مانو لکھنؤ کیمپس میں یوم تاسیس کے موقع پر توسیعی خطبہ کا اہتمام
لکھنؤ۔۹/ ۲۰۲۴
مادری زبان انسان کی بنیادی شناخت ہے ۔مادری زبان کے ذریعہ تعلیم سے قربت بڑھ جاتی ہے ۔ہندستان میں تعلیمی آزادی کو عام کرنے کا سہرا مولانا آزاد کے سر ہے ۔ان خیالات کا اظہار لکھنؤ یونی ورسٹی میں شعبہ فلسفہ کے سابق صدر پروفیسر راکیش چندرانے مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر لکھنؤ کیمپس میں منعقد ایک توسیعی خطبہ کے دوران کیا ۔وہ مادری زبان میں تعلیم اور قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰کے موضوع پر توسیعی خطبہ پیش کررہے تھے ۔ابتدا میں کیمپس کی انچارج ڈاکٹر ہما یعقوب نے مہمان کی خدمت میں گلدستہ پیش کر کے خیر مقدم کیا ۔ڈاکٹر انور الحق نے قرآن پاک کی تلاوت کی ۔ ڈاکٹر عمیر منظر نے نظامت کا فریضہ انجام دیا ۔واضح رہے کہ لیکچر سے پہلے تمام اساتذہ ’ریسرچ اسکالر اور غیر تدریسی عملہ نے ہیڈ کوارٹر میں جاری یوم تاسیس کی تقریبات کو براہ راست دیکھنے کابھی اہتمام کیا ۔
پروفیسر راکیش چندرا نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی امکانات سے بھر پور ہے ۔اس میں مادری زبان کے لیے بہت گنجائش رکھی گئی ہے ۔ان کا خیال تھا کہ مادری زبان کے لیے ہمیں معیار ایک قائم کرنا ہوگا نیزیہ بھی کہ مادری زبان میں تعلیمی مواد کم ہے اس لیے ہمیں اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔انھوں نے کہا کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہونی چاہیے یہ بہت اچھا قدم ہے لیکن یہ تعلیم کب تک اور کس حد تک ہونی چاہیے اس پر ہمیں غور وفکر کے بعد کوئی جامع پالیسی وضع کرنی ہوگی ۔پروفیسر راکیش چندرا نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اس کے لیے ترجمہ کا سہارا لینا پڑے گا ۔
انھوں نے اس موقع پر ایک غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات انگریزوں کے زمانے سے کہی جارہی ہے کہ یہاں کے لوگ سائنس اور ٹکنالوجی میں بہت پیچھے تھے حالانکہ یہاں کی تاریخی عمارتیں اور مذہبی عبادت گاہیں انجینئرنگ ،جیومیٹری اور علم نجوم کا بہترین نمونہ پیش کرتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہمیں بہت سے طریقوں اور ذرائع کااستعمال کرکے ایک بہترین تعلیم یافتہ سماج بنانے کے لیے تگ و دو کرنی ہوگی جس کی جانب ہمارے اکابرین نے توجہ دی تھی ۔
آخر میں کیمپس کی انچارج ڈاکٹر ہما یعقوب نے یوم تاسیس کی مبارک دیتے ہوئے کہا کہ ہماری یونی ورسٹی نے تعلیم کو عام کرنے خصوصاً خواتین کو تعلیم یافتہ بنانے میں انقلابی قدم اٹھایا ہے ۔ یونی ورسٹی کے اس مشن کو ہمیں آگے بڑھانا ہے ۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

