Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
مثنوی کی تفہیم

قصہ’کرب جاں ‘ کا (مقدمہ مثنوی ’’کرب جاں‘ از غضنفر) – پروفیسر خالد محمود

by adbimiras جون 12, 2021
by adbimiras جون 12, 2021 0 comment

مولوی اسمٰعیل میرٹھی کی مشہور نظم ’’پن چکی ‘‘ کا پہلا شعر ہے  ؎

نہرو پر چل رہی ہے پن چکّی

دھن کی پوری ہے کام کی پکّی

ہماری طرح اور لوگوں نے بھی اردو کی درسی کتاب میں یہ نظم ضرورپڑھی ہوگی ۔ نظم کیا ہے ایک ا ستعارہ ہے۔ مولوی صاحب نے اس نظم میں بے جان پن چکی سے ایک جاندار کردار تخلیق کیا ہے۔ ایسا کردار جسے صرف اپنے کام سے کام رہتا ہے اور بس!بلکہ شاید کہنا بھی مناسب نہیں کہ اپنے کام سے کام رہتا ہے ۔ یہ تو خود غرضی کی علامت بھی ہے۔ کہنا یوں چاہئے کہ جو کام اس کے سپرد ہوتا ہے یا جس کام کی وہ ٹھان لیتا ہے اور جس کام کی دھن اسس پر سوار ہوو جاتی ہے اس کو انجام تک پہنچائے بغیر چین سے نہیں بیٹھتا ۔’’دھن کی پوری اور کام کی  پکی ‘‘ کا یہی مفہوم ہے ۔ وہ نہر والی پن چکی تو اب رہی نہیں ۔ کبھی کبھی دور دراز علاقے میں نظر آجاتی ہے البتہ وہ کردار ضرور موجود ہیں جن کی طرف مولوی صاحب نے ارشاد کیا ہے اگر چہ کمیاب ہیں مگر نایاب نہیں۔ یہاں وہاں مل ہی جاتے ہیں ۔ غضنفر اس کی ایک روشن مثال ہیں ۔ وہ شاعر ہیں ۔ ناول نگار ہیں ۔خاکہ نگار ہیں ۔ افسانہ نویس ہیں ۔ ماہر تعلیم ہیں ۔ صحافی ہیں ۔ اب خود نوشت بھی لکھ ڈالی ہے اور غزل گوئی کہ ساتھ طویل و مختصر نظموں پر طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں ۔ ناول لکھے تو لکھتے چلے گئے ۔ تقریباً درجن بھر ناول لکھ کر سانس لی ، حالانکہ ایک دوناول ہی کمرِ ہمت توڑنے کے لیے کافی ہوتے ہیں چہ جائیکہ ایک درجن !پھر بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی ۔اسی دوران تدریسی اور تنقیدی مضامین اور ان کے مجموعے بھی شائع ہوتے رہے۔خاکوں کی دھن سوار ہوئی تو کتنوں کو ’’سُرخ رو‘‘ کیا اور کتنوں کے ’’ روئے خوش رنگ‘‘ کو مزیدخوش رنگ بنا ڈالا۔شعری مجموعہ ’ آنکھ میں لکنت ‘‘ ترتیب دے کر دوستوں کو حیران اور رقیبوں کو پریشان کر دیا۔اپنے ڈھب کا منفرد میگزین ’’تدریس نامہ ‘‘ نکال کر صحافت میں اپنی انفرادیت ثابت کی اور ادب اس دھن کے پورے اور کام کے پکے انسان نے ایک اور ادبی معر کہ سر کر لیا ہے جس کا عنوان ہے ’’ کربِ جاں‘‘۔

کرب جاںایک حزینہ مثنوی ہے جسے غضنفر اپنے ایک دیر ینہ خواب کی تعبیر کہتے ہیں۔یہ مثنوی عہد حاضر کے ہندوستان کی تشویشناک صورتِ حال پر فکر انگیز منظوم تبصرہ ہے۔اس میں اندیشے ہیں ، وسوسے ہیں ، کشا کش ہے ، خوف ہے، ہراس ہے، بے یقینی ہے، مٹتی ہوئی تہذیب کا نوحہ ہے، زوال پزیر اقدار کا ماتم ہے، رواداری کے فقدان کا درد ہے، سلگتی انسانیت کی کسک ہے بسورتی انسان دوستی کا غم ہے۔ پر خلوص رشتوں کی پامالی کا کرب ہے،بصیرت ہے، آگہی ہے، افسردگی ہے اور اسی کے ساتھ تا بناک مستقبل کی تمنا ہے ۔ وطن سے محبت کی سر شاری ہے، عقیدت کی چمک ہے۔ عقیدت کی دمک ہے۔ عزائم ہیں ،امیدیں ہیںآرزوئیں ہیں ، توقعات ہیں اور وہ سب کچھ ہے جو ایک حساس دل اور بیدار مغز انسان دیکھتا،سوچتا اور محسوس کرتا ہے یا کر سکتا ہے۔ الغرض یہ ایک خاصی طویل مثننوی ہے جو اپنی روانی کے لیے مشہور بحرِ متقارب میں کہی گئی ہے۔ بحر متقارب کی خوبی یہ ہے کہ روانی اس کی سرشست میں داخل ہے۔ میرحسن کی شاہ کار مثنوی سحر البیان تھوڑی سی جائز تبدیلی کے ساتھ اسی بحر میں ہے۔ اس بحر کے ارکان  ’’فعولن فعولن فعولن فعولن‘‘ ہیں چونکہ اس کے دونوں مصرعوں میں آٹھ ارکان ہوتے ہیں اس لیے یہ بحر متقارب مثمن کہی جاتی ہے اور اگر اس کے آخری فعلن کو مخدوف کر کے فعل کر دیا جائے تو اب اس کا نام ہوگابحرِ متقارب مثمن مخدوف۔ (یہ بھی پڑھیں غالب کی فارسی مثنوی’ چراغ دیر‘ :اردو ناقدین کی نظر میں- ڈاکٹر سلمان فیصل )

