سیف الاسلام سیف اور طنز و مزاح نگاری – صائقہ غیاث
ایک مزاح نگار اپنے آس پاس کی چیزوں پر عمیق نظر رکھتا ہے ۔ معاشرے میں موجود نا ہمواریوں اور خامیوں کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ قاری اس سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اس کے افکار سے روبرو ہوسکیں طنزومزاح میں تعمیری عناصر بھی پوشیدہ ہوتے ہیں اس کے علاوہ طنز کی اہمیت اس کی مقصدیت کے باعث ہے ایک طنز نگار جب کسی واقعے پر ہنستا ہے تو دراصل وہ اسے بدل دینا چاہتا ہے ۔ بقول ڈاکٹر سلیم اختر ؛
” ہنسی انسانی جبلتوں میں سے ہے۔اس جبلت کا اظہار تخلیقی سطح پر ہو تو مزاح جنم لیتا ہے ۔ دوسروں کو بھی مزاح کی مسرت میں شریک کرنا مزاح نگار کا اولین فریضہ ہوتا ہے -”
طنز و مزاح دراصل ناہموار اور پر پیچ راستے پر چلنے کا نام ہے ۔ جس کے لوازمات کو صرف وہی شخص برت سکتا ہے جس میں طنز و ظرافت کے جراثیم موجود ہوں۔ ایک عمدہ طنز و مزاح نگار نہ صرف دوسروں پر ہسنے کا ہنر رکھتا ہے بلکہ وہ خود بھی خود پر ہنستے ہوئے اپنے مقصد کو طنز کے پیرائے میں مزاح کی چاشنی کے ساتھ بیان کر دیتا ہے اور یہی طنز و مزاح نگار کی معراج ہے۔ یہ دونوں ہی خصوصیات جناب سیف الاسلام سیف کے یہاں بیک وقت موجود ہیں ۔
سیف صاحب کے یہاں جو خصوصیات نمایاں ہیں وہ یہ ہیں کہ انہوں نے خوش بیانی سے مزاح کے پردے میں طنز کو کچھ اس ادا سے برتا ہے کہ وہ قاری کے لبوں پر تبسم بن کر بکھر گیا ہے ۔ یہ ان کی انفرادیت ہے کہ انہوں نے صورت واقعہ سے مزاح پیدا کرنے کی سعی کی ہے، طنز کے تیر صرف دوسروں پر نہیں بلکہ خود پر بھی چلائے ہیں اور قاری کو ہنسنے کا موقع فراہم کیا ہے ۔ ان کی تحریروں میں مزاح کا رنگ گہرا ہے ۔ ان کی شخصیت میں بھی مزاح کا عنصر موجود ہے، جب وہ کسی واقعہ کو پیش کرتے ہیں تو مزاح خودبخود پیدا ہو جاتا ہے ۔انہوں نے اپنے مضامین میں جو واقعات بیان کئے ہیں ان میں وہ خود شامل ہیں ۔ اپنی کمزوریوں اور تضادات کو خوش دلی کے ساتھ قبول کر لینا، ان پر خود بھی ہنسنا اور دوسروں کو بھی قہقہے لگانے پر مجبور کر دینے کا حوصلہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ ان واقعات میں اتنا فطری پن ہے کہ جیسے سب کچھ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ان کے مضامین کا فطری اتار چڑھاؤ، مکالمے اور روانی سب مل کر ایک معمولی سے خیال سے بھی مزاح پیدا کر دیتے ہیں ۔ کبھی کبھی وہ جملوں کی ترتیب اور الفاظ کی تراکیب سے ہمیں مسکرانے کا موقع عطا کرتے ہیں ۔ ان کی کتاب ” گل پھینکے ہے اوروں کی طرف ” میں کل 27 مضامین شامل ہیں، ان مضامین میں مزاح توازن و توانائی کے ساتھ موجود ہے ۔
” اسکول کی کھچڑی”ان کا پہلا مضمون ہے۔ بااعتبار موضوع یہ ان کی صلاحیتوں کا عکاس بھی ہے کہ کس طرح انہوں نے عام واقعے کو مزاح کا پیراہن عطا کیا ہے وہ واقعی قابل تعریف ہے ۔” اسکول کی کھچڑی ”کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں؛
”مرہم پٹی کے بعد پھر بالٹی لے کر آگے بڑھا اور ابھی تین چار بچوں کو ہی کھچڑی دی تھی کہ ایک بچہ کے برتن میں پانی سے بھرا گلاس الٹ گیا پوری کھچڑی پانی میں تیرنے لگی …………………….کچھ کھچڑی کو آٹے کی طرح گوند رہے تھے ۔کوئی گرم کھچڑی سے رورہا تھا تو کوئی مرچی لگنے سے چلا رہا تھا ۔ میں جیسے ہی اس کی طرف پانی لے کر بڑھا ایسی زور دار چھینک آئی کہ سارا نوالہ میری سسرالی قمیض پر چلاآیا ۔”
الفاظ کی تراکیب ہی کچھ ایسی ہے کہ قاری خود کو ہسنے سے روک نہیں پاتا ۔ ” اتوار رحمت یا زحمت سے ایک اقتباس پیش نظر ہے؛
” چند برسوں پہلے ایک چھوئی موئی سی لڑکی سے شادی کیا ہوگئ اور دو تین جائز بچوں کے باپ کیا بنے اتوار کی تو ساری خوشیاں ہی مٹی میں مل گئیں اب تو اتوار کے نام سے ایسی وحشت ہوتی جیسے ماہ رمضان کے نام سے شیطان کو ڈر لگتا ہے ۔”
مذکورہ بالا مضمون سے سماجی زندگی بھی عیاں ہے کہ کس طرح ہم اپنے دیگر ضروری کام اتوار کو ہی کرتے ہیں، ساتھ ہی مصنف کی پریشانیاں بھی ۔
سیف صاحب کا مشاہدہ کافی گہرا ہے ۔ ابو کا بکرا، بنگالی رس گلے ، چاند رات، قصہ ایک افطار کا، مہمانی مرغی، ہماری لوکل ٹرین وغیرہ سے ہمیں ان کے مشاہدات کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آس پاس رونما ہونے والے حالات و واقعات پر کس طرح باریک بیں نگاہ رکھتے ہیں ۔انہوں نے اپنے آس پاس کے ماحول کو اپنی ذات میں سمو کر مزاح کا عمدہ رنگ عطا کیا ہے ۔انہوں نے کسی مثالی کردار کو پیدا نہیں کیا بلکہ سماجی، ثقافتی اور ازدواجی زندگی سے اپنے مزاح کی تشکیل کی ہے ان کی ظرافت صرف لفظوں کی ظرافت نہیں بلکہ واقعات کی بھی ظرافت ہے ۔ فضا آفرینی سے انہوں نے اپنے مضامین میں دلچسپی پیدا کی ہے، اسلوب سادہ اور دل آویز ہے ۔سیدھے سادھے اور روزمرہ کے الفاظ کے ساتھ محاورات کے مرکبات سے ایسی محفل کی تشکیل کی ہے جو قاری کو مسرت کے ساتھ کہیں بھی پیچیدگی کا احساس نہیں ہونے دیتی ۔
سیف صاحب نے اپنی ادبی زندگی کی شروعات 2005میں کی ، اتنے کم وقفے میں اس صنف میں انہوں نے کافی جوہر دکھلائے ہیں امید ہے کہ آگے بھی ان کے قلم سے یہ جوہر نایاب نکلتے رہیں گے جو اردو ادب کے بیش قیمتی سرمائے میں اضافہ کا سبب بنیں گے۔
صائقہ غیاث
درگاپور،مغربی بنگال
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

