللہ نے قلم دے کر
تجھ کو بخشا ہے علم کا زیور
پڑھ! کہ انساں کی ذات کیسے بنی
پڑھ! کہ یہ کائنات کیسے بنی
اسلم بدر کو قرآن کی آیتوں سے یقینا روشنی ملی ہوگی۔ اوپر کے شعروں سے اس کا علم ضرور ہوجاتا ہے۔ ایک بڑی خوبی کی بات اسلم بدر کی اس مثنوی میں یہ ہے کہ ہر ایک موضوع کے مثبت اور منفی دونوں پہلو کو انھوں نے سامنے رکھا ہے۔ علم کے منفی پہلو کو بھی پیش کیا ہے۔ یہ اشعار دیکھیے:
علم گر منکرِ خدا ہوگا
محض بے جان مادّہ ہوگا
عقل وجدان سے پرے ہوگی
فکر اذہان سے پرے ہوگی
عِلم گر وحشتوں میں کھوجائے
زندگی اک عذاب ہوجائے
اس طرح ’علم‘ کے صحیح روپ کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ وہ علم جو منکر خدا ہو، وہ بے جان مادّہ سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا۔
ابتدائے مذاہب کے ذیل میں ’دین‘ کو اسلم بدر نے واضح کرتے ہوئے اس کے مالہٗ وما علیہ (Pros & Cons) پر روشنی ڈالی ہے۔ پھر ہندومت، چار وید، منوسمرتی، بدھ مت، جین مت، زرتُشت، تورات، زبور، انجیل وغیرہ کے مرکزی خیالات کو پیش کیا ہے۔ اس کے بعد ان کا سائنسی باب شروع ہوتا ہے۔ سائنس اور تخلیق کائنات کے بعد فوراً اسلام اور نظریۂ تخلیق کا باب ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قرآن کی رو سے تخلیقی عمل پر ایک باب قائم کرتے ہیں۔ پہلے تو قرآن کی عظمت اور اس کے ایک نسخۂ کیمیا ہونے پر روشنی ڈالی گئی ہے اس کے بعد پھر اس کی صفات اور عظمت کو سائنسی علامتوں اور وضاحتوں سے واضح کیا گیا ہے۔ قرآن کائنات کی تمام اشیا پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ قرآنی آیات کو وہ کچھ اس طرح منظوم کرتے ہیں:
شکم پر کرو غور چوپایوں کے
سبھی اونٹنیوں کے اور گایوں کے
غلاظت کے اور خون کے درمیاں
ہیں کیسے رواں دودھ کی دھاریاں
زمینوں کا بستر بچھائے وہی
پہاڑوں کے تکیے لگائے وہی
چٹانوں کی پرتیں بنائے وہی
معادن کو ان میں چھپائے وہی
غلاظت اور خون کے درمیان دودھ کے دھارے نکلتے ہیں۔ یعنی شاعر ذات مطلق کی قدرت کاملہ کو اس کی خلقت کے سامنے مستحکم انداز میں جواز کے ساتھ پیش کرنا چاہتا ہے۔ لائق توجہ یہ بھی ہے کہ زمین کو بستر اور پہاڑ کو تکیہ کہنا نہایت ہی بلیغ شعری توجیہ پر دال ہے۔
قرآن اور سائنس کتنے قریب ہیں، ملاحظہ کیجیے کہ سائنس یہ کہتی ہے کہ جب تک جرثومے مدد نہ کریں یہ پیڑ پودے یا فصلیں کبھی نہیں اُگ سکتیں۔ تمام ترکیبوں کے بعد بھی کسان کی محنت بیکار ہوسکتی ہے، اگر یہ جرثومے نہ ہوں۔
اللہ کی قدرت کو سمجھنے کے لیے یوں تو بہت سی مثالیں ہیں، بہت سی علامتیں ہیں، لیکن یہاں میں صرف ایک مثال پیش کرنا چاہتا ہوں۔اس مثنوی کا یہ حصہ چونکاتا بھی ہے اور ایک حُزنیہ پہلو بھی پیش کرتا ہے جس میں خدا کی کاریگری اور ربوبیت کی علامت بھی پنہاں ہے۔
میں بغیر وضاحت کے اس حصے کو پیش کرتا ہوں جس میں گولر کے پھول کو اللہ کی قدرت کا نمونہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں سائنسی اصطلاحات بھی آئی ہیں جو ناگزیر ہیں، لیکن خیال تک رسائی مشکل نہیں۔ ملاحظہ کیجیے:
ثنا خوانِ قدرت ہیں گولر کے پھول
فنِ دستِ قدرت ہیں گولر کے پھول
عجب بقچۂ گل کی ترتیب ہے
عجب تخم ریزی کی ترکیب ہے
زرِ گل تلک راہ مسدود ہے
مگر نسل کاری بھی مقصود ہے
بہم بھی ہوں گر مادہ پھولوں سے نر
ہواؤں کا بھی ہو موافق گزر
ادائیں لٹاتی رہیں تتلیاں
رہے گا مگر بانجھ ہی بیضہ داں
مگر ایک ننھی سی بھِڑ کا کمال
کہ جس نے دیا گُل کو لطفِ وصال
ذرا دیکھیے قدرتی انتظام
کہ ممکن ہے بس مادہ بھڑ سے یہ کام
بڑی جانفشانی سے ننھی سی جاں
پہنچ جاتی ہے پھول کے درمیاں
یہ بھڑ وہاں انڈے دے کر اپنی جان دے دیتی ہے۔ ان انڈوں سے دوسری بھڑیں نکلتی ہیں۔ ان میں جو نر بھڑ ہوتے ہیں وہ وہیں ختم ہوجاتے ہیں اور صرف مادہ بھڑیں اپنے پروں پر زر گل لے کر باہر آتی ہیں اور بیضہ دانی پر زر گل چھڑک دیتی ہیں اور آخرکار وہ بھی مرجاتی ہیں۔ جی چاہتا ہے کہ آپ اس گولر کے پھول پھل اور بھڑ کے رشتوں کو مزید ان شعروں کی روشنی میں ملاحظہ کیجیے:
یہ ننھی بھڑیں، کیسۂ زر کے پاس
پہنتی ہیں اپنے پروں کا لباس
زر گل سے خود کو سجانے کے بعد
مسلسل مشقت اٹھانے کے بعد
لبادے میں گولر کے ریزے لیے
نکل آتی ہیں پھول کی قید سے
فقط ننھی مادہ بھڑوں کو حضور
رہائی کا بخشا گیا ہے شعور
وہ مادہ بھڑیں اپنی ماں کی طرح
اسی باعمل سخت جاں کی طرح
در آتی ہیں دیوار گُل چیر کر
چھڑک دیتی ہیں بیضہ دانی میں زر
جونہی پھول کی کوکھ بھر جاتی ہے
تو بھڑ اپنی جاں سے گزر جاتی ہے
مگر بطن گل میں فروغ حمل
بتدریج بنتا ہے گولر کا پھل
ابھی تک جو تازہ ہیں گولر کے پھل
بھڑوں کا جنازہ ہیں گولر کے پھل
(ص98)
اسلم بدر نے اپنی شعری کائنات اور خارجی کائنات کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا تخلیقی وژن اور داخلی ادراک تکوین کائنات اور اس کے مضمرات و ممکنات کو اپنے باطن کا حصہ بنا لیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک طرح کا فلسفیانہ اور گہرا فکری موضوع ہونے کے باوجود بھی، ان کی شاعری میں چمک اور روانی ملتی ہے۔ اس کی ایک وجہ اور بھی ہے اور وہ یہ کہ سائنسی افکار اور نظریات انھوں نے اچھی طرح پہلے خود سمجھنے کی کوشش کی ہے ورنہ شاعری میں اس خوبی سے ان کی پیش کش آسان نہ ہوتی۔ انھوں نے خود پر ان سائنسی نظریات کو Impose نہیں کیا ہے، بلکہ پہلے انھیں انگیز کیا ہے۔ کائنات کی جسامت، وسعت اور حقیقت کا بیان، قیامت کی سائنسی توجیہ، اصول ناکارگی (Nihilism) ایک سائنسی حقیقت، قیامت ایک منظرنامہ (ازروئے قرآن)، حیات بعد موت، عالم ضدین، محاسبہ قیامت پر اظہار خیال کرنے کے بعد حیات و کائنات کے مختلف فلسفوں اور فلاسفہ کو موضوع تخلیق بنایا ہے۔ بڑی خوبصورتی سے انھوں نے یونانی فلسفے کے بنیاد گزاروں کا ذکر کیا ہے اور بعد ازاں سقراط کے فلسفۂ اخلاقیات و حیات، افلاطونی نظریہ حیات رواقیت، زینو کے فلسفے، کائنات ایک سراب، فیثاغورث (Pythagoras) کے ریاضی فلسفۂ کائنات، ارسطو کے فلسفۂ عناصر،فلاطینوس (Plotinus) اور وحدت الوجود، ابیقوریت (Epicurus)، تشکیک وجودیت، دیکارت (Descartes) کے فلسفۂ اشیا و اجسام، ابن سینا کے فلسفۂ عقول و افلاک، آئنسٹائن (Einstein) کے زمان و مکان اور نظریۂ اضافیت (Theory of Relativity) وغیرہ کو خوبصورت اسلوب میں پیش کیا ہے۔ ان کی پیش کش کی بحر بدل گئی ہے یعنی یہ کہ اسلم بدر کو اس کا بھی پورا احساس ہے کہ کس فکر کی پیش کش کے لیے کون سی بحر موزوں ہوگی۔ ان تمام فلسفوں کے بعد ویدک فلسفے کے ذیل میں اسکمبھ، کال، کام اور پران کا ذکر کیا ہے۔ سانکھیہ درشن، فلسفۂ یہودیت، امام غزالی کے فلسفۂ اسلام کا بیان شاعری میں کرنے کے بعد ’اللہ‘ اور پھر مَنْ عَرف نَفْسَہٗ فَقَد عَرَف رَبّہٗ کے عنوان سے اس طویل مثنوی کا اختتام ہوتا ہے۔
دراصل اسلم بدر جب کائنات اور تکوین کائنات کی تفسیر و تعبیر کرلیتے ہیں تو انھیں یہ احساس ہوتا ہے کہ آخر میں پیغام وحدانیت اور وجود انسانی کی حقیقت کو واضح کردیا جائے۔ حالاں کہ بغور دیکھا جائے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ پوری مثنوی حمدیہ ہے، شاعر کا مقصد آغاز سے انجام تک علت و معلول کو واضح کرنا اور انسانی ذہن کو ایقان و ایمان بخشنا ہے۔ دوسرے مذاہب کے اہم فلسفوں کو بھی اسی لیے پیش نظر رکھا ہے کہ خدا کی وحدانیت اور اس کے وجود کا ثبوت مستحکم ہوسکے۔ یہاں امام غزالی کے حوالے سے اسلم بدر نے فلسفہ اسلام کو پیش کیا ہے۔ اس حصے سے چند اشعار پیش کیے جاتے ہیں:
معلم مدرس مصنف امام
شہنشاہ و سرتاجِ علم الکلام
اٹھا اپنی خلوت سے منظر لیے
اٹھا اپنی تہہ سے سمندر لیے
دیا فلسفہ اس نے اسلام کا
مٹا نقش یونان کے نام کا
خدائی کی اک رہ گزر فلسفہ
رہِ معرفت کا سفر فلسفہ
عدم میں بھی جلوہ نما تھا خدا
بغیر سما و فضا تھا خدا
دو عالم نہیں تھے وہ موجود تھا
وہ شاہد تھا خود، خود ہی مشہود تھا
عدم سے دوعالم نکالے گئے
جہاں تک بھی ان کے اجالے گئے
وہاں تک مکاں لامکاں بن گیا
مکانی تسلسل زماں بن گیا
بہر لمحہ موجود دائم ہے وہ
خود اپنی مشیت سے قائم ہے وہ
وہ چاہے تو پیدا کرے بے سبب
بغیر بدن، بے عمل، بے نسب
جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اسلم بدر کی یہ مثنوی رواں اسلوب میں ایک صدائے باطن ہے، انھوں نے ’پیش گفتار‘ میں لکھا ہے:
’’یہ پانچ بحر یں پانچ مختلف ساز ہیں جنھیں الگ الگ چھیڑیے، تو جدا جدا Notes کی لہریں ابھریں گی، لیکن جب یہ ہم آہنگ ہوکر ایک ساتھ بج اٹھیں گے تو ایک مکمل راگ یا ایک طویل Symphony فضائے ذہن میں تیرنے لگے گی۔‘‘ (ص: 2)
یعنی یہ بات صاف ہوگئی کہ اس پوری مثنوی میں اسلم بدر نے پانچ مختلف بحروں کا استعمال کیا ہے جو بذات خود ایک مشکل کام ہے۔ اس کتاب کو سائنسی حمدیہ مثنوی سے بھی موسوم کیا جاسکتا ہے۔ موضوع اور کرافٹ دونوں لحاظ سے اس مثنوی کا مقام بلند ہے۔ اس کی اہمیت اور عظمت آئندہ زمانوں میں اور بھی بڑھ جائے گی، جب اردو قارئین کے اذہان سائنسی اور مذہبی علوم سے خود کو مزین کرلیں گے۔ ابھی تو اردو میں ایسے قارئین /ناقدین کی کثرت ہے جنھیں سائنسی توجیحات یا تکوین کائنات کے فلسفے پانچ دس فی صد بھی بمشکل سمجھ میں آتے ہیں۔ لیکن مجھے امید ہے کہ اسلم بدر کی یہ شعری تخلیق ضائع نہیں ہوسکتی۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

