Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
اسلامیات

مغربی اور اسلامی تہذیبوں میں عورت کا مقام :مریم جمیلہ کے افکار کا مطالعہ-نجم السحر

by adbimiras اگست 19, 2020
by adbimiras اگست 19, 2020 0 comment

مریم جمیلہ عالم اسلام کی وہ تابناک شخصیت ہیں جن کی زندگی کا مطالعہ کر کے ایمان تازہ ہوجاتا ہے اور دل ان کے احترام میں قصیدے پڑھنے لگتا ہے۔انہوں نے دین اسلام کے لئے جس قربانی کا مظاہرہ کیا ہے اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

مریم جمیلہ کی زندگی کے دو مرحلے ہیں: ابتدائی زندگی جو انہوں نے امریکہ میں گزاری اور بقیہ زندگی پاکستان میں۔وہ23 مئی 1934میں امریکہ کے شہر نیو یارک میں آباد جرمنی سے تعلق رکھنے والے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئیں۔والدین نے پیدائشی نام مارگریٹ مارکس رکھا،بچپن سے ہی سے وہ عام امریکی بچوں سے جدا تھیں۔یہودی خاندان میں پیدا ہونے کے باوجود ان کو یہودیت نے ذرا بھی متاثر نہیں کیا۔وہ اپنی زندگی کے ابتدائی زمانے سے ہی یہودیت سے متعلق اشکالات کا اظہار کرتیں اور جیسے جیسے وہ بڑی ہوتی گئیں ان کو یہودیت سے نفرت ہوتی گئی۔

مریم جمیلہ بہت حساس خاتون تھیں۔بچپن ہی میں انہوں نے اپنے گرد و پیش کی چیزوں کا گہرااثر لیا۔ چوں کہ دوسری جنگ عظیم کا آغاز ان کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا،اس وقت بھی اتنی کم عمری کے باوجود جنگ کے تمام حالات سے با خبر رہتی تھیں۔جب جنگ کی تصویریں دیکھتی تھیں تو بہت زیادہ غم زدہ ہو جایا کرتی تھیں۔ان کے اندر ہمدردی کے جذبات بچپن سے ہی موج زن تھے۔جب وہ اسکول میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں تب ان کی کلاس میں ایک لڑکی بہت غریب تھی۔اس کی یونیفارم بہت پرانی تھی۔مریم جمیلہ اس غریب لڑکی کو دیکھ کر بہت مغموم ہو جاتیں۔جب اس کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہ ہوتا تو یہ اپنا کھانا اس کو کھلا دیا کرتی تھیں۔(1)ایک مرتبہ مریم جمیلہ نے ریڈیو پر عربی موسیقی سنی جو انہیں بہت اچھی لگی۔وہ اپنے والد کے ساتھ عربی موسیقی کی کیسٹ خریدنے بازار گئیں۔اسی وقت ان کی نظر ام کلثوم کی قرأت قرآن کی کیسٹ پر پڑی۔اسے انہوں نے خرید لیا۔جب گھر لا کر انہوں نے قرأت سنی تو وہ ان کے دل میں اتر گئی اور مغربی موسیقی میں ان کی دلچسپی ختم ہو گئی۔(2)

جب انہوں نے قرآن کا مطالعہ کیا تو ان کو اس سے اتنی دلچسپی ہو گئی کہ وہ ان کا ساتھی بن گیا اور یہ دن رات اس کامطالعہ کرتیں۔قرآن کے مطالعے سے پہلے ان کاحال ایسا تھا کہ جیسے ان کی زندگی ختم ہو چکی ہو،یہ بالکل حوصلہ شکن،خستہ حال،افسردہ اورمایوس ہو چکی تھیں،معاشرے میں اپنا مقام تلاش کر کے تھک چکی تھیں اور ان کی حالت ایسی ہو گئی تھی جیسے سمندر میں بہہ رہی ہیں اور ان کو کنارہ نہ مل رہا ہو۔ان کی کشتی بھنور میں پھنسی ہوئی تھی۔کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کریں اور کہا جائیں؟ یہودیت اوربہائیت کسی سے بھی ان کوتسلی نہیں ہوئی۔اس کشمکش میں پکتھال کے ترجمہ قرآن نے انہیں بچا لیا اورآخر کار قرآن پڑھ کر ان کواپنی اصل پہچان حاصل ہو گئی۔قرآن کے مطالعہ سے ان کوسمجھ آگیا کہ یہی سچا مذہب ہے اور یہ واحد مذہب ہے جو مکمل راہ ہدایت ہے۔(3)

مریم جمیلہ نے تہیہ کیا کہ ان کی زندگی کا مقصد اسلام کے خلاف اٹھنے والے مغرب کے اشکالات کو دور کرنا اور اسلام پر لگائے جانے والے الزامات کو غلط ثابت کرنا ہوگا،انہوں نے اپنی زندگی اسلام کے بارے میں مضمون اور کتابیں لکھنے کے لئے وقف کردی،انہوں نے ان مسلمانوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو جدید خیالات کے حامل تھے۔ان شخصیتوں میں جن کو مریم جمیلہ نے اپنی تنقید کا نشانہ بنایاسر سید احمد خان،شیخ محمد عبدہ اورسید امیر علی وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے دین کو گہرائی سے سمجھنے کے لئے اس دور کے بڑے بڑے علماء کو خطوط بھیجے،لیکن سب سے زیادہ وہ مولانا مودودی ؒکے جوابات سے متاثر ہوئیں،جو جماعت اسلامی پاکستان کے امیر تھے،مولانا نے نہ صرف ان کے خیالات سے اتفاق کیا بلکہ ان کے حالات کو سمجھتے ہوئے ان کو پاکستان آکر رہنے کی دعوت بھی دی۔مولانا نے ان سے اسلام قبول کرنے کو نہیں کہا، کیوں کہ وہ سمجھ گئے تھے کہ مریم پہلے ہی سے اسلام کے رنگ میں رنگ چکی ہیں۔مولانا مودودیؒ نے  ان سے اتنا کہا کہ یہ اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کردیں۔5 دسمبر 1960 سے 18 اپریل 1962 تک مریم جمیلہ نے گیارہ خط مولانا مودودی ؒکو لکھے اور مولانا مودودی نے تمام خطوط کے جواب دئیے۔ (4)

آخر کار وہ 30 جون 1962 کو اپنی منزل مقصودکراچی پہنچ گئیں۔ انہیں لاہور میں مولانا مودودی کے گھر تک پہنچایاگیا۔نئے ماحول میں ان کو کچھ دقتوں کاسامنا کرنا پڑا۔سب سے بڑا مسئلہ زبان کا تھا،اور پاکستان کی گرم آب و ہوا،کھانا پینا اور رہن سہن بھی امریکی زندگی سے بالکل مختلف تھا،لیکن اس کے باوجود ان کا کہنا تھا کہ”نیویارک کی بنسبت میں یہاں بہت بہتر ہوں“۔کچھ دنوں میں انہوں نے نئے ماحول سے مطابقت پیداکر لی۔مولانا مریم جمیلہ سے اپنی بیٹی کی طرح محبت کرتے تھے(5)مریم نے پاکستان سے اپنے والدین کو متعددخط لکھے جس میں اپنے حالات تفصیل سے بیان کئے ایک خط میں لکھا کہ:

”میں امریکہ کے معاشرے میں بالکل تنہا محسوس کر رہی تھی اور اسلام قبول کر لینا ہی میری پریشانیوں کا خاتمہ نہیں تھا۔جب میں نے پاکستان آنے کا ارادہ کر لیا تب میری زندگی کو ایک مقصد مل گیا اورپہلی بار مجھے احسا س ہوا کہ بچپن سے جوانی تک کس طرح میں اس دنیا میں تنہا،ناخوش،مایوس اور بنا کسی دوست کے پھنسی ہوئی تھی،تبھی مولانا مودودی ؒنے میرے لئے ایک دروازہ کھول دیا،اور انہوں نے اس بات کا احساس دلوایاکہ اگر میں مزید امریکہ میں قیام کروں گی توپریشان کن حالات سے مجھے گزرنا پڑ سکتا ہے۔اس لئے میں مولانا کی بہت شکر گذار ہوں، اب میں نے اپنی پہچان کو پا لیا“۔ (6)

8،اگست 1963 کوان کا نکاح یوسف خان سے ہوگیا۔جو اس وقت جماعت اسلامی کے ایک سرگرم رکن تھے۔انہوں نے اسلام کے لئے نہ صرف اپنے والدین کو چھوڑا بلکہ اپنا وطن،اپنی زبان،اپنا ملک،اپنا سب کچھ چھوڑ دیا اور ایک ایسی جگہ آکربس گئیں جہاں نہ ان کا کوئی اپنا تھا،نہ وہاں کی زبان سے یہ واقف تھیں، پھر بھی بنا کسی پس و پیش کے انہوں نے صرف اللہ کے بھروسے پر یہ قدم اٹھا لیا اور اس اجنبی ملک میں ان کو اتنی اپنا ئیت محسوس ہوئی کہ یہیں کی ہو کر رہ گئیں۔انہوں نے تصانیف کا سلسلہ برابر جاری رکھا اور اپنی عمر کے آخری حصے تک انہوں نے اپنا قلم اٹھائے رکھا۔انہوں نے اپنی تصانیف میں اسلام کے بارے میں مستشرقین اور مغربی فکرو نظر سے مرعوب مسلمان دانشوروں کے مغالطوں اور اسلام کے بارے میں غلط تعبیرات کی تصیح کو اپنی علمی تحقیق کا مرکز بنایا۔انہوں نے مغربی علوم کی نا پائیداری اور اس کی کھوکھلی شان و شوکت کو نہایت ٹھوس علمی و عملی شواہد اوردلائل کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا۔مغربی تہذیب و ثقافت جن عقائد و نظریات پر مبنی ہے،مریم نے اس کا ابطال بھی مغربی احوال اور تاریخی حقائق سے کیا ہے۔مغربی معاشرے میں پیدا ہونے اور پرورش پانے کی وجہ سے انہیں مغربی تہذیب کو قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملااور مغربی لا دینی نظریات کا براہ راست مشاہدہ کیا۔اس بنا پر ان کی مغرب پر زور دار تنقید اپنے اندر ایسے حقائق رکھتی ہے جنہیں آسانی سے رد نہیں کیا جا سکتا۔مغرب کے مادہ پرستانہ نظریات کے علم برداروں کی علمی بنیادوں کو منہدم کرنے میں مریم جمیلہ نے نہایت قابل قدر تنقیدی لٹریچر فراہم کیاہے۔انہوں نے استعماری طاقتوں کے انسانیت کش اصولوں اور معاشی استحصال کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ نتیجہ نکالا کہ مغربی حیات اور حکم رانی کے ضابطے بنی نوع انسان کو امن و سکون فراہم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے 34کتابیں لکھی ہیں اورہر کتاب میں ان حالات کا عکس نظر آتا ہے جو امریکہ میں انہوں نے محسوس کیے۔یہ31 اکتوبر2012کو دار فانی سے رخصت ہو گئیں۔اور ان کی وصیت کے مطابق ان کوان کے شوہر کی پہلی بیوی شفیقہ کے برابر میں دفن کا گیا۔ (7) لیکن انہوں نے اپنے پیچھے جو کتابوں کا بیش بہا سرمایہ چھوڑا ہے وہ انسانوں کی رہ نمائی کا اہم کام انجام دیتا رہے گا۔

مریم جمیلہ چوں کہ مغرب میں پلی بڑھی تھیں اس لئے وہ مغربی تہذیب کی گندگیوں سے اچھی طرح واقف تھیں، اسی وجہ سے وہ ان لوگوں کے سخت خلاف تھیں جو اسلام میں عورت کے مقام کو کمتر اور مغرب میں عورت کی حیثیت کو برتر مانتے ہیں۔ان کا اس بات پر پختہ یقین تھا کہ اسلام میں عورت کاجو مقام ہے وہ کسی بھی حیثیت سے کم تر نہیں ہے بلکہ ہر لحاظ سے مکمل اور با عزت ہے۔انہوں نے ایسے لوگوں کے خیالات پر رد عمل کا اظہار کیا ہے جو مساوات مرد و زن کا نعرہ لگا تے ہیں اور اسلام میں عورت کے حال پر ترس کھاکر یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو بالکل قیدی بنا کر رکھا ہے۔ خاص طور سے انہوں نے ان عنوانات کو اپنا موضوع بحث بنایا جن پر اکثر دشمنان اسلام تنقید کرتے ہیں۔جیسے: نکاح میں ولایت،تعدد ازدواج،طلاق اورپردہ وغیرہ۔

مریم جمیلہ نے مصری دانش ور قاسم امین پر سخت تنقید کی ہے۔قاسم امین پہلا مسلمان ہے جس نے عورتوں کو مغربی طرز کی آزادی دلانے کی بات اٹھائی۔مریم جمیلہ نے اپنی تحریروں میں قاسم امین پر سخت ملامت کی ہے کہ اس نے مغرب سے آنے والی عیسائی مشنری کو بنا سوچے سمجھے قبول کر لیااور اس کی حمایت کی،جب کہ مسلم عورتوں کی حالت اپنے گھروں میں بہت بہتر تھی اور پردہ،جس پر قاسم امین نے ضرب لگائی،وہ مسلمان عورت خود اپنے لئے بہتر سمجھ کر کرتی تھی۔مریم جمیلہ نے اپنی تحریروں کے ذریعہ اس سچ کو سامنے لانے کی پوری کوشش کی ہے کہ مساوات نسواں کی جتنی بھی تحریکیں ہیں وہ اسلام اور مسلم سماج کا شیرازہ بکھیرنے کے لئے وجود میں آئی ہیں۔ مسلمان عورتوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے اور مغربی تہذیب کے بہاؤ میں نہیں بہہ جانا چاہئے،بلکہ اسلامی تعلیمات پر قدم جمائے رکھنا چاہئے۔(8)

مریم جمیلہ کے مطابق مساوات مرد و زن کی تحریک موجودہ دور کی ایک مصنوعی پیداوار ہے، جو ہر طرح کے قدرتی اور روحانی اصولوں کا رد کرتی ہے۔کوئی بھی تاریخ یا انسانیات کا طالب علم تحریک نسواں کی مصنوعیت کو ثابت کر سکتا ہے۔کیوں کہ تاریخ گواہ ہے کہ مرد اور عورت کے کام الگ ہیں اور ان دونوں میں فرق ہے۔وہ اس بات کی پوری تائید کرتی ہیں کہ روایتی خاندان سماج کی مضبوطی کی ضمانت ہوتے ہیں۔

مریم جمیلہ نے تحریک نسواں کے حامیوں کو بہت اچھے انداز میں سمجھایا ہے:

”اسلامی نقطہء نظرسے مردوں اور عورتوں کی مساوات بے معنی ہے۔ یہ کہنا ایسے ہی ہے جیسے گلاب اور چمیلی میں برابری کرنا، ہر ایک کی الگ خوشبو،رنگ،شکل اور خوبصورتی ہے۔مرد اور عورت ایک جیسے نہیں ہیں۔ہر ایک کی امتیازی صورت اور خصوصیات ہیں۔عورت مرد کے برابر نہیں ہے اور مرد عورت کے برابر نہیں ہے۔اسلام دونوں کو معاشرے میں مقابلہ جاتی مقام نہیں،بلکہ اعزازی مقام دیتا ہے۔ہر ایک کی اس کی فطرت کے مطابق خاص ذمہ داریاں اور کام ہیں۔(9)

مریم جمیلہ نے اس بات کابھی جائزہ لیاہے کہ مساوات مرد و زن کی تحریک کا اثر مسلم ممالک پر کس طرح ہوا کہے۔ جس کے نتیجے میں مایوسی ہاتھ آئی ہے۔کیوں کہ اس تحریک کی وجہ سے مسلمان ملکوں سے پردہ کم ہو گیا،مسلم عورتوں نے اپنے روایتی کردار کے خلاف بغاوت شروع کر دی اور اپنی زندگی مغربی عورتوں جیسی گزارنے کی کوشش میں لا گئیں۔جیسا کہ Raphael Patai نے اپنی کتاب Women in the Modern Worldمیں بھی لکھا ہے:

”تہران کے زیادہ فیشن یافتہ طبقے میں عورتیں گھر کے کاموں میں کم اور معاشرتی،پیشہ ورانہ،تفریحیاور خیراتی کاموں میں زیادہ وقت گزارتی ہیں۔کپڑے ڈیزائن کرنے والوں اور بال بنانے والوں کے پاس جاتی ہیں، صبح کی کافی(یعنی ناشتہ) اور دوپہر کاکھانا دوستوں کے ساتھ کرتی ہیں۔خریداری کرنا اور پارٹیوں میں جانا ان عورتوں کا روز مرہ کا مشغلہ بن گیا ہے۔اس کے علاوہ بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھانا کھانے اور چھٹیاں منانے اور کھیل کود میں مصروف رہتی ہیں۔ان میں سے زیادہ ترعورتیں تہذیبی پروگراموں اور خیراتی کاموں میں بھی کافی دلچسپی لیتی ہیں۔(10)

”لبنان کے بہت سارے شہروں میں عورتیں زیادہ تر گھروں سے باہر نظر آتی ہیں۔اور اتوار کے دن بیروت کے ساحلوں پر جتنی تعداد مردوں کی ہوتی ہے اتنی ہی عورتوں کی بھی ہوتی ہے،اور ان میں زیادہ تر نوجوان طبقہ ہی ہوتا ہے۔اس طرح ساحلوں پر جانے کا یہ رواج بیشک زوال کی نشانی ہے۔لبنان میں مغربی طرز کے کپڑوں کا چلن اس مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں پر مغربی عورتوں کا متوسط اور اعلی طبقہ پہنچا ہوا ہے۔یہاں پر تھوڑی سی روک ہے ان لڑکیوں کے لئے جو اشتعال انگیز کپڑے پہننا چاہتی ہیں۔“

”جاڑوں کے کپڑوں کے علاوہ گرمیوں میں یونیورسٹی کی لڑکیاں ریشمین چست کپڑے،اسکرٹ اور جسم جھلکنے والے کپڑے پہنتی ہیں۔اونچی ایڑی کی چپلیں اور لمبی جرابیں پہنتی اورساتھ میں میک اپ بھی کرتی ہیں۔کچھ مسلم لڑکیاں (جو یونیوسٹی میں نہیں پڑھتیں)اتنے ہلکے نقاب لگاتی ہیں کہ ان کا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔“(11)

مریم جمیلہ نے مغرب کے اس الزام پر کہ اسلام میں عورت خود اپنی پسند سے شوہر نہیں چن سکتی، اس طرح گرفت کی ہے کہ اسلام کی نظر میں عورت کواپنے لئے خود شوہر ڈھونڈنے کی ضرورت اس لئے نہیں ہے کیوں کہ اسلام اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ عورت ہزاروں لوگوں کو اپنی خوبصورتی دیکھا کر اپنے لئے مستقبل کا ساتھی چننے۔اسلام نے عورت کواس خوفناک پریشانی سے آزاد کر دیا ہے۔اور عورت کی فطرت کے مطابق اس کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ گھر میں بیٹھے اور اس بات کا انتظار کرے کہ اس کے والد یا سرپرست اس کے لئے مناسب رشتہ تلاش کر لیں۔ چوں کہ والد لڑکی کے مقابلے میں زیادہ تجربہ رکھتاہے اس لئے امید ہے کہ جس انسان کو وہ لڑکی کے شوہر کی حیثیت سے منتخب کرے گا وہ اس کے لئے بہتر ثابت ہوگا۔ لڑکی والد کے مقابلے میں کم تجربہ رکھتی ہے اس لئے نکاح میں والد کو ولایت نکاح کا حق دیا ہے۔اور یہ نکاح چو ں کہ دونوں کے گھر والوں کی رضامندی سے ہوگا اس لئے زیادہ پائیدار ثابت ہوگا اور طلاق واقع ہونے کے مواقع کم ہوں گے،بمقابلے ان شادیوں کے جو وقتی جذبات کی بنیادوں پر ہوتی ہیں اوراکثر وہ دائمی رشتے میں تبدیل نہیں ہو پاتی۔(12)

اسلام پر اعتراض کرنے والوں نے تعدد ازدواج کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے،مریم جمیلہ نے اس اعتراض پر اپنا قلم اٹھایا اور تعددازدواج کی حمایت کرتے ہوئے دلیل کے طور پر انور علی خان کا یہ قول نقل کیا:

”تعدد ازدواج ضروری ہے،نہ صرف بدکرداری اور مردوں کے آزادجنسی میلان کی روک تھام کی خاطر بلکہ بڑی حد تک اس لئے بھی کہ معصوم عورتیں اور موذی اشخاص کے حوالے نہ ہونے پائیں،اور کیا کسی عورت کے لئے یہ بہتر نہیں ہے کہ کوئی دوسری عورت اس کی سوکن بن کر اس کے شوہر کی محبت میں شریک ہو،تاہم وہ خود بھی اپنے گھر میں بحفاظت تمام زندگی بسر کرے اور اس کے بچوں کو بھی باپ کا پیار حاصل رہے یا یہ بہتر ہے کہ اس کاشوہر دوسری عورت سے چوری چھپے ناجائز تعلقات قائم کرنے پر اس لئے مجبور ہو جائے کہ ملک کا قانون اسے اس آدمی کی جائز بیوی بننے سے روکتا ہے۔الاّ یہ کہ وہ اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے دے اوربچوں سمیت اپنے گھر سے نکال دے“۔(13)

مریم جمیلہ نے تعدد ازدواج کے حق میں نہ صرف قولی شہادت دی بلکہ اسے عملی طور پر بھی کر کے دکھا یا،چناں چہ انہوں نے ایک ایسے شخص سے نکاح کیا جن کی پہلے سے بیوی اور بچے موجود تھے،ساری زندگی اپنی سوکن کے ساتھ گزار کر ایک مثال قائم کر دی ہے۔

مساوات مرد و زن کا نعرہ لگانے والوں نے اسلام میں مرد کی قوامیت پر تنقید کی ہے لیکن مریم جمیلہ مرد اس کی حمایت کرتی ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:

”الرجال قوامون علی النساء بما فضل اللہ بعضھم علی بعض و بما انفقوا من اموالھم“ (النساء34)

(مرد عورت کے نگراں و محافظ ہیں،اس بنا پر کہ اللہ نے اول الذکر کو موخر الذکر پر فضیلت دی ہے اور وہ عورتوں پر اپنا مال و دولت صرف کرتے ہیں)

آیت کی روشنی میں مریم جمیلہ کہتی ہیں کہ عورت روزی کمانے کی پابند نہیں ہے الاّ یہ کہ وہ بیوہ یا مطلقّہ ہو، اور اس کی کوئی جائیدادنہ ہواور نہ کوئی ایسا مرد رشتہ دار جو اس کی ضروریات بہم پہنچا سکے۔عام حالات میں قرآن یہ تعلیم دیتا ہے کہ شوہر اپنی بیوی کا آقا بھی ہے اور مونس و غم خوار رفیق حیات بھی ہے۔اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ عدل و انصاف،محبت اور لطف وعنایت سے پیش آئے اوردوسری جانب عورت کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر کی وفادار اور اطاعت شعار ہواور اس کے اعتماد پر پوری اترے۔مریم جمیلہ کہتی ہیں کہ قرآن کریم مرد کو عورت پر کسی حد تک فوقیت ضرور عطا کرتا ہے۔

اسی طرح طلاق کے بارے میں مریم جمیلہ کہتی ہیں کہ:

اسلام نے طلاق کا حق اس لئے دیا ہے کہ اگر مرد اور عورت میں ناچاقی اور سخت بیزاری پیدا ہو گئی ہو، میاں بیوی ایک دوسرے کی رفاقت سے تنگ آچکے ہوں اور باہمی اختلاف کی وجہ سے زندگی عذاب بن گئی ہو تو انہیں امن و امان کے ساتھ ایک دوسرے سے الگ ہو جانا چاہیے اس کے لئے شریعت نے بڑا ہی شائستہ،باوقار اور قابل قدر راستہ طلاق کی شکل میں تجویز کر دیا ہے اس کے برعکس ہمارے متجدد مصلحین اس بات پر مُصِر ہیں کہ میاں بیوی کے مزاج میں چاہے کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو انہیں ازدواجی بندھن میں بندھے رہنے پر قانونا مجبور کرنا چاہیے۔جب کہ دنیا کا کوئی بھی قانو ن کسی مرد اور عورت کو آپس میں محبت کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا،اس لئے جب انہیں ایک دوسرے کی ذات میں تسکین اور مسرت نہیں ملے گی تو وہ اسے کسی اور جگہ ڈھونڈنے پر مجبور ہو جائیں گے۔اور ایسے جوڑے کے سا منے نجات کا صرف ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ عدالت کے دروازے پر دستک دیں اور اس سے کذب و دروغ،تہمت تراشی اور افتراپردازی کے ذریعے چھٹکارہ حاصل کریں۔گویا انہیں باقاعدہ اپنی رسوائی کا سامان کرنا ہوگا جس کانتیجہ مرد اور عورت دونوں کی اخلاقی تباہی کی صورت میں نکلے گا۔اور کسی معقول سبب کے بغیر طلاق چوں کہ کوئی بد کردار مرد ہی دے سکتا ہے،اس لئے طلاق ملنے کے بعدعورت دوسرا نکاح کرنے اور آسودہ زندگی کا ازسر نو آغاز کر نے میں آزاد ہوجاتی ہے۔لیکن موجودہ تجدد پسند مصلحین ایک ایسا قانون بنانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں جو عورت کو اس مرد کے چنگل میں ہمیشہ گرفتار رکھے اور وہ تا دم آخر بد سلوکی کا شکار ہوتی رہے۔(14)

مریم جمیلہ نے مرد اور عورت کے اختلاط پر بھی کاری ضرب لگاتے ہوئے ان لوگوں پر سخت تنقید کی ہے جو لڑکے لڑکیوں کی مخلوط تعلیم کی حمایت کرتے ہیں وہ ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ مردوں اور عورتوں کا اختلاط بہت سے معاشرتی مفاسد کا ذمہ دار ہے۔انہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلوائی ہے کہ مخلوط درس گاہوں میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیاں ازدواجی زندگی اور ماں کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی تربیت شاذونادر ہی پاتی ہیں۔ اس لئے انہوں نے قرآن کی اس آیت پر عمل کرنے میں عافیت مانی ہے، جس میں نامحرم مردوں سے غیر ضروری گفتگو کرنے سے منع کیا گیا ہے،ان سے اختلاط سے روکا گیا ہیاور جسم کے قابل شر حصوں کو چھپانے کا حکم دیا گیا ہے:

فلا تخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض و قلن قولا معروفا(الاحزاب۔32)

(نرم گفتگو نہ کرو،کہ جس کے دل میں (گناہ کی) بیماری ہو وہ لالچ کرنے لگے،اور سیدھی سادی بات کرو)

اس سے بچنے کے لئے عورتوں کو حجاب کے اس حکم پر عمل کرنے کی ترغیب دی ہے:

واذا ساء لتموھن متاعا فسئلوھن من وراء حجاب(الاحزاب۔53

(اور جب تم ان(امھات المومنین) سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو)

مزید اس آیت کی طرف بھی نشاندہی کی ہے:

یآ یھا النبی قل لازواجک و بنٰتک و نساء المبمنین یدنین علیھن من جلابیبھن(الاحزاب۔59)

(اے نبی! آپ اپنی بیویوں سے اور اپنی بیٹیوں سے،اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی چادر وں کا ایک حصہ اپنے اوپر لٹکا لیا کریں)

اسی لیے مریم جمیلہ نے عورتوں کے گھر کے اندر رہنے ہی کو بہتر سمجھا ہے اوراس بات کی بھی یاد دہانی کروائی ہے کہ معاش کی ذمہ داری شوہر یا گھر کے مرد سرپرست کی ہے۔

مریم جمیلہ نے نہ صرف عورتوں کو شریعت کے اصولوں پر عمل کرنے کی ترغیب دی بلکہ خود بھی عمل کر کے دیکھایا۔اورقرآن کریم کی اس تعلیم پر عمل کرتے ہوئے مریم جمیلہ نے کبھی معاش کی فکر نہیں کی کیوں کہ ان کے شوہر ان کے لئے ذریعہ زندگی مہیا کرنے کے لئے موجود تھے ا ور اس کانتیجہ یہ ہوا کہ مریم جمیلہ نے اپنا سارا دھیان کتابیں تصنیف کرنے میں لگا دیا جس کی وجہ سے دنیا کو مریم جمیلہ کی کتابوں کی شکل میں بیش قیمتی سرمایہ مل گیا۔

مریم جمیلہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عورت اس وقت کامیاب مانی جائے گی جب وہ ایک اچھی ماں اور بیوی بن کر رہے، اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو قرآن و سنت کی تعلیم دے۔ایک ماں اعلیٰ نمونہ بن کر ان کی زندگی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ مریم جمیلہ نے اس بات پر زور دیا کہ ماں اپنے بچوں کو بچپن سے ہی اسلامی آداب سکھائیں اور ان کی پرورش اسلامی نہج پر کرے۔یہی چیز عورت کی کامیابی کا ضامن ہے اور یہی اس کی ذمہ داری بھی ہے۔ (15)

مریم جمیلہ نے اپنی تحریروں کے ذریعہ ان تمام اشکالات کو دور کر دیا ہے جوعورتوں کے مقام کی آڑ میں اسلام کے خلاف پیش کئے جاتے تھے۔ انہوں نے خود اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ اسلام عورت کو دبا کر نہیں رکھتا بلکہ اسے اس بات کی آزادی دیتا ہے کہ وہ سکون و عافیت کے ساتھ اپنی زندگی گزارے۔اسلام نے مرد کوعورت کا نگہبان بنا دیا تاکہ اسے کسی قسم کا ڈر نہ رہے اور کبھی خودکو کمزور محسوس نہ کرے۔مریم جمیلہ نے اسلامی تعلیمات کو جس طرح سمجھا اسی طرح اپنی زندگی میں شامل کیااور تمام عورتوں کو بھی ان پر گام زن رہنے کی تلقین کی۔

 

 

 

 

حوالہ جات:

Quest for the Truth:Mwmories of the Childhood and youth in America (1945-1962)-1۔مریم جمیلہ۔آفاقی بک ڈپو۔دہلی۔6 ہندوستان۔صفحہ۔19

2۔Why I Embraced Islam۔مریم جمیلہ۔تاج کمپنی۔1982۔صفحہ۔3

-3۔Why I Embraced Islam۔مریم جمیلہ۔تاج کمپنی۔1982۔صفحہ۔3

4۔مریم جمیلہ اور مولانا مودودی کی مراسلت۔صفحہ۔4۔3۔مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،نئی دہلی،25۔۔2010

5۔http://beta.jasarat.com/magazine/jasaratmagazine/news/36424-10-2-2013

6۔The Convert A tale of Exile and Extremism۔دیبورہ باکر۔صفحہ۸۱۔penguin viking۔

7۔http://beta.jasarat.com/magazine/fri/news/14016-10-2-2013

8۔Islam and Muslim Woman Today۔page num 29

9۔Islam and Muslim Woman Today۔  page Num 40-41

Women in the Modern World-10۔page num 77

Women in the Modern World-11page 122-123

-12۔Islam and Muslim Woman Today page num 42

13۔Islam and Muslim Woman Today page 28

-14اسلام ایک نظریہ ایک تحریک۔صفحہ126

15۔Islam and Muslim Woman Today۔صفحہ۔10-11

جماعت اسلامیعالم اسلامقرآنمریم جمیلہنجم السحر
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
غزل-شاد عظیم آبادی
اگلی پوسٹ
اعتبار کا جادو-کامران غنی صبا

یہ بھی پڑھیں

قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!...

اپریل 11, 2026

قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف...

جون 16, 2024

احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل...

اپریل 7, 2024

رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و...

مارچ 31, 2024

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد...

ستمبر 23, 2023

حجاب: ایک امر شرعی : فرحان بارہ بنکوی

جون 27, 2023

پیغام عید قرباں : عصر حاضر کے تناظر...

جون 27, 2023

روزے کی طبی وسماجی جہتیں – مفتی محمد...

اپریل 15, 2023

تقسیم زکوٰۃ :چند گذارشات – مفتی محمد ثناء الہدیٰ...

اپریل 11, 2023

زکوۃ کے ٹکڑے اور ہم – عیان ریحان

اپریل 11, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں