۹ دسمبر ۲۰۲۳ کو طوبیٰ ریسٹورینٹ دوحہ، قطر میں پوروانچل ایسوسی ایشن قطر کے نام سے ایک تنظیم کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد قطر میں موجود پوروانچل کے لوگوں کو آپس میں جوڑنے، معاشرتی، سماجی، اور مالی ترقی کی طرف قدم بڑھانے اور پریشان حال لوگوں یا نادار طلبا کی قطر یا بیرون قطر مالی مدد فراہم کرنا ہے۔
تنظیم کی تاسیس کے موقعے پر ایک شعری نشست بھی رکھی گئی جس میں قطر کے مقامی شعرا راقم اعظمی، اطہر اعظمی ،اشفاق دیشمکھ، احمد اشفاق، ندیم ماہر ، منصور اعظمی ،عتیق انظر وغیرہ نے اپنے اشعار پیش کیے۔اس نشست کی صدرات ہندوستان کی مایہ ناز شخصیت جناب زیڈ کے فیضان (وکیل سپریم کورٹ)نے کی، جناب ڈاکٹڑ شہاب خان (سائنٹسٹ: حمد ہاسپٹل قطر) مہمان خصوصی اور جناب عامر صاحب انجینئر بطور مہمان اعزازی اسٹیج کی رونق بنے۔نظامت کے فرائض اطہر اعظمی نے انجام دیے۔ناظم مشاعرہ نے تنظیم کے سلسلے میں کچھ اہم نکات پر بات کی جیسے معاشی ، سماجی، معاشرتی ارو حفظانِ صحت سے متعلق پیش آنے والے تمام مسائل پر اس ہلیٹ فارم سے کام کیا جائے گا ۔
پروگرام کا آغاز حافظ معظم کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا، اس کے بعد عبداللہ سلیم نے تفصیل سے تنظیم کے مقصد، اس کے لیے دی جانے والی قربانیوں اور بزم کو کس طرح ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے اس پر سیر حاصل گفتگو کی۔ ابو حمزہ اعظمی نے بزم کے مقاصد اور صدر جناب زیڈ کے فیضان کا تعارف پیش کیا۔اس کے بعد شعری نشست کا سلسلہ شروع ہوا۔
شعری نشست میں پیش کیے جانے والے اشعار درج ذیل ہیں:
راقم اعظمی:
کل کی شب وہ بھی نہیں چین سے سوئے ہونگے
سرمئی آنکھوں کے کاجل یہ بتاتے ہیں مجھے
اطہر اعظمی:
جو محاذوں پر ڈٹے رہتے ہیں سینہ تان کر
وقت خود لکھتا ہے ان کی آگے بڑھ کر داستاں
زندہ و جاوید رہتے ہیں وہی تاریخ میں
بے خطر کھاتے ہیں سینوں پرجو اپنے گولیاں
منصور اعظمی:
پیار اور عشق محبت کا یہ سارا نشہ
اک ذرا چوٹ لگے دل پے تو سب جاتا ہے
ایسے گھاٹے کا میں سودا نہیں کرتا ہرگز
جس میں اک لاکھ لگاؤں تو کھرب جاتا ہے
احمد اشفاق:
دشت و صحرا کا اسے خوف کیا وحشت کیسی
اپنی زنبیل میں جس نے کئی دریا رکھے
اس سے ملنا تو بہت سوچ سمجھ کر ملنا
دوستی میں بھی جو محتاط رویہ رکھے
اشفاق دیشمکھ:
اچھا کھانا جو کھلاؤں تو سبھی آئیں گے
یعنی بریانی پکاؤ تو سبھی آئیں گے
ندیم ماہر:
ہر اک زنجیر سے باہر نکالو
مجھے تصویر سے باہر نکالو
مرا دم گھٹ رہا ہے کاغذوں میں
مجھے تحریر سے باہر نکالو
عتیق انظر:
آندھیوں میں پلا بڑھا ہوں میں
اب ہواؤں سے ڈر رہا ہوں میں
آؤ مل جل کے سب بچا لو مجھے
طاق میں آخری دیا ہوں میں
صدر مجلس نے تنظیم کو چلانے، اس میں آنے والی مشکلات اور مل کر کام کرنے کے طریقے پر بہت تفصیل سے بات کی۔انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ آپسی اختلافات کی وجہ سے بہت ساری تنظیمیں وجود میں آئیں اور کچھ ہی عرصے میں یا تو ختم ہو گئیں یا حصوں میں بکھر گئیں۔ تنظیم سے ہونے والے فوائد پر روشنی ڈالی اور گروپ میں جڑے رہنے اور تعاون کا بھی وعدہ کیا۔
مہمان خصوصی جناب ڈاکٹر شہاب صاحب نے نوجوانان پوروانچل کو ساتھ میں لے کر چلنے اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور آئندہ کے منصوبوں پر بھی باتیں کیں۔انہوں نے بھی اپنے تجربات کی بنا پر گرانقدر مشوروں سے نوازا تعلیم پر خصوصی توجہ دینے اور ترقی کے اس دور میں خصوصاً عصری تعلیم حاصل کرکے قوم و ملت کے لیے خدمات انجام دینے پر بھی زور دیا ،تمام اراکین کا حوصلہ بھی بڑھایا کہ ایک بہت اہم کام کے لیے خدمات انجام دینی ہیں تو مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
مہمان اعزازی نے بھی کچھ ایسے ہی تاثرات پیش کیے۔ تنظیم کی کامیابی کے لیے ہر ممکن دستیاب رہنے اور ہر ضرورت کے وقت مدد کی یقین دہانی کی، انھوں نے کہا کہ آپ کو تنظیم کے تعلق سے جب بھی، دن ہو یا رات کسی بھی وقت ضرورت پڑنے پر بلا تکلف آواز دے سکتے ہیں میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں۔
آخر میں علی اشہد اعظمی نے اظہار تشکر پیش کیا، ساتھ ہی تنظیم کو آگے بڑھانے میں کیا کام کرنے کے ہیں اور کن کاموں سے بچنا ہے تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اور پروگرام کا باقاعدہ اختتام کا اعلان کیا گیا۔
نوٹ: پروگرام کے بعد عشائیہ کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔
رپورٹ: ابو حمزہ اعظمی
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

