یوم آزادی کے موقع پر فاضل پورمکتب میں اسلامی کوئز کا انعقاد، کامیاب طلبا کو فیڈ این جی او کی جانب سے انعام دے کر حوصلہ افزائی کی گئی۔
سمستی پور( نامہ نگار): مکاتب کا نظام کا سلسلہ صفہ نبوی سے ملتا ہے۔ معاشرہ کی اصلاح اور سماج کو اسلامی تہذیب وتمدن کا گہوارہ بنانے کے لئے نئی نسل کے دل و دماغ میں ایمانی حرارت باقی رکھنے کے لئے، گائوں گائوں ، محلہ اور چھوٹی چھوٹی بستوں میں مکاتب کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ یہ باتیں جمعیۃ العلماء ہند ( ارشد مدنی گروپ) کے ضلع صدر ڈاکٹر قاری محمدشاہد نےتاج پور بلاک کی پنچایت شاہ پور بگھونی، فاضل پور میں واقع اسلامی مکتب میں یوم آزادی کے موقع سے منعقد اسلامی کوئز میں کامیاب بچوں کو انعام تقسیم کرنے سے قبل اپنے خطاب میں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکاتب ومدارس آج ہماری ریڑھ کی ہڈی ہے اور سانس کی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر سانس چل رہی ہے تو ہم زندہ ہیں ورنہ ختم۔ جہاں تک مسلمان کا تعلق ہے اس کے لئے دینی تعلیم اور دین کی بنیادی واقفیت کی وہی حیثیت ہے جو ایک انسان کی زندگی کے لئے ہوا اور پانی کی ہے۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے زندہ رہنے اور مسلمان کہلانے کے لئے اور پھر آخرت میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کومنہ دکھانے اور نجات حاصل کرنے کے لئےدینی تعلیم کا حصول ضروری ہے۔ موجودہ وقت میں ہماری نئی نسل جس طرح کےاسکول اور کالجوں میں تعلیم کر رہے ہیں جہاں اسلامی تہذیب وتربیت کا کوئی انتظام نہیں ہے ان کے لئے صبح یا شام میں مکاتب کا تعلیم انتہائی ضروری ہے۔ فیڈ این جی او کے سربراہ وکانگریس اقلیتی سیل کے کارگزار صدر غضنفر شکیل نے اس موقع پر کہا جدید ٹکنالوجی کا شکار ہو رہی ہے۔ موبائل کے ذریعے لہب ولعیب میں ملوث ہو رہے ہیں۔ ان کو دین کی تعلیم سے جوڑنے اور راہ راست پر لانے کے لئے مکتب کا قیام کرکے فاضل پور کے نوجوانوں نے مفت تعلیم کا نظام شروع کرکے ایک مثال قائم کی ہے۔ مکتب کا قیام اور اس کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے فیڈ این جی او نے فیصلہ لیا ہے کہ ہے فاضل پور گائوں کے وارڈ نمبر ۹؍ میں ۱؍ ستمبر سے بچوں کو دینی تعلیم مفت دلوانے کے لئے ایک مکتب کا قیام کرے گی۔ اس موقع پر کامیاب طالب علموں کو فیڈ این جی او کی جانب سے انعام دے کر حوصلہ افزائی کی گئی۔ حکم کے فرائض مولانا نظام الدین ندوی، مولانا اشراق، مولانا ماہتاب، مولانا توقیر نے انجام دیا۔ پروگرام کی صدارت قاری محمد شاہد اور نظامت مولانا انظر ندوی نے کیا۔ موقع پر مرغوب صدری، ماہتاب ابن محمد فرید، محمدارمان،محمد فیاض اکرم، محمد تابش الزماں، محمد قذافی، محمد عابد، محمد صدام عثمانی، مولانا توصیف قاسمی وغیرہ موجود تھے۔ صدر کی دعا پر پروگرام اختتام پزیر ہوا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

