ابھی کچھ روز قبل برادرِ مکرم عارف نقوی کا ایک پر لطف اور پر مغز مضمون ادبی گینگ وار کے نام سے فیس بک پر نظر سے گزرا اور مجھے بے ساختہ خورشید طلب یاد آگئے ۔یہ وہ شخص ہے جو کسی گینگ کا حصہ نہیں ہے بلکہ صلہ و ستائش کی تمنا سے بے نیاز ادب کی خدمت میں لگا ہے اور اسے اس کا نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے ورنہ کیا بات ہے جو شخص اس طرح کے اشعار
کوئی چراغ جلاتا نہیں سلیقے سے
مگر سبھی کو شکایت ہوا سے ہوتی ہے
یا
روز دیوار میں چن دیتا ہوں میں اپنی انا
روز وہ توڑ کے دیوار نکل آتی ہے
کہنے پر قادر ہو اور جب اسی کی دہائی میں ادبی افق پر اپنی تابانی دکھانے والے شعراء کی فہرست مرتب کی جائے تو اس کا نام حروف ِ جلی میں نہیں بلکہ حرفِ خفی میں لکھا جائے ۔
ایک اور شعر دیکھئے اور مجھے یقین ہے کہ بھنور کو اس انداز میں آج تک ہماری ادبی روایت میں کسی نے نہیں باندھا
بہت دنوں سے مجھے ہے کسی بھنور کی تلاش
بھنور جو مجھ کو سمندر کے پار پھینکے گا ۔
خورشید طلب ،عالم خورشید اور خورشید اکبر کے ہم عصر ہیں اور میں کبھی کبھی مذاق میں کہتا ہوں کہ ایک اچھے شاعر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے نام میں خورشید لگا ہو (پاکستان میں خورشید رضوی نے الگ دھوم مچا رکھی ہے )لیکن اس مثلث میں اگر سب سے کم شہرت کسی کو ملی تو وہ خورشید طلب ہیں حالانکہ انکا شعری سرمایہ بالکل کمتر نہیں ہے ۔انھیں خود بھی احساس ہے کہ انھیں پی آر نہیں آتی ہے ،جس نے فی زمانہ ایک فن کی شکل اختیار کر لی ہے ۔تقدیر کی “مہربانیاں “بھی ان پر کم نہیں ہیں ۔جب تک وہ آرہ میں تھے ایک ادبی ماحول انھیں میسر تھا (یہ حضرت نوح ناوری والا آرہ نہیں ہے جو انکی سسرال تھا ۔یہ بہار میں ہے ،سلطان اختر ،عالم خورشید ،نعمان شوق اور مشرف ذوقی والا آرہ ) پھر تلاشِ معاش کے سلسلہ میں جب وہ بوکارو آئے تو وہاں صرف مشین کی زبان سماعت سے ٹکراتی رہی ۔نہ اردو کا کوئی نام ،نہ شعراء ،نہ اردو رسائل کی فراہمی اور نہ ان تک رسائی ۔یہاں صرف اسٹیل کی گلائی اور ڈھلائی ہوتی ہے اور اگر آپ کے اندر جمالیاتی حس موجود ہے تو اسے بھی فرنیس furnace کے حوالے کر دیا جاتا ہے ۔ زندگی کرنے کے لئےsteely resolve ضروری ہے لیکن تخلیق اپنے لئے اس کے ساتھ زرخیز زمین بھی مانگتی ہے ۔ایک ادیب کو تحریک اور جذبۂ مسابقت (healthy competition) کی اشد ضرور ت ہوتی ہے اور دونوں یہاں ناپید ۔طرفہ تماشا یہ کہ آرہ سے بوکارو کے ٹرین سفر میں کوئی ان کا بریف کیس بھی لے کر اتر گیا ۔مشمولات دیکھ کر اس نے گالیاں تو بہت دی ہوں گی کیونکہ اس میں اس کے کام کی چیزیں کم ہی تھیں ،لیکن جو نقصان وہ انھیں پہونچا گیا ،زندگی بھر اس کی تلافی نہیں ہوپائی ۔ان کی ساری تخلیقات اسی بریف کیس میں تھیں ۔شادی عموماً شعراء کے لئے حادثہ سے کم نہیں ہوتی ہے (ایک اس کے بالکل مخالف اور متضاد نظریہ یہ ہے کہ شادی ایک تحفہ ہے ،نبھ گئی تو زندگی کامیاب ،نہیں نبھی تو شاعری کامیاب )
“چراغوں کا دھواں “میں انتظار حسین ناصر کاظمی کی شادی کی روداد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ شادی کے دوسرے دن ایک دوست نے کافی ہاؤس میں اعلان کیا کہ ناصر مر گیا ۔لوگوں نے کہا کہ کیا بکواس کر رہے ہو تو اس نے کہا کہ میری مراد اس کی شاعری سے ہے ۔وہ بحیثیتِ شاعر اب مر چکا ہے ۔خیر ناصر نے اس مفروضہ کو غلط ثابت کیا لیکن ازدواجی زندگی ایک خلل ،ایک disruption ضرور پیدا کرتی ہے ۔جو چیز سب سے قیمتی ہوتی ہے وہی بیوی کو سب سے زیادہ ناکارہ نظر آتی ہے ،نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دیر یا سویر شاعری اور اس کی متعلقات اسٹور روم کی زینت بن جاتی ہیں ۔طلب صاحب کے ساتھ بھی یہی ہوا ۔ایک ڈیڑھ سال کے بعد پتہ چلا کہ بچی کھچی شاعری بھی دیمک کھا گئی ۔لیکن یہ ایک blessing in disguise تھا ۔صدمہ اتنا جان کاہ تھا کہ وہ پھر سے جی اٹھے ۔طبیعت جو شاعری سے نفور ہوچکی تھی اچانک رواں ہوگئی ،گویا ایک avalanche آگیا ۔تخلیقی وفور ایسا کہ گھر ہو کہ دفتر اشعار کا نزول ایسا ہونا شروع ہوا کہ سنبھالنا مشکل ہو گیا ۔دو ہزار چھ میں پہلا مجموعہ “دعائیں جل رہی ہیں “ کے نام سے آیا ۔اس مجموعہ سے کچھ اشعار دیکھئے
دن خوف زدہ ،سہمی ہوئی رات ہماری
بدلی ہے کہاں صورتِ حالات ہماری
گرتے ہیں کہاں کٹ کے دعاؤں سے بھرے ہاتھ
ہوتی ہے کہاں ختم مناجات ہماری
یہ جنگ بھی ہم اپنے اصولوں سے لڑیں گے
ہوتی ہے تو ہوجائے طلب مات ہماری
سو وہ یہ جنگ اپنے اصولوں کے تحت لڑ رہے ہیں اور ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ انھیں مات نہیں ہوئی ہے ۔پہلے مجموعے سے تیسرے مجموعے “شفق زار “ تک ایک تدریجی ارتقائی عمل واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے ۔دراصل ان کی شاعری وہبی ہے ،کسبی نہیں ہے ۔آٹھ سال کی کچی عمر سے وہ اسیرِ زلفِ گرہ گیر ہیں ۔مدرسہ میں بیت بازی کی محفلوں میں ،جہاں گاڑی پھنستی ،وہ کچھ طبع زاد کہہ کر آگے نکل جاتے ۔تیرہ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے وہ مقامی قوالوں کو لکھ کر دینے کے قابل ہو چکے تھے اور بیس ،بائیس کی عمر میں وہ اس وقت کے تمام موقر جریدے میں چھپنے لگے تھے ۔بیچ میں حالات سے دل برداشتہ ہوکر انھوں نے دس سال تک کچھ نہیں کہا لیکن نہ انکی شاعری پر زوال آیا اور نہ ہی ادبی طور پر انکی موت ہوئی
خورشید طلب کی شاعری کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ وہ قاری کو ذہنی آسودگی مہیا کراتی ہے ۔رگ وپے میں سرشاری کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے اور اگر اس دورِ آشوب میں کچھ لمحوں کے لئے ہی سہی ،کوئی ادیب ،کوئی فنکار ہمیں مسرت سے ہم کنار کر دیتا ہے ،تو سمجھنے چاہئے کہ وہ اپنے فن میں کامیاب ہے
ہم جن کی صحبتوں میں مہکتے تھے رات دن
وہ پھول جیسے لوگ خدا جانے کیا ہوئے
آئینہ ہونے کا اعزاز ملا ہے مجھ کو
میں اگر ٹوٹ کے بکھرا ہوں تو حیرت کیسی
عجیب نشہ بدن کی جمالیات میں تھا
تمام عمر غریقِ مطالعہ رہا میں
اک چنگاری منظر منظر رکھی ہے
کس نے اتنی آگ ہوا پر رکھی ہے
ابر یوں برسے کہ ہر سنگ سے سبزہ پھوٹے
دھوپ یوں نکلے کہ دیوار میں چھالے پڑ جائیں
پہاڑ اتنی خموشی سے کیسے ٹوٹ گیا
یہاں تو شیشہ بھی ٹوٹے تو چھن سے بولتا ہے
اب کے نس کاٹنی ہے زنداں کی
خون زنجیر سے نکلنا ہے
سر کی قیمت مجھے معلوم نہیں ہے لیکن
آسماں تک مری دستار میں الجھا ہوا ہے
کہہ گیا آفتاب ڈھلتے ہوئے
کل مجھے دیکھنا نکلتے ہوئے
زندگی کیا تھی اک چہل قدمی
قبر تک آگئے ٹہلتے ہوئے
ان کے شاگردِ رشید جہانگیر نایاب ،جنھوں نے “شفق زار “مرتب کی ہے ،کہیں لکھا ہے کہ خورشید صاحب کی شاعری میں جو چیز انھیں سب سے زیادہ اپیل کرتی ہے ،وہ یہ ہے کہ انکے یہاں بھرتی کے اشعار نہیں ہوتے ہیں ۔مجھے بھی انکی بات سے اتفاق ہے ۔شفق زار میں بمشکل مجھے دو تین اشعار ایسے ملے جو ہو سکتا ہے بعض طبائع پر ناگوار گزریں ،ورنہ پورا مجموعہ بے داغ ہے
وہی فریب کا پتلا ہے آج بھی دنیا
ہزاروں سال میں بدلا نہیں چھنال کا رنگ
یہ سیل فون یہ ای میل نیٹ پر چیٹنگ
ترس کے رہ گئیں آنکھیں کسی کے خط کے لئے
کئی دنوں سے مسلسل ہوں نیٹ ورک سے دور
یہ مسئلہ بھی تو ہلکان کرنے والا ہے
ہم ذاتی مسائل کے اسڑپ ٹیز striptease کے بالکل حق میں نہیں ہیں لیکن خورشید طلب کی زندگی ایک دکھتا ہوا پھوڑا ہے ۔ہم عصروں اور ناقدین کی ناقدری کے شکار اس شخص کے ساتھ زندگی کا سلوک بھی کچھ اچھا نہیں رہا ہے ۔جواں سال بیٹی تقریبا ایک سال سے ایک مہلک مرض سے نبردآزما ہے ۔بیٹے نے الگ مسائل کھڑے کئے ہوئے ہیں
میری آنکھوں کا نور تھا پہلے
اب وہ ناسور ہے کلیجے کا
ایک دن دورانِ گفتگو کہنے لگے کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ میں کیسے زندہ ہوں ۔اس تناظر میں اگر انکی شاعری پڑھی جائے تو ان کا قد کچھ اور بڑھ جائے گا۔
اپنی فقیرانہ طبیعت کے باعث وہ کہتے ہیں تو نہیں ہیں لیکن انھیں احساس ضرور ہے کہ وہ سلطانی کے حق دار ہیں
فقیرانہ طبیعت کا ہوں ورنہ
طلب حق دار سلطانی کا میں ہوں
اگر خورشید طلب کی پوری شخصیت اور انکی شاعری کو دو لفظوں میں سمیٹنا ہو تو انکا یہ شعر کافی ہے
یہ جنگل مجھ کو راس آنا نہیں ہے
پرندہ دشتِ امکانی کا میں ہوں
عبداللہ زکریا
zakabdullah1968@gmail.com
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


1 comment
عبداللہ ذکریا صاحب نے میرے عزیز خورشید طلب کی زندگی اور شاعری کا بھرپور احاطہ کیا ہے,
میں بس اتنا کہوں گا کہ دنیا کتنی بھی ظالم ہو صلاحیتوں کو نظر انداز کر سکتی ہے مار نہیں سکتی اور وقت اعتراف بھی کرتا ہے اور صلہ بھی دیتا ہے