شعبۂ اردو بنارس ہندو یونیوسٹی کے زیر اہتمام شائع ہونے والے ششماہی ریسرچ جرنل ”دستک“ کے ’کبیر نمبر‘ کا اجرا
وارانسی، 24 جون(پریس ریلیز)آج شعبۂ اردو بنارس ہندو یونیوسٹی کے زیر اہتمام شائع ہونے والے ریسرچ جرنل ”دستک“کے تازہ شمارہ کبیر نمبرکا اجرا عمل میں آیا۔ اس موقع پرصدر شعبۂ اردو اور رسالے کے مدیر پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے شمارہ کی تیاری کے تعلق سے اپنے تجربات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کبیر کو پڑھنا اور ان کے فکر و عمل کو سمجھنا ہندوستانی اقدار اور اس کی روح سے روبرو ہونے جیسا ہے۔اردو میں آج سے پہلے کبھی ایسی کوئی کوشش نہیں ہوئی جس سے معلوم ہوسکے کہ کبیر کی شعری کائنات کا بڑا حصہ ریختہ پرمشتمل ہے۔علی سردار جعفری نے جو کام کردیا اس کے بعد اس طرف کسی نے توجہ نہیں دی۔ کچھ مضامین اورمقالے ضرور لکھے گئے مگر کبیر کا کلام ہندی اور دیوناگری میں ہی رہا،جبکہ ان کے کلام کا بڑا سرمایہ اردو میں موجود ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تاریخ کے ان اوراق کو پلٹ کر دیکھا جائے اور ماضی کے دفینوں سے خزانے باہر لائے جائیں۔ کبیر کے تعلق سے یہ پہلا اور بنیادی کام ہے۔ ہمارا ارادہ ہے کہ”تلاش کبیر“ کے نام سے ان کے سارے سرمایے اور مطالعات کو ایک کتاب کی صورت میں پیش کیا جائے۔ اس پر ہم نے کام شروع کردیا ہے،بہت جلد یہ کتاب قارئین تک پہنچ جائے گی۔فی الحال دستک کے اس شمارے میں تقریباً دو درجن نئے پرانے مضامین یکجا کردیے گئے ہیں۔ میرا خیال ہے یہ اردو میں پہلا موقع ہے جب کبیر پر کوئی رسالہ نمبر شائع کررہا ہے۔ اس لحاظ سے اس کی تاریخی اہمیت ہے اور یہ بھی اتفاق ہے کہ آج کبیر کی سالگرہ ہے اور ہم اس موقع پر انھیں یاد کررہے ہیں۔پروفیسر آفاقی نے تمام قلم کاروں اور معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کا تعاون شامل نہ ہوتا تو رسالہ بر وقت شائع نہیں ہوپاتا۔
اس موقع پر شعبہ کے سینئر استاذ ڈاکٹر مشرف علی نے ریسرچ جرنل”دستک“کی تیاری اور اس کی دشواریوں پر روشنی ڈالی اور اس کے مشمولات کا تعارف پیش کیا۔ڈاکٹر احسان حسن نے کہا کہ دستک کی تیاری میں ریسرچ اسکالرس،طلبا اور اساتذہ بالخصوص صدر شعبہ اور ڈاکٹر عبدالسمیع نے جس محنت اور خودسپردگی سے کام کیا وہ قابل ستائش ہیں۔جب یہ رسالہ قارئین تک پہنچے گا تو وہ اس کی داد دیے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ فی الحال ہم دستک کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد قاسم انصاری نے دستک (کبیر نمبر) کے مشمولات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب لوگ اس کی تیاری میں مصروف رہے لیکن صدر شعبہ نے جس انہماک سے اس شمارے کو دیکھا اور اس دوران مشتملات پر جوبحث و مباحثے کیے ان سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ بلاشبہ یہ شمارہ اردو رسائل کی تاریخ میں منفرد مقام حاصل کرے گا اور اسے تادیر یادرکھا جائے گا۔ڈاکٹرعبدالسمیع نے پروگرام کی نظامت کے دوران دستک (کبیر نمبر) کے مشمولات کا بھرپور تعارف پیش کیا اور ان مضامین کی حصولیابی میں کن دشواریوں سے گزرنا پڑا ان کی جانب بھی اشارے کیے۔رسم اجرا کا یہ پروگرام بیک وقت آف لائن اور آن لائن عمل میں آیا۔اساتذہ اور ریسرچ اسکالرس شعبے میں موجود تھے جبکہ طلبا اور سامعین و ناظرین کی بڑی تعداد نے آن لائن شرکت کی۔شکریے کی رسم ڈاکٹررقیہ بانو نے ادا کی۔

