ہے امن کا داعی یہ اسلام ہمارا
پردہ ہے تحفظ کا یہ پیغام ہمارا
کیوں چاک کیا جاتا ہے حق ملک کے اندر
بے وجہ کیا جاتا ہے مذہب بدنام ہمارا
ہے شان حجاب وہ جو بیاں کر نہ سکو تم
ہے رب کا دیا قیمتی انعام ہمارا
تم چھیننا چاہو تو بھی تم کر نہ سکو گے
پردہ سے ہی روشن ہے ہر گام ہمارا
آزادی کا حق ملک نے ہم کو دیا ہے
ہم امن کے پیکر ہیں ، ہے یہی پیغام ہمارا
آزاد تھے آزاد ہیں آزاد رہیں گے
پردے میں ہی بہتر ہے ہر انجام ہمارا
قرآن کی تشریح کو تم یوں نہ مروڑو
روشن ہے مستقبل کا ہر ایام ہمارا
ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی
آراضی باغ، اعظم گڑھ
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

