یوں تو اخلاص ہر عبادت کی روح ہے جس کی نمائندگی حدیث مبارک ” انما الأعمال بالنیات ” سے ہوتی ہے اور اخلاص کی اہمیت یوں مزید اجاگر ہوتی ہے کہ کتاب اللہ کی ایک پوری سورت اخلاص سے موسوم ہے جسے ثلث القرآن کا درجہ دیا گیا۔ گویا خلوص و صدق ایک ایسی صفت ہے جس کے بغیر عمل کی حیثیت محض خس و خاشاک کی ہوتی ہے جو تیز ہوا کے جھونکوں کی نذر ہوجاتا ہے۔ مگر روزہ جس کی فرضیت کا مقصد تقویٰ قرار دیا گیا جس کا مطلب اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور اس ڈر کی وجہ سے ناجائز خواہشات اور تمام قسم کے منکرات ومعاصی اور فواحش سے بچنا ہے۔ ایسی صورت میں اخلاص کی حقیقت مزید دوبالا ہو جاتی ہے کہ انسان دل میں خوف خدا لئے جب کسی معصیت سے بچتا ہے تو وہاں اخلاص کا پہلو نمایاں ہوتا ہے لہذا روزہ جس کا مقصد تقویٰ حاصل کرتے ہوئے ایثار و قربانی کا محور قرار دیا گیا جہاں انسان بھوک و پیاس کی شدت برداشت کرکے انسانیت کا درد محسوس کرتا ہے اور اخوت ومحبت کا نذرانہ پیش کرتا ہے وہیں ریاکاری و شہرت و نمود سے نجات کی راہ اختیار کرتا ہے۔ گویا روزہ ایک ایسا تریاق ہے جو اخلاص کا بیج بو کر تمام تر معصیت و باطل پرستی سے معاشرے کو نجات دلاتا ہے۔
ماہ رمضان میں بندہ مومن کو خاص وقت تک کے لئے خود کو رب کائنات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا حکم دے کر اخلاص کے فضائل و مناقب کی واضح تصویر کشی ہوتی ہے جب بندہ ہر عمل محض رضائے الٰہی کے لئے خاص کردیتا ہے۔ اس عمل میں سحر و افطار کے ذریعے مسکینوں اور فقیروں کی معاونت نیز صدقات و زکوٰۃ کے ذریعے ان کے کسب و معاش کو تقویت پہنچا کر ایک مستحکم معاشرے کی تشکیل کا پیغام دیا گیا ہے ۔
اس کے برعکس اگر اخلاص کا پہلو غالب نہ رہا تو معاشرے کا ہر فرد ایک ایسے ناسور سے دوچار ہوتا ہے جسے عجب و خودپسندی سے جانا جاتا ہے۔
خودپسندی دراصل تکبر کا دوسرا نام ہے جو انسان کو خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے پر آمادہ کرتی ہے ساتھ ہی دوسروں کو حقیر سمجھنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔
یہ بیماری ایسی بیماری ہے جو خالق ارض و سما کے سامنے عاجزی و انکساری کے بجائے کبر و غرور ، عجب و بڑائی اور لوگوں کی قدر اور ان کے درجات کا پاس و لحاظ کرنے کے بجائے انہیں حقارت بھری نگاہ سے دیکھنے اور ان کے حقوق کی پامالی پر ابھارتی ہے۔
روزہ جس کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے جو محض ماہ رمضان تک ہی محدود نہیں بلکہ اس کا اثر تا حیات مطلوب ہے یہی وجہ ہے کہ ہر سال انسان اس بھٹی سے گزر کر اپنے اعمال کو خالص کرنے کی جد و جہد کرتا ہے تاکہ اس میں جو کوتاہی ہو اس کا ازالہ کرسکے مگر دور جدید میں انسان اس عبادت کی اصل روح کو بھی پس پشت ڈال کر عجب و خودپسندی کا شکار ہوچکا ہے۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ اس ماہ مبارک میں عبادت و ریاضت کی خودنمائی کرکے اپنے عمل کو باطل ترازو میں تولنے کی کوشش کی جاتی ہے جب ایک بندہ کسی مسکین کو افطار و سحر کی پارٹی کراتے ہوئے اپنے پوسٹر چسپاں کرانے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتا جس کے نتیجے میں ریاکاری کرتے ہوئے مسکین کی انا کو ٹھیس پہنچا کر خودپسندی کا شکار ہوجاتا ہے اور اس طرح اپنے اعمال کو ضائع کرنے کا سبب بنتا ہے۔
اسی طرح صدقات و خیرات کا باقاعدہ اشتہار دے کر ایک طرف خودنمائی کرتا ہے تو دوسری جانب غرباء و مساکین کو حقارت کی منزل تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔
اور خود پسندی انسان میں پائی جانے والی وہ عظیم آفت اور خطرناک مرض ہے جو انسان کو خالق کائنات کی حمد و ثناء کے بجائے خودسرائی پر مجبور کرتی ہے یہاں تک کہ انسان اپنے نفس کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے اور اپنے نفس کو ہی سب کچھ سمجھنے پر آمادہ کرتا ہے۔ یہی وہ قبیح بیماری ہے جس کا شکار ہو کر ابلیس مردود و ملعون ہوا جب اس نے پہلے خود کو برتر ثابت کرنے کی کوشش کی پھر انسان کو ہر اعتبار سے حقیر و ذلیل کرنے کی ناکام کوشش کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خود ہی لعنت کا شکار ہوا۔
یہی نہیں بلکہ خودپسندی انسان کو دوہرے گناہ کی مستحق ٹھہراتی ہے۔ اس لیے کہ جب انسان عجب میں مبتلا ہوتا ہے تو دوسروں کی غیبت میں بھی مبتلا ہوجاتا ہے جیسا کہ اس سلسلے میں شیخ سعدی رحمۃ اللّٰہ علیہ اپنے والد کا واقعہ ذکر کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ والد کے ساتھ رات کو عبادت کر رہے تھے اور گھر کے دیگر افراد سو رہے تھے۔باپ سے کہا کہ دیکھو کیسے سو رہے ہیں۔ یہ توفیق نہیں ہوتی کہ اٹھ کر دو رکعت نماز ہی ادا کرلیں۔ انہوں نے یہ سنا تو ناراض ہوئے اور بولے اس غیبت سے تو اچھا تھا کہ تم بھی سو رہتے۔( دیکھئے: طوطئ بوستان سخن حضرت سعدی شیرازی ، غوث سیوانی،نئی دہلی ، بصیرت آن لائن ، 5 اگست)
خود پسندی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں نیک اعمال ضائع ہو جاتے ہیں اور یہ وہ بری صفت ہے جو انسانی اخلاق میں بگاڑ کا آغاز کرتی ہے جس کی وجہ سے معاشرے سے امن و سکون تباہ ہوجاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کتاب و سنت میں اس کی سخت وعید ملتی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا”.( صحیح مسلم: 1470)
دور جدید میں اگر روزہ کی روح اخلاص اور خودپسندی کا موازنہ کیا جائے تو یہ بات بالکل عیاں ہوجاتی ہے کہ آج کا مادہ پرست انسان زیور اخلاص کو بالائے طاق رکھ کر خودپسندی کا شکار ہو چکا ہے۔ اپنے روزے ، تراویح ، نوافل عبادات اور صدقہ و خیرات غرضیکہ ہر نیک عمل میں اپنے نفس کو دوسروں سے برتر ثابت کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اس طرح روزے کی اصل روح اخلاص کے پیمانے کو پس پشت ڈال کر خود کو سب سے بڑا عبادت گزار ثابت کرنے کی انتھک کوششیں کرتا ہے۔
روزہ جس کی فرضیت انابت الی اللہ کا درس دیتی ہے جہاں انسان اخلاص کے ساتھ عمل کرکے دس سے سات سو گنا انعام کا مستحق قرار پاتا ہے ۔ گویا یہ ماہ مبارک ایک ایسی قیمتی لاٹری ہے جہاں محض اخلاص کا مطالبہ ہے جس کو اپنا کر انسان ایک قلیل مدت میں دنیا کا امیر ترین شخص بن کر انسانی سماج پر راج کرسکتا ہے جس کا لائحہ عمل یہ ہے کہ انسان اخلاص کا دامن تھامے ہوئے فقراء و مساکین کی مدد کرے اور منافع کی صورت میں رب کی رضا کو پالے اور ظاہر ہے رب کی رضا کو حاصل کرلینا ہی سب سے عظیم دولت ہے۔
لیکن اگر ہم اس اہم عبادت کی ادائیگی کے وقت عجب و خودپسندی کا شکار ہوجائیں تو یقیناً یہ سب سے بڑا خسارہ ہے ۔ اپنے روزے اور دیگر عبادات میں خود کو ترجیح دیں ، اپنی تراویح کو سب سے بہتر سمجھیں ، اپنے صدقات و نوافل کو سب سے قیمتی سمجھیں ، خود کو سب سے زیادہ عبادت گزار سمجھیں اور روزہ کی حالت میں انجام دیئے گئے تمام کاموں کا احسان جتائیں تو بلاشبہ یہ سب گھاٹے کا سودا ہوگا جہاں انسان خود پسندی کا شکار ہو کر اپنے تمام اعمال کو اکارت کرنے کا خود سبب بنتا ہے۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ فرمان الٰہی کا مقصد ” لعلکم تتقون ” کے اصل مفہوم کو مدنظر رکھتے ہوئے اخلاص کے پرچم کو لہرائیں تاکہ عبادت گزار ایمانا و احتسابا کی عملی تصویر پیش کرسکے نیز مستحکم معاشرے کی تشکیل میں اہم رول ادا کرسکے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں روزہ کی روح کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور لعنت زدہ صفت خودپسندی سے ہمیں محفوظ رکھے۔ آمین یارب العالمین۔
ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی
آراضی باغ، آعظم گڑھ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


1 comment
آپسے رابطہ کرنا ہے اگر آپ کے لیے ممکن ہو تو اپنا واٹس ایپ نمبر دے دیں