Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ

قطار میں ایک چہرہ  – مشرف عالم ذوقی

by adbimiras اکتوبر 12, 2020
by adbimiras اکتوبر 12, 2020 0 comment

No matter what cause one defends, it will suffer  permanent disgrace if one resorts to blind attacks on crowds of innocent people

–Albert Camus

’ جو نہیں دیکھتے؍جو نہیں بولتے؍جو نہیں سوچتے؍وہ مرجاتے ہیں۔۔۔‘

 

یہ میری اس سے پانچویں ملاقات تھی۔ لیکن ان ملاقاتوں کے باوجود ہمارے درمیان اجنبیت برقرار تھی۔ ہم ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے۔ یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کو جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس کی شکل وصورت میں بھی کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ اسے یاد رکھا جائے۔ مگر اس کے تعلق سے یکے بعد دیگر ے جو واقعات سامنے آئے، کہیں نہ کہیں میں خود کو بھی ان واقعات و حادثات کا ایک حصہ تصور کررہا تھا۔ ان دنوں بہت کچھ ایسا ہوا تھا،جس کی تفصیل بتا دینا ضروری ہے۔یہ انہی دنوں کا  تذکرہ ہے جب اچانک ہماری گول گول دنیا میں بہت کچھ الٹا سیدھاہونے لگا تھا۔ مثال کے لئے ہماری کالونی کے ایک بچے نے کچھ شرارتی بچوں کے ساتھ یہ کہہ کر شور مچایا کہ وہ جس چھوٹی سی بال سے کھیل رہا تھا، وہ اچانک بڑی ہوکر غبارے کی طرح پھول گئی اور اب اس غبارے سے عجیب وغریب آوازیںآرہی ہیں۔ ظاہر ہے بچوں کی ان باتوں پر دھیان دینے کی ضرورت کسی نے بھی محسوس نہیں کی۔میرے ایک پڑوسی کا ڈیری فارم کا بزنس تھا۔ اسے شکایت تھی کہ اچانک گایوں نے دودھ دینا بند کردیا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں تھی مگر گایوں کو لے کر اس کی تین شکایتیں ایسی تھیں، جس پر یقین کرنا مشکل تھا۔ اس نے بتایا کہ گائیںاچانک انسانوں کی طرح پوجا پاٹھ کرنے لگی ہیں ۔ دوسری شکایت یہ کہ گایوں کی آنکھیں اچانک سرخ ہوگئی ہیں، جیسے ان میںخون اتر آیا ہو۔ تیسری شکایت یہ تھی کہ اچانک گایوں کے جسم میں انگنت سینگیں نمودار ہوگئی ہیں۔ پڑوسی پر پہلے بھی پاگل پن کا دورہ پڑ چکا تھا اس لئے اس کی دیوانگی بھری باتوں پر توجہ دینا میں نے ضروری نہیں سمجھا۔ لیکن اس رات اچانک یہ بتا کر اس نے حیران کردیا کہ گائیں اچانک ڈیری سے غائب ہوگئیں۔

’ غائب ہوگئیں یا رسی توڑکر بھاگ گئیں۔؟‘

’ نہیں رسیاں تو انہوں نے پہلے ہی کھول لی تھیں۔ کیونکہ پوجا پاٹھ میں پریشانی ہوتی تھی۔‘

’ یعنی گائیں کھونٹوں سے بندھی ہوئی نہیں تھیں؟‘

’ بالکل بھی نہیں۔ انہوں نے اپنی مرضی سے دودھ دینا بند کردیا اور پھرکھونٹوں سے خودکوآزاد کرلیا۔‘

’ایسا کیسے ممکن ہے؟‘

’’مجھے معلوم ہے کہ کو ئی یقین نہیں کرے گا۔ مگر سچ یہی ہے۔‘پڑوسی نے رازدارانہ اندازمیں بتایا ۔ ’میرے کئی دوست جو ڈیری فارم کے مالک ہیں ان کے یہاں بھی اسی سے ملتے جلتے واقعات پیش آئے ہیں۔ ‘جاتے جاتے وہ اچانک ٹھہر گیا۔ میری طرف غور سے دیکھا۔ پھر کہا۔ آپ نہ مانیں مگر۔۔ گایوں کے اچھے دن شروع ہوگئے ہیں۔جیسے ہمارے بُرے دن۔۔۔۔‘

اس کے بعد وہ رُ کا نہیں، دروازے سے اوجھل ہوگیا۔ ٹھیک یہی وقت تھا، جب میں نے بیوی کی غصے سے لبریزآواز سنی ۔

’ فریج میں تو مٹن پڑا ہے۔ تم تو چکن لینے گئے تھے۔؟

’ میں نے چکن لایا تھا۔‘

’توفریج میں جاکر چکن مٹن ہوگیا؟یہ دیکھو۔‘

میں جو کچھ دیکھ رہا تھا، اس پر یقین کرنامشکل تھا۔ مگر اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں تھی کہ میں نے چکن ہی لایا تھا ۔ اور صبح جب بیوی نے چکن لانے کی فرمائش کی تو میں چکن مارکیٹ میں ہی گیا ،جہاں صرف چکن کا ہی گوشت ملتا ہے ۔ افغانی چکن،لالی پاپ چکن، ہاف فرائی چکن،چکن اطالوی،کڑھائی چکن، بون لیس چکن۔میری آواز کانپ رہی تھی۔۔۔ ’میں نے چکن ہی لایا تھا۔،

’ تم آج کل بھولتے جارہے ہو۔‘

’ نہیں بالکل بھی نہیں۔اچھا ٹھہرو۔ صبح تم نے مجھے کتنے پیسے دیئے تھے؟‘

’ ہاں میں نے گن کر دیئے تھے۔‘

’ وہی تو۔۔‘

’ تم نے اپنے پاس سے لگائے ہوں گے۔ ‘بیوی غصے سے بولی اور تم یہ بھی بھول گئے کہ محض اس بات پر پورے گھر کو جیل ہوسکتی ہے۔‘

میں ایک لمحہ کے لیے چونک گیا ۔ لیکن بیوی نے جو کہا، وہ صداقت پر مبنی تھا۔ حکومت کی طرف سے انسانی صحت وسلامتی اور تحفظ کے لئے جو ہدایات جاری ہوئی تھیں، ان پر عمل کرنا ضروری تھا۔ان ہدایات کو باضابطہ پارلیمنٹ میں، قانونی شکل میں منظوری مل گئی تھی۔ ان ہدایات کے مطابق صبح سویرے آپ کو آن لائن ایک فارم بھرنا ہوتا تھا، جس میں کئی باتوں کی تفصیلات دینی ہوتی تھیں۔ مثلاً آج آپ کیا کررہے ہیں؟کہا ںجارہے ہیں؟ اور گھر میں بریک فاسٹ، لنچ اور ڈنر میں کیا کھانے کا پروگرام ہے۔ ان کے کل اخراجات کتنے ہوں گے۔۔۔۔ ؟ان ہدایات کا پابند ہر شہری تھا۔ بیوی ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے غصہ کا مظاہرہ کررہی تھی۔’صبح فارم میں، میں نے چکن بھرا تھا۔ اب ہدایت والے فارم میں آن لائن جاکر دوبارہ یہ لکھنا ہوگا کہ ہم ڈنر میں مٹن کھانے جارہے ہیں۔‘

