اصناف ادب کی درجہ بندی میں موضوع اور ہیئت دونوں پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ کہیں موضوع کو اہمیت دی جاتی ہے تو کہیں سارا زور ہیئت پر ہوتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی صنف کے متعلق یہ فیصلہ کرنا دشوار ہو جاتا ہے کہ آیا اس میں موضوع اہم ہے یا ہیئت۔ صنف ادب کی حیثیت سے مکتوب نگاری کی تعریف یا اس کی صنفی شناخت کے تعین میں موضوع اور ہیئت دونوں کی اہمیت ہے۔ مکتوب نگاری کی روایت میں منظوم مکاتیب بھی پائے جاتے ہیں، اس تعلق سے واجد علی شاہ اور ان کی بیگمات کے خطوط کی مثال دی جاسکتی ہے۔ لیکن مکتوب نگاری نے غیر افسانوی صنف نثرکی حیثیت سے اپنی شناخت مستحکم کرلی ہے۔ لہٰذا میری گفتگو کا دارومدار اس کی نثری روایت پر ہی ہے۔
مکتوب نگاری میں اسلوب کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ سلجھی ہوئی نثر مکتوب کی فضا کو تکلفات سے پاک رکھتی ہے۔ اسلوب کے علاوہ املا، انشا، تاریخ، سنہ، مقام تحریر، مکتوب نگار کے نام لکھنے کا ڈھنگ، یعنی اپنے نام سے قبل کا لفظ جو ہر شخص کے ذہن کا علامیہ ہوتا ہے۔ مثلاً خاکسار، حقیر، مخلص، خیر خواہ، دعا گو وغیرہ۔ ان تمام باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکتوب نگار کو قواعد و بلاغت کے اصولوں سے کس حد تک واقفیت اور زبان پر کتنی قدرت حاصل ہے اور وہ ان چیزوں کا کتنا احترام کرتا ہے۔ مکتوب نگاری بظاہر نہایت آسان ہے لیکن اپنے ادبی حسن کے لحاظ سے یہ ایک نہایت نازک فن ہے جس میں بے جا آورد و تکلف آبگینۂ فن کو مجروح کرتا ہے۔ زبان وبیان کی سادگی اور بے ساختگی ضروری ہے۔ مکتوب نگاری کی اساسی صفت اس کا ایجاز و اختصار ہے۔ زبان کا حسن اور بے ساختگی نیز ایجاز و اختصار ہی دراصل مکتوب نگار پر عائد پابندیاں ہیں ورنہ خط لکھنے کے لیے کسی موضوع کی پابندی نہیں ہوتی، اور نہ کسی خاص مواد کی ضرورت ہوتی ہے۔ بے تکلفی کی شرط سے یہ نتیجہ اخد کیا جاسکتا ہے کہ مکتوب نگاری کے لیے کسی مقررہ اصول کی پابندی بھی کوئی لازمی شرط نہیں۔ لیکن یہ خیال کرنا مناسب نہیں۔ مکتوب نگاری میں جن امور کی پابندی کا خیال رکھنا چاہیے ان کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔
اس گفتگو سے معلوم یہ ہوا کہ مکتوب نگاری جن غیر افسانوی اصناف نثر سے نہایت قربت و مماثلت رکھتی ہے ان میں انشائیہ نگاری کو فوقیت حاصل ہے۔ چونکہ موضوع کے اعتبار سے انشائیہ اور مکتوب دونوں ایک جیسی غیر متعین حدیں اور وسعت رکھتے ہیں۔ انشائیہ نگاری کی طرح مکتوب نگاری میں بھی انسانی زندگی سے متعلق کوئی بھی واقعہ، حادثہ اور سانحہ یا انسان کا کوئی بھی مشاہدہ اور تجربہ یکساں خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا جاسکتا ہے۔ گویا موضوع کے اعتبار سے مکتوب نگار اور انشائیہ نگار کو مکمل اور ایک جیسی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح انشائیہ نگار کو چھوٹی سے چھوٹی اور معمولی سے معمولی بات پر خامہ و سخن کی جولانیاں دکھانے کا موقع ملتا ہے اور نتیجتاً جو تنوع پیدا ہوتا ہے وہی مکتوب نگاری کا بھی جوہر ہے۔
بے تکلفی، برجستگی، سادگی اور داخلیت انشائیہ اور مکتوب دونوں کی مشترک خصوصیات ہیں۔ اگر ان اصناف میں صنعت گری، بناوٹ اور تکلف حائل ہوں تو ان دونوں کا فن بڑی حد تک مجروح ہوتا ہے۔ مشاہدات و تجربات کے نچوڑ کو احساس کی گرمی سے آمیز کر کے مکتوب نگار کی طرح انشائیہ نگار بھی اپنی تحریر میں نئے تصورات اور تاثرات کو جگہ دیتا ہے۔ اس طرح دونوں ہی اصناف کی قرات کے بعد دل میں جو خیال جاگزیں ہوتا ہے وہ یہ کہ دنیا کتنی رنگ برنگی ہے۔
انشائیہ نگاری اور مکتوب نگاری کے مابین نقطۂ اتصال یا عبوری پُل کی موجودگی کا اندازہ مولانا ابوالکلام آزاد کی ’’غبار خاطر‘‘ سے لگایا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ بات واضح کردوں کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی انشا پردازی سے میری مراد ہرگز نہیں، یہ خطوط انشائیہ کا نمونہ ہیں تاہم ’’غبار خاطر‘‘ کے بعض حصوں میں انشائیہ کا رنگ یقینا غالب ہے۔بلکہ یہ حقیقت ہے کہ ان انشائیوں کا اظہار مکتوب کے قالب میں ہوا ہے۔ مکتوب نگاری کے حدود اور امکانات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس پیرایے میں ناول اور افسانے بھی لکھے گئے ہیں۔ مثال کے طور پرقاضی عبدالغفارکے ناول "لیلیٰ کے خطوط”،”مجنوں کی ڈائری "ا ورمیرزا ادیب کے افسانے ’’صحرا نورد کے خطوط‘‘، ’’صحرا نورد کا نیا خط‘‘ وغیرہ مکتوب کے پیرایے میں ہی بیان کیے گئے ہیں۔ بہر حال یہ بات برسبیل تذکرہ نکل آئی ورنہ میرے موضـوع کی مطابقت ’’غبار خاطر‘‘ کے حوالے سے بخوبی ہوجاتی ہے۔ ’’غبار خاطر‘‘ ہی میری اس تحریر کا جواز ہے۔
’’غبار خاطر‘‘ کی مثال سامنے ہونے کے باوجود، اس گفتگو سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط ہوگا کہ کوئی تحریر ایک ہی وقت میں مکتوب اور انشائیہ دونوں ہی ہوسکتی ہے، واضح رہے کہ میں نے ’’غبار خاطر‘‘ کے بعض حصوں کو انشائیہ کہا ہے، مکمل غبار خاطر کو انشائیہ نہیں کہا جاسکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مکتوب نگاری اور انشائیہ نگاری کے مابین مماثلتوں کے علاوہ کچھ امتیاز و افتراق بھی ہیں، جن سے دونوں اصناف کی شناخت کی جاسکتی ہے اور انھیں علاحدہ علاحدہ صنف نثر کہا جاسکتا ہے۔ چنانچہ مکتوب نگاری کے آداب اور اس کی رسومیات میں جو چند امور پیش نظر رہتے ہیں اور جن کا التزام ضروری خیال کیا جاتا ہے یعنی اجزائ ترکیبی، ان میں: تاریخ، مقام تحریر، القاب و آداب اور مکتوب الیہ کے پتے وغیرہ کا اندراج شامل ہیں۔ اس طرح دیکھا جائے تو مکتوب کی ایک مخصوص ہیئت ہوتی ہے جس کو برتے بغیر کوئی تحریر مکتوب کا درجہ نہیں پاسکتی البتہ انشائیوں میں اس قسم کے التزامات کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔
مکتوب نگار کی طرح انشائیہ نگار بھی اگرچہ موضوع کا پابند نہیں ہوتا مگر مکتوب کے برعکس انشائیہ کا کوئی مخصوص ڈھانچہ نہیں ہوتا، نہ اس کے آغاز کا کوئی مخصوص اہتمام ہوتا ہے اور نہ انجام کا۔ انشائیہ کا مصنف دنیا بھر کے کسی بھی موضوع پر کسی تمہید اور القاب و آداب کے بغیر جو چاہے اور جس طرح چاہے لکھنا شروع اور جب چاہے اور جہاں چاہے ختم کرسکتا ہے۔ انشائیے کا نامکمل ہونا اس کی بنیادی خصوصیت ہے لیکن اس طرح کہ اختتام پر قاری کو تشنگی کا احساس نہ ہو۔ اس کے برعکس عین ممکن ہے کہ خط اپنے اختصار کی وجہ سے مکتوب الیہ کو ناآسودگی کا احساس کرائے لیکن تشنگی اور نا آسودگی کے باوجود مکتوبات کو نامکمل نہیں کہا جاسکتا۔ کیونکہ خط میں درج کیا گیا ہر واقعہ، نکتہ اور مکالمہ اپنی جگہ خود اکائی کی حیثیت رکھتا ہے جو بالعموم اپنی تکمیل کے واسطے کسی دوسرے واقعہ، نکتہ یا سوال و جواب کا محتاج نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں مکتوب نگار کو کچھ حالات، واقعات اور باتوں کا جواب بھی دینا ہوتا ہے اور بعض باتیں مکتوب الیہ سے بھی معلوم کرنی ہوتی ہیں۔
انشائیہ نگار اپنے فن پارے میںکسی موضوع پر یہ سوچے بغیر کہ قارئین پر اس کا کیا اثر ہوگا اپنا سارا زور طبع تحریر اور جملوں کی ساخت و پرداخت پر صرف کرسکتا ہے کیونکہ اس کا مخاطب کوئی خاص فرد نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ اگر وہ اپنے انشائیے میں کسی تنقیدی رائے اور خیال کا اظہار کرتا ہے تو خود کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتابعض انشائیوں میں اس کے خلاف بھی ذہنی فضا اور ادبی ماحول بھی مل سکتا ہے۔ یعنی انشائیوں کا قاری نادیدہ ہوتا ہے اور انشائیہ نگار قاری کے رد عمل سے بھی محفوظ رہتا ہے۔ جب کہ مکتوب نگار کا قاری دیدہ و شنیدہ ہوتا ہے یا یہ کہ مکتوب نگار، مکتوب الیہ سے کسی نہ کسی حد تک واقف ضرور ہوتا ہے۔ مکتوب نگار کو اپنی تحریر کی وجہ سے مکتوب الیہ پر ہونے والے اثرات اور رد عمل کے لیے بھی تیار رہنا ہوتا ہے یا یہ کہ بعض اوقات مکتوب نگار اپنے قاری کا رد عمل جاننا چاہتا ہے اور خواہاں بھی رہتا ہے۔ مکتوب نگار کو ہر لحظہ مکتوب الیہ کے وجود، اس کی شخصیت، حیثیت و اہمیت اور اس سے تعلقات کی نوعیت کا احساس رہتا ہے۔
انشائیہ نگار کی رائے زنی یا خیال آرائی ٹھوس حقائق پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ ذاتی تاثرات پر مبنی ہوتی ہے جو کسی بھی ترنگ میں آکر ظاہر ہو جاتی ہے۔ برخلاف اس کے مکتوب نگار کی رائے سچے حالات و واقعات اور تجربوں پر مبنی ہوتی ہے۔ یعنی مکتوب نگار کی رائے انشائیہ نگار کے اظہار خیال کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ اہم، سچی اور بے لاگ ہوتی ہے انھیں معنوں میں خطوط کی تنقید کو زیادہ بے لاگ، سچا اور حقیقت سے قریب مانا جاتا ہے۔
خطوط اور انشائیہ کی مشترک خصوصیات میں ایک خصوصیت اس کا اختصار و ایجاز بھی ہے جس سے زبان و بیان اور قواعد و بلاغت پر مصنف کی قدرت کا اندازہ بھی ہوسکے۔ اختصار سے مراد سطحیت نہیں بلکہ وہ جامعیت ہے جو بیشتر صورتوں میں تفصیلات کی محتاج ہے۔ دراصل انشائیہ کے معنی اس ادبی تخلیق کے ہیں جو کسی موضوع پر بہت مختصر ہو اور ساتھ ہی اس میں عدم تکمیل کا پہلو بھی مضمر ہو۔ لیکن یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ خط جتنا مختصر ہوسکتا ہے انشائیہ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ خط چار سطر کا بھی ہوسکتا ہے دو جملے اور ایک جملے کا بھی۔ انشائیہ کسی طور پر چار سطر اور دو جملوں پر مشتمل نہیں ہوسکتا البتہ دو جملے انشا پردازی کے نمونے ہوسکتے ہیں لیکن ان کو انشائیہ نہیں کہا جاسکتا۔ خط کا کوئی مستقل موضوع نہیں ہوتا اور نہ مکتوب نگار پر لازم آتا ہے کہ اس کی وضاحت کرے۔ مکتوب نگار اپنے احوال مکتوب الیہ تک پہنچاتا ہے اور اس کے حالات جاننے کی خواہش رکھتا ہے۔ مکتوب نگار کو اپنا احوال لکھنے کے لیے ایک جملہ بھی کافی ہوسکتا ہے اور کبھی ایک صفحہ بھی کفایت نہیں کرتا۔ اس کے برعکس انشائیہ بہر حال کسی ایک موضوع پر لکھا جاتا ہے اور چار سطروں اور ایک جملے کا انشائیہ اپنے موضوع کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتا۔
انشائیہ میں اس کے ماحول اور عہد تصنیف کے حالات و واقعات کا شامل ہونا لازمی نہیں ہے اسی لیے اس صنف ادب میں منطقی ترتیب اور تاریخی تسلسل کا فقدان ہوتا ہے لیکن خطوط سے نہ صرف یہ کہ ان کی تصنیف کا زمانہ، ماحول، سیاسی، سماجی، مذہبی، ثقافتی، اقتصادی اور تمدنی حالات و تحریکات کا کسی نہ کسی پہلو سے علم ہوتا ہے بلکہ مکتوب نگار کے عہد بہ عہد ذہنی ارتقا، اس کی فکری تبدیلیوں، نجی زندگی کے نشیب و فراز اور تاریخی تسلسل کا بھی اندازہ ہوسکتا ہے۔
انشائیہ اور خط دونوں میں اگرچہ زندگی کے مشاہدے و تجربے اور اس کے حقائق کا بیان ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ خط میں مندرج حقائق عام زندگی اور بالخصوص مکتوب نگار کی اپنی ذہنی کیفیات اور نجی معاملات سے براہ راست تعلق رکھتے ہیں۔ انشائیہ میں اکثر زندگی کا صرف کوئی ایک پہلو ہی پیش کیا جاسکتا ہے۔ جب کہ مکتوب میں بہ یک وقت متعدد پہلوئوں پر روشنی ڈالی جاسکتی ہے۔ انشائیہ اگرچہ ذہنی ترنگ کا نام ہے اور اس ترنگ کے توسط سے یہ بہ یک وقت زندگی کے متعدد ابعاد روشن کرسکتا ہے لیکن اسے اپنے موضوع کی ڈور بہر حال پکڑے رکھنی ہوتی ہے۔
بعض اوقات انشائیہ اور مکتوب دونوں کا انداز بیان غیر رسمی ہوتا ہے لیکن انشائیے میں درمیان میں اصل موضوع سے انحراف کی بھی گنجائش ہوتی ہے۔ اس انحراف سے انشائیے میں ڈرامائیت، تحیر خیزی اور رنگینی کے عناصر پیدا ہوتے ہیں جب کہ مکاتیب میں انحراف کی گنجائش قطعی نہیں ہوتی کیونکہ جب تک کوئی ایک بات وقتی تقاضوں کے تحت مکمل نہ ہوجائے دوسری بات شروع نہیں کی جاسکتی۔ ہر انشائیہ نگار اور مکتوب نگار اپنی تحریر کے اصول خود ہی وضع کرتا ہے ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ مکتوب کی روش تحریر مکتوب نگار اور اس کے مکتوب الیہ کے باہمی تعلقات اور نفسیاتی سطح کے تابع ہوتی ہے۔ جس کو سامنے رکھتے ہوئے خط لکھا جاتا ہے۔ جبکہ انشائیہ نگار کے لیے ایسی کوئی نفسیاتی پابندی ضروری نہیں۔ انشائیہ کا مخاطب کوئی خاص فرد نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے تاثرات و تجربات میں اپنے تمام قارئین کو شامل کرلیتا ہے، اس کے برعکس مکتوب نگار کا مخاطب ایک فرد واحد ہوتا ہے جس تک وہ اپنے تجربات و تاثرات پہنچانا چاہتا ہے۔
خطوط یا انشائیوں میں ان کے اسالیب کے اعتبار سے بھی مماثلت کی موجودگی کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ دونوں اصناف اپنے فنی کمال کو پہنچنے کے لیے شحصی اظہار کی متقاضی ہوتی ہیں لیکن انشائیہ نگار کی شخصیت جب اس کی تخلیق پر چھا جاتی ہے ا ور جب اس کے ذاتی رنگ کا نقش اس کی تحریر میں گہرا ہوجاتا ہے تو فن پارے کا حسن نکھر جاتا ہے۔ جبکہ خط میں شخصیت کا اظہار اگر ایک حد سے آگے بڑھ جائے تو یہ اس کا ہنر نہیں عیب بن جاتا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود خطوط غالب کو انشائیہ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ انشا پردازانہ انداز نگارش کے باوجود غالب نے خط کے انفرادی خد و خال کو بڑی خوبصورتی سے باقی رکھا اور سنوارا ہے بلکہ مکتوب نگاری کو نئی جہتوں اور نئے طرز تکلم نیز نئی راہوں سے آشنا کیا۔
شخصی اظہار، نجی زندگی اور شخص کے اندرونی حالات و باطنی کیفیات کے اظہار کے حوالے سے دیکھا جائے تو انشائیہ نگاری کے علاوہ مکتوب نگاری میں اشتراک و افتراق کی صورتیں آپ بیتی اور خود نوشت سوانح نگاری میں بھی مل جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ رپورتاژ، سفرنامے اور روزنامچے کی حد تک بھی اس قبیل کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ بہر حال دیگر اصناف ادب بالخصوص انشائیہ نگاری سے مکتوب نگاری کا موازنہ کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مکتوب دیگر اصناف سے مماثل ہوتے ہوئے بھی اپنی الگ اور جداگانہ فنی شناخت رکھتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اس صنف کی داخلی خصوصیات کا پرتو بعض افسانوی اصناف پر بھی پڑتا ہے۔
DR.SHADAB TABASSUM
23/14,ZAKIR NAGAR,
OKHLA,NEW DELHI
110025
MOBILE NO.- 9999149012
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


3 comments
बहुत उम्दा, आप हक़ीक़त मे क़लम की धनी हैं।
بہت خوب، آپ واقعی قلم کی دولت سے مالا مال ہی, ।
ماشاءاللہ موثر تحریر پڑھنے کو ملی ۔۔