مرزا سداللہ خاں غالب ایک ایسی شخصیت ہے جس کا نام پردۂ سماعت سے ٹکراتے ہی تخیل کی اسکرین پر غالب کے بے شمار کردار اپنی منفرد اور دلکش حرکات و سکنات کے ساتھ اپنی عظمت و سطوت کا علم بلند کیے چلتے پھرتے نظر آنے لگتے ہیں۔ غالب کے یہ تمام کردار ان کی ہمہ جہت شحضیت کے پرتو ہیں۔ انھیں میں سے غالب کاایک کردار وہ بھی ہے جو الہ آباد کی صعوبتوں سے پریشان ہونے کی وجہ سے سنگم کی دھرتی سے متنفر ہوکر دیر کے مقدس مقام پر صبح بنارس کے نظاروں سے ایسا محظوظ ہوتا ہے کہ دوران سفر لاحق صعوبتوں سے پیدا شدہ بیماریوں سے مکتی پا جاتا ہے۔ غالب کا یہ کردار بھی اپنے آپ میں ایک الگ دنیا رکھتا ہے۔ غالب کو بنارس کے حوالے سے یاد کرنے کے کئی پہلو بھی ہیں۔ یوںتو غالب نے رخت سفر باندھاتھا کلکتے کے لیے مگر دورانِ سفر قیامِ بنارس نے غالب کی زندگی کا ایک ایسا گوشہ پیدا کردیا جس نے غالب کی ایک الگ اور منفرد تصویر پیش کی ہے۔
غالب کو جب ہم بنارس کی عینک سے دیکھتے ہیں تو ہمیں فوری طور پر دو چیزیں نظر آتی ہے۔ایک ان کی مثنوی ’’چراغ دیر‘‘ اور دوسرے ان کے وہ فارسی خطوط جن میں شہر بنارس کے قصیدے پڑھے گئے ہیں۔ ایک طرح سے دیکھا جائے تو مثنوی ’چراغ دیر‘ جن کیفیات اورپس منظر میں لکھی گئی ان کی تشریح اور تفصیل غالب نے اپنے خطوط میں بیان کی ہیں۔ یہ مثنوی کوئی بہت طویل مثنوی نہیں ، بلکہ محض ایک سو آٹھ اشعار پر مشتمل ہے۔ اس مثنوی میں غالب نے شہر بنارس کی قصیدہ خوانی کی ہے۔ بنارس اور اہل بنارس کی خوبیوں کا ذکر ہے۔ یہ مثنوی فارسی میں لکھی گئی ہے جس کے تقریباً پانچ اردو تراجم ہو چکے ہیں۔ ایک ترجمہ اختر حسن نے کیا ہے جو کتابی شکل میں ۱۹۷۴ میں شائع ہوا۔ اس کتاب میں مالک رام کا لکھا ہوا پیش گفتار بھی ہے جس میں انھوں نے اس مثنوی اور غالب کے قیام بنارس سے متعلق بہت معلوماتی گفتگو کی ہے۔ مقدمہ کے طور پر اختر حسن کا ایک طویل مضمون ہے جو قیام بنارس اور مثنوی کے بارے میں ہیں۔ نیز اس کے علاوہ اختر حسن نے غالب سے متعلق دیگر پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ایک دوسرا ترجمہ حنیف نقوی صاحب کا ہے ۔ یہ ترجمہ غالب انسٹی ٹیوٹ سے شائع ایک کتاب ’’غالب اور بنارس‘‘ میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ اس مثنوی کے اردو تراجم سے متعلق ایک کتاب پروفیسر صادق کی ہے جس میں انھوں نے اس مثنوی کے پانچ اردو تراجم کو یکجا کیا ہے۔ ترجمہ پیش کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ ہر شعر کے بعد پانچوں مترجمین کے ترجمے لکھے گئے ہیں۔ اختر حسن اور حنیف نقوی نے منظوم ترجمہ کیا ہے جبکہ ظ انصاری، کالی داس گپتا رضا اور علی سردار جعفری نے نثری ترجمہ کیا ہے۔ اس کتاب سے ایک بات اور نکل کرسامنے آتی ہے کہ کچھ لوگوں نے کچھ اشعار کا ترجمہ نہیں کیا ہے مثلا مثنوی کے دوسرے شعر کا ترجمہ اختر حسن اور حنیف نقوی نے نہیں کیا ہے۔ ان دو حضرات نے کچھ اشعار کے ترجمے نہیں کیے ہیں جبکہ بقیہ تینوں مترجمین نے تمام اشعار کے ترجمے کیے ہیں۔
غالب کی اس مثنوی پر کئی لوگوں کے مضامین موجود ہیں۔ اختر حسن کی کتاب میں دو مضمون جو کہ ایک مالک رام کا اور ایک اختر حسن کا ہے۔ شاہد ماہلی کی مرتبہ کتاب غالب اور بنارس میں کئی مضامین جن میں اس مثنوی سے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔ اس کتاب میں جن لوگوں نے اس مثنوی پر گفتگو کی ہے ان میں خلیق انجم، اسلم پرویز، شریف حسین قاسمی اور یعقوب یاور شامل ہیں۔
اختر حسن نے اس مثنوی کے بارے میں لکھا ہے کہ
’’غالب کو ہندوستان کا یہ شہر اس قدر پسند آیا کہ انھوں نے اس کے دلربا مناظر ، کنارِ گنگا کی رعنائیوں اور بہار بستر نوروز ِ آغوش، اور مہوشوں کی تعریف میں ایک طویل فارسی مثنوی ’’چراغ دیر‘‘ لکھ کر سرزمین کاشی اور بتان کاشی کے حضور میں اپنا ہدیہ نیاز و محبت پیش کیا۔ اس مثنوی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پورے سفر میں سب سے زیادہ روحانی سکون اور جمالیاتی آسودگی غالب کو اسی بہشت ِخرم و فردوسِ معمورمیں حاصل ہوئی۔ ‘‘(غالب کی فارسی مثنوی چراغ دیر کا منظوم اردو ترجمہ ، اختر حسن، ناشر: انڈین لینگویجس فورم حیدرآباد، ۱۹۷۴، ص:۲۴)
غالب کی اس مثنوی کے بارے میں کم و بیش تقریباً تمام لوگوں نے یہی باتیں کہی ہیں۔ چراغ دیر کا پس منظر بیان کرتے ہوئے انھیں باتوں کو ماہرین غالبیات نے اپنے اپنے انداز میں پیش کیا ہے ۔ اس مثنوی کے بارے میں اختر حسن کی رائے یہ بھی ہے کہ
’’غالب کی زندگی اور شاعری میں ’’چراغ دیر‘‘ کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ’’چراع دیر‘‘ نہ صرف غالب کے اعلا جمالیاتی ذوق اور سرزمین ہند سے ان کی والہانہ محبت کی آئینہ دار ہے۔ بلکہ ادبی و فنی نقطہ نظر سے بھی ایک بلند پایہ نظم ہے ۔‘‘(غالب کی فارسی مثنوی چراغ دیر کا منظوم اردو ترجمہ ، اختر حسن، ناشر: انڈین لینگویجز فورم حیدرآباد، ۱۹۷۴، ص:۲۵)
ان خیالات کا ذکر اختر حسن نے اپنی کتاب میں کیا ہے اور پھر متعدد غزلوں کے اشعار کے حوالے سے شہر بنارس سے غالب کی محبت اور وارفتگی کے بارے میں بھی گفتگو کی ہے۔
شاہد ماہلی کی مرتبہ کتاب غالب اور بنارس میںخلیق انجم نے اس مثنوی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ
’’اس مثنوی کا شمار ہندوستان کے فارسی ادب کے اعلا شہہ پاروں میں ہوتا ہے ۔ بنارس شہر کو شاید ہی کسی اور نے غالب سے بہتر خراج تحسین پیش کیا ہو۔ ایک سو آٹھ اشعار میں انھوںنے بنارس کی تمام مادی اور روحانی خوبیوں کا احاطہ جس طرح کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔‘‘ (غالب اور بنارس، مرتب:شاہد ماہلی، غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی ، ۲۰۱۰،ص: ۲۳۔۲۴)
خلیق انجم نے اس مثنوی کے کچھ اشعار کا تجزیہ کیا اور مثالوںمیں پیش کیا ہے۔ لیکن خلیق انجم نے فارسی اشعار کے بجائے حنیف نقوی کے منظوم اردوترجمے سے انتخاب کرکے پیش کیا ہے۔خلیق انجم نے ایک نقطہ یہ بھی اٹھایا ہے کہ شہر بنارس میں غالب گمنامی کی زندگی گزارتے ہوئے اتنے دن وہاں قیام کیسے کرگئے جبکہ ان کا کوئی مداح یا شاگر بھی نہیں تھا۔ اس کے جواب میں انھوں نے مالک رام اور قاضی عبدالودو کے حوالے سے لکھا ہے کہ شاید غالب کسی غارت گر ہوش کے عشق میں گرفتار ہو گئے تھے اسی لیے اتنے دن انھوںنے وہاں قیام کیا۔
اسلم پرویز نے اپنے مضمون میں غالب اور بنارس کے تعلق سے گفتگوکرتے ہوئے اس مثنوی کے بارے ایک الگ رائے قائم کی ہے۔ جیسا کہ دیگر ناقدین کا یہ خیال ہے کہ یہ ایک طربیہ مثنوی ہے ۔ چونکہ غالب بنارس پہنچنے سے قبل بہت پریشان تھے۔ بیماری میں مبتلا تھے، لیکن بنارس میں داخل ہوتے ہی ان کی پریشانیاں دور ہو گئیں، بیماریوں سے شفایاب ہوگئے لہٰذا اس خوشی و مسرت میں انھوں نے چراغ دیر تصنیف کی اور اپنی خوشی کا اظہار انھوں نے بنارس اوراہل بنارس کی خوبیوں کا ذکرکرکے کیا ۔ لیکن اسلم پرویز نے ایک الگ زاویہ پیش کیا ہے۔ انھوںنے پہلے غالب کی کچھ غزلوں کے اشعار پیش کیے اور ان کے حزنیہ و طربیہ اسلوب کو واضح کیا اور اس کے بعد اس مثنوی کے بارے یہ رائے قائم کی ہے کہ
بنارس سے متعلق ان کی فارسی مثنوی ’’چراغ دیر‘‘ غالب کے مخصوص انداز میں بنار س کے خارجی حسن کا بیان ہے۔ تاہم یہ بات مد نظر رہنی چاہییے کہ بنارس کے دوران قیام بھی غالب کی دائمی حزنیہ سائیکی ان کا پیچھا نہیں چھوڑسکی تھی اور خود مثنوی ’’چراغ دیر‘‘ اس کا بین ثبوت ہے۔ بنارس میں غالب اسی ملی جلی حزنیہ طربیہ کیفیت میں مبتلا رہے جو قدیم یونانی حزنیہ طربیہ ناٹکوں کا خاصہ تھا ۔ چنانچہ چراغ دیر کولیجیے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کا آغاز حزنیے نوٹ کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کا اختتام بھی حزنیہ نوٹ پر ہی ہوتا ہے۔ مثنوی کے درمیان تازہ دم ہونے کے لیے وہ بنارس کے خارجی حسن کے ساتھ ہم آمیز ہوتے ہیں لیکن مادی نوعیت کے عشق کی طرح یہ جادۂ طرب دیر پا ثابت ہونے کے بجائے جلد ہی طے ہوگیا اور مثنوی پھر اپنے اسی حزنیہ نوٹ پر واپس آکر جس سے اس کا آغاز ہوا تھا اختتام پذیر ہوئی۔ (غالب اور بنارس، مرتب:شاہد ماہلی،ص: ۵۰)
اسلم پرویز نے یہ زاویہ نظر پیش کرنے کے بعد مثنوی میں ان پڑاؤ کو واضح کیا ہے کہ پہلا پڑاؤ حزنیہ ہے ، اور دوسرا پڑاؤ طربیہ ہے اور تیسرا پڑاؤ پھر سے حزنیہ ہے ۔ اسلم پرویز نے ہر پڑاؤ میں وارد ہونے والے اشعار کا ایک چھوٹا سا انتخاب بھی نمونہ کے طور پر پیش کیا ہے ۔یہ ایک الگ زاویہ ہے جو کسی اور ناقد کے یہاں دکھائی نہیں دیتا ہے۔ اس کے بعد اسلم پرویز نے دو فارسی خطوط کے اردو ترجموں سے دو اقتباس پیش کیے ہیں جن میں بنارس کی تعریف کا تفصیلی ذکر ہے۔ یہ دونوں خط خلیق انجم کی کتاب غالب کا سفر کلکتہ اور کلکتے کا ادبی معرکہ سے ماخوذ ہیں۔
مذکورہ بالا کتاب میں ایک مضمون شریف حسین قاسمی کا جس میں انھوں نے بنارس کے اُن فارسی شعرا کا تذکرہ کیا ہے جنھوں نے اپنی شاعری میں بنارس کو جگہ دی اور اس کا ذکر تفصیلی یا اجمالی کیا ہے۔ آخر میں غالب کی مثنوی چراغ دیر کا ذکر ہے جس کے بارے میں انھوں نے بہت مختصراً گفتگو کی لیکن بہت جامع تنقید ہے۔ انھوں نے اس مثنوی کے موضوع کے علاوہ اس کے فنی محاسن کو بھی بیان کیا اور غالب نے جو نئی تراکیب اس مثنوی میں استعمال کی ہیں ان کی وضاحت کی ہے۔اس مثنوی سےمتعلق ان کےتنقیدی خیالات ملاحظہ ہوں:
بنارس کی جن مذہبی، سماجی اور جغرافیائی خصوصیات کا غالب نے اس مثنوی میں ذکر کیا ہے وہ غالب کے پیشرو فارسی شعرا کے لیے بھی قابل توجہ رہی تھیں لیکن غالب نے جس تفصیل سے بنارس کے ان امتیازات کو بیان کیا ہے وہ غالب سے ماقبل بنارس سے متعلق فارسی شعرا کے کلام میں ندرت سے نظر آتی ہے۔
غالب نے اس مثنوی میں بنارس کے رنگ و نورو نکہت سے متعلق نئی نئی تراکیب تراشی ہیں۔ مثلاً مین وقماش، گلشن ادابی، قیامت قامتاں، انھوں نے یہاں کے حسینوں کو جانہای بی تن کہا، سراپا نورایزدا اور ہیولی شعلۂ طور کہا،آسمان کے ماتھے پر شفق کو قشقہ کہا، اور اس عبادت خانہ ناقوسیان کو کعبۂ ہندوستان کہا، اور ایک روشن بیان سے یہ راز فاش کرایا کہ دنیا میں ہر قسم کی برائیوں کے باوجود قیامت نہ آنے کی وجہ یہ ہے کہ خالق کائنات کو بنارس کو نیست ونابود کرنا منظور نہیں۔ (غالب اور بنارس، مرتب:شاہد ماہلی،ص: ۶۷)
شریف حسین قاسمی نے اپنے اس مختصر بیان کے ذریعے مثنوی چراغ دیر پر اپنی تنقیدے رائے ظاہر کی ہے اور اس کے بعد غالب کے فارسی خطوط کا حوالہ دیا ہے کہ ان کے ذریعے اس مثنوی کے مطالب کی تصدیق ہوتی ہے اور اس کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ایک مضمون ریحانہ خاتون کا’غالب کی شخصیت کے دو پہلو ایران اور بنارس کے حواسے‘ ہے۔ اس میں مضمون نگار نے چراغ دیر کے بارے میں چند سامنے کی باتیں پیش کی ہیں بالخصوص اس کے موضوعات سے متعلق عمومی باتیں جو تقریباً تمام ناقدین نے کہی ہیں۔
یعقوب یاورصاحب کا ایک تفصیلی مضمون ’’غالب، بنارس اور مثنوی چراغ دیر‘‘کے عنوان سے شاہد ماہلی کی کتاب میں شامل ہے۔ یہ بہت تفصیلی مضمون اس معنی میں ہے کہ اس میں مضمون نگار نے غالب کے قیام بنارس کی مختلف جہات پر بہت تفصیل سے لکھنے کی کوشش کی ہے اور شہر بنارس کے بارے میں بالخصوص غالب کے زمانہ قیام کے بنارس کے بارے میں بہت تفصیل سے روشنی ڈالی ہے جس سے ان کی مثنوی کو سمجھنے میں اور زیادہ آسانی ہوتی ہے۔ یعقوب یاور نے اس مضمون میں غالب کی نفسیات کو بھی سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ آخر میں مثنوی چراغ دیر پر تفصیلی تنقیدی رائے دی ہے۔اس مثنوی کے بارے میں ان کے خیالات کے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں۔
اس مثنوی میں کل ایک سو آٹھ اشعار ہیں۔ یہ عدد ہندوؤں یا باشندگان بنارس کی اکثریت کے عقائد کی رو سے بے حد مقدس سمجھا جاتا ہے۔ ۔۔۔۔ عموماً کسی مقدس شخصیت کے نام کے پہلے بھی شری شری ایک سو آٹھ کا سابقہ لگادیاجاتا ہے۔ ۔۔۔۔غالب نے شعوری طور پر اس مثنوی میں اشعار کی تعداد ایک سو آٹھ رکھ کر اس شہر کے تقدس کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یہی تاثر دینے کی کوشش کی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں غالب اور مثنوی چراغ دیر – ابو بکر عباد)
یہ مثنوی شدت آلام میں دل کے اندر برپا آتش فشاں کے پھوٹ پڑنے اور اس میں پوشیدہ اسرار کے طشت از بام کردینے پر آمادگی کے ذکر سے شروع ہوتی ہے۔ مثنوی کا پہلا شعرغالب کی اسی کیفیت کی ترجمانی کرتا ہے ۔ تاثرات کا یہ سلسہ پانچویں شعرتک گیا ہے جس میں غالب نے مختلف تشبیہات کا سہارا لیا ہے اورہر شعر ان کی جدت پسندی اور تلاش ترکیب کا ثبوت ہے۔
غالب مثنوی کے چھٹے سے انیسویں شعر تک دوستوں کی بے التفاتی کے شاکی ہیں ۔ ۔۔۔۔صاف جھلکتا ہے کہ غالب کچھ اور کہنا چاہتے ہیں لیکن ان کی شرافت نفس ہر ہر قدم پر ان کی دامن کش ہے۔ ۔۔۔۔۔اس کے بعد شعر ۲۰ تا ۸۱وہ باسٹھ اشعار ہیں جن میں غالب نے بنارس کی تعریف کی ہے ۔ (غالب اور بنارس، مرتب:شاہد ماہلی، ص: ۱۶۶۔۱۶۹)
یعقوب یاور صاحب نے یہاں ان باسٹھ اشعار کا اردو ترجمہ بھی پیش کیا جو ظ انصاری نے نثر میں کیا ہے۔ اس ترجمے کے بعد یاور صاحب نے پھر اسی انداز میں بقیہ اشعار کا تجزیہ کیا ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:
شعر ۸۲ تا ۱۰۲ غالب نے بنارس کی خوش حالی کے مقابلے میں اپنی بدحالی کا ماتم کیا ہے۔ کہ تم ایک ناکارہ انسان ہو جو اپنوں اور بیگانوں کی نظر سے گر چکے ہو۔ ۔۔۔غالب اشعار۱۰۳ تا ۱۰۸ ]میں[ ایک صوفی کی طرح فنا کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ (غالب اور بنارس، مرتب:شاہد ماہلی،ص: ۱۷۳۔۱۷۴)
یعقوب یاور نے اس مثنوی کا بہت تفصیلی تجزیہ کیا ہے اور اس کو کئی زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔مذکورہ بالا اقتباسات دراصل ایک اشاریے کے طور پر درج کیے گئے ہیں۔ آخر میں انھوں نے بنارس کی تہذیب اور وہاں کی مذہبی اور اخلاقی صورت حال کے تناظر میں اس مثنوی کا مطالعہ کیا ہے ۔ انھوں نے روحانیت کے پس منظر میں بھی اس مثنوی کا تجزیہ کیا ہے۔ اور انھوں نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ روحانیت کی وجہ سے غالب نے اس شہر میں کسی سے ملاقات نہیں کی ، بس ایک جھونپڑی میں رہ کر یہاں کی روحانیت سے فیضیاب ہوتے رہے ۔ایک مضمون پروفیسر صادق صاحب ہے جو دستیاب نہیں ہوسکا اس لیے ان کے تعلق سے کچھ بھی کہنے سے قاصر ہوں۔
مجموعی طورپر دیکھا جائے تو جن لوگوں نے اس مثنوی پر گفتگو کی ہے وہ زیادہ تر اس کے موضوعات پرہے بالخصوص بنارس کے پس منظر میں۔ کچھ لوگوں نے مختصر گفتگو کی اور کچھ لوگوں نے بہت تفصیل سے اس کا تجزیاتی اور تنقیدی مطالعہ پیش کیا ہے۔ بہر حال اس مثنوی اور قیام بنارس کی وجہ سے غالب کی دیگر تمام جہات میں یہ بھی ایک اہم جہت ہے جس کے تعلق سے بہت سے رازہیں جوابھی طشت ازبام نہیں ہوئے ہیں۔ یہ پردہ راز میں ابھی تک ہے کہ آخر غالب نے ایک ماہ تک بنارس میں کیسے قیام کیا۔ کچھ اشارے تو کیے گئے ہیں لیکن پوری طرح سے ابھی اس حقیقت سے پردہ نہیں اٹھا ہے۔
٭٭٭٭٭
( صریر خامہ/ مصنف :ڈاکٹر سلمان فیصل)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
Salman Faisal ne achcha mazmoon likha hai. Charagh e Dair ke aham tarajim per unhone maqool guftgu ki hai
بہت بہت شکریہ سر