Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

خوابوں کے مرثیے“ سائنس کی روشنی میں- انجینئر محمد عادل

by adbimiras اپریل 23, 2022
by adbimiras اپریل 23, 2022 0 comment

   سفیر صدیقی کے شعری مجموعے ’خوابوں کے مرثیے‘ پر میں نے جتنے بھی تبصرے پڑھے ہیں ان میں سے تقریباً ہر ایک کا خیال ہے کہ اس مجموعہ میں ایک ایسے انسان کے رنج و الم اور اس کی زخم خوردگی کا بیان کیا گیا ہے جو زندگی سے مایوس ہے اور اس سے راہ فرار اختیار کرنا چاہتا ہے۔یہاں تک کہ وہ موت کو عزیز سمجھتا ہے اور خودکشی کرنے کا خواہش مند ہے۔وہ اس فانی دنیا کو اپنے لئے بے کار اور بے سود سمجھتا ہے۔یعنی سفیر صدیقی کی شاعری میں قنوطیت کا پہلو جا بجا ابھرتا ہوا نظر آرہا ہے۔خود سفیر صدیقی بھی اپنے مجموعہ کے پیش لفظ میں کہتے ہیں:

”میں نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور اس میں سوائے موت کی گوناگوں شکلوں کے اور کچھ نہیں پایا۔ میں نے موت کو زندگی کے حسین ترین لمحوں میں سب سے زیادہ خوش دیکھا ہے۔ زندگی کی ترقی سے سب سے زیادہ خوشی موت کو ہی ہوتی ہے۔“

     بہر حال یہ شاعر کی اپنی شاعری سے متعلق گفتگو ہے۔ جس کو پڑھنے کے بعد قاری اسی دائرے میں رہ کر اشعار کے معنی اخذ کرتا ہے۔لیکن میرا یہ خیال ہے کہ شاعر کا کام صرف شعر کو تخلیق کرنا ہے۔اس کو اپنے اشعار کی تشریح نہیں کرنا چاہئے۔کیوں کہ فن پارہ تخلیق ہونے کے بعد یہ شاعر کی ملکیت نہیں رہتا۔بلکہ قاری کے جذبات و احساسات سے منسلک ہوجاتا ہے۔اب قاری اپنے علم،تجربات کی بنا پر اس کے الگ الگ مفاہیم نکالتا ہے۔

    اگر اس کتاب کو انسانی نفسیات کے پہلوؤں پر نظر رکھ کر مطالعہ کیا جائے تو سفیر صدیقی کی یہ کتاب بہت سی نفسیاتی باتوں اورذہنی کشمکش کی ترجمانی بھی کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔لیکن اس کے لئے سفیر صدیقی زندگی اور اس کی نفسیات کا بھی مطالعہ کرنا ہوگا۔آخر شاعر کس ذہنی کیفیت سے گزر رہا ہے جو اس نے اس کم عمری میں اس طرح کا ادب تخلیق کیا ہے۔سائنس کے نقطہئ نظر سے اس کتاب کا مطالعہ کرنامیرے نذدیک سفیر صدیقی کی شاعری کے نئے رنگ اور مفاہیم سے قاری کو آشنا کرانا ہے۔

   جنگوں، مختلف تنازعات، انسانی لالچ،ہوس کاری اور ترقیات کی خواہش نے اس زمین کے قدرتی ماحول کو بربادی کی راہ پر گامزن کر دیاہے۔جنگوں میں استعمال ایٹمی ہتھیاروں نے نہ صرف انسانی شہروں،بستیوں کو تباہ و برباد کیا ہے بلکہ وہاں کی آب و ہوا کو بھی متاثر کیا ہے۔انسانی لالچ اور زیادہ منافع کمانے کی ہوس نے قدرتی ماحول،جنگلات،حیوانات،پرندوں وغیرہ کی زندگی کو بھی خاتمہ پر لا کر کھڑا کر دیا ہے۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ انسان نے اس بات پر غور وفکر نہیں کی کہ انسانی زندگی کی بقا کے لئے ان جنگلات اور دیگر ذی حیات کی کتنی اہمیت ہے۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ سے بڑی بڑی فیکٹریاں،کارخانے بنائے گئے لیکن ان سے نکلنے والے زہریلے کیمیکل اور گیسوں نے ہوا،پانی،اور مٹی کو بری طرح متاثر کیا۔آج ہم اس مقام پر آگئے ہیں کہ زندہ رہنے کے لئے ہوا اورپانی خریدنے پر آمادہ ہیں۔جو ہم کو قدرت کی طرف سے تحفہ میں عطا کئے گئے تھے۔سفیر صدیقی کیوں کہ اسی ماحول میں سانس لے رہے ہیں۔اور ان مسائل سے دوچار ہیں اس لئے وہ اپنے ایک شعر کے ذریعے ماحول کی اس تباہ کاری پر اظہار افسوس کرتے ہوئے نظر آتے ہیں:

آؤ دیکھیں سفیر! ؔقسمت میں

اور کتنی تباہ کاری ہے

سفیر صدیقی نے نہ صرف اس شعر میں مخاطبانہ لہجہ اختیار کر کے قاری کے ذہن کو ماحول کی تباہی کی طرف مرکوز کیا ہے۔بلکہ تمام عالم انسانیت کے سامنے ایک سوال بھی رکھا ہے کہ اور کتنی تباہ کاری انسان کی قسمت میں باقی ہے؟۔اگر اسی طرح انسان اپنے قدرتی ماحول کے ساتھ کھلواڑ کرتا رہا تو اس کے بد سے بد تر نتائج نکلیں گے۔اور یہ زمین انسان کے رہنے لائق نہیں رہے گی۔ممکن ہے اس زمین سے پوری طرح انسانیت کا خاتمہ ہوجائے۔ماحول کی بقا کا یہ احساس سفیر صدیقی کی دوسری غزلوں میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔جہاں ان کے اشعار ”خوابوں کے مرثیے” نہیں رہتے بلکہ ” کائنات اور ماحول کی تباہ کاری کے مرثیے” ہو جاتے ہیں۔اس نقطہ نظر سے دیکھنے پر ان کی شاعری کے نئے رنگ سے قاری کی آشنائی ہوتی ہے۔اس بات کے ثبوت کے طور پر ایک دوسری غزل کا شعر دیکھیں یہاں بھی انھوں نے مخاطبانہ لہجہ اختیار کیا ہے:

وہ میں ہوں جو کبھی اپنا بھی ہو نہیں پایا

وہ تو ہے،جس نے مکمل کیا ہے مرا وجود

یہاں ایسا لگتا ہے کہ سفیر صدیقی اپنے اطراف کے قدرتی ماحول سے مخاطب ہیں۔اور اس سے کہہ رہے ہیں۔کہ”وہ میں ہوں ” یعنی انسان جو کبھی اپنا نہیں ہو پایا۔اور لالچ اور ہوس میں آکر اس قدرتی ماحول کو تباہ کر دیا۔اور ”وہ تو ہے” جس نے میرا وجود مکمل کیا ہے۔یعنی اس زمین پر انسانوں کو حیات بخشی اور اسے ہمارے رہنے کے لائق بنایا۔یہاں یہ شعر صرف زمین اور اس کے ماحول تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس میں کائنات عظیم کے مسائل بھی سمٹ آئے ہیں۔کیوں کہ انسان نہ صرف زمین کے قدرتی ماحول کو تباہ کر رہا ہے بلکہ اس نے خلا میں بھی قدم جمانے کے بعد وہاں بھی آلودگی شروع کر دی ہے۔

سفیر صدیقی صرف کائنات اور اس کے قدرتی ماحول کے ہی ترجمان نہیں ہیں۔وہ انسانی زندگی کی عظمت پر بھی اشعار لکھتے ہیں۔کیوں کہ انسان خود اس کائنات کی ایک اکائی ہے،کہتے ہیں:

اگر تمھیں ایسا لگ رہا ہے کہ مجھ کو اوروں میں ڈھونڈ لو گے

تو جاؤ دنیا کھنگال ڈالو، نہیں ملوں گا نہیں ملوں گا

   یہاں بھی سفیر صدیقی نے خطابیہ انداز اختیار کیا ہے۔اور گویا سائنسدانوں کو چیلنج کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ سائنسداں دن رات خلا میں مختلف اجرام فلکی،کہکشاؤں اور سیاروں میں تحقیق کر کے زندگی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔لیکن ابھی تک ایسا نظام ِحیات اور انسانی مخلوق کو تلاش نہیں کر سکے جو اس کائنات میں واحد زمین پر موجود ہیں۔سفیر صدیقی کا یہ انداز بیان ”تو جاؤدنیا کھنگال ڈالو نہیں ملوں گا نہیں ملوں گا” اسی بات کا عکاس ہے۔اس لئے انسان کو اپنی زندگی اور اس کے ماحول کی حفاظت کرنا چاہئے کیوں کہ یہ کائنات کی نایاب تخلیق ہے جو ابھی تک کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملی۔

انسانی جسم کے خلیوں میں موجود  ڈی۔این۔اے  ایک حیران کن شے ہے۔انسانی زندگی کے وجود میں آنے سے لے کراور زندگی کے آخری لمحات تک یعنی تاحیات جسم کے افعال کو رواں دواں رکھنے کے لئے  ڈی۔این۔اے  کا اہم رول ہے۔اس کے ایک دوسرے پر لپٹے ہوئے دو دھاگوں پر وہ معلومات موجود ہوتی ہیں جنھیں سائنس کی زبان میں جینز  (Genes)  یا  کوڈز (Codes)   کہتے ہیں۔ اگر   انسانی تخلیق کے وقت سے پہلے یہ معلومات موجود نہیں ہوں گی تو انسان ہی کیا کسی بھی ذی حیات کی تخلیق ممکن نہیں ہو سکتی۔ہر خلیہ میں ایک  ڈی۔این۔اے سالمہ موجود ہوتا ہے اور ہر ایک ڈی۔این۔اے میں تین ارب مختلف موضوعات سے متعلق معلومات موجود رہتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ہمارے جسم کے اندر موجود  ڈی۔این۔ اے  کی لمبائی بہت ہی حیرت انگیز اور دلچسپ ہے اگر اس کے ایک دوسرے پر لپٹے ہوئے دھاگوں (Double Helix) کو نکال کر ایک لائن میں رکھا جائے اور اس کی پیمائش کی جائے تو اس دھاگے کی لمبائی زمین اور چاند کے درمیان موجود فاصلے سے دس ہزار گنا زیادہ نکلے گی۔سفیر صدیقی کی غزل کا ایک شعر دیکھیں جس میں وہ ڈی۔این۔اے  کے دھاگوں (Double Helix) کی وسعت کی ترجمانی بڑے منفرد انداز میں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں:

یہ جو تکفینِ جاں تک کا سفر ہے

زمیں سے آسماں تک کا سفر ہے

اس شعر میں سفیر صدیقی نے زمیں سے آسماں تک کے سفر کا ذکر کیا ہے۔جہاں سائنسی نقطہئ نظر سے دیکھنے پر ایسا لگتا ہے جیسے موصوف  ڈی۔این۔اے کے دھاگے کی لمبائی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔یہ بات بھی غور کرنے کی ہے کہ چاند اور زمین کے درمیان کا فاصلہ 3,84,400 کلومیٹر ہے۔اور انسانی  ڈی۔این۔ اے کی لمبائی اس فاصلہ سے دس ہزار گنا زیادہ ہے۔سفیر صدیقی کا یہ شعر اسی سائنسی حقیقت کا عکاس  معلوم ہوتا ہے۔

ایک دوسرے غزل کے شعر میں موصوف ”صحیفہ” کا ذکر کرتے ہیں۔ یہاں لفظ ”صحیفہ” انسانی ڈی۔این۔اے میں موجود ان اربوں مختلف معلومات کا ترجمان ہوجاتا ہے۔جن کے سبب انسانی وجود کی تخلیق ہوئی ہے۔اس لئے سفیر صدیقی کہتے ہیں:

اپنے اندر لئے پھرتا ہے ہر اک شخص سفیرؔ

وہ صحیفہ جو کسی اور پہ نازل نہ ہوا

اپنے اندر لئے پھرتا ہے” یعنی خلیوں میں موجود ڈی۔این۔اے کی طرف پھر ذہن جاتاہے۔اور لفظ”صحیفہ” ڈی۔این۔اے میں موجود اربوں مختلف معلومات کی ترجمانی کا عکاس نظر آتا ہے۔جو ہر ایک شخص میں مختلف ہے۔جس کو وہ تاحیات اپنے وجود کے اندر لئے پھرتا ہے۔

  جب انسان نے رات کے وقت آسمان میں چمکتے ہوئے ستاروں کا مشاہدہ کیا تو ان کے بارے میں جاننے کا خواہشمند ہوا۔کہ آخر ستارے کیسے وجود میں آتے۔یہ اتنے چھوٹے اور چمکتے ہوئے کیوں دکھائی دیتے ہیں۔یہ وہ سوالات تھے جن کے جوابات انسان برسوں تلاش کرتا رہا۔لیکن جب ہماری سائنس اور ٹیکنالوجی نے ترقی کی تو طاقتور دوربینیں اور سپر کمپیوٹرز کا وجود عمل میں آیا۔عصر حاضر میں ماہرین فلکیات نے بہت سے رازوں سے پردا اٹھایا ہے۔اور ستاروں کی وجود میں آنے سے لے کر کیسے ان کا خاتمہ ہوگا ان حقائق سے آشنا ہو سکے ہیں۔ ماہرین فلکیات کے مطابق ستارے اور سیارے ہماری خلا ء میں موجود گیس اور ڈسٹ کے ذرات کے انتہائی بڑے بادلوں سے بنتے ہیں۔جو کہ ہماری ’گیلکسی‘ میں پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔در اصل یہ گیس اور ڈسٹ کے ذرات سے بنے بادل اپنی کشش ثقل کے نتیجے میں سمٹ کر زیادہ کثیف ہوکر ایک اسٹرکچرکی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔لیکن پھر بھی ستاروں کے وجود میں آنے سے متعلق ایسی بہت سے حقائق ہیں جن کے بارے میں سائنسداں تفصیل سے نہیں جانتے کہ گیس اور دھول کس طرح مل کر ایک ستارے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں یا کیوں زیادہ تر ستارے ایک گروہ کی اندر ہی تخلیق ہوتے ہیں۔ان کے مطابق یہ ایک انتہائی پیچیدہ عمل ہے۔ماہرین نے اس بات کا بھی مشاہدہ کیا ہے کہ جب ستارے وجود میں آتے ہیں تو ان گیس اور ڈسٹ کے ذرات سے بنے بادلوں میں ایک عجیب سی کھلبلی دیکھنے کو ملتی ہے۔سفیر صدیقی بڑے ہی منفرد انداز میں ستارے بننے کے اس رد عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں شعر دیکھیں:

عجب سی کھلبلی ہے آسماں میں

کہ اک ذرّہ ستارہ ہو رہا ہے

   سائنسدانوں کے مطابق انسان نے جب اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو حیات سے لے کر موت تک اس کے جسم اور اعضا میں تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے۔یعنی وہ بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے کی طرف بڑھتاہے۔روز ہمارے جسم میں بوڈی سیل مرتے ہیں اور ان کی جگہ نئے بوڈی سیل لے لیتے ہیں۔اس طرح ہماری زندگی کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔اورہر آتی،جاتی سانس کے ساتھ انسان اپنی زندگی کے مراحل طے کرتا ہے۔اس سائنسی حقیقت کو سفیر صدیقی کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:

روز کچھ سانسیں چرا لیتا ہے وقت

روز تھوڑا تھوڑا مرجاتا ہوں میں

چارلس ڈارون نے 1859ء میں انسانی نظریہئ ارتقاء پیش کر کے انسانی ارتقا کے بارے میں بہت سے باتوں کی وضاحت سائنس کے مطابق کی۔اس کے نظریہ کے مطابق انسان بندر کی ارتقائی شکل ہے۔پہلے انسان بندر و ں کی طرح جنگلات میں زندگی گزارتا تھا۔بعد میں ماحول کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتا گیا۔اور چمپینزی جیسے چوپائے سے دو پیروں پر چلنے والے عصر حاضر کے انسانی کی شکل اختیار کر لی۔عالم الانسان یا بشریات کے ماہرین(Anthropologists)   انسانی ارتقائی عمل پربہت سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ انسان ہومو ایریکٹس (Homo Erectus) کا بدلا ہوا روپ ہے۔جس کو عصر حاضر میں ہو مو سیپینز(Homo Sapeins)  کہتے ہیں۔سفیر صدیقی کا ایک شعر دیکھیں جس کو انسانی ارتقائی عمل کی ترجمانی کے طور پر لیا جاسکتا ہے۔وہ کس طرح مخاطبانہ لہجہ اختیار کر کے انسانی ارتقائی عمل کی وضاحت کر تے ہوئے نظر آتے ہیں:

بدلنے والوں سے کوئی گلہ نہیں ہے مجھے

کہ پہلے جیسا تو میں بھی نہیں رہا صاحب

   الغرض یہ کہا جاسکتا ہے کہ سفیر صدیقی کی شاعری کا کینوس بہت وسیع ہے۔جس کو مختلف زاویوں سے دیکھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سفیر صدیقی کے نذدیک یہ ادھورے خوابوں کا مرثیہ ہے جو ابھی پائے تکمیل تک نہیں پہنچا۔لیکن میرے نذدیک صرف ان کی شاعری کو زندگی کی شکست و ریخت تک محدود نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ ادھورے خواب بھی زندگی میں بڑے بڑے سبق دے جاتے ہیں۔اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ اگلے مجموعے میں سفیر صدیقی اس رنج و الم اور قنوطیت سے باہر نکل کر رجائیت کے اشعار قلم بند کریں گے کیوں کہ شاعری پیغمبری کا کام ہے یہ انسان کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید کی روشنی سے آشنا کراتی ہے۔

انجینئر محمد عادل

ہلال ہاؤس، ذاکر نگر، علی گڑھ

موبائل:09358856606

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اورنگ آباد کی مساجد میں جاری مریم مرزا کی تحریک محلہ لائبریریوں اور اردو اسکولوں میں منایا گیا "عالمی یومِ کتاب
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں