سہ ماہی ادبی نشیمن ستمبر تا نومبر 2022: ایک مطالعہ – مصباح انصاری
اردو زبان و ادب کے فروغ میں جامعات اور ادبی تنظیموں کے ساتھ ساتھ اخبارات و رسائل کا بھی بہت اہم کردار رہا ہے۔ اتر پردیش خصوصاََ لکھنؤ سے نکلنے والے رسائل و جرائد اپنے معیار و جدت کے لیے ادبی حلقے میں خاصے مشہور رہے ہیں۔ اودھ پنچ اور دل گداز گزرے زمانے کا سرمایہ ہیں تو آج کے دور میں”نیا دور“ اپنی الگ شناخت رکھتا ہے۔ ادبی رسائل کی اس کڑی میں سہ ماہی ”ادبی نشیمن“ ایک اہم اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنے پہلے شمارے سے ہی یہ رسالہ اپنے معیار و مضامین سے قارئین کو چونکاتا رہا ہے اور اپنے خصوصی نمبرات کے توسط سے ادبی دنیا کو بہت سے ایسے گوشوں سے روشناس کرایا ہے، جس پر اب تک ادبی دنیا کی نظر نہیں پڑی تھی۔ پروفیسر محمود الہی نمبر ہو یا انور جلال پوری نمبر سبھی ادبی دنیا کے لیے گنج گہر کے مترادف ہیں۔ اس کا سر ورق بھی ہر بار اتنا دلکش اور موزوں ہوتا ہے کہ قاری کے دل پر نقش ہو جاتا ہے۔ سر ورق کے بیک سائڈ پر اس کا دستاوزی صفحہ اپنی مثال آپ ہے۔ ہر شمارے میں اس صفحہ کے ذریعے قارئین کو اہم اور تاریخی جانکاری فراہم کی جاتی ہے۔
کورونا کا مشکل دور اس رسالے کا بھی مقدر بنا۔ لیکن ”ادبی نشیمن“کے مدیر ڈاکٹر سلیم احمد صاحب اور ان کی ٹیم کے دیگر افراد کی ہمت نہیں ٹوٹی ۔ ان کی محنتوں کا صلہ ہے کہ یہ رسالہ بہت جلد اس مشکل دور کی آزمائشوں سے نکل کر پھر سے بر وقت قارئین کے ہاتھوں تک پہنچنے لگا ۔ ”ادبی نشیمن“ اور اس کی پوری ٹیم کو بصمیم قلب مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ادبی نشیمن کا تازہ شمارہ ستمبر تا نومبر 2022 اس وقت زیر مطالعہ ہے۔ یہ شمارہ بھی حسب معمول دلچسپ اور معلوماتی ہے۔ شمارے میں حمد و نعت اور اداریہ کے بعد نو(9) مضامین، پانچ غزلیں، پانچ نظمیں ، سانیٹ، بارہ قطعات، دو افسانے اور ایک تبصرہ شامل ہے۔
رسالے کی ابتدا لکھنؤ کے کہنہ مشق شاعر ڈاکٹر مخمور کاکوری کی خوبصورت حمد پاک اور سید نورالحسن نورانی کی نعت پاک نے دل پر روحانی اثر چھوڑاہے۔ ادبی نشیمن کے روح رواں ڈاکٹر سلیم احمد کا اداریہ اردو رسائل و جرائد کی خستہ حالی کی داستان بیان کرتا ہے۔ خصوصاً معروف رسالہ ”آجکل“ کی اشاعت پر منڈلا رہے سیاہ بادل پر چنتا ظاہر کرتے ہوئے اہل اردو سے اسے بچانے کی اپیل کی ہے اور اپنی اردو دوستی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ پھر مضامین کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ پہلا مضمون ڈاکٹر الیاس الاعظمی کا بعنوان ”شبلی شناسی کے گل سر سبد : مولانا سید سلیمان ندوی“ شامل اشاعت ہے۔ سید سلیمان ندوی کی اپنے استاد مولانا شبلی سے والہانہ محبت ادبی دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اس مضمون میں ڈاکٹر اعظمی نے سیرت محمد ﷺ کی تکمیل اور مولانا شبلی کے تعلق سے دیگر کارناموں پر مختلف حوالوں کے ساتھ سید سلیمان ندوی کی شبلی شناسی پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ دوسرا مضمون ڈاکٹر وسیم افتخار انصاری کا بعنوان ”اردو تحقیق و تنقید کی ترقی میں حسرت کا کردار: ایک جائزہ “ہے۔حسرت موہانی کی شاعری سے دنیا واقف ہے لیکن ان کے تحقیقی و تنقیدی کارناموں پر بہت کم لکھا گیاہے ۔ یا یوں کہیںکہ شاعری کے میدان میں ان کا قد اتنا بڑا ہو گیا کہ ان کے قلم کا یہ پہلو دب گیا۔ یہ مضمون حسرت موہانی کی شخصیت کے اسی رخ سے روشناس کراتا ہے۔ مضمون نگار نے ماہ نامہ ”اردوئے معلیٰ“، سہ ماہی ”تذکرۃالشعرا“ اور اخبار ”مستقبل“ کے حوالے سے حسرت موہانی کے تنقیدی و تحقیقی شعور پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ حسرت کی شاعری کی دنیا قائل ہے۔ اپنے دور کے سب سے بڑے شاعر اور نئی غزل کے روح رواں قرار دیے جاتے ہیں لیکن ان کے تنقیدی نظریات پر بہت کم گفتگو کی گئی ہے۔ اس لیے اس مضمون کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ بلا شبہ ”غزل کی وکالت کے ساتھ ساتھ انھوں نے مشرقی تنقید کو پھلنے، پھولنے، پنپنے، پھیلانے اور فروغ دینے میں جو قابل قدر علمی اقدامات کیے ہیں۔ اسے کسی طور پر فراموش نہیں کیا جا سکتا۔“ (صفحہ: 16 )
تیسرا مضمون ہے ڈاکٹر معراج الدین خان کا ”کئی چاند تھے سرِ آسماں : ایک نفسیاتی جائزہ“ کے عنوان سے۔ شمس الرحمن فاروقی کا یہ مشہور و معروف ناول ادبی دنیا میں اپنی ضخامت اور تاریخی موضوعات سے متعلق ہونے کے سبب الگ پہچان رکھتا ہے۔ مضمون نگار نے ناول کا نفسیاتی جائزہ لینے میں بڑی عرق ریزی کی ہے۔ جو اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ مضمون نگار نفسیات پر گہری نظر رکھتا ہے۔ مضمون اپنے بیانیے میں کامیاب نظر آتا ہے۔ چوتھا مضمون ”امیر خسرو کی پہچان“ ذاکر حسین ذاکر کے قلم کا مرہونَ منت ہے۔ امیر خسرو کے حوالے سے ذاکر حسین ذاکر اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ امیر خسرو کی حیات و خدمات کے حوالے سے ان کا مطالعہ وسیع ہے۔اس مضمون میں امیر خسرو کی ذاتی زندگی، امرا و روسا سے ان کے تعلقات ، درباروں سے وابستگی، ان کے فارسی اور ہندوی کلام کے ساتھ ساتھ ان کی موسیقی کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مضمون نگار نے ان کی زندگی کے ہر پہلو کو چھونے کی کوشش کی ہے۔ ذاکر صاحب نے حال ہی میں ”امیر خسرو شخصیت، فکر و فن اور تصوف“ کے عنوان سے کتاب تالیف کیا ہے جسےکاویہ پبلیکیشن نے شائع کیا ہے ۔ اس میں 200 صفحات پر محیط ان کا طویل مقدمہ بھی شامل ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ موصوف امیر خسرو سے کتنا شغف رکھتے ہیں۔ بلکہ اگر انھیں ماہر امیر خسرو کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔پانچواں مضمون ہے قمر الزماں صدیقی کا بعنوان ”منظومات شبلی :ایک مطالعہ “ ۔ اس میں انھوں نے علامہ شبلی کے افکار و نظریات کے ساتھ ساتھ زبان و بیان کے اعتبار سے بھی ان کی منظومات کا جائزہ پیش کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں : ”شبلی صالح اقدار کے قیام کے لیے فرضی قصوں کے بجائے حقیقی زندگی اور تاریخ سے اپنا مواد کشیدہکرتے ہیں۔ جس میں ایک صحت مند انسانی زندگی سانس لیتی ہوئی نظر آتی ہے۔ “(صفحہ 35)
چھٹا مضمون ایس معشوق احمد کا ”منو رانا : غزل میں ماں کی نغمہ سرائی کرنے والا شاعر “ہے۔ ماں پر مبنی شاعری منور رانا کا امتیاز رہاہے۔ بلکہ یوں کہیں ان کی پوری شاعری نے انھیں جتنی پہچان دی ہے اس سے کہیں زیادہ پہچان ماں والی غزل سرائی نے انھیں دی ہے۔ یہ مضمون ماں کے حوالے سے ان کے نظریات و تصورات کو سمجھنے میں کارآمد ثابت ہوگا۔اس کے بعد شامل رسالہ ہے ”عبدالحئی پیام انصاری : ایک تاثر“ جو ڈاکٹر شکیل احمدکے قلم سے نکلا ہے۔ پیام انصاری کے سانحہ ارتحال پر ڈاکٹر شکیل احمد کا یہ تاثر ان کی زندگی، شاعری اور تنقیدی نظریات پر روشنی ڈالتا ہے۔ لیکن پیام انصاری کی حیات و خدمات کو سمجھنے کے لیے ان کی تصانیف کا مطالعہ ضروری ہے۔ ”ادب اطفال کے فروغ میں متین اچل پوری کا حصہ“ حسین قریشی کا مضمون ہے۔ متین اچل پوری ادب اطفال کا جانا پہچانا نام ہے۔ انھوں نے اپنی درجنوں نثری و شعری تصانیف کے ذریعے ادب اطفال کے ذخیرے میں بیش بہا اضافہ کیا ہے۔ امید ہے حسین قریشی کا یہ مضمون ادب اطفال کےمیدان میں ان کے قد کے تعین میں معاون و مددگار ثابت ہوگا ۔ رسالے میں شامل آخری مضمون بھی ادب اطفال کے حوالے سے ڈاکٹر ریحان احمد قادری کا بعنوان ”ڈاکٹر احسان عالم کا فن :بچوں کے سنگ کی روشنی میں“ہے۔
نثری حصےکے بعد محبوب خان اصغر، مرغوب اثر فاطمی، اصغر شمیم، ذکی طارق بارہ بنکوی، تابش رودولی کی غزلیں اور ڈاکٹر رؤف خیر کا سانیٹ رسالے کے متنوع مشمولات کے حامل ہونے کی طرف دلالت کرتاہے۔ غزل کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
جو پرواز تخیل سے بھی بالا تر کہیں پر ہے
وہی جھم سے اتر آئے تو حیرانی کا کیا ہوگا (مرغوب اثر فاطمی)
فلک جو اپنی تمازت پہ ناز کرتا ہے
زمیں کے کرب سے الجھے تو خاک ہو جائے (تابش رودولی)
کوئی تو زندگی جینے کا چاہیے مقصد
اگر سکوں نہیں ملتا تو درد ہی لاؤ (ذکی طارق بارہ بنکوی)
غزلیات کے بعد شعیب ندیم گورکھپوری کی تین نظمیں” پاگل،خواب روشن ہیں،مشورہ“ اور پرویز ادیب کانپوری کی دو نظمیں ”نیم پلیٹ “ اور ”وال پیپر“ نئی دنیا کی سیر کراتی ہیں۔ ان نظموں میں علامتی انداز میں کہی گئی نظم ”وال پیپر“ متاثر کن ہے اور ترسیل میں کامیاب نظر آتی ہیں۔نظموں کے بعد کہنہ مشق شاعر مصداق اعظمی کے بارہ قطعات اس شمارے میں شامل ہیں جو مختلف موضوعات کو سمیٹے ہوئے ہیں اور قاری کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ایک قطعہ دیکھیے:
بدلتی جا رہی ہے ہر روایت
جنھیں جینا تھا وہ بھی مر رہے ہیں
مرے احباب میرے فیس بک پر
مرے مرنے کو لائک کر رہے ہیں
نئے لکھنے والوں کی شعری و نثری تخلیقات کو شائع کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا رسالے کا امتیاز رہا ہے۔ شمارے میں شعری گوشے کے علاوہ دو افسانے ”بہروپیے“ اور ” زندگی ایک قوس و قزح “ بھی شامل ہے ۔ اشتیاق سعید کا افسانہ ”بہروپیے“ ایک حقیقی کہانی معلوم پڑتی ہے۔ فسادات کی فضا میں رام اور سیتا کو کردار بنا کر افسانہ نگار نے ایک اچھا نفسیاتی افسانہ بُناہے اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ فسادی کو دھرم، مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ وہ اپنے مفادات کے لیے مواقع کی تلاش میں رہتا ہے۔ دوسرا افسانہ پڑوسی ملک پاکستان کے ذوالفقار علی بخاری کا ”زندگی ایک قوس و قزح“کے عنوان سے ہے۔ زندگی کی حقیقتوں پر مبنی اس میں ایک لڑکی کی زندگی میں پیش آنے والے تمام واقعات اور رشتوں کو بنیاد بنا کر افسانہ خلق کیاگیا ہے۔ واحد متکلم کے صیغے میں پورا افسانہ بیان کیا گیا ہے۔ کہانی اخلاقی اقدار اور رشتوں کی نزاکت کو سمجھنے کی سیکھ دیتی ہے۔ بیانہ کمزور نظر آتا ہے اور کہیں کہیں الفاظ بےجا معلوم پڑتے ہیں۔ پھر بھی افسانہ نگار کو کوشش قابل مبارکباد ہے۔
اس شمارے میں تبصرہ اور تاثر کے تحت ڈاکٹر صالحہ صدیقی کی کتاب ”خواتین ادب: تاریخ و تنقید “ پر ضیاء العظیم کا جامع تبصرہ اور گزشتہ شمارے کے دستاویزی صفحہ کے حوالے سے قائد حسین کوثر کا مضمون نما تفصیلی تاثر شامل ہے۔
بیک کور کے اندر کی جانب ادارہ کو موصول ہوئی کتب کا خوبصورت کیٹلاگ ہے جس میں بالترتیب قندیل ، محاکمہ، سخن شناسی، بیگم روقیہ ایک عبقری شخصیت، سہمتی سلگتی تعبیریں، ہندی گورکھپوری افق ادب کا نیر تاباں، کتابی سلسلہ ثالث، امیر خسرو شخصیت فکر وفن اور تصوف، ریاض عروض کے سر ورق نظر آ رہے ہیں۔آخر میں بیک کور پر دستاویزی صفحہ ہے۔ اس بار کا دستاویزی صفحہ قیصر باغ کے قریب بارہ دری واقع” امیرالدولہ پبلک لائبریری“ کی 150 سالہ تاریخ پر روشنی ڈالتا ہے۔
مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ رسالہ ادب کے ہر گوشے کو سجانے سنوارنے اور نکھارنے میں شدت سے لگا ہوا ہے۔ اسی لگن اور پابندی کے ساتھ اگر یہ رسالہ جاری و ساری رہا تو آنے والے وقت میں اس کا شمار اردو کے ممتاز رسائل میں ہونا طے ہے۔ اس شمارے میں شائع ہونے والے تمام ادبا و شعرا کو مبارکباد اور ادبی نشیمن کے لیے نیک خواہشات ۔
٭٭٭
مصباح انصاری (گورکھپور، اتر پردیش)
موبائل: 8858273875
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

