کمال احمد صدیقی کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں۔وہ ایک کامیاب براڈکاسٹر، ممتاز شاعر، افسانہ نگار، انشا پرداز، ماہر عُروض، ناقد اور محقق تھے۔ بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں ان کی نظموں کا خوب شہرہ ہوا۔ اپنی قدامت پرستی کے لئے مشہور لکھنو میں رہ کر انھوں نے آزاد نظم میں اتنے کامیاب تجربے کئے تھے کہ میرا جی اور ن ۔م۔راشد کے ساتھ ان کا نام لیا جانے لگا۔قیوم نظر، یوسف ظفر، ضیاء جالندھری، مخمور جالندھری اور مختار صدیقی جیسے معاصرین کی طرح کمال احمد صدیقی بھی تجربہ پسند تھے۔ ذہنی اور جذباتی طور پر حلقہ اربابِ ذوق کے قریب تھے۔ ان کی آزاد نظموں میں موضوعات کا تنوع اور نئے پن کی جستجو بہت ہے۔ ان کی نظمیں ’’ساقی‘‘،’’ رفتار‘‘ اور’’ ادب لطیف ‘‘جیسے رسائل میں شائع ہونے لگیں۔ نظموں کا مجموعہ ’’ بادبان اور دوسری نظمیں ‘‘ کے عنوان سے حلقہ ارباب ذوق ، لکھنو کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ ان کی شاعری کی بھرپور پذیرائی ہو رہی تھی۔ نظموں کے علاوہ ان کی غزل گوئی نے بھی اہلِ نظر کو متاثر کیا۔
ایک دل ہے کہ اُجڑ جائے توبستا ہی نہیں
ایک بت خانہ ہے اُجڑے تو حرم ہوتا ہے۔
یا
کچھ لوگ جو خاموش ہیں یہ سوچ رہے ہیں
سچ بولیں گے جب سچ کے ذرا دام بڑھیں گے۔
یا
بات کرتا ہے بہ ظاہر بڑی سادہ سی کمال
جو سخن ور ہیں وہی اس کے سخن تک پہنچے ۔
جیسے کچھ بہت اچھے اشعار کمال احمد صدیقی نے اردو شاعری کو دیئے۔ لیکن وہ مضطرب تھے کہ کچھ اور چاہئے وسعت میرے بیاں کے لئے۔ پروفیسر عتیق اللہ ان کی اس بے چینی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
کمال احمد صدیقی اپنے معاصرین میں سب سے مختلف دھج رکھتے تھے۔ شاعری سےادبی سفر کا آغاز کیا اور عرصہ دراز تک صرف اور صرف شاعر کی حیثیت ہی سے پہچانے گئےاور اس پہچان پر قائم و قانع بھی رہے۔ طبیعت کی بے چینی کو کیا نام دیجئے چپکے بیٹھنا نہیں آیا ۔
اچھے خاصے شاعر تھے ۔ پالا بدلا اور تحقیق جیسے خشک اور محنت طلب اور صبر آزما میدان کی راہ لی۔‘‘
( پروفیسر عتیق اللہ : ایک ستارہ جو بحر نیلگوں میں ڈوب گیا، ماہنامہ اردو دنیا ، فروری ۲۰۱۴ )
دراصل کمال احمد صدیقی کی اسی اضطرابی کیفیت کے صدقے میں کچھ بہت اہم تحریریں منظر عام پہ آ سکیں۔ بطور براڈ کاسٹر ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن نشریات کے حوالے سے ان کی بہت اہم کتاب ’’ ریڈیو اور ٹیلی ویژن میں ترسیل و ابلاغ کی زبان ‘‘ منظر عام پہ آئی۔ آپ کی ایک شناخت ماہر لسانیات کی بھی ہے۔ اردو زبان کے آغاز و ارتقاء کے حوالے سے آپ کی بہت اہم تحریریں موجود ہیں۔’’ مقدمہ زبان اردو‘‘ ایک ایسی ہی اہم کتاب ہے ، جس کا انتساب منشی پریم چند، فراق گورکھپوری، آنند نرائن ملا، جسٹس مارکنڈے کاٹجو، جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر، گوپی چند نارنگ اور پریت پال سنگھ بیتاب کے نام ہے۔ اس کتاب کا دیباچہ مشہور کمیونسٹ لیڈر کامریڈ ہر کشن سنگھ سرجیت نے لکھا ہے۔ اس کتاب میں نہ صرف اردو زبان کے آغاز و ارتقا ء سے بحث کی گئی ہے بلکہ اردو کے تمام مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔ آزاد ہندوستان میں اردو کی بقاء اور ترویج و ترقی کی راہ میں جتنی رکاوٹیں پیدا کی گئیں، ان کا منصفانہ جائزہ اس کتاب میں موجود ہے۔ کمال احمد صدیقی ماہر عروض کی حیثیت سے بھی خاصی شہرت رکھتے تھے۔عروض کے حوالے سے ہر بحث میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے تھے۔ ’’ آہنگ اور عُروض ‘‘ آپ کی بہت اہم کتاب ہے۔ جس کے کئی ایڈیشن شائع ہوکر مقبول خاص و عام کا درجہ حاصل کر چکے ہیں۔
کمال احمد صدیقی نے مرزا غالب پہ جو اہم کام کئے ہیں اس کی بنا پہ غالب شناسی کے باب میں بھی ان کا نام بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ خواجہ الطاف حسین حالی، علی حیدر نظم طبا طبائی، حسرت موہانی، سید احتشام حسین، مسعود حسن رضوی ادیب، قاضی عبد الودود، مولانا امتیاز علی خان عرشی، مالک رام، کالی داس گپتا رضا، شمس الرحمٰن فاروقی، پروفیسر شمیم حنفی،پروفیسر محمد حسن، پروفیسرقاضی افضال حسین، پروفیسر قاضی جمال حسین جیسے اہم ماہر ین غالبیات کی فہرست میں کمال احمد صدیقی کا نام بھی شامل ہے۔ تحقیق و تدوین کی طرف انھوں نے توجہ کی تو غالب کے املا، لغت اور مخطوطہ شناسی میں انھیں لطف آنے لگا۔ سید مظفر حسین برنی لکھتے ہیں :
۱۹۶۹ میں ، جب سارے ملک میں جشن ِ غالب منایا گیا ، تو حکومتِ کشمیر نے بھگوان سہائے ) گورنر ) کی سرپرستی اور غلام محمد صادق ( وزیر اعلیٰ ) کی صدارت میں ریاستی یادگار ِ غالب کمیٹی قائم کی، اور کمال صاحب کو اس کا سیکریٹری مقرر کیا ۔ اسی زمانے میں ایک مخطوطہ بھوپال سےبرآمد کیا گیا ، جسے دیوانِ غالب بخطِ غالب بتایا گیا۔ اس پر کمال صاحب نے کام کیا، ایک ایک حرف کو پرکھا اور کتاب ’’ بیاض ِ غالب : تحقیقی جائزہ ‘‘ لکھی ، جو پروفیسر محمد حسن کے الفاظ میں’’ اب تک کی سب سے اہم تحقیقی کتاب‘‘ ہے،اس میں انھوں نے نہ صرف اندرونی شہادتوں سے مخطوطہ پرکھنے کا طریقہ کار واضح کیا ، بلکہ غالب کے شعر کی پرکھ کے بھی اعلیٰ نمونے پیش کئے ہیں ‘‘
( سید مظفر حسین برنی : پیش لفظ، غالب کی شناخت ،غالب انسٹی ٹیوٹ ، دہلی،۱۹۹۷)
کمال احمد صدیقی کی دو اہم کتابیں ’’ بیاضِ غالب : تحقیقی جائزہ ‘‘ اور ’’ غالب کی شناخت ‘‘ غالبیات کے باب میں اضافہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ’’بیاضِ غالب : تحقیقی جائزہ ‘‘ پہلی مرتبہ ادارہ مطالعات غالب، سری نگر ، کشمیر سے شائع ہوئی، جبکہ ’’ غالب کی شناخت ‘‘ کی اشاعت ۱۹۹۷میں غالب انسٹی ٹیوٹ ، نئی دہلی سے ہوئی۔سید مظفر حسین برنی نے بھوپال سے مخطوطہ برامد ہونے کے جس واقعے کا ذکر کیا ہے، وہ جب نسخہ عرشی زادہ کے نام سے منظر عام پہ آیا تو کمال احمد صدیقی نے اسے ایک جعلی نسخہ قرار دیا۔ ’’ ایک جعلی نسخہ ‘‘ کے عنوان سے ایک بھرپور مضمون ان کی کتاب ’’ غالب کی شناخت ‘‘ میں شامل ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ نسخہ عرشیِ ثانی جسے دیوانِ غالب اردو ، نسخہ عرشی نقشِ ثانی کے نام سے موسوم کیا گیا ہے، اس کا مرتب کون ہے ؟ کمال احمد صدیقی شواہد پیش کرتے ہیں کہ مرتب مولانا امتیاز علی خان عرشی نہیں ہو سکتے، بلکہ یہ اکبر علی خاں عرشی زادہ کا کام ہے۔ کمال احمد صدیقی نے جب اس نسخے کو جعلی نسخہ قرار دیا تو مشہور محقق مالک رام نے مضامین لکھ کر اس مخطوطے کو غالب کی خود نوشت بیاض تسلیم کرتے ہوئے اسے میرزا کے اردو کلام کا سب سے پرانا مخطوطہ قرار دیا۔ پھر تو مولانا عرشی اور عرشی زادہ کے ساتھ ساتھ مالک رام بھی کمال احمد صدیقی کے نشانے پہ آ گئے۔ کمال صاحب بڑی بے باکی سے لکھتے ہیں:
’’ مالک رام کا شمار اس عہد کے مقتدِر غالب شناسوں میں ہوتا ہے۔ لیکن وہ نسخہ جو ۱۹۶۹ میں دریافت کیا گیا، اس کے سلسلے میں موصوف کا رویّہ علمی یا تحقیقی نہیں، بلکہ ایک فریق کے وکیل کا ہے، اورایسے وکیل کا جس نے نہ کوئی شہادت پیش کی ، نہ کوئی تجزیہ کیا ، نہ کوئی استدلال پیش کیا ، اور نہ کوئی صفائی پیش کی۔ ‘‘
کمال احمد صدیقی یہیں نہیں ٹھہرتے ، وہ مالک رام کی طرفداری پہ طنز کرتے ہیں۔لہجے کی تلخی کا اندازہ ان کے اس اقتباس سے ہوگا۔
’’ ایک ایسے مخطوطے کو کھرا مال ظاہر کرنے کے لئے ، جس کے مستند ہونے پر انھیں شبہ کرنا چاہئے تھا، مالک رام نے زبان کے سلسلے میں معمولی احتیاط بھی روا نہ رکھی۔ محقق کی زبان بھی وہی ہوتی ہے، جو تھوک اور پرچون کے بیوپاریوں کی ۔ لیکن زبان کے برتنے میں تھوڑا فرق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر بیو پاری تو اپنا مال بیچنے کے لئے یہ کہہ سکتا ہے کہ جناب یہ جانگیہ سب سے بہترین ہے۔
مالک رام نے بھی یہ لکھ کر کہ ’’ اس وقت تک جتنے نسخے دریافت ہوئے ہیں ، یہ ان میں سب سےقدیم ترین ہے ، ایک مشکوک نسخے کو بیچنے کی کوشش کی ہے۔ ‘‘
( کمال احمد صدیقی : غالب کی شناخت ، ص ۱۳۳ )
کمال احمد صدیقی خلوت پسند نہیں ، مجلسی آدمی تھے۔ ادبی مجالس میں پورے جوش و خروش سے حصہ لیتے۔ بحث جب تک چل سکے چلے۔ بحث سے گھبراتے نہیں، اور بھاگتے بھی نہیں ۔ جن موضوعات پر ان کی گہری نظر نہیں تھی ان پر بھی فیصلہ کن گفتگو کے عادی تھے۔ مطالعہ وسیع تھا اور یادداشت بھی اچھی تھی اس لئے ادبی مجالس میں اپنی علمیت کا بھرم قائم رکھتے ۔ ایسے مجلسی شخص سے تحقیقی کام کی توقع نہیں کی جاتی ہے۔ لیکن کمال صاحب تو کمال صاحب تھے۔ مجلسی بحث و تکرار اور تحقیقی کاوشوں کے درمیان تال میل بٹھانا کوئی کمال احمد صدیقی سے سیکھے۔ جس زمانے میں وہ اپنی کتاب ’ بیاض غالب : تحقیقی جائزہ ‘ پر کام کر رہے تھے، ان کے پاس وسائل نہیں تھے۔ بغرض ملازمت وہ کشمیر میں سکونت پذیر تھے۔ وہاں ان کے پاس بہت سی کتابیں نہیں تھیں۔ وہ ای میل ، وہاٹس ایپ اور آن لائن کا زمانہ نہیں تھا کہ اک آن میں مطلوبہ کتابیں یا دیگر مواد حاضر ہو جائے۔ لیکن کمال احمد صدیقی نے اپنی لگن اور محنت سے بہت سی کتابیں جمع کیں۔ اور بھرپور مطالعے کے بعد بیاض غالب پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ وہ لکھتے ہیں :
’’ غالب کے جتنے مطبوعہ نسخے مل سکے ، میں نے ان کا تقابلی مطالعہ کیا۔جناب امتیاز علی عرشی اور جناب مالک رام صاحب کے مرتب کئے ہوئے نسخے زیادہ درست پائے۔ لیکن ان میں بھی کچھ غلطیاں جگہ پا گئی ہیں اور یہ غلطیاں اختلافِ نسخ کی وجہ سے نہیں ہیں۔ مالک رام صاحب نے املا چونکہ موجودہ اسلوب کے مطابق لکھا ہے اس لئے جہاں جہاں ’یاں ‘ کے بجائے’ یہاں ‘لکھا ہے، وہ بہت گراں گزرتا ہے۔ ‘‘
(کمال احمد صدیقی : بیاض غالب : تحقیقی جائزہ ، ص ۹ )
مالک رام صاحب کا بھرپور احترام کرتے ہوئے کمال احمد صدیقی نے ان کی اس روش کو بار بار ناقابل قبول قرار دیا ہے، جہاں وہ کلام غالب کا املا موجودہ اسلوب کے مطابق لکھتے ہیں ۔ سچ بات یہ ہے کہ بعض مقامات پہ مصرعے بحر سے خارج ہو جاتے ہیں۔ شعر وزن میں نہ ہو تو پھر اس سے زیادہ قابل اعتراض بات اور کیا ہو سکتی ہے ؟ مثال کے طور پہ غالب کا یہ شعر ہے :
لکھا کرے کوئی احکامِ طالعِ مولود
کسے خبر ہے ،کہ وہاں جنبش ِ قلم کیا ہے
کمال صاحب نے اعتراض کیا ہے کہ اگر اس شعر میں ’’وہاں ‘‘ کو ’واں ‘کے وزن پر نہ پڑھا جائے تو شعر نا موزوں ہو جاتا ہے۔ مالک رام نے فٹ نوٹ بھی نہیں لکھا ہے کہ وضاحت ہو جائے کہ کسی نسخے میں ’واں ‘بھی استعمال ہوا ہے یا نہیں۔ چونکہ غالب ’’واں ‘‘ اور ’’وہاں ‘‘ دونوں لکھتے تھے۔ مثال کے طور پہ غالب کا شعر ہے :
ہم وہاں ہیں ، جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
ایسے بے شمار مقامات ہیں جہاں کمال احمد صدیقی نے مالک رام کی گرفت کی ہے۔کمال احمد صدیقی نے ایک ایسے محقق کے طور پہ اپنی پہچان بنائی جو فیصلہ سنانے کے انداز میں گفتگو کرے۔ کمال صاحب کی طبیعت میں ضد بھی بہت تھی۔ جس بات پہ اَڑتے تھے اسے منوانے کی بھرپور کوشش کرتے۔ شواہد جمع کرتے، دلائل پیش کرتے اور دو ٹوک فیصلہ سنا دیتے۔ ’’ایک جعلی نسخہ ‘‘ والے معاملے میں ایک حد تک کمال صاحب نے مولانا امتیاز علی خاں عرشی کو بخش دیا تھا۔ نشانے پہ عرشی زادہ تھے اور ان کی حمایت کرنے پہ مالک رام کو بھی انھوں نے نشانے پہ رکھا۔ لیکن عرشی صاحب کو بھی کب تک بخشتے ؟ اپنے اسی مضمون میں لکھتے ہیں :
’’ مالک رام اور امتیاز علی خاں عرشی ، دونوں نے غالب پر لکھتے وقت خطوط غالب سےبھرپور استفادہ کیا ہے۔ مولانا عرشی تو مکاتیب غالب کے مرتب بھی ہیں ۔ ان کی نظر میں یہ باتیں ضرور ہونگی، اور وہ ایک ایسے نسخے کو کھرا ہونے کی سند نہیں دے سکتے تھے۔ دیباچےمیں جو عبارت مولانا عرشی سے منسوب کی گئی ہے ، وہ الحاقی ہے۔ اور اگر بہ فرضِ محال یہ مولاناعرشی کی تحریر ہے ، تو مالک رام کی تحریر کی طرح قابلِ قبول نہیں۔ ‘‘
( کمال احمد صدیقی : غالب کی شناخت ، ص ۱۳۶ )
کمال احمد صدیقی نے ’مخطوطہ شناسی ‘ اور’ مخطوطے کی پرکھ ‘کے عنوان سے دو بے حد اہم مضامین لکھ کر غالبیات کے حوالے سے کام کرنے والے ریسرچ اسکالرس کی راہ آسان کر دی ہے۔ چونکہ مخطوطہ شناسی ایک علمی اور تکنیکی معاملہ ہے، اس لئے اسکے اصول وضوابط سے بھرپور آگہی کے بغیر کلام غالب کی تدوین کا کام مزید گمرہی کا سبب بنے گا۔ ’عہدِ غالب کا فکری پس منظر ‘ اور ’’ موازنہ ذوق و غالب ‘‘ جیسے مضامین لکھ کر کمال احمد صدیقی نے نہ صرف کلامِ غالب بلکہ عہدِ غالب کے شعری امتیازات سے بحث کی ہے۔ ’’ غالب اور لغت ‘‘ اور ’’ آہنگ ‘‘ جیسے Thought Provoking مضامین بھی ان کی کتاب ’’ غالب کی شناخت ‘‘ میں شامل ہیں۔ غالب اور عہدِ غالب کے حوالے سے اپنی ان تمام تحریروں کی روشنی میں کمال احمد صدیقی غالب شناسوں میں ممتاز نظر آتے ہیں۔
ڈاکٹر شفیع ایوب
ہندوستانی زبانوں کا مرکز،
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