’کیا انتظامیہ اس بات کو تسلیم کرلے گی؟‘

’ کہا نہیں جاسکتا۔‘

’کیا انہیں یہ دلیل نہیں دی جاسکتی کہ چکن اچانک فریج میں آکر مٹن بن گیا۔‘

’بالکل دی جاسکتی ہے ۔‘’ بیوی نے غضب ناک ہوکر میری طرف دیکھا۔’ وہ گھر کو جیل بنادیں گے۔دلیل دیں گے کہ چکن مٹن ہوسکتا  ہے تو گھر جیل کیوں نہیں؟ اب اس کے ہونٹوں پر کافی دیر بعد ذراسی مسکراہٹ آئی تھی۔’ گھر میں بچے ہیں۔ بچے بھی ہدایات پر عمل کررہے ہیں۔ اور ہاں سن لیجئے۔ ہم ان ہدایات کے خلاف نہیں جاسکتے۔‘

’بچے کہاں ہیں۔‘

’ اپنے کمرے میں ہیں ، پڑھ رہے ہیں۔‘

میں بچوں کے کمرے میں آیا تو ایک بار پھر دنیا کے تیزی سے بدلنے کا انکشاف ہوا۔ مجھے خود پر حیرانی تھی۔ میں آخر سرکاری ہدایات پر عمل کرنا کیسے بھول گیا۔؟  ایک معمولی سی غلطی بھی ہمارے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ بچے سو چکے تھے ۔ مگر یہ کیا۔ بچوں کی میز خالی تھی۔ کہیں آس پاس کوئی کتاب نظر نہیں آ رہی تھی۔ مجھے یاد آیا ۔یہاں بچوں کے اسکول کے بیگ ہوا کرتے تھے- بیگ بھی ندارد تھے۔ کتابوں کے بغیر بچوں نے کیا پڑھائی کی ہوگی؟میں دوبارہ بیوی کے پاس آیا اور بچوں کی کتابوں  کے بارے میں دریافت کیا تو اس بار وہ آتش فشاں کی طرح پھٹ گئی۔

’ پاگل ہوگئے ہو یا یادداشت چلی گئی ہے۔‘

’کیوں۔؟‘

’تمہیں پتہ نہیں کہ بچے اسمارٹ فون سے پڑھتے ہیں، فیس بک پر فرینڈس بناتے ہیں اور پے ٹی ایم سے پزا ، برگر اور آئس کریم خرید تے ہیں۔‘

’ لیکن ابھی کچھ دن پہلے تک۔۔۔۔۔۔‘

بیوی کا لہجہ سفّاک اور سرد تھا۔’تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔ اس بار پریشان کیا تو میں آن لائن تمہاری شکایت کردوں گی۔‘

 

مجھے یقین تھا۔ بیوی ایسا کرسکتی ہے۔ کیوں کہ اس بدلی بدلی ہوئی دنیا میںاحکام و ہدایات کی پابندی نے سب کو الگ الگ اکائی میں تبدیل کردیا تھا۔ یہاں خاندان کا فرسودہ اور روایتی نظام کب کا ختم کیا جاچکا تھا۔ گھر کا تصور باقی ضرور تھا مگر  اس تصورمیں ہر کوئی ایک دوسرے کے لئے اجنبی تھا۔۔۔۔۔ فرصت کس کو تھی۔ گھر میں الگ موبائل اسکرین پر الگ الگ دنیائیں آباد تھیں ۔ لیکن یہ بات سب کو پتہ تھی کہ اس کی دنیا پر نظر رکھی جارہی ہے۔ اس کی ایک مثال تو اسی وقت سامنے آگئی جب اچانک بیل بجنے کی آواز سن کر میں نے دروازہ کھولا۔۔۔۔۔۔

یہ میرا دوسرا پڑوسی تھا۔خفیہ محکمہ میں بڑا افسر تھا۔اس کی بیوی ایک نوجوان کے ساتھ بھاگ گئی تھی اور وہ مزے لے

لے کر اس بات کا تذکرہ کرتا تھا کہ وہ اس حقیقت سے واقف تھا۔ بلکہ سوبار سے زیادہ گھر کے خفیہ سی سی ٹی وی کیمرے پر وہ اپنی بیوی اور اس کے بوائے فرینڈکی فوٹیج سے لطف اندوز ہوچکا تھا۔

خفیہ افسر ہنستا ہوا ڈرائنگ روم کے صوفہ پر آکر دھنس گیا۔ میری طرف دیکھ کر قہقہہ لگا یا ۔

’ تو آج چکن، مٹن بن گیا۔‘

میں اچانک چونک گیا۔’ کیا میری بیوی نے فارم پر آن لائن انتظامیہ کو چکن کی جگہ مٹن بنانے کی اطلاع دے دی ہے؟‘ اگر ایسا نہیں ہے تو یہ خفیہ افسر کیسے جانتا ہے اور اگر ایسا کیا ہے تو انتظامیہ آئندہ ہمارے لئے سخت رویہ اپنا سکتی ہے۔‘

’ ہا۔۔۔ہا۔۔۔کیا سوچنے لگے‘ خفیہ افسر ہنس رہا تھا۔

’ تمہیں کیسے پتہ چلا؟‘

’ ہمیں سب پتہ ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں سب کی آواز کا ریکارڈ ہوتا ہے۔‘

’ فون ٹیپنگ؟‘ ( میں نے اس لئے پوچھا کہ ان دنوں جاسوسی اور فون ٹیپنگ کے واقعات بہت سننے کو مل رہے تھے۔)

اس نے پلٹ کر پوچھا۔۔۔’کیا یہ خبر تم نے کسی کو فون پر بتائی؟‘

’ نہیں۔۔۔۔۔ ‘بالکل نہیں۔‘

مگر ہمارے پاس ریکارڈ میں ہے۔

’کیسے ؟‘ اب چونکنے کی باری میری تھی۔

خفیہ افسر ہنس رہا تھا۔ ہمارے محکمے نے ہر عورت کے پیچھے ایک سایہ لگا رکھا ہے۔‘

’ یعنی جاسوسی۔؟‘

’ہاں۔‘

مرد کے پیچھے کیوں نہیں۔‘

وہ زور سے ہنسا۔ مرد کے پاس رازکہاں ہوتا ہے۔ مرد سارا راز عورتوں میں منتقل کردیتے ہیں۔‘

وہ ٹیبل پر طشت میں رکھے پھلوں میں سے ایک کیلا اٹھا کر اس کے چھلکے اتار رہا تھا۔’ کسی کی کوئی بھی حرکت ہم سے پوشیدہ نہیں ہے اور سنو۔‘ جاتے ہوئے اس نے ٹھہر کر کہا ۔’ کیلا میٹھا نہیں ہے۔ اس کی آن لائن شکایت کردینا اور ہاں آئندہ خیال رہے۔ چکن مٹن نہ ہو جائے۔ ورنہ پڑوسی ہونے کا خیال نہیں کروں گا۔‘

٭٭

یہ ان بہت سارے واقعات میں سے تھوڑی بہت تفصیل ہے، جو میں نے جمع کی ہے اور جمع اس لئے کی ہے کہ ان کا تعلق اس کہانی سے ہے، جو آگے میں آپ کو سنانے جارہا ہوں۔ ایک مہذب دنیا میں ہم پابندیوں اور ہدایات سے بندھے ہوتے ہیں۔ تاریخ کی کتابیں جنگ عظیم کے تذکروں سے بھری پڑی ہیں۔ جب جنگیں اس لئے ناگزیر ہوئیں کہ ہماری حسین دنیا تھکی تھکی اور سوئی سوئی لگ رہی تھی۔ تھکنے اور سونے کا عمل ایسا ہے کہ دنیاوی حسن غارت ہوجاتا ہے اور حسن کے معیار کو قائم رکھنے کے لئے، دوسری صورت میں سجانے، سنوارنے اور نکھارنے کے لئے جنگوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ بعض حکومتیں اس کے لئے سخت گیری کا مظاہرہ کرتی ہیں جو ان کا حق ہوتا ہے اور اس کے لئے وہ خواص اور عوام کے لئے الگ الگ ہدایات جاری کرتی ہیں اور اس میں حیرت کرنے جیسی کوئی بات نہیں کہ ہماری یہ دنیا ابھی بھی خواص اور عوام کے درمیان تقسیم ہے۔۔۔۔۔۔ مثال کے لئے سکوں اور نوٹوں کو ہی لیجئے تو بڑے سکے اور نوٹ خواص کے لئے اور چھوٹے سکے عوام کے لئے رائج کئے گئے۔ممکن ہے تاریخ اس بات کو بھی یاد رکھے کہ کبھی ان چھوٹے بڑے سکوں کے لئے بھی غیر اعلانیہ طور پر جنگوں کا اعلان ہوا تھا اور جیسا کہ ہر جنگ میں ہوتا ہے کہ کچھ لوگ مارے جاتے ہیں۔ حقیقت کی دنیا میں آیئے تو کچھ لوگ یہاں بھی مارے گئے۔ دنیا کو حسین اور خوبصورت بنائے رکھنے کے لئے ایسی قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب یہاں بھی ایک کنفیوژن ہے اور یہ کنفیوژن بھی تاریخ نے تمام جزئیات اور اعداد وشمار اور سابقہ واقعات و حادثات کو سامنے رکھ کر پیداکیا ہے۔اس کنفیوژن کو لے کر کئی نکتے ہیں ،جن کو جاننا ضروری ہے۔ مثال کے لئے حکومت نے محسوس کیا کہ دنیا کے حسن کو بچانے کے لئے ان آوازوں کو خاموش کرنا ہوگا ،جو عام طورپر فنکاروں اور دانشوروں کی طرف سے اٹھتی رہی ہیں، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی خوفناک دانشورانہ آوازوں نے ہمیشہ سلطنت اور حکومت کے کاموں میں دخل دینے کی کوشش کی ہے۔ حکومت نے آسانی سے ان فنکاروں کے مقابلے اپنے فنکار نمائش میں اتار دئے اور اتنی بڑی تعداد میں اتار دیئے کہ باغی دانشور اور فنکار اپنے اپنے گھر میں نیند کی گولی کھاکر سوگئے۔ایک پریشانی بدنما، بد ہیئت اور تعداد میں کم لوگوں سے تھی۔ ایک ساتھ ان کا صفایا مشکل تھا۔ لیکن حکومت نے عدلیہ کا سہارا لے کر اس کام کو بھی آسان  بنا دیا۔ اب تیسرا محاذ خزانوں کا تھا۔ خواص نے خزانوں کی حفاظت کے لئے ملک کی سرحد پار کے علاقے چنے تھے اور اچانک سلطنت میں خزانے کی کمی کا احساس ہواتوخفیہ ایجنسیوں کو تحقیقات کا کام سونپا گیا۔تفتیش سے ایک نئی بات نکل کر سامنے آئی اور اس بات نے یقیناً حکومت کو حیران بھی کیا اور پریشان بھی۔ کیونکہ اصل خزانے تو عام کہے جانے والے لوگوں کے خفیہ تہہ خانوں میں موجود تھے۔ تضاد یہ تھا کہ یہ عام آدمی حکومت سے وابستہ خواص کو خزانوں کا مالک بتاکر اپنی جنگ لڑ رہا تھا۔ جبکہ اصلیت یہ تھی کہ خزانے عام آدمیوں کے تحویل میں تھے۔ حکومت نے عام آدمیوں کو بحفاظت خزانہ جمع کرانے کاا علان سنا دیا ۔ اس کے بعد ملک کے تمام گوشوں میں خزانہ جمع کرنے کے لئے میلوں لمبی قطار دیکھی گئی۔اور جیسا عام طور پر ہوتا آیا ہے، کچھ لوگ اس قطار میں مارے گئے۔ لیکن ملک کی ایک بڑی آبادی کو ان مرنے والوں کا افسوس نہیں تھا ۔کیونکہ حکومت نے ان لوگوں کو ’’ ہماری دنیا خوبصورت ہورہی ہے‘‘ کا ایک ایسا نشہ گھول کر پلادیا تھا، جس کے خمار میں یہ آبادی اب بھی ڈوبی ہوئی تھی۔

میں نے اس بارے میں اپنے تیسرے پڑوسی مسٹر ناگارجن سے استفسار کیا  تو وہ زور سے ٹھہاکا مار کر ہنس پڑے۔

’ اب دیکھ لیجئے خزانہ کہاں ہے۔‘

’ لیکن یہ تو معمولی لوگوں اور غریبوں کے پیسے ہیں اور دنیا کی تاریخ میں شاید ایسا پہلی بار ہوا کہ غریب اپنے ہی پیسوں کے لئے قطار میں ہے۔‘

’مسٹر ناگارجن ہنسے۔’ توکیاغریب کو دوسروں کے پیسوں پر ہاتھ صاف کرنے کے لئے قطار میں ہونا چاہئے تھا ؟

’ لیکن آپ انہیں قطار میں بھی ماررہے ہیں۔‘

ناگارجن نے بڑا سا منہ بنایا ۔ ’وہ اپنی موت مررہے ہیں اور وہ اسی لائق ہیں۔‘

’ کیا آپ کو ان کی موت سے فرق نہیں پڑتا ؟

’ آپ کو پڑتا ہے؟‘ ناگارجن کا لہجہ سرد تھا۔’ آپ باغبانی کرتے تو آپ کو پتہ ہوتا کہ باغ کی خوبصورتی قائم رکھنے کے لئے کمزور، کمہلائے پودوں کوبھی کبھی کبھی جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا پڑتا ہے۔‘

’ باغ کی خوبصورتی کے لئے آپ سکوں کی جگہ پلاسٹک لے کر آگئے۔؟

ناگارجن زور سے ہنسے۔۔۔۔ پلاسٹک کا زمانہ ہے صاحب۔ سوال نہ کیجئے۔ کیا آپ نے نئے احکام پر غور نہیں کیا۔مخالفت دیش دروہ ہے اور اس وقت بھی کوئی نہ کوئی کیمرہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ اس لئے اچھی، مناسب اور خوبصورت زندگی چاہتے ہیں تو بس ہدایات پر خاموشی سے عمل کرتے جائیے۔‘

میں نے کمزور آواز میں پوچھا۔’کیا آپ کو لگتا ہے یہ کسان اور مزدور آئندہ برسوں میں پلاسٹک سے کھیل سکیں گے۔؟مجھے نہیں لگتا۔‘

’کیا آپ کو لگتا ہے، ایک خوبصورت باغ کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے۔ ؟ناگارجن ہنسے۔ ’یہ تہذیب پلاسٹک کی ہے صاحب۔ زیادہ زور دیں گے تو پلاسٹک مڑے گا نہیں،ٹوٹ جائے گا۔۔۔۔۔۔ ٹوٹ جائے گا تو کسی کام کا نہیں ہوگا۔‘

ناگارجن کے آخری جملے سے میں قدرے مطمئن تھا۔ ایک خوبصورت باغ کی تعمیر کے لئے ایسے لوگوں کی چنداں ضرورت نہیں ،جو حکومت کی سخت گیر ہدایات کے باوجود پلاسٹک کھیلوں کا ذوق نہ رکھتے ہوں اور قطار میں مرنے کے لئے  چلے آتے ہوں۔ اب میں اصل کہانی پر آتا ہوں۔

یہ کہانی مجھے اسی قطار میںملی اور یہ میری اس سے پہلی ملاقات تھی۔ وہ اپنا خزانہ جمع کرنے حکومت کی ہدایت کے مطابق قطار میں کھڑا تھا۔قطار میں یوں تو بہت سے لوگ تھے۔ مگر اس میں کچھ نہ ہونے کے باوجود، ایساکچھ ضرور تھا، جو اس کے بارے میں سوچنے پر مجبور کررہا تھا۔مثال کے لئے وہ ایک کمزور بوڑھے کو دیکھ کر بار بار ہنس رہا تھا اور اس قدر زور زور سے ٹھہاکا لگا رہاتھا کہ گھومتے ہوئے پولیس اہلکار بھی چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگے تھے۔موسم ابر آلود تھا۔خنکی میںاضافہ ہو چکا تھا۔ وہ ایک بار پھر چلایا۔

’ میں پھر کہتا ہوں۔ اس کوقطار سے نکالو۔ یہ مر جائے گا۔‘

’کیوں مرے گا؟‘

’ کیونکہ۔۔۔۔۔یہ مرنے کے لئے ہی یہاں آیا ہے۔۔۔۔‘ اس نے ایک بھدا سا قہقہہ لگایا۔

کچھ لوگوں کو بوڑھے پر رحم آرہا تھا۔ وہ اس سے دریافت کررہے تھے کہ وہ کب سے قطار میں کھڑا ہے۔ کس لئے کھڑا ہے۔؟ اور اسے اچانک خزانہ نکالنے یا جمع کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ جس وقت ہجوم بوڑھے کی بے بسی کا جائزہ لے رہا تھا۔ ٹھیک اسی وقت خزانہ جمع کرنے والا دروازہ بند کردیا گیا۔۔۔۔ آہنی دروازے سے ایک سرکاری ملازم نے ذرا سر باہر نکال کر اعلان کیا کہ اب دروازہ کل کھلے گا۔ کب کھلے گا؟ اس کے لئے حکومت کی ہدایت اور حکم کا انتظار ہے ۔ یہی وہ لمحہ تھا، جب بوڑھا غش کھاکر زمین پر گرا اور ایک بار پھر اس آدمی کے قہقہہ کی آواز سنائی دی ۔

’ میں کہتا نہ تھا یہ مر جائے گا۔ اب اٹھا ئو اسے۔ یہ مر چکا ہے۔‘

بوڑھے کی لاوارث لاش اٹھانا بھی سرکاری فرائض کی مجبوری تھی۔ کیونکہ عام آدمی اس کے لئے تیار نہیں تھا ۔ بھیڑ آہستہ آہستہ چھٹ گئی۔ پولیس والے نے کسی سے موبائل پر رابطہ کیا۔ کچھ دیر بعد لاوارث لاش اٹھانے والی گاڑی آئی۔ میں اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ اب بھی وہیں تھا۔وہ کلین شیو تھا۔ لیکن میں نے محسوس کیا اتنی دیر میں اس کے گالوں پر چھوٹے چھوٹے بال پھیل گئے تھے اور اب یہ چہرہ مجھے جانا پہچانا لگ رہا تھا۔ مگر اسے کہاں دیکھا ہے ،یہ آخر تک مجھے یاد نہیں آیا۔ اس نے بوڑھے کی لاش اٹھانے میں مدد کی اور اس کے بعد وہ اچانک غائب ہوگیا۔

اس سے دوسری ملاقات بھی قطار میں ہوئی تھی۔ آج قطار اور بھی لمبی تھی۔ ان میں عورتیں بھی تھیں اور بزرگ بھی۔بلکہ کچھ لوگ تو دوپہر اور رات کے کھانے بھی باندھ کر لائے تھے۔اتفاق سے آج میڈیا والے بھی تھے۔ میڈیا والے اس کو گھیرے ہوئے کھڑے تھے۔وہ زور زور سے اپنی بات کہہ رہا تھا۔

’ یہاں جشن کا ماحول ہے صاحب۔بلکہ میں کہتا ہوں،پکنک کا ماحول ہے۔ حاکم سے کہئے  یہاں سب مزے کررہے ہیں۔تھکے ہوئے لوگوں کو مدت سے ایسی تفریح کی ضرورت تھی اور حاکم اس بات کا بالکل خیال نہ کریں کہ کچھ لوگ اس جشن میں مارے جارہے ہیں۔ ایسے لوگ ہر جگہ مارے جاتے ہیں۔ گلیوں میں ، کوچوں میں ، سڑکوں پر۔ جیسے کیڑے مر جاتے ہیں یا مار دیئے جاتے ہیں۔لیکن ہم بہت خوش ہیں صاحب۔۔۔۔۔‘‘

’ کیوں خوش ہیں؟‘ ایک میڈیا والے نے دریافت کیا۔

’ کیونکہ حاکم خوش ہے۔۔۔۔‘ اس نے قہقہہ لگایا۔۔۔۔ ہم کام کرتے کرتے، روزگار اور دو روٹی کی فکر کرتے کرتے تھک گئے تھے۔ اب کوئی روزگار نہیں۔سب دھندے بند اور قطار میں عیش کررہے ہیں۔ گانا گارہے ہیں۔۔۔‘

اس نے ایک بے سُرا گانا شروع کیا تو میڈیا والے نے روک دیا۔’بس، اتناکافی ہے۔‘

’ اتنا کافی نہیں ہے۔‘ وہ ایک بار پھر چلایا۔ زور سے قہقہہ بلند کیا۔۔۔’ یہاں جو قطار دیکھ رہے ہیں، یہ سب مارے جائیں گے۔ ان میں کوئی زندہ نہیں بچے گا۔ مگر پریشان نہ ہوں۔ہم ایک نہ ختم ہونے والی تفریح اور جشن کا حصہ ہیں۔ جشن میں مارے جانے والوں کا افسوس کیا کرنا۔۔۔‘ وہ دوبارہ چلایا۔۔۔۔ ہم بہت خوش ہیں۔زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں۔ہم بہت

خوش ہیں۔‘

میں ٹی وی نہیں دیکھتا۔ اخبار نہیں پڑھتا۔ اس لئے یہ معلوم کرنے سے قاصر رہا کہ میڈیا نے بریکنگ نیوز میں اس شخص کو پروگرام کا حصہ بنایا یا نہیں۔مگراس دوسری ملاقات میں اس کی گفتگو میرے اندر تک اتر گئی تھی۔ وہ غلط نہیں تھا۔ اس وقت پورا ملک ایک نہ ختم ہونے والے سرور اور جشن میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ سیلفیوں کا دور تھا۔ خزانے کے دروازے سے باہر آنے والاہر شخص کسی فاتح کی طرح اپنی سیلفی لیتا اور اسے سوشل ویب سائٹس پر ڈال کر اپنی کامیابی کے قصے کو عام کرنے کی کوشش کرتا۔ اس لئے دوسری ملاقات میں اس نے جشن اور تفریح کے نام پر جو کچھ بھی بیان دیا۔ اسے غلط نہیں کہا جاسکتا۔

یہ میری ذاتی سوچ تھی کہ میں ایک آسان زندگی گزارنے پر مجبور کردیا گیا ہوں۔ ایسا سوچنے والوں کی تعداد ملک میں یقیناً ہوگی،مگر میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ احکام، ہدایات، خفیہ ایجنسیوں کے سائے اور گھروں میں آویزاں سی سی ٹی وی فوٹیج کے دائرے میں زیادہ غور وفکر کرنا عام شہر کے حقوق میں شامل نہیں تھااور جیسا کہ خفیہ محکمہ کے افسر نے بتا یا تھا کہ ہماری آواز اور گھرمیں ہونے والے واقعات بھی حکومت کے ریکارڈ میں شامل ہیں تو اس بات پر یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا، جس پر نظر نہ رکھی جارہی ہو اور جہاں معمولی معمولی باتوں کو بھی آن لائن حکومت کے ریکارڈ میں شامل کیا جارہا ہو، وہاں زندگی گزارنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ جو کہا جارہا ہے آپ اس پر عمل کرتے جایئے۔ تاریخ کی قبر گاہ میں ایسے ہزاروں قصے آپ کو آسانی سے مل جائیں گے، جہاں حاکم کے قائم کردہ دستور اور ہدایات پر عمل کرنا آسان زندگی کا پیش خیمہ رہاہے۔ اس بادشاہ کی مثال کافی ہے، جس نے مسکراتے ہوئے عوام سے کہا۔ بس اپنی زندگی مجھے دے دیجئے۔ آپ وہی دیکھئے جو میں دکھاناچاہتا ہوں۔آپ وہی سُنیئے جو میںبیان دیتا ہوں۔آپ وہی بولیئے، جو میں آپ کو سکھاتا ہوں۔

قصہ کوتاہ جشن میں ڈوبے ہوئے ملک کو دس دن گزر گئے تھے۔ اچانک ایک سبزی منڈی میں اس سے ملاقات ہوگئی۔ یہ اس سے تیسری ملاقات تھی۔سبزی منڈی میں عام طورپر چلنے والوں کے لئے جگہ نہیں ہوا کرتی تھی۔ آواز کا شوراتنا زیادہ ہوتا ہے کہ کچھ پل کھڑا رہنا بھی آسان نہیں ہوتا۔۔۔۔۔مگر اس دن نہ شور تھانہ ہنگامہ۔اکا دکا لوگ تھے جو سر مارے ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ اچانک میری نظر اس پر پڑ گئی۔ وہ ایک دکان کے آگے کھڑا تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک بڑا نوٹ تھا۔جس کو وہ نچا نچا کر زور زور سے کہہ رہا تھا۔

’ آخری بار دیکھ لو۔ پھر نہیں دیکھ پاؤگے۔‘

دکاندار سمجھا رہا تھا۔ جیب میں رکھ لو۔ پولیس آگئی تو تمہارے ساتھ میری بھی شامت آجائے گی۔

’ کیوں رکھ لوں؟‘

’ کیونکہ ان نوٹوں کو رکھنا جرم ہے۔‘

’ لیکن میرے پاس تو یہی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی سکّہ نہیں۔‘

میں اس کے قریب آگیا ۔ غور سے اس کا چہرہ دیکھا۔ پھر پوچھا۔’تو یہ نوٹ نہیں چلا۔؟

’ نہیں۔ نوٹوں کو چلنا کہاں آتا ہے،۔ اس بات پر وہ پھر زور سے ہنسا۔

’ لیکن اس دن تو آپ قطار میں جشن کی باتیں کررہے تھے؟‘

’ اب بھی کررہا ہوں۔بڑے نوٹ کا پاس میں ہونا کیا کسی جشن سے کم ہے۔؟ اچانک وہ رک گیا۔۔۔۔دیکھئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’ کیا۔۔۔۔۔۔؟‘

’ غور سے دیکھئے۔ نوٹ بڑا ہورہا ہے۔ ایک زمانے میں،تاریخ گواہ ہے جب جانور’پاگیٹ‘ بن گئے تھے۔ مکڑیاں ، چھپکلی، معمولی کیڑے مکوڑے اچانک پھیل کر بڑے ہوگئے۔اچانک اتنے بڑے کہ انسان ڈر کر اپنے اپنے گھروں سے بھاگنے لگا۔۔۔‘ وہ ہنس رہا تھا ۔ دیکھئے۔۔۔۔ یہ نوٹ پھیل رہا ہے۔ بڑا ہورہا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں نا۔۔۔۔۔

مجھے واقعی احساس ہوا کہ بڑا نوٹ اچھل اچھل کرپھیل رہا ہے۔پھیلتے۔۔۔۔پھیلتے۔۔۔۔ نوٹ کا سائز اس عام آدمی سے زیادہ ہوگیا۔ اب وہ آدمی غائب تھا۔ مگر وہ گیا کہاں؟ میں اسے چاروں طرف تلاش کررہا تھا۔ عجیب بے تکا آدمی تھا۔ چھلاوا تھا کہ یکا یک غائب ہوگیا۔ میری آنکھوں کے سامنے نوٹ تھا اور نوٹ پھیلتے پھیلتے ایک ہلکی آواز کے ساتھ غبارے کی طرح پھٹ گیا۔

یہ میری اس سے تیسری ملاقات تھی۔ جب نوٹ اور وہ دونوں ہوا میں غائب تھے۔ تیسری ملاقات میں اس کی داڑھی کچھ کچھ بڑھ چکی تھی۔ممکن ہے قطار میں کھڑا رہنے کی وجہ سے اس نے چہرے پر دھیان نہیں دیا ہو۔ مگر چوتھی ملاقات ایسی تھی جب میں زیادہ سنجیدگی سے اس کے بارے میں غور کرنے پر مجبور ہوگیا تھا۔کالونی میں کسی کا انتقال ہوگیا تھا۔یہ وہی ڈیری فارم کا مالک تھا، جس کی گایوں نے اچانک پوجا پاٹھ شروع کردیا تھا۔اور ایک دن اچانک ڈیری فارم سے گائیں باہرنکل کر خدا جانے کہاں غائب ہوگئیں۔ اس سانحہ سے میرا پڑوسی اتنا ٹوٹ گیا کہ بالآخر اس نے رسّی کا پھندہ گلے میں ڈال کر خود کشی کرلی۔

میں نگم بودھ گھاٹ آیا ہوا تھا۔گھاٹ پر ایک قطار سے کئی انسانی جسم جل رہے تھے۔ انسانی لاشوں کی مہک فضا میں پھیلی ہوئی تھی۔ مہک سے بچنے کے لئے میںنے چہرے کو رومال سے محفوظ کرلیا تھا۔ اچانک میری نظر اس پر پڑی۔ مجھے تعجب تھا کہ وہ یہاں کیا کررہا ہے۔ اس کے چہرے پر پھیلی ہوئی مسکراہٹ آج غائب تھی۔۔۔۔ وہ الگ الگ سلگتی لاشوں کے قریب جاکر کچھ دیکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ آج میں نے اسے غور سے دیکھا اور اچانک خوف کی ہلکی ہلکی سرسراہٹ میں نے اپنے جسم میں محسوس کی۔ اس کی داڑھی بڑھ گئی تھی۔ اور اب اس چہرے کو پہچاننا میرے لئے مشکل نہیں تھا۔

مگر حیرت انگیز طور پر دو چہروں میں اتنی مشابہت کیسے ہوسکتی ہے۔۔۔۔مجھے خیال آیا کہ عام طورپربڑے بڑے لیڈروں کے جلوس میں ، سبھاؤں میں عوام کچھ مشہور لوگوں کے ماسک لگا کر اپنی حمایت کا اعلان کرتی ہے۔ ایک مفکر کا خیال تھا کہ کبھی کبھی ماسک غائب ہوجاتا ہے اور ماسک کا چہرہ ہی عوام کا چہرہ بن جاتا ہے۔ میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔

’ کیا تلاش کررہے ہو؟‘

اس نے میری طرف دیکھا پھر آگے بڑھ گیا۔یہاں لاش کو آگ دی جارہی تھی۔

’ میں تمہیں پہچاننے کی کوشش کررہا ہوں۔‘

’ شی۔۔۔۔‘اس نے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔’ یہاں بھی کیمرہ ہے۔ پاگل ہوگئے ہو کیا؟‘

’لیکن تم کس کو تلاش کررہے ہو؟‘

اس نے چونک کر میری طرف دیکھا۔۔۔۔ کل رات میں سویا نہیں تھا۔ دیرتک سڑکوں پر بھٹکتا رہا ۔ پھر شمشان گھاٹ چلا آیا۔ یہاں آکر مجھے کافی سکون ملا۔۔۔۔میں نے طے کرلیا کہ مجھے رات یہیں گزارنی ہے۔۔۔۔۔ پہریدار کو نوٹ دیا تو اس نے لے لیا۔ اسے معلوم بھی نہیں کہ ہماری دنیا میں کیا کیا ہوچکا ہے۔ ایک لمحہ کے لئے وہ رُکا۔ بڑی زور کی نیند آئی۔’ اس نے اشارہ کیا ۔میں وہاں سویا تھا۔نہیں شاید وہاں۔۔۔نہیں میں یہاں سویا تھا۔‘ وہ دوبارہ ہنسا۔ شاید میں اب بھی یہیں سورہا ہوں۔۔۔‘

اس بار اس کی آواز سرد تھی۔ اس سے پہلے کہ میں اسے دیکھ پاتا۔ وہ میرے سامنے سے غائب تھا۔ یہ اس سے چوتھی اور آخری ملاقات تھی۔ میں اس سے کہنا چاہتا تھا کہ اس بھاگم بھاگ میں تم نے اپنے چہرے کو بد نما بنا لیا ہے۔ تم پھر سے کلین شیو ہوجاؤ تو اچھے لگنے لگو گے۔۔۔۔ مگر اس سے قبل کہ میں اپنی بات مکمل کرتا، وہ اپنی جگہ سے غائب تھا۔

اور یہ پانچویں ملاقات تھی۔ ایک چونکانے والی ملاقات، جس کی تفصیل کہانی کی شروعات میں، میں آپ کو بتا چکا ہوں۔ یعنی اس شب فریج میں رکھا ہوا چکن اچانک مٹن بن گیا۔ بیوی میری خطا پر ناراض تھی۔ جب وہ سونے کے لئے اپنے کمرے میں آئی تو اس وقت بھی اس کی ناراضگی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔  بیڈ کے قریب ہی ایک سنگار دان تھا جس پر ایک بڑا سا شیشہ جڑا تھا۔ میری نظر اچانک شیشہ کی طرف چلی گئی۔ بیوی اسی وقت بولتی بکتی ہوئی کسی کام سے کمرے سے باہر گئی تھی۔ میں اچانک چونک گیا۔ میں نے کئی بار آنکھیں مل مل کر شیشہ کی طرف دیکھا ۔ مجھے یہ بھی خیال تھا کہ یہ میرا وہم ہوسکتا ہے۔ خود کو غلط ثابت کرنے کے لئے میں نے اپنے تیزناخنوں کا سہارا لیا۔ مگر یہ کوئی خواب نہیں تھا۔ آئینہ میں میرا چہرہ نہیں تھا۔ آئینہ میں اس آدمی کا چہرہ آگیا تھا ۔اور اب اس شخص کا چہرہ بھی غائب تھا۔ چہرے کی جگہ داڑھی موجو دتھی۔ صرف داڑھی۔۔۔۔وہی داڑھی جو اس کے چہرے کو بدنما بنا رہی تھی۔میں نے شیشہ کی طرف پلٹ کر دیکھا تو میرا چہرہ داڑھی میں سما گیا تھا۔آئینہ کے عکس میںاب میں ایک داڑھی والا  اجنبی تھا۔ اچانک وہ جانے کہاں سے نکل کر میرے برابر میں کھڑا ہوگیا۔ وہ ہنس رہا تھا۔

’ تم بدل رہے ہو۔‘

’ ملک بدل رہا ہے۔‘ وہ ہنس رہا تھا۔غور سے آئینہ میں دیکھو۔۔۔۔۔‘

’دیکھ لیا۔ یہ میرا چہرہ نہیں ہے۔‘

غائب ہونے سے پہلے اس کا آخری جملہ تھا۔ کیا میرا چہرہ، میرا چہرہ تھا؟

’ ارے سنو تو۔۔۔۔۔‘

لیکن وہ غائب تھا۔ بیوی کمرے میں آئی اور آئینہ کی طرف دیکھا تو اس نے زور کی چیخ ماری۔ میں آئینہ کی طرف دیکھ کر حیران تھا۔

مجھے داڑھی کے ساتھ اپنی بیوی کسی طور پر قبول نہیں تھی۔

’ یہ کیا ہورہا ہے۔‘بیوی زور سے چیخی۔

’ نہیں معلوم۔‘

’یہ  تمہارے چہرے پر داڑھی کیسے آگئی۔؟

’ کہاں ہے؟‘

’ لیکن آئینہ میں تو ہے۔‘

’ ہاں۔‘

’ اور آئینہ میں تمہارے نازک چہرے پر بھی یہ داڑھی موجود ہے۔‘

وہ گھبراکر ایک بار پھر چیخی۔ ’ یہ کیا ہورہا ہے۔‘

میری آواز پھنسی پھنسی تھی۔ میں نہیں جانتا یہ کیا ہورہا ہے۔ پہلے جو کچھ بدلا گیا، کیا ہم اس کے لئے تیار تھے۔؟ اب چہرہ بھی بدل گیا ہے۔‘

’ کچھ تو کرنا ہوگا۔‘ بیوی خوفزدہ تھی۔

’ ہاں کچھ تو کرنا ہوگا۔ ایک کام کرتے ہیں۔۔۔۔‘ میری آواز اب کمزور تھی۔۔۔’۔ آئینہ کا رخ دیوار کی طرف کردیتے ہیں۔‘

پھر خود کو کیسے دیکھیں گے؟۔‘

سنگار دان گھماتے ہوئے اور شیشہ کا رخ دیوار کی طرف کرتے ہوئے میری آواز پہلے سے کہیں زیادہ کمزور تھی۔۔۔’ کیا خود کو دیکھنے کی ضرورت ہے؟‘

’انہیں یقین ہے کہ خوفناک شیر کی دہاڑ انہیں بزدل نہیں بنائے گی؍

جیسے انہیں یقین ہے کہ سرپٹ دوڑتے گھوڑے انہیں روندنے میں ناکام رہیں گے…

جیسے انہیں اس بات کا بھی یقین ہے

کہ ایک دن ان کی خاموشی چپ چاپ ان کا قتل کردے گی‘

میرے لیے ان تمام واقعات وحادثات کا تجزیہ کوئی مشکل کام نہیں تھا، جو ادھر پچھلے دس پندرہ دنوں میں تیزی کے ساتھ پیش آئے۔ گو ان کی شروعات کافی پہلے سے ہوچکی تھی۔ مگر اس رات شیشے والے حصے کو دیوار کی طرف کرتے ہوئے مجھے شدت سے اس بات کا احساس ہوا کہ میرے بدن میں ان گنت چیونٹیاں رینگ رہی ہیں۔ کیا یہ محض احساس تھا یا اس بات کی پیشگی اطلاع کہ عنقریب میرے ساتھ کچھ بھیانک ہونے جارہا ہے۔ اس رات خوف کا احساس کچھ اس قدر شدید تھا کہ کمرے میں اندھیرے کی جگہ میں نے ٹیوب لائٹ کو جلتا چھوڑ دیا۔ نیم شب میری بیوی کسمائی ہوئی حالت میں، کچھ ڈھیر ساری الجھنوں کے پیش نظر اچانک اٹھ کر بیٹھ گئی۔ پھر میری طرف اشارہ کیا…

’تم کچھ آواز سن رہے ہو؟‘

’ہاں…‘

’یہ کہاں سے آرہی ہے…‘

کچھ بھن بھن کرتی آوازیں تھیں جیسے شہد کی مکھیوں کا شور ہوتا ہے۔ میں نے پلٹ کر سنگھار دان کی طرف دیکھا۔ بوسیدہ لکڑی کا گھسا ہوا حصہ میرے سامنے تھا۔ لیکن ایسا لگ رہا تھا جیسے بار بار سنگھار میز کو ہلانے کی کوشش کی جارہی ہو…

بیوی کا لہجہ خوف سے پر تھا۔ ’’کچھ دنوں سے عجیب عجیب حرکتیں ہورہی ہیں۔ کیا خفیہ محکمے ان حرکتوں سے واقف ہیں۔‘‘

’ہاں۔‘ مجھے ہنسی آئی۔’ ان کے پاس سارے ریکارڈ ہوتے ہیں۔‘

پھر وہ کیا کررہے ہیں۔؟

’ابھی ان کی تحقیق چل رہی ہے۔ سو جائو۔ ان کی تفتیشی ایجنسیاں گھروں پر خصوصاً ہم جیسوں کے گھروں پر خاص نگرانی رکھتی ہیں۔‘

مجھے احساس تھا کہ عالمی سطح پر آنے والی بڑی تبدیلیوں میں خاموشی سے ہمیں بھی شریک کرلیا گیا تھا۔ ہم اچانک ہونے والی تبدیلیوں کے بڑے بازار کا حصہ تھے۔ اور اس بڑے بازار نے ہمیں چھوٹے موٹے روبوٹ یا مشین میں تبدیل کردیا تھا۔ بچے بھی مشین میں کام آنے والے کل پرزے تھے۔ اور اس مشین پر اختیار کسی اور کا تھا۔ یعنی اس وقت ہماری کوئی حیثیت نہیں تھی۔ دوسرے دن مجھے اپنے بہت سارے سوالوں کا جواب مل گیا تھا، جب اچانک بیل کی آواز کے ساتھ ہمارے پڑوسی خفیہ افسر نے مسکراتے ہوئے گھر کے اندر قدم رکھا۔

میز پر ایک طشت میں کچھ فروٹس رکھے ہوئے تھے۔ اس نے نارنگی کا انتخاب کیا اور اس کے چھلکے ادھیڑنے لگا۔ اچانک اس نے کچھ ناگواری کے انداز میں میری طرف دیکھا۔

’آپ نے محسوس کیا؟ کچھ اسمیل آرہی ہے…‘

’نہیں۔ میں نے محسوس نہیں کیا۔‘

’یہ اسمیل باہر سے ہوتی ہوئی آپ کے گھر کا حصہ بن گئی ہے۔ کچھ تو گڑ بڑ ہے۔‘وہ مسکرایا۔ ’آپ کے نام گرفتاری کا وارنٹ ہے۔ مجھے آپ کے گھر کی تلاشی لینی ہے۔‘

’وارنٹ‘ میں خوف سے نہا گیا۔ کس بات کا وارنٹ…؟

وہ مزے سے نارنگی کھا رہا تھا۔ ادھر کچھ دنوں سے آپ لگاتار کئی واردات کو انجام دیتے رہے ہیں۔‘

’واردات…؟

’ہاں۔ ہمارے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج ہے۔ باضابطہ ہر بات کا ریکارڈ ہے۔‘

وہ مسکرایا… پہلے بچوں کے پارک کو ہی لیجئے۔ چھوٹی سی گیند اچانک غبارہ بن گئی۔‘

’ہاں۔ یہ افواہ سنی تھی۔‘

افواہ نہیں۔ سچائی ہے۔ وہاں آپ تھے، آپ کی فوٹیج موجود ہے۔ اور آپ کی وجہ سے ایسا ہوا؟‘

’مطلب؟‘ میری وجہ سے معمولی سی گیند غبارے میں تبدیل ہوگئی ۔؟‘

’بالکل سہی۔‘

’یہ کیا منطق ہوئی۔‘

وہ زور سے ہنسا۔ ہماری تحقیقات میں کسی منطق یا دلیل کو دخل نہیں ہوتا۔ گیند کا اچانک غبارہ بن جانا دہشت گردی ہے۔ آپ وہاں تھے

اس لیے مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔‘

میرا دماغ بے قابو ہوا جارہا تھا۔ مجھے یقین نہیں تھا کہ ادھر چند دنوں میں جو تفصیلات میں نے جمع کی تھیں، اسے میرے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس وقت خفیہ افسر یہی کررہا تھا۔

اس بار اس نے طشت سے ایک سیب اٹھا لیا۔ میری طرف دیکھا۔ آپ اس وقت ڈیری میں موجود تھے جب گائیں پوجا کررہی تھیں۔ آپ جانتے ہیں نہ کہ گائے کے ہونے کا مطلب کیا ہے؟ اور کسی کی پوجا میں دخل دینا کتنا بڑا جرم ہے۔؟

مجھے یاد آیا، اس صبح پڑوسی کو دیکھنے کے بہانے اچانک میرے قدم ڈیری کی طرف اٹھ گئے تھے۔ میں نے گایوں کو دیکھا مگر یہ دیکھنا نظربھر سے زیادہ نہیں تھا۔

’’ان گایوں نے اپنی سینگوں سے کچھ شاطر بدمعاشوں کو ہلاک کیا تھا۔ پھر یہ گائیں گم ہوگئیں۔‘‘

’تو انہیں تلاش کیجئے۔‘

’نہیں۔ یہ آپ کی وجہ سے گم ہوئیں۔ آپ ڈیری میں گئے اور یہی وقت تھا جب گایوں کی گمشدگی کا قصہ شروع ہوا۔‘

’یہ کیا منطق ہے؟‘ میں زور سے چلایا۔

اس بار اس کی آواز سرد تھی۔ میں نے کہا نا۔ تفتیش میں کوئی منطق کام نہیں آتی۔ ہم فیصلہ سناتے ہیں منطق کا آگا پیچھا نہیں دیکھتے۔‘

سیب کھاتے ہوئے اس نے تیسرا حملہ کیا۔ اس دن چکن اچانک مٹن نہیں بنا۔ اس کے پیچھے بھی آپ کی سازش تھی۔ یہ سب باتیں ہمارے ریکارڈ میں ہیں۔ لیکن یہ بڑے الزامات نہیں ہیں۔ ان چھوٹے موٹے الزامات کے لیے آپ کو بس کچھ برس کی سزا ہوسکتی ہے۔ مگر بڑا الزام…‘

خفیہ افسر نے غور سے میری طرف دیکھا۔ اس دن بھی آپ قطار میں پائے گئے، جس دن ایک بزرگ منافع خور زمین پر گر کر مر گیا۔‘ اس نے پلٹ کر میری طرف دیکھا۔ اب اصل بات پر آتا ہوں۔ آپ اس آدمی کو پہچانتے ہیں جو بوڑھے کی موت پر ہنس رہا تھا۔۔۔؟۔ اس نے بوڑھے کی لاش گاڑی تک پہنچانے میں بھی ہماری مدد کی تھی۔‘

’جی۔‘

’شکریہ۔ اب آپ تفتیش میں ہمارا ساتھ دے رہے ہیں۔ پھر تو آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ وہ کہاں ہے۔۔۔۔؟

’جی۔ بالکل بھی نہیں۔‘

’دیکھیے۔ ہمارے پاس پوری رپورٹ ہے۔ اس دن میڈیا والے بھی تھے۔ اور آپ بھی۔ آپ ہنس رہے تھے۔ یعنی یہ حادثہ گایوں کی گمشدگی کے تین چار دن بعد ہی سامنے آیا۔‘

’اس واقعہ کا گائے کی گمشدگی سے کیا تعلق؟۔

خفیہ افسر زور سے ہنسا۔۔۔۔؟ گایوں کا تعلق ہر واقعہ سے ہے۔ آپ کو بھلے تعلق نہ ہو، ہمیں گایوں کی اس گمشدگی کا خیال ہے۔‘ اس نے اس بار جلتی آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔ تیسری بار آپ اس آدمی سے سبزی منڈی میں ملے تھے۔‘

’جی ہاں۔‘

’سبزی منڈی میں اس کے ہاتھ میں ایک نوٹ تھا۔ کالا دھن…‘ خفیہ افسر اس بار زور سے چلایا۔ اچانک نوٹ کہاں چلا گیا۔ اور اس کے بعد آپ شمسان گھاٹ گئے تھے۔ نوٹوں کو جلانے یا انسان کو جلانے؟‘

خفیہ افسر شک کی نگاہوں سے میری طرف دیکھا تھا۔ وہ آدمی اس دن بھی آ پ کے ساتھ تھا۔ اور اس دن کے بعد سے وہ غائب ہے۔ کہاں گیا؟‘

’میں نہیں جانتا۔ لیکن ایک بات سے میں بھی پریشان تھا۔‘

’کس بات سے؟‘

آپ نے سی سی ٹی وی کیمرے میں اس کی فوٹیج دیکھی ہوگی۔ اچانک اس درمیان اس کا چہرہ بدل گیا تھا ۔ اور اس کے چہرے پر داڑھی آگئی تھی۔ ٹھیک اسی طرح کی داڑھی جیسے…‘

خفیہ افسر اس بار اتنے زور سے چلایا کہ مجھے کان کے پردے تک پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے…

’داڑھی کا کوئی ذکر نہیں۔‘

’مگر کیوں؟‘

’میں نے کہانا ۔ داڑھی کا کوئی ذکر نہیں۔‘اچانک اس نے ناک سکوڑتے ہوئے منہ بنانے کی کوشش کی۔ اسمیل بڑھ گئی ہے۔ مجھے آپ کے گھر کی تلاشی لینی ہوگی۔ آئیے میرے ساتھ…

ادھر ادھر دیکھتا ہوا اب وہ میرے ساتھ میرے بیڈروم میں تھا۔

وہ آنکھیں نچا نچا کر سنگار میز کو دیکھ رہا تھا۔ اور یہ میری آنکھوں کا دھوکہ نہیں تھا، سنگھار میز اب تک ہل رہا تھا۔ اسی طرح جیسے نیم شب میں نے ہلتے ہوئے دیکھا تھا۔

’اس کے پیچھے کیا ہے؟‘ خفیہ افسر زور سے چیخا…

’پیچھے کچھ نہیں ہے‘

’میں کہتا ہوں پیچھے کچھ ہے۔‘

وہ غصے میں آگے بڑھا۔ دونوں ہاتھ سے سنگھار میز کو تھام کر اپنی طرف کھینچا۔ اور اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ میرے لیے بھی چونکانے والا تھا۔ اس کے ہاتھ اچانک سیلیوٹ کے لیے اٹھ گئے، شیشے کا رخ دوبارہ اس نے دیوار کی طرف کردیا۔ وہ تھر تھر کانپ رہا تھا یا خود کو سنبھالنے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔۔ مگر ایک لمحے کے لئے میں نے اس کی آنکھوں میں خوف کی جھلک محسوس کی تھی۔

دوبارہ ڈرائنگ روم میں آنے تک وہ خود کو بحال کر چکا تھا۔ میری زبان گنگ تھی۔ ہوش وحواس گم تھے۔ اس نے سر کو ایک جھٹکا دیا اور میرا ہاتھ تھام لیا۔

’آپ کو ابھی اسی وقت میرے ساتھ پولیس اسٹیشن چلنا ہوگا۔‘

سر آئینہ میرا عکس ہے، پس آئینہ کوئی اور ہے

مجھے معلوم تھا کہ موجودہ حالات میں مجھ پر جو الزامات لگائے گئے ہیں، ان الزامات سے باہر نکلنا میرے لیے مشکل ثابت ہوگا۔ مجھے جینے کی طرح اس سزا کو قبول کرنا ہوگا، جو ان حالات میں عدالت مجھے سنائے گی۔ مجھے اس بات پر بھی کوئی حیرت نہیں ہوئی کہ فیصلے کی پہلی سنوائی میں جج نے دوبار میرا نام کیوں لیا۔ مجھے یقین ہے، اس درمیان اس نے غور سے میری طرف دیکھ کر سرکاری ہدایات کا بغور جائزہ لیا ہوگا۔ سزا ملنے کے ایک ہفتہ بعد بیوی جیل میں مجھ سے ملنے آئی تھی۔ اس کے چہرے پر کسی طرح کی کوئی شکن موجود نہیں تھی۔ الجھنوں کے باوجود اس کے چہرے پر سکون اور طمانیت کی جھلک میں نے محسوس کی۔ اس نے بتایا، سب ٹھیک ٹھاک ہے۔ ٹی وی خراب ہوگیا تھا اس لیے اس نے بیچ دیا۔ اخبار کا بل زیادہ آنے لگا تھا۔ اس لیے اس نے اخبار بند کردیا۔ بچے مزے میں ہیں۔

’اس نے دبے لفظوں میں بتایا ۔۔۔۔ہاں۔۔ وہ ہے۔ اور وہ کبھی کبھی بچوں کے کمرے میں چلا جاتا ہے۔ بچے اس سے مانوس تو نہیں ہوئے لیکن بچوں نے اسے قبول کرلیا ہے…‘

اس کے بعد وہ ٹھہری نہیں چلی گئی۔۔۔۔

میں نے جیل کی سلاخوں کے پار دیکھا۔۔۔ مجھے یقین تھا، کوئی مجھے اس وقت بھی دیکھ رہا ہے۔۔۔ قید خانے میں مچھر پریشان کررہے تھے اور مجھے زور کی نیند آرہی تھی ۔

( غیر مطبوعہ)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

ادبی میراثافسانہقطار میں ایک چہرہمشرف عالم ذوقی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مظہرالاسلام کی غیرافسانوی تحریریں – ڈاکٹر محمد غالب نشتر
اگلی پوسٹ
غالب کی فارسی مثنوی’ چراغ دیر‘ :اردو ناقدین کی نظر میں- ڈاکٹر سلمان فیصل

یہ بھی پڑھیں

زندگی کے درمیاں – وصی الحق وصیؔ

اکتوبر 11, 2025

بُت اگر بولتے – قیُوّم خالد

جنوری 20, 2025

بھیگے ہوئے لوگ – اسلم سلازار 

جنوری 6, 2025

شیشے کے اُس پار – ڈاکٹر عافیہ حمید

ستمبر 18, 2024

دو دوست /موپاساں – مترجم: محمد ریحان

ستمبر 9, 2024

غریبِ شہر- ڈاکٹر فیصل نذیر

ستمبر 8, 2024

راج دھرم – ڈاکٹر ابرار احمد

اگست 7, 2024

پہلی نظر – تسنیم مزمل شیخ

جون 18, 2024

کائی – قیُوّم خالد

جون 2, 2024

یہاں کوئی کسی کا نہیں – ڈاکٹر ابرار...

مئی 28, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں