مدھیہ پردیش اردو اکادمی ،محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت تلا جوہر: خطاب اور ورکشاپ کا انعقاد 14 جون، 2022 کو صبح 11 بجے سے سوراج بھون ،پولیٹکنک چوراہا ،بھوپال میں کیا گیا. ورکشاپ میں خصوصی مقررین فاروق انجم اور نفیسہ سلطانہ انا کے ذریعے تخلیق کاروں کی رہنمائی کی گئی.
پروگرام کی شروعات میں مقامی ضلع کوآرڈینیٹر سید عابد حسین نے تمام مہمانان اور تخلیق کاروں کا استقبال کیا. استقبال کے بعد فی البدیہہ مقابلہ کے حکم صاحبان فاروق انجم اور نفیسہ سلطانہ انا کے ذریعے دو طرحی مصرعے دیے گئے جو درج ذیل تھے:
- درد منت کش دوا نہ ہوا
- اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
مندرجہ بالا مصرعوں پر نئے تخلیق کاروں کے ذریعے کہی گئی غزلوں اور پھر ان کی پیش کش کی بنیاد پر حکم صاحبان کے متفقہ فیصلے سے بھوپال کی اپرنا پاتریکر اور ودیشہ کے محمد انصاف کو اول، چندیری کے مشغول مہربانی اور راجگڑھ کے راہول شرما کو دوم اور بھوپال کے مصطفٰی سیفی کو سوم اعزازات سے نوازا گیا.
مقررین کے خطاب سے قبل اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے ان کا استقبال کیا اور پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو اکادمی کے ذریعے ایک بار پھر صوبے کے نئے تخلیق کاروں کو اسٹیج فراہم کرنے کے لیے "تلاش جوہر” پروگرام کی شروعات کی گئی ہے. اس دفعہ اردو اکادمی نے کوشش کی ہے کہ صوبے کے سبھی شہروں، قصبوں اور گاؤوں سے تخلیق کاروں کی تلاش کی جائے. اس کے لیے صوبے کے ہر ایک ضلعے سے کوآرڈینیٹرس بنائے گئے ہیں جن کے ذریعے نئے تخلیق کاروں کی تلاش جاری ہے. اس طریقہ کار کے ذریعے پہلے مرحلے میں ضلع کوآرڈینیٹرس کے ذریعے تقریباً 300 شعری تخلیقات موصول ہوئی تھیں. موصول شدہ تخلیقات کے ذریعے تخلیق کاروں کے انتخاب کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کے ذریعے تقریباً 220 نئے تخلیق کاروں کو اگلے مرحلے کے لیے منتخب کیا گیا تھا. اسی سلسلے کے تحت آج بھوپال اور نرمدا پورم ڈویژن کے سبھی اضلاع سے منتخب تخلیق کاروں کے ذریعے فی البدیہہ مقابلہ ہورہا ہے. ڈاکٹر نصرت مہدی کے خطاب کے بعد خصوصی مقررین فاروق انجم اور نفیسہ سلطانہ انا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نئے تخلیق کاروں کی رہنمائی کی. انھوں نے شاعری کی باریکیوں اور فنی خصوصیات کے حوالے سے سے گفتگو کی. اس موقع پر دیگر ضلع کوآرڈینیٹرس بھی موجود رہے جن میں سنتوش شرما ساگر ودیشہ، صبیحہ صدف رائسین اور راہول کمبھکار-راج گڑھ وغیرہ کے نام شامل ہیں.
پروگرام کے آخر میں اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا. پروگرام کی نظامت کے فرائض رضوان الدین فاروقی نے بحسن خوبی ادا کیے۔
جن شعراء نے اول، دوم اور سوم مقام حاصل کیا ان کے اشعار درج ذیل ہیں:
پہلے تو مفلسی کا تھا عالم
تو ملا اور ہم امیر ہوئے
(اپرنا پاتریکر)
اس سے بچھڑے ہوئی مدت
پر وہ مجھ سے کبھی جدا نہ ہوا
(محمد انصاف)
دولت عشق کی امیری کیا
ہائے ہم جیب کے فقیر ہوئے
(مشغول مہربانی)
آج تک ان کا راج باقی ہے
بادشاہ ہوکے جو فقیر ہوئے
(مصطفی سیفی)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

