انسانی صحت کے لئے کھلی فضا اور صاف ہوا میں سانس لینا بہت ضروری ہے لیکن اس ترقی یافتہ اور سائنٹیفک دور میں انسان کو نہ صاف ہوا میسر ہے اور نہ ہی کھلی فضا۔ اس جدید ترین دور میں انسان آلودہ زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔اس آلودہ زندگی سے انسان نہ صرف بے شمار بیماریوں کا شکار ہو رہا ہے بلکہ وہ ایک فعال زندگی گزارنے کے بجائے ذہنی کوفت میں مبتلا ہو رہا ہے۔بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ فضائی آلودگی ہے جو ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دینے میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔
ماحولیاتی آلودگی کا تعلق انسان کے اخلاقی ،ثقافتی،تعلیمی،معاشرتی اور معاشی زوال کے ساتھ براہ راست جڑا ہے۔انسان کی مادیت پرستی نے اس زندگی کے سبھی اخلاقی اصولوں سے مبرا کر دیا ہے۔زمین پر انسان سب سے زیادہ ترقی یافتہ مخلوق ہے۔اسے قدرت نے سوچنے سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت عطا کی ہےجس کی وجہ سے یہ اپنی زندگی کو بنانے اور سنوارنے کے لئے نئے نئے تجربات کرتا رہتا ہے۔اسی وجہ سے انسان اپنی ضروریات زندگی کی حصولیابی کے پیش نظر اس سے ہونے والے نتائج کی پرواہ کئے بغیر اپنے ماحول میں تبدیلی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔آبادی کا دھماکہ اور اس کے تقاضوں کی تکمیل کے لئے کارخانوں ،فیکٹریوں اور دیگر صنعتی اداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے قدرتی ماحول تیز رفتاری کے ساتھ تنزل پذیر ہوتا جا رہا ہے۔
انڈسٹریز کے قیام کے لئے بے جا درختوں کی کٹائی ،فیکٹریز کا گندہ مواد ،پیداوار میں اضافے کے لئے کیمیکل سیرے ،بڑھتی ہوئی آرام طلبی کے سبب بے بہا گاڑیوں کا استعمال،بڑھتی ہوئی انسانی ضروریات کے پیش نظر فیکٹریز کے پروڈکشن میں اضافہ،ایسے عوامل ہیں جنھوں نے انسان کو اس کے ان اخلاقی اصولوں سے مبرا کر دیا ہےجو اس ماحول کے محافظ تھے۔ماحولیاتی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ صنعت کاری کا فروغ ،جنگلات کا خاتمہ،شہروں کا بہت زیادہ بڑھنا۔ اسی طرح غذائی اجناس کی کمی پوری کرنے اور فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لئے کھادوں ،کیڑے مار ادویات،فنجائی مار ادویات،جڑی بوٹیوں کو تلف کرنے والی ادویات اور کیمیکل سیرے کا استعمال ہے،آلودگی طبیعت میں چڑ چڑاپن،سردرد،تھکاوٹ،ڈیپریشن اور بہرے پن کا موجب بن رہی ہے۔ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے زبردست موسمی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں جو بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہیں،اگر انسان کو اپنے ماحول کو بچانا ہے تو اسے مادیت پرستی اور آرام طلب طرز زندگی ترک کرکے سادگی اور قناعت اختیار کرنا ہوگی ورنہ کرۂ ارض کی تباہی شاید صدیوں نہیں بلکہ سالوں کی بات بن جائے۔
زندگی ہے گزارنا مشکل
دم نکلتا ہے سانس گھٹتا ہے
میں تو سگریٹ بھی نہیں پیتا
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
ماحولیاتی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت میں پچھلی صدی کی آخری دہائیوں سے تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔Nasa Goddard Institute of Space Studies کے سربراہ James Hansen E. کی دسمبر ۲۰۰۵ میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ کے مطابق پچھلے تیس سال میں دنیا بھر کے درجہ حرارت میں ایک ڈگری فارن ہائیٹ کا اضافہ ہوا ہے اور اگلی صدی تک یہ اضافہ چار ڈگری فارن ہائیٹ تک بڑھ جائے گا،اس وقت زمین ایک مختلف سیارہ نظر آئے گی۔
اللہ تعالیٰ نے ہمارے ماحول میں مختلف وسائل انسان کے لئے رکھے ہیں لیکن انسان کی بے سوچی سمجھی ترقی،توانائی کی ضرورت اور اس میں جلانے کی وجہ،طرح طرح کی مشینوں کے بننے اور ان میں ایندھن کے استعمال نے وسائل کو خراب کیا ہے اور ماحول میں آلودگی بڑھائی ہے۔ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے نباتات،حیوانات،چھوٹے جانوروں، کیڑے مکوڑوں،پانی کے جانداروں کے ساتھ ساتھ ماحول پر بھی بہت خراب اثر ڈالا ہےجس کے نتیجے میں آدھے سے زیادہ قسم کے حیوانات اور نباتات ختم ہوچکے ہیں،اور جو موجود ہیں ان کا مستقبل بھی پریشانیوں سے گھرا ہوا ہے۔ہوا،مٹی،پانی،آسمان میں،پیڑ پودوں میں،تمام کیمیائی اشیا میں نا مناسب اجزا ء مل گئے ہیں جس سے وہ اب اتنے فائدہ مند نہیں رہ گئےہیں،جتنے کہ وہ پہلے ہوا کرتے تھے۔اس کی وجہ صرف اور صرف آلودگی ہے۔جدید ترقی یافتہ دور میں ہم سوچتے ہیں کہ ہم ترقی کر رہے ہیں لیکن یہ ہماری بھول ہے۔آلودگی ترقی کی دین ہے اور یہ ترقی کو پیچھے لے جارہی ہے۔یہ آلودگی مختلف اقسام کی ہے جیسے کہ ہوا کی آلودگی،مٹی کی آلودگی،آواز کی آلودگی،صنعتی آلودگی،پانی کی آلودگی،درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے آلودگی،اٹامک اور نیو کلیائی آلودگی،کیڑے مار دواؤں کی وجہ سے آلودگی وغیرہ۔یہ آلودگی بڑھتی جا رہی ہے اور دنیا کا یہ اہم ترین مسئلہ بن گئی ہے۔
یو۔این۔او کے ایک ذیلی ادارے کے تحقیقی سروے کرنے والے ماہرین کی ٹیم کے ایک جائزے کے مطابق دنیا میں ہر سال تین ملین لوگ صرف فضائی آلودگی کی وجہ سے مرجاتے ہیں۔اس کے علاوہ فضائی آلودگی کے سبب پیدا ہونے والی تیزابی بارش کی وجہ سے پودوں ،جانوروں حتیٰ کہ انسان کی شاہکار تعمیرات مثلاً تاج محل آگرہ کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ماہرین کے مطابق گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی وجہ سے گلوبل وارمنگ میں اضافے سے روئے زمین پر پائے جانے والے تمام جانداروں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔کرۂ ارض پر روز افزوں ہوتی ماحولیاتی آلودگی نے انسان کی محفوظ بقا ء کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ماحولیات کے ماہرین کے مطابق گرین ہاؤس گیسوں (کاربن ڈائی آکسائیڈ،میتھین،نائٹرس آکسائیڈ ،کلورو فلورو کاربنز) میں سے بالخصوص کلورو فلورو کاربنزCFCS)) کے اخراج کی وجہ سے اوزون(Ozone) کی حفاظتی تہہ جو کہ زمین پر سورج کی نقصان دہ شعاعوں کو پہنچنے سے روکتی ہے،وہ ختم ہو رہی ہے۔ اوزون کی حفاظتی تہہ کے انسانی سرگرمیوں کے اثرات کے نتیجے میں تباہ ہونے سے مختلف تباہ کن بالا بنفشی شعاعوں کے زمین پر پہنچنے سے خوفناک بیماریاں پھیل رہی ہیں،حتیٰ کہ ان میں سے بعضCarcinogenic شعاعیں انسانی خلیوں میں پائے جانے والے جینیاتی مادے یعنی DNA کو نقصان پہنچا کر کینسر جیسے موذی مرض کے پھیلنے کا سبب بن رہی ہے۔
کیمیائی طور پر تیار کی گئی اشیاء اور دیگر مختلف قسم کے کچرے کو جب ملایا جاتا ہےتو اس سے نکلنے والا دھواں فضائی آلودگی کا باعث بنتا ہےاور اس سے نکلنے والی زہریلی گیس اور ذرات فضا میں شامل ہوجاتے ہیں ان سے انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کینسر ،پھیپھڑوں کے علاوہ گلے کی پیچیدہ بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ماہرین ماحولیات نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی بڑی آبادی کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کے پاس رہتی ہے ،اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو ان ممالک میں مختلف اقسام کی جسمانی اور ذہنی بیماریاں جنم لیں گی جو کسی بھی صحت مند معاشرے کے لئے مسائل کا انبار ہے۔
ہر جاندار کے لئے صاف ہوا کی سخت ضرورت ہے کیوں کہ زندگی کا انحصار ہوا پر ہے۔اگر سانس کےذریعے جسم میں صاف ہوا کے بجائے خراب ہوا داخل ہو تو زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔آج کل پوری دنیا فضائی آلودگی کا شکار ہے ۔اس لئے ہر ملک میں فضا کو خوشگوار بنانے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں تاکہ وہاں کے شہری اچھے اور صحت مند رہیں۔ہندوستان میں بھی ماحول کو صاف اور صحت مند رکھنے کی کوشش ہو رہی ہے۔
ماحولیاتی آلودگی نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے ۔اس سے کئی امراض لاحق ہوکر انسانی زندگی کی ہلاکت کا پیش خیمہ ثابت ہو رہے ہیں۔اس سے لاحق ہونے والے امراض میں دمہ،کھانسی،زکام،پھیپھڑوں کا سرطان ،جگر کی کمزوری اور جگر پر سوجن وغیرہ شامل ہیں۔اس آلودگی سے بچاؤ کے لئے گرد و پیش میں صاف صفائی کرنا اور اسے برقرار رکھنا زیادہ سے زیادہ پیڑ لگانا،سیر کرنا،روزانہ دو تین لیٹر پانی پینا ضروری ہے۔
ذرائع ابلاغ کے بموجب ملک میں صاف ہوا کے لئے مہاراشٹر دوسرے نمبر پر ہے مگر پھر بھی مہاراشٹر میں ۲۰۱۷ میں فضائی آلودگی کے سبب ایک لاکھ سے زائد افراد موت کے منھ میں چلے گئے۔پوری ریاست فضائی آلودگی کے سبب ہوا کے معیار کے سلسلے میں سب سے خراب مانا گیا۔
۶؍ دسمبر ۲۰۱۸ کو ہندوستان کی ماحولیاتی آلودگی کا جائزہ لینے پر دی لین سیٹ پلینٹری ہیلتھ(The Lancet Planatary Health) یعنی کرۂ ارض پر صحت کے اعتبار سے ہوا کا معیار ناپنے والے ادارے نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ہندوستانی آبادی کا لگ بھگ ستر فیصدی حصہ معیاری ہوا کے تحفظی حدود کی سطح سے اوپر بیرونی فضائی آلودگی کا شکار ہوجاتا ہے جبکہ شمالی ہند کی ریاستیں اس سے بھی زیادہ بلند سطح پر متاثر ہوتی ہیں۔
ہم آج بھی اگر سنجیدگی سے سوچیں تو ماحولیاتی آلودگی کو روک سکتے ہیں۔ہمارے ماحول کو صاف بنا سکتے ہیں۔لیکن اس کے لئے ہم کو سنجیدگی سے غور کرکے عملی طور سے کچھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جیسے شمسی توانائی کا استعمال روشنی کے لئے،کھانا پکانے کے لئے اور الیکٹرانک آلات کے لئے کرنا چاہیے۔۔جتنے ہو سکے پیڑ لگائیں،تالاب بنائیں،پانی کو زمین کے اندر محفوظ کریں۔زمین سے حاصل ہونے والی قدرتی دولت کا حسب ضرورت اور کم استعمال کریں۔آبادی پر قابو رکھیں۔پلاسٹک کا استعمال ،کیمیائی کھاد اور کیڑوں کو مارنے والی ادویات کا استعمال ترک کر دیں۔ہم اپنے آپ کو اور اپنے ماحول کو صاف ستھرا اور خوشگوار رکھیں۔سائیکل کا استعمال ،کپڑوں کی تھیلیاں ،قدرتی دواؤں اور ضروریات زندگی کا استعمال کریں۔کیوں کہ یہ چیزیں ہم کو قدرتی ذرائع سے مفت ملتی ہیں۔ان سے پیار کریں۔زمین سے ،زمین کے گھومنے سے،صبح سے ،شام سے،آسمان اور اس کے بدلاؤ سے ،دھنک سے،زمین کے لوگوں سے ،چڑیوں اور جانوروں سے ،پھول سے،پھولوں کی مہک سے ،صاف پانی سے ،سورج سے،چاند سے،جھرنوں سے،ندیوں سے،پہاڑوں سے،پیڑوں کی چھاؤں سے،آم سے،آدمیوں سے،عقل سے،سچائی سے،ہندوستان سے ،ہندوستانیوں سے اس طرح سے ہم لاکھوں سالوں تک اس زمین اور ماحول کو خوبصورت اور رہنے کے لائق پاتے رہیں گے اور ہمارے موسم جوں کے توں برقرار رہیں گے۔
ماحولیات کے تئیں بیداری کا مقصد یہ ہے کہ انسان کی اچھی صحت کا دارومدار صاف ہوا پر ہے اور ہوا میں آلودگی اس کے لئے ایک خطرہ ہے۔اگر ہوا صاف اور بہتر بنانے کی کوشش نہیں کی گئی تو ایک دن ایسا آئے گا ،جب انسان صاف ہوا کے لئے ترسے گا اور دھیرے دھیرے اس کا وجود ختم ہوجائے گا۔فضائی آلودگی اسی وقت ختم ہوگی جب حکومت اور ذمے دار ادارے کمر بستہ ہوکر اس کا مقابلہ ایک چیلنج کی صورت میں کریں گے۔
حالات کی تمام ناسازگاری قدرت کے ساتھ ہمارے سفاکا نہ برتاو کے بعد بھی قدرت ہم پر مہربان ہے ہر طرح سے ہماری مدد کرتی ہے مگر پھر بھی ہم اس کو مانتے نہیں ،ہماری خصلت ایسی ہے کہ جو ہمیں نقصان پہونچا سکے بس اسی کو سلام کرتے ہیں جبکہ سب سے خوبصورت چیزیں تو ہوا،پیڑ،خوشبو،صحت،دوستی،پیار،ایثار،انسانیت ہیں ، یہ سب ہمیں دام سے نہیں قدرت سے اور ذاتی قربانی سے ملتی ہیں۔ قدرت ہمیں غلطیاں دور کرنے کا روز موقع دیتا ہے اور یہ زندگی خدا کا بہت بڑا عطیہ ہے۔
( داؤداحمد، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو ،
فخر الدین علی احمد گورنمنٹ پی۔جی کالج محمودآباد،سیتاپور)یو۔پی)
Phone : 08423961475
Email : daudahmad786.gdc@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