میرؔ حسن اور غضنفر دونوں کی مثنویاں اسی بحر کے تابع ہیں ۔ بطور مثال دونوں مطلعوں کو ایک ساتھ رکھ کر بھی دیکھا جا سکتا ہیـ  ؎

کروں پہلے توحیدِ یزداں رقم

جھکا جس کے سجدے کو اوّل قلم

فعولن فعولن فعولن فعل

فعولن فعولن فعولن فعولن فعل

کرے کوئی کیا اس کی حمد و ثنا

نہیں جس کے اوصاف کی انتہا

فعولن فعولن فعولن فعولن فعل

فعولن فعولن فعولن فعولن فعل

اگر درج بالا دونوں مطلعوں کی تقطیع جائے تو یہی نتیجہ بر آمد ہوگا کہ دونوں ایک ہی بحرمیں ہیں اوراس بحر کا نام ہے: بحر متقارب مثمن مخدوف۔ یعنی آٹھ رکنی بحر جس میں سالم افاعیل کے بعد فعولن کا مخدوف فعل باندھا گیا ہے۔فارسی اور اردو کی بے مثال نظموں کے علاوہ اقبال کا ’’ ساقی نامہ‘‘بھی (جس کا مطلع درج ذیل ہیں )اسی بحر میں ہے  ؎

ہوا خیمہ زن کا روانِ بہار

ارم بن گیا دامنِ کو ہسار

مثنوی’’ کرب ِجاں‘‘ میں کل ایک ہزار ایک سو ستائیس اشعار ہیں جنھیں سترہ ۱۷؎ حصوںمیں تقیم کیا گیا ہے۔ مثنوی کی ابتدا حسبِ روایت حمد باری تعالیٰ سے ہوتی ہے جس کاعنوان ’’نام خدا ‘‘ہے ، اس حصے میں ۳۵ شعر ہیںجن میں خدا کی عظمت اور اس کی ذات و صفات کا بیان ہے ۔ اس کے علاوہ پیغمبر اسلام اوراسلامی تاریخ کی عظیم ہستیوں کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے دیوی دیوتاؤں کا ذکر بھی بطور تلمیح کیا گیا ہے اور اس طرح شاعر نے محسن کا کوری کی نعتیہ مثنوی’’ مدیحِ خیر المر سلین‘‘ کے طرز پر اپنی مثنوی میں مقامی رنگ بھرنے کی کوشش کی ہے۔ چند اشعارپیش ہیں  ؎

کرے کوئی کیا اس کی حمد و ثنا

نہیں جس کے اوصاف کی انتہا

وہ جس سے کہ اُمّی نے روشن کیے

زمانے میں علم و عمل کے دیے

وہ جس سے کہ مچھلی نے انسان کو

رکھا اس طرح جیسے مہمان کو

وہ جس سے کہ راون سے سیتا بچی

وہ جس سے کہ لنکا کی نگری جلی

کہاں تک کرے گی زباں یہ بیاں

کراماتِ باری جو ہیں بے کراں

منددرجہ بالا اشعار بے ترتیب ہیں مگر ان سے شاعر کے طریقۂ کار اور طرز بیان کااندازہ بآسان لگا یاجا سکتا ہے۔

دوسرا حصہ مناجات کا ہے،اس کا عنوان بھی مناجات باری تعالیٰ ہی ہے۔۳۵اشعار پر مشتمل مثنوی کا یہ حصہ دعائیہ ہے۔اس میں شاعر نے خدا سے قلم کی دولت اور زبان و بیان میں طاقت مانگی ہے۔قلم ایسا کہ جس کی طاقت ہر طاقت کا منہ موڑدے اور زبان ایسی کہ جس کے وسیلے سے شاعر اپنا’’ کرب جاں‘‘موثر انداز میں بیان کر سکے۔ اس کے سوا شاعر کو اور کچھ نہیںچاہیے۔ہمیں شاعر کی سچی طلب ، سیر چشمی اور علم دوستی پر رشک آیا ۔ چنانچہ ہم اس کی دعاپر دل کی گہرائیوںسے آمین کہتے ہوئے مناجات کے چند اشعارتبر کا ً پیش کرتے ہیں  ؎

کیا جس نے پہلے قلم کا  بیاں

لکھی لوح پر اوّلیں داستاں

مری بھی یہی اس سے ہے التجا

مجھے بھی قلم کی ہودولت عطا

ملے مجھ کو بھی کوئی ایسی زباں

بیاں جس سے میرابھی ہو کرب ِ جا

مثنوی کے تیسرے حصے میں مدح رسول پل صراط پر چلنے کا کام ہے۔ اس میں ذراسی بھول چوک یا بے احتیاطی سے شاعر کی عاقبت خراب ہو سکتی ہے۔خود خدا بھی اپنے بندوں کی دیوانگی صرف اپنے ساتھ روا رکھتا ہے۔ اپنے محبوب کے ساتھ کسی قسم کی کج روی ، دیدہ دلیری یا بے تکلفی اسے بھی گوارہ نہیں۔’’با خدادیوانہ باشد با محمد ہوشیار ‘‘اسی خیال کی ترجمانی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں مثنوی‘‘ اَضراب سلطانی’’ کا تنقیدی مطالعہ – ڈاکٹر نوشاد منظر )

غضنفر ان نزاکتوں سے واقف ہیں ۔اس لیے انھوں نے بڑی محبت اور عقیدت کے ساتھ معراجِ نبی کا ذکر کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مثالی کردار کے ان اوصافِ حمیدہ کا حوالہ دیا ہے جن سے آپ کے حسنِ اخلاق ومعاملات پر روشنی پڑتی ہے۔اس طرزِ انتخاب پر میں غضنفرکو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اس موقع پر حضور اکرم کی انھیں روشن و تابناک خوبیوں کو یاد کرنے اور انھیں عام کرنے کی ضرورت تھی۔ دوتین شعر پیش ہیں  ؎

سنو کوئی ایسا بھی بندہ ہوا

زمیں کے لیے جو فلک پر گیا

جسے ہر طرح سے ستایا گیا

جسے راستوں میں ڈرایا گیا

جلایا اندھیرے میں جس نے چراغ

دیا آنکھ کو روشنی کا سراغ

درج بالا پہلے شعر کے دوسرے مصرع میں ’’ زمیں کے لیے‘‘کا استعمال خوب ہوا ہے۔

مثنوی کا چوتھا حصہ سب سے طویل اور سب سے مختلف ہے ۔ اس میں شاعر نے اپنی خو د نوشت بیان کی ہے۔یہ حصہ کرب جاں کے اندر ہوتے ہوئے بھی کرب جاںسے باہر کا معلوم ہوتا ہے۔اس حصے میں کسی قسم کا کوئی کرب نہیں ۔ یہ شاعر کی زندگی کے ابتدائی دنوں سے تعلق رکھنے والے زمانۂ طالب علمی کے واقعا ت پر مشتمل ہے۔یہ ’’ جوانی کی راتیں مرادوں کے دن ‘‘ والا زمانہ ہے۔ یہ طربیہ ہے اور مثنوی سب سے طویل یعنی 239اشعار پر مشتمل حصہ ہے اس کا عنوان ہے۔’’ روداد قصہ گو کی زندگی کی‘‘یہ قصہ بہار کے ایک گاؤں چوراؤں سے شروع ہوتا ہے جہاں کے مذہبی ماحول میں غضنفر نے آنکھیں کھولی تھیں مدرسے میں داخل کرایا گیا مگر جب مدرسے کی دینی فضاسے ان کا دل اجاٹ ہو گیا تو متبادل کی تلاش میںانھوں نے علی گڑھ کی راہ لی اور وہاں پہنچ کر انھیں سکون میسر آیا ۔ایسامحسوس ہوا جیسے انھوں نے اپنی منزل مراد پالی ہو۔ا س حصے میں چند اساتذہ اور کچھ احباب کا تذکرہ بھی شامل ہے اور ایک ایک دو دو مصرعوں میں ان پر دلچسپ تبصرے بھی کیے گیے ہیں ۔علی گڑہ کے بعد ہماچل پردیش اور لکھنؤ کے دنوں کی یادیں ہیں ۔ہماچل کے مناظر فطرت کی تصویر کشی اور نوابینِ اودھ اور دبستانِ لکھنؤ کا نقشہ اور وہاں کے نمائندہ شعر کا ذکر سبھی کچھ ہے۔پھر جب جامعہ میں ملازمت مل گئی اور دلّی میں قیام کا موقع ملا تو انھیں دلی کی تاریخ یاد آگئی ۔ دلی کی بہاریں ، دبستانِ دلی کی اثر انگریزی ۔ دلّی کی محفلیں ، دلّی کی رنگینیاں ، دلی کے وہ کوچے جو بقول شاعر  ؎

دلی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھے

جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی

پھر دلّی کی تاریخ کے سیاہ ابواب آنکھوں میں پھر گئے۔تاریخ کا جبر، دلی کی تباہی کی خوں چکاں داستان سب کچھ یاد آنے لگا۔ یہیں سے کرب کا احساس بیدار ہوا ااور یہی احساسِ کرب’’کرب جان‘‘ بنتا گیا جس کے نتیجے میں اس مثنوی کی بنیاد پڑی ۔ چند ابتدائی اشعار ملاخطہ ہوں  ؎

میں انِّس سو ترپن میں پیدا ہوا

غضنفر مرا نام رکھّا گیا

مرے گاؤں کا نام چوراؤں ہے

یہ چوراؤں بھی اک عجب گاؤں ہے

مجھے مدرسے میں بٹھایا گیا

کلامِ الٰہی پڑھا گیا

مگر مدرسے سے میں اکتا گیا

کہ مجھ پر عجب اک سماں چھا گیا

وہاں سے مجھے پھر نکالا گیا

کسی اور مکتب میں ڈالا گیا

جہاں علم دنیا سے رشتہ جڑا

جہاں دل پہ دنیا کا جادو چلا

یہ جادو مرے سر پہ ایسا چڑھا

کہ نقشے میں آگے میں بڑھتا گیا

کبھی لے کے یہ  شہر ِ دانش گیا

جہاں پیرِ روشن کا حجرہ ملا

بصیرت سے معمور جس کی فضا

ہر اک سمت ادراک چھٹا ہوا

علی گڑھ کا وہ بھی زمانہ تھا کیا

مسرت میں ماحول چھٹکا ہوا

ہماچل مرے رخ کا غازہ ہوا

مرا دل بھی اب کچھ کشادہ ہوا

پہاڑوں سے میداںکی جانب چلا

تمدن کے شہرِ اودھ سے ملا

اودھ سے علی گڑھ کو ہوا ہوا

میں دلّی کی جانب روانہ ہوا

پھر یہ ہوا کہ  ؎

دکھاتی ہوئی اپنے ماضی کا حال

لگی چلنے دلی نئی ایک چال

اسی چال کے نتیجے میں شاعر کا یہ حال ہو گیا  ؎

مری سانس رہ رہ کے بھنچنے لگی

مری روح سینے میں کھِنچنے لگی

ابلتا ہے جو جسم میں کرب جاں

کسی طرح اس کو کروں میں بیاں

رقم اس طرح اک فسانہ ہوا

مرا کرب، کرب زمانہ ہوا

درج بالا اشعار کی بے رطبی اور عدم تسلسل دیکھ کر قارئین سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ اشعار ادھر ادھرسے اٹھا ئے گئے ہیںاور ایسا ہی ہوا بھی ہے۔شاعر کی خود نوشت میں کئی موڑ آتے ہیں۔ ہر موڑ سے ایک دو شعر بطور مثال نقل کر دیے گئے ہیں ۔پوری کہانی مثنوی میں پڑھی جا سکتی ہے۔

مثنوی کے پانچویں حصے کا عنوان ہے’’مدعا کرب جاں بیان کرنے کا ‘‘اس میں 159اشعار ہیں ۔ اس حصے میں شاعر فنِ شعر گوئی پر اپنی دسترس کے جوہر دکھاتا ہے۔تخیل کی پرواز اور زورِ بیان کا مظاہرہ کرتاہے۔ ضائع بدائع کی گل کاریوں اور کرشمہ سازیوں کے در کھولتا ہے۔ایہام ،تجنیس ، مجاز مرسل اور رعاتیوں کے وسیلے سے زبان و بیان پر اپنی قدرت اور لفظی و معنوی ہنر مندیوں سے واقفیت کا دعویٰ کرتا نظر آتا ہے۔مثلاً یہ اشعار  ؎

رواں مثنوی کا ہو پھر سلسلہ

کہانی سنانے کا اک مدعا

طبیعت کا ہو جائے پھر امتحاں

دکھائیں ہنر پھر زبان و بیاں

لگے پھر سے میلہ رعایات کا

کریں پھر نظارہ محاکات کا

گرائیں کبھی چاہ میں چاہ کو

ملائیں کبھی ماہ سے ماہ کو

چلیں کوئی تجنیس کی چال بھی

ذرا پھر سے ڈالیں زباں جال بھی

بعد ازاں ’’ آغاز کربِ جاں کے قصے کا ‘‘ مثنوی کا چھٹا ذیلی عنوان ہے۔ اس میں ایک سو پانچ اشعار ہیں۔ اس کی ابتداکچھ اس طرح ہوتی ہے  ؎

سنو !اے زمانے کے دانشورو!

سنو ایک کہتا ہوں قصہ سنو!

یہ قصہ نہیں ہے خراسان کا

یہ قصہ نہیں ہے پر ستان کا

اس میں روایتی مثنویوں کے تمام مروجہ قصوں کی نفی کی گئی ہے اور بہت اچھے شعر کہے  گئے ہیں ۔  قدیم مثنویوں کے معروف و مشہور کرداروں کے حوالوں نے اس حصے کو مزید دلچسپ اور معنی خیز بنا دیا ہے۔یہ حصہ حسنِ بیان کا نمونہ اور شاعر کے وسیع مطالعہ کا ثبوت ہے۔بطور نمونہ چند اشعار پیشِ خدمت ہیں  ؎

نہ سیف الملوک و بدیع الجمال

نہ یوسف زلیخا کی کوئی مثال

نہ فائزکی نگہت نہ جوگن کا وصف

نہ جانم کے رمزِ کرامات وکشف

نہ عیّار کوئی نہ زنبیل ہے

نہ تمثال کوئی نہ تمثیل ہے

نہ جادو کی ڈبیا نہ جادو چراغ

نہ جادو کی وادی نہ جادو کا باغ

نہ ڈبیا میں سورج نہ بوتل میں جن

نہ جادو کی راتیں نہ جادو کے دن

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ کچھ بھی نہیں توپھر آخر ہے کیا؟اس چھبتے ہوئے سوال کا شاعر نے درج ذیل اشعار میں سلگتا ہوا جواب دیا ہے۔

سنو زندگی کی کہانی ہے یہ

قلم کی حقیقت بیانی ہے یہ

یہ قصہ فقط ایک تکرار کا

غلط فہمیوں کے ہے اظہار کا

بنا باہری لفظ اس کی اساس

اسی سے کشا کش اسی سے ہراس

ان اشعار میں شاعر نے نہ صرف گزشتہ سوالوں کا جواب دیدیا ہے بلکہ یہ راز بھی منکشف کر دیا ہے کہ ہم اس وقت جن نا گفتہ بہ حالات سے دو چار ہیں وہ چندشرارت پسند اور سازشی ذہنوں میں پرورش میں پانے والی عصبیت زدہ شر انگیزوں کا نتیجہ ہے۔ یہ سازشی تاریک ذہن لوگ ہندوستان کی ایک بڑی آبادی کو باہری سمجھتے ہیں ۔ان لوگوں کے خیال میںوہ باہری یہاں کی کثیر آبادی کے مال و اسباب اور ان کے حقوق پر قابض ہیں ۔بالفاظ دگر غاصب ہیں ۔انھیں یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ معترضین جس دلیل سے یہ دعویٰ کرتے ہیں وہ دلیل خو دان پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ تاریخی شواہد کی رو سے وہ خود باہری ہیں۔فرق اتنا ہے کہ کچھ پہلے آگئے تھے کچھ بعد میں پہنچے۔ بہر حال اس منفی طرزِ فکراور تکلیف دہ صورتِ حال کے درمیان شاعر اس نتیجے پر پہنچا ہے  ؎

تو آغاز کرتا ہوں دل سے سنو !

ہر اک لفظ پر کان اپنے دھرو

سنو جو یہ سنگین حالات ہیں

سفر میں ہمارے جو خطرات ہیں

جو بھڑکے ہوئے گرم جذبات ہیں

بجھے زہر میں جو بیانات ہیں

کئی طرح کے جن میں خدشات

اسی لفظ کی سب کرامات ہیں

مثنوی کا ساتواں عنوان ہے’’داستان اساسِ قصہ کی ‘‘ 86شعروںپر مشتمل اس حصے میں شاعر نے پھر اسی بنیاد ی تصور یعنی باہری سے بحث کی ہے۔انسانی حقوق و مراعات کے تاریخی ، جغرافیائی ، سماجی ، مذہبی ، اخلاقی اور انسانی پس منظر کی روشنی میں اس خیال کو پر زورانداز میں رد  کرتے ہوئے بقائے باہمی کے عالمی اصول و ضوابط کے تحت بنی نوع انسان کا حقِ آزادی حفاظت اور اس کے حقوق کی نگہداشت کے تعلق سے مظاہر فطرت اور منشائے قدرت کے حوالے سے استدلال کیا ہے۔چند اشعار یہ ہیں  ؎

سنا ہے کہ سارا جہاں ایک ہے

زمیں ایک ہے آسماں ایک ہے

فلک ایک ہے چاند تارے بھی ایک

مہ و مہر کے سب نظارے بھی ایک

سبھی کے بدن میں لہو ایک ہے

بشر جو بھی ہے اس کی بو ایک ہے

سبھی انس و جاںکا خدا ایک ہے

سبھی کے نفس کی ہوا ایک ہے

تو پھر کوئی کیسے ہوا باہری

مچی ہے یہ جس کے لیے کھلبلی

شاعر یہ بھی کہتا ہے اور سچ کہتاہے کہ جو لوگ یہاں آئے تھے انھوں نے اس ملک کو اپنا وطن بنا لیا ۔ اس کو آباد کیا ۔ سجایا ، سنوارا ،اس سے محبت کی، اس کے چمن کو اپنے خون سے سینچا،رشتے قائم کیے، اسے مشترکہ تہذیب کا گہوارہ بنایا، تنوع کا حسن دیا ،زبانوںمیں وسعت پیدا کی اور یہاں کی آبادی میںشیرو شکر ہو گئے ۔ شاعر کے مطابق  ؎

رہی ہو جو نیت مگر یہ ہوا

جو آیا یہیں کا وہ ہو کر رہا

مثنوی کے اگلے حصے میں 65اشعار کا بیانیہ ہے اور جس کا عنوان ہے۔’’داستان ان کے قیام کے اسباب کی۔‘‘شاعر نے نہایت خوش اسلوبی سے یہ بتانے ، دکھانے اورسمجھانے کی کوشش کی ہے  کہ آنے والوں کے یہاں بس جانے اور گھل مل جانے سے یہاں کی زندگی میں کون کون سی مثبت اور خوشگوار تبدیلیاں رونما ہوئیں اور مستقلاًیہاں سکونت اختیار کرنے کا ارادہ کرتے وقت خودآنے والوں کے ذہن میں کیا تھا؟

ان سوالوں کے کئی جوابات ہیں جو مثنوی میں پڑھے جا سکتے ہیں ۔ ان میںچند یہ ہیں  ؎

یہاں ٹھہر جانے کے اسباب تھے

ان اسباب کے بھی کئی باب تھے

یہاں کی زمیں میں تھیں زرخیزیاں

یہاں کی فضا میں تھیں رنگ ریزیاں

زمیں پرُسکوں، پُرسکوں آسماں

یہاں سے وہاں تک سبھی شادماں

نہ گولی نہ گولہ نہ بر چھی نہ بم

نہ دشتِ جنوں اور نہ وحشی قدم

سبب ایک یہ بھی تھا ٹھہراؤ کا

نہ تھاشائبہ کوئی الگاؤ کا

نہ تھا اس حقیقت کا وہم و گماں

کہ ہوگا کبھی ثبت ایسا نشاں

نئی دے گا پہچان پل میں انھیں

بنا دے گا انجام پل میں انھیں

کہ خلجان جن سے پڑے جان میں

وجود ان کا گھر جائے طوفان میں

سمجھنے لگے گا کوئی غیربھی

کہ ان سے کرے گا کوئی بیربھی

یہاں رہنے بسنے کے بعد وہ اس طرح گھل مل گئے کہ انھوں نے اپنی زبان ، اپنا لباس ، اپنا لب و لہجہ، اپنی تہذیب اپنی ثقافت او ر اپنی پوری شخصیت تبدیل کر لی۔ انھیں وہم و گمان بھی نہ تھا کہ اتنے ایثار و قربانی کے بعد بھی انھیں ایک دن غیر سمجھا جائے گااور باہری کا طعنہ دیا جائے گا۔ شاعر کے لیے یہ ایک تکلیف دہ احساس ہے ۔اس نے اپنے اس احساس میں قاری کو شریک کرنے کی کوشش کی ہے۔امید ہے کہ شاعری کی یہ پر خلوص کوشش ہر قاری کو متاثر کرے گی اور ہر شخص یہ سوچنے پر مجبور ہو گا کہ یہ ملک کے لیے ایک لمحۂ فکر یہ ہے کیوں کہ اس صورت حال سے نہ صرف جانبین بلکہ اس جنت ارضی کو بھی صدمہ پہنچنے کا اندیشہ ہے جسے ہم ہندوستان کہتے ہیں اور جو ہمیں بہت عزیز ہے۔مثنوی کا نواں حصہ جس کا عنوان ہے’’داستان ان کے دم سے سماں بدلنے کی‘‘محض26شعروں پر مشتمل ہے۔اس عنوان کے تحت کہے گئے اشعار میں شاعر نے یہ ثابت کرنے  کی کوشش کی ہے کہ شرارت پسند افراد جن لوگوں کو باہری کہتے ہیں ، ارضِ وطن کے چپے چپے پر ان کی محبتوں کے نقوش ثبت ہیں ۔ ہر طرف ان کی سخاوت ، ان کی بہادری ، ان کی جفا کشی ، ان کی تہذیب ، ان کی شائستگی ، ان کی معاشرت ، ان کا عدل و انصاف ، ان کی خوش اطواری ، فطرت سے لگاؤ ، تعمیر و ترقی سے دلچسپی ، غیر جانبداری ، انصاف پسندی ، بے تعصبی اور انسان دوستی کے جلوے بکھرے ہوئے ہیں ۔ ان کا عہد حکمرانی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہے۔ بقول شاعر  ؎

بدلنے لگا ان کے دم سے سماں

نیا روپ لینے لگا اب جہاں

لگا کوئی خیمہ مساوات کا

ہوا سلسلہ اک ملاقات کا

سمٹنے لگا نسل کا امتیاز

رہا کوئی بندہ نہ بندہ نواز

مگر پھر دسویں حصے میں جو محض 29اشعار کو محیط ہے اچانک منظر نامہ تبدیل ہوجاتا ہے۔عنوان ہے’’داستان بدلے ہوئے سماں کے رد عمل کی‘‘ اس حصے میں شاعر نے مختلف تلمیحوں اور تشبیہوں کے علاوہ بہت سی علامتوں اور اشاروں کی مدد سے مثنوی کی جامعیت اور معنویت میں اضافہ کیا ہے۔ مثلاً  گزشتہ حصے میں خیمے کا ذکر تھا اور اب درج ذیل اشعار میں ناگ اور متعلقاتِ ناگ سے متعلق اشعار دیکھے جاسکتے ہیں  ؎

مگر اس کا ایسا اثر بھی ہوا

اٹھا ناگ برسوں کا سویا ہوا

اچانک وہ پھن کو اٹھانے لگا

غضبناک چہرہ دکھانے لگا

یہاں ناگ کا اشارہ بڑامعنی خیز ہے۔ تعصب کازہریلا ناگ جو بڑھتے بڑھتے اب ایک علامت بن چکا ہے۔ ا س کا پھن جو بتدریج کشادہ ہو رہا تھا یک لخت پھیل کرارض وطن پر چھا گیا ہے۔ اس کے زہرنے فضا ئے بسیط کو مسموم کر دیا ہے۔شاعر کی یہ دور بینی اس کی دروں بینی سے عبارت ہے۔

مثنوی کے گیارھویں حصے میں ناگوں کی پلاننگ اور ان کی منصوبہ بندی کا ذکر ایک علامتی عنوان کے تحت کیا گیا ہے۔عنوان ہے’’ داستان منتھن اور چنتن منن کی ‘‘اس حصے میں 33شعر ہیں مگر ان میں بڑے معنی خیز اشارے پوشیدہ ہیں ۔ پیرائیہ بیان واضح ،غور طلب اور پُر اثر ہے۔ اشعار یہ ہیں:

لگے بیٹھنے چنتوں میں سبھی

ہوئے غرق اب آسنوں میں سبھی

کہاں تیز کرنا ہے شعلوں کا دم

کدھر آگ کی آنچ کرنا ہے کم

کہاں کس قدر شور و شر چاہئے

کہاں آشتی کا ہنر چا ہیے

بچھانا ہے بارود کس گاؤںمیں

کسے مارنا ہے گھنی چھاؤں میں

شرر کے بگولے کہاں سے اٹھیں

کہاں سے فسادوں کے گولے چلیں

شاعر نے ان اشعار میں ناگوں کی پوری پلاننگ بے نقاب کر دی ہے۔ مثنوی کے بارھویں حصے میں پھر خیمے کی جانب مرا جعت کی گئی ہے۔ عنوان ہے’’داستان  خیمے سے نکلی ہوئی روشنی کی‘‘یہاں خیمے نے کم و بیش وہی رنگ دکھایا ہے جو اقبال کی نظم ’’ساقی نامہ‘‘میں ’’کاروانِ بہار‘‘ نے خیمہ زن ہو کر دکھایا تھا  ؎

ہوا خیمہ زن کاروانِ بہار

ارم بن گیا دامنِ کوہسار

یعنی ارضِ وطن میں ان ’’باہری ‘‘ لوگوں کے قدم پڑتے ہی گویا بہار آگئی تھی  ؎

کہ خیمے سے نکلی تھی جو روشنی

جواں رفتہ رفتہ وہ ہونے لگی

چھٹکتی رہی چاندنی کی طرح

سنورتی رہی زندگی کی طرح

چمکنے لگا اس کے دم سے جہاں

دمکنے لگا خوبصورت سماں

سبھی کو جہاں مان دیتے تھے لوگ

جہاں آن پر جان دیتے تھے لوگ

جہاں کوئی آقا نہ کوئی غلام

جہاں ایک صف میں کھڑے خاص و عام

ماحول خاصا خوش گوار تھا مگر زمانہ ایک ہی روش پر کہاں قائم رہتا ہے۔حسبِ عادت اس نے پھر کروٹ بدلی اور چنتن کرنے والے وہ شر پسند جو مصلحتاً درمیان میں کچھ ٹھٹھک سے گئے تھے سیاسی حالات کی ستم ظریفی نے انھیں پھر سر اٹھا نے کا موقع فراہم کر دیا۔مثنوی کے تیرھویں حصے میں جس کا عنوان ہے۔’’ داستان ٹھٹھکے ہوئے قدموں کی روانی کی ‘‘انھیں کی سازشوں کا بیان ہے۔اس حصے کے 34شعروں میں شاعر نے ان کے تمام ارادے طشت ازبام کیے ہیں۔ملاحظہ کیجیے  ؎

عنانِ قیادت انھیں مل گئی

قیادت سے دل کی کلی کھل گئی

نئے لمس سے زہر تازہ چڑھا

رگ وپے میں نشّے پہ نشہ چڑھا

گیا ناک پھر سے بدن میں سما

لگی ہونے پھر سے قیامت بپا

کہیں جا کے پھن اس نے پھیلا دیا

کہیں پھونک سے سب کو دہلا دیا

کہیں کوئی نیز ے پہ سر آگیا

نئی کر بلا کا سماںچھا گیا

اس کے برعکس مثنوی کے چودھویں حصے میں ایک ایسے طبقے کا تعارف کرایا گیا ہے جو انسان دوست ہے امن و عافیت پسند ہے۔جیو اور جینے دو کا علم بردار ہے۔کیوں ہے یہ بہ زبانِ شاعر سنیے  ؎

نہیں چاہتا تھا کوئی دل رکھے

کوئی آنکھ آنسو کا دریا بنے

نہیں چاہتا تھا زمیں لال ہو

ُٰیہ دھرتی اہنسا کی پامال ہو

تمدن کی دلکش وراثت مٹے

اخوت مروّت محبت مٹے

یہی  ہے وہ طبقہ جو ڈرتا نہیں

صداقت کے رستے سے ہٹتا نہیں

یہی ہے کہ جس کی نہیں کوئی ذات

یہی ہے جوکہتا خدا لگتی بات

شاعر نے ارضِ وطن کے اس سیکولر طبقے کے تعارف میں یہ تاثر دیا ہے کہ اگر ہم اور ہمارا ملک کسی بڑی مصیبت سے تاحال محفوظ ہیں تو وہ اسی طبقے کے وجود ، راست بازی اور اخلاقی جرأت کا کمال ہے۔

مثنوی کے پندرھویں حصے کا ذیلی عنوان ہے’’داستان ایک خوف کے اسباب کی‘‘اس میں 42اشعار ہیں۔ حصے میں منفی سوچ رکھنے والے شر پسندوں کے ذہنی تحفظات،تعصبات اور ان کے خیالی خوف کی نفسیات کا بیان ہے۔ ان کے نزدیک یہ جو باہری ہیںسارے حملہ آوروں کی سنتان ہیں ۔ یہ خوا مخواہ ہمارے حصے دار  بن گئے۔اگر یہ نہ ہوتے تو سب ہمارا تھا۔یہ نہ ہوں تو سب ہمارا ہوگا۔یہ موجود رہے تو جو باقی ہے وہ بھی چھن جائے گا۔شاعر نے ان منفی خیالات کو بڑی صفائی اور بے با کی سے نظم کیا ہے۔خیمے سے مراد یہاں بھی باہری یا حملہ آور ہیں اشعار ملا حظہ ہوں  ؎

لگا یہ جو خیمے کی ہے روشنی

اسی کے سبب ان کی ہے تیرگی

سلامت رہا گر یہ خیمہ یہاں

تو شاید اجڑ جائے اک دن مکاں

اسی سے ہوئے ان کے تارے بھی ماند

اسی کی بدولت بجھا ان کا چاند

لگا ان کے حصے کا زر جائے گا

لگا ہاتھ سے ان کا گھر جائے گا

سبب ایک یہ بھی نظر میں رہا

کہ آنے سے ان کے بہت کچھ گیا

ہر ایک چیز حصے کی آدھی ہوئی

یہ آدھی بھی تقسیم ہو تی گئی

کہیں اپنی دھرتی نہ جائے سرک

بچا ہے جو حصّہ نہ جائے کھسک

سبب ایک یہ ان کے آگے رہا

تھا جس نے کبھی ان پر حملہ کیا

اسی کی تو ساری یہ پہچان ہے

اسی حملہ آور کی سنتان ہے

جو رکھی نہیں ان کے اوپر نگاہ

تو ہو جائے گی ان کی دنیا سیاہ

اس تجربے کے ساتھ مثنوی کا سولھواں حصہ شروع ہوتا ہے ۔ 81اشعار کے اس حصے کا عنوان ’’داستان اندیشہ ہائے دور دراز کی ‘‘ عیاں راچہ بیاں کے مصداق مثنوی کے مرکزی تصور سے عبارت ہے۔ اس حصے کی بنیاد شاعر نے تین کرداروں پر رکھی ہے۔ ایک کردار تووہی باہری ہے جس کا ذکرباربار آیا ہے۔دوسرا باہری کی ضد یا اس کا مقابل ہے جو باہری سے متصادم ہے اور تیسرا غیر جانب دار ہے ۔ اور ہر تصادم سے گریز پار ہتا ہے یہ تینوں کردار اپنی اپنی جگہ فکر مند بھی ہیں اور بے چین ووبے قرار بھی ۔ سکون کسی کو میسر نہیں ۔ شاعر نے ان کی ذہنی کیفیت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے  ؎

سبھی اپنی اپنی جگہ بے قرا ر

سبھی کے دغوں میں ہے انتشار

سبھی خوفِ فرد اسے سہمے ہوئے

کشاکش میں سارے ہیں الجھے ہوئے

کہانی یہ اس دیس کی ہے میاں

جہاں بجتی تھیں چین کی بنسیاں

جہاں اک زمانے میں سب ایک تھے

سبھی سیدھے سادے سبھی نیک تھے

اذاں گونجتی تھی جہاں بے خطر

نہ ناقوس کو تھاکہیں کوئی ڈر

نہ جانے یہ کس کی نظر لگ گئی

کہ آنکھوں کے پانی میں ہلچل مچی

بہر حال سماں بدلا اور اس کے بعد جو حالات بگڑ نا شروع ہوئے تو اس مثنوی کے خالق کو اندیشوں نے گھیر لیا۔وہ فکر مند ہو گیا ۔ اس نے سوچا اگر امن پسند کردار بھی شر پسندوں کے دام میں آگیا تو نہ جانے کیا ہو۔اس تشویش میں مبتلا شاعر بلآخر یہ اشعار کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے  ؎

مجھے خوف ہے بس اسی بات کا

کہیں کوئی جادو ادھر چل گیا

یہ کردار بھی دام میں آگیا

کہیں ذہن اس کابھی گہنا گیا

تو کیسے بہے گی ہوا امن کی

تو کیسے بچے گی فضا امن کی

کوئی بے سہارا کہاں جائے گا

مصیبت کا مارا کہاں جائے گا

کرے گا وہ روداد کس سے بیاں

سنائے گا قصہ کسے کربِ جاں

مثنوی کربِ جاں کا سترھواں حصہ اس کا آخری حصہ ہے اس میں کل چورانوے اشعار ہیں۔ اس کا عنوان ہے’’ داستان صف بے زبانی کے کردار کی‘‘یہ ایک طرح کا دعائیہ ہے اوراس میں صفِ بے زبانی کا کردارخود شاعر کی شکل میں نمودار ہوتا ہے جو ڈرامائی انداز میں اپنا تعارف کراتے ہوئے کہتا ہے  ؎

کوئی اور بھی اس کہانی میں ہے

مگر وہ صفِ بے زبانی میں ہے

جو ملنا ہے اس سے تو مقصد پہ آؤ

ذرا اپنی نظروں کو پینی بناؤ

بعد ازاں قدرے بے نیازی کے ساتھ یوں گویا ہوتا ہے کہ اسے جو بیان کرنا تھا بیان کر چکا اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کی باتیں آپ پر کتنا اثر کرتی ہیں  ؎

بیاں کر دیا اس نے تو کربِ جاں

ہے اب آپ کے سامنے داستاں

کہاں تک دلوں میں سماتی ہے یہ

اثر اپنا کتنا دکھاتی ہے یہ

کہیںکوئی بنتی بھی ہے اس سے بات

نکلتی بھی ہے کوئی راہِ نجات

ا س کے بعد دعاؤں اور تمناؤں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتاہے جو کئی اشعار پر مشتمل ہے انھیں دعاؤںکے سائے میں اس شعر کے ساتھ مثنوی اختتام کو پہنچتی ہے  ؎۔

محبت، محبت کے جھونکے چلائے

معطر ہوا کی طرح پھیل جائے

غضنفر نے یوں تو پوری مثنوی میں اپنے مطالعے کی وسعت خصوصاً علم معنی اور بدیع و بیان سے اپنی واقفیت کا ثبوت فراہم کیا ہے لیکن آخری حصے میں ضائع بدائع کا استعمال کچھ زیادہ فنکاری سے ہوا ہے۔ روانی کا زور پوری مثنوی میں یکساں طور پر قائم ہے، کہیں کوئی خاص کمزور ی نظر نہیں آتی۔ یہ مثنوی لکھ کر غضنفر نے (جیسا کہ تمہید میں بھی کہا جا چکا ہے)یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ طویل ناول لکھنے پر ہی قادر نہیں طویل نظمیں کہنے پر بھی انھیں عبور حاصل ہے۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
خالد محمودغضنفرکرب جان
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مائل گورکھپوری کی اردو شاعری – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

اردو مثنوی: تعارف اور تفہیم ۔ خان محمد...

اکتوبر 11, 2025

مثنوی نل دمن: ایک تقابلی مطالعہ – ڈاکٹر...

فروری 22, 2022

کن فیکون : اسلم بدر ( ایک حمدیہ...

نومبر 23, 2021

داغ کی مثنوی ’’فریادِ داغ‘‘ – ڈاکٹر سلمان...

اگست 4, 2021

غالب کی فارسی مثنوی’ چراغ دیر‘ :اردو ناقدین...

اکتوبر 12, 2020

مثنوی‘‘ اَضراب سلطانی’’ کا تنقیدی مطالعہ – ڈاکٹر...

اگست 12, 2020

غالب اور مثنوی چراغ دیر – ابو بکر...

اگست 12, 2020

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,042)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (535)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (204)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (402)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (214)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (475)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں