بیسویں صدی کے سرگرم اور فعال ادیبوں کی مختصر سے مختصر فہرست بھی سردار جعفری کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی ۔وہ نرے ادیب ہی نہیں تھے بلکہ ادب و تاریخ اور تہذیب وثقافت کے ساتھ ساتھ معاصر ادبی منظرنامے اور ادیبوں سے بھی ان کے روابط خاصے مستحکم تھے ۔شاعری کے علاوہ ادبی صحافت،تنقید اور نظریاتی مسائل کی تاریخ بھی ان کے بغیر ادھوری قرار پائے گی ۔ترقی پسند ادب کے سرگرم مبلغ ہونے کے باوجود کلاسیکی ادبیات اور دیگرعلوم سے ان کی وابستگی بھی قابل رشک تھی ۔ادب و شعر سے ان کی یہی ہمہ جہت وابستگی انھیں کلام اقبال کے مطالعہ کی طرف لے آتی ہے ۔
اردو ادب میں کلام اقبال کے مطالعہ کی کیفیت جس قدر افسوس ناک رہی ہے کسی اور شاعر کے حق میں شایدیہ صورت نہیں پیدا ہوئی ہے ۔مذہبی اور ملی حلقوں نے جس طرح کلام اقبال کی تشریح کی ہے اس سے اقبال صرف ایک فرقے کے شاعر ہوکر رہ گئے ہیں ۔اس مطالعے میں فنی پہلوؤں کے بجائے اقبال کے پیغامی مشن کو زیادہ اجاگر کیاگیا ہے نیز ان کی شاعری کے وہ حصے جو تضادات پر مبنی ہیں اور جن کے مطالعہ سے فکر اقبال کے تدریجی ارتقا کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے اس نوع کے مطالعہ میں اسے بھی صرف نظر کردیا گیا ہے ۔
مطالعۂ اقبال کا دوسرا رخ یہ ہے کہ وطن دوستی اور وطن پرستی کے وہ نغمے جن میں یہاں کے دریاؤں ، وادیوںاور کہساروں کے لیے شدید جذبۂ محبت کا اظہار کیا گیا تھا اس کے بجائے جب علامہ اقبال کے کلام میں صحرا،کارواں اور خیمے کی علامتیں ابھرنے لگیں تو اس پر بھی ایک نوع کی پریشانی کا اظہار کیاگیا (۱)
اس تناظر میں یہ کہاجاسکتا ہے کہ کلام اقبال کا بیشتر مطالعہ اسی قسم کی افراط و تفریط کاشکار رہا ہے ۔فکر و فن کا جو امتزاج علامہ کے کلام میں موجود ہے ان کی روشنی میں کلام اقبال کی منصفانہ تفہیم کی کوششیں خال خال ہی نظر آتی ہیں۔ پروفیسر شمیم حنفی کے بقول:
اقبال کی شاعری قبیلوں ،نظریوں اور غیر تخلیقی مقاصد کی افراتفری کا شکار ہوکر رہ گئی ۔یہ خواب کثرت تعبیر اور پریشاں نظری کے باعث بکھرگیا۔اردو ہی نہیں دنیا کی کسی زبان کے شاعروں میں ایسی مثال مشکل سے ملے گی جو ایک ساتھ محب وطن بھی ہواور وطن دشمن بھی، مومن بھی اور مشرک بھی۔اقبال مختلف قبیلوں میں تقسیم ہوگئے ہیں ۔اسی لیے اقبال پر لکھی جانے والی تنقیدی کتابوں اور مضامین میں اقبال کی تفہیم اور تلاش اکثر بے سود ثابت ہوتی ہے ۔‘‘(۲)
نظریاتی ادعائیت کے باوجود سردار جعفری نے کلام اقبال کو ایک وسیع تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی ہے اور کلام اقبال میں آنے والی علمی و ادبی اصطلاحوں ،مذہبی اور تہذیبی حوالوں اور مشرق و مغرب کی ان شخصیات کو جو کلام اقبال میں موجود ہیں ان سب سے مکالمہ قائم کرنے کی یہاںکوشش کی گئی ہے ۔حالانکہ ترقی پسندنقادوں کی کسوٹی پر بھی اقبال کھرے نہیں اترتے ہیں کیونکہ تحریک کے بیشترنقادوں نے اپنے ہی آئینہ میں کلام اقبال کو دیکھنے کی کوشش کی ہے ۔برسبیل تذکرہ یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ اقبال کو ترقی پسند ادب (تحریک)کے ساتھ ہمدردی تھی ۔سجاد ظہیر نے روشنائی میں اس وفد کا ذکر کیا ہے جو علامہ سے ملنے گیا تھااور انھوں نے اس کے تئیں اپنی ہمدردی کا اظہار کیاتھا(۳)
ترقی پسند نقاد اخترحسین رائے پوری نے لکھا ہے کہ
’’اقبال قومیت کا اسی طرح قائل ہے جس طرح مسولینی ،اگر فرق ہے تو صرف اتنا کہ ایک کے نزدیک قوم کامفہوم نسلی ہے اور دوسرے کے نزدیک مذہبی(۴)
جبکہ مجنوں گورکھ پوری کاخیال ہے کہ :
آخری دور میں اقبال کی شاعری میں ایک میلان پیدا ہوگیا تھا جو حجازیت سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور جس کو ہم عقابیت کہیں گے ‘‘(۵)
ڈاکٹر عبدالعلیم کے بقول
’’ہندستانی مسلمانوں میں اپنی ایک سلطنت قائم کرنے کا جذبہ اور ہندوؤں اور مسلمانوں کی الگ الگ قومیت کا تصور اقبال ہی کی شاعری سے پختہ ہوا‘‘(۶)
درج بالا سطور کامقصد کلام اقبال کے تئیںارباب ادب کی بے پروائی کا الزام لگانا نہیں ہے تا ہم یہ کہنے میں تامل بھی نہیں کہ فکر اقبال کی تفہیم نہ صرف انتشار کاشکار رہی ہے بلکہ لوگوں نے کلام اقبال سے اپنی اپنی پسند کااقبال برآمدکرنے کی کوشش زیادہ کی ہے ۔قابل غور پہلو یہ بھی ہے کہ خود اقبال اپنی تمام تر مسلمانیت کے باوجود اپنے خالق سے مکالمہ کرنے سے گریز نہیں کرتے جبکہ ہم کلام اقبال کے سامنے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور اگر کچھ کہنے کی پوزیشن میں آتے ہیں تو اقبال کو ’’اقتدار پرست‘‘ ،’’فسطائیت کا ترجمان‘‘ اور’’ سرمایہ داری کاہمنوا‘‘بتاتے ہیں۔ شاعراقبال نہ جانے کہا ں گم ہوجاتا ہے اور کلام اقبال سے ایک ایسی شخصیت نمودار ہوتی ہے جو انتہاپسندانہ خیالات کی حامل ہوتی ہے ۔
علامہ اقبال کے فن پر سردار جعفری کی کتاب ’’اقبال شناسی ‘’تین مقالوں پر مشتمل ہے ۔اقبال صدی کے سلسلے میں تحریر کردہ یہ کتاب پہلی بار ۱۹۷۷ میں مکتبہ جامعہ نے شائع کی تھی ۔۲۰۱۱ میں اسی کتاب کا عکسی ایڈیشن شائع کیا گیا ۔اس سے قبل سردار جعفری اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’ترقی پسند ادب ‘‘(اشاعت اول:۱۹۵۱ )میں اقبال کے ترقی پسندانہ افکار کے بارے میں لکھ چکے تھے ۔یہ کتاب اقبال شناسی سے کافی مختلف ہے ۔اقبال شناسی میں سردارجعفری نے نہ صرف دائرہ کار کو وسعت دی ہے بلکہ شعر اقبال کی تفہیم کے ضمن میں بڑی حد تک کشادگی کا مظاہرہ بھی کیا ہے ۔سردار جعفری نے اقبال کی شاعری کے تاریخی تناظر کو زیادہ پیش نظر رکھا ہے ۔انھوں نے اقبال کو نہ صرف بڑے شاعر کے طور پر پیش کیا ہے بلکہ یہ بھی لکھا ہے کہ:
’’وہ ہمہ گیری اور وسعت ابھی کسی اردو شاعر کو نصیب نہیں ہوئی جو اقبال کی شاعری میں پائی جاتی ہے ۔‘‘(۷)
سردار جعفری مزید لکھتے ہیں :
’’اس شاعری میں زندگی بخش رجحانات زہریلے رجحانات کے ساتھ اس طرح پیوست ہوگئے ہیں جیسے دودھ میں پانی ملادیاگیاہو یا پانی میں رنگ گھول دیاگیا ہو‘‘(۸)
سردارجعفری نے ترقی پسند ادب میں یہ بھی لکھا ہے کہ
’’اقبال نے اپنے شاہین کو تیمور،ابدالی ،نپولین اور مسولینی کی شکل میں دیکھا تھااور ان کے نزدیک پوری انسانی تاریخ ایسے ہی خود سے سرشار افراد کے اشاروں پر چلتی ہے اور فوق البشر کی تلاش میں ہے ‘‘(۹)
سردارجعفری کایہ خیال بھی ملاحظہ فرمائیں
’’یہ اقبال کا مستقل تضاد ہے کہ وہ اپنی شاعری میں جس حسین وجمیل دنیاکی تشکیل کرناچاہتے ہیں ان کا فلسفہ اس دنیا کے تباہ کرنے والے افراد کی پیدائش میں مدد کرتا ہے ‘‘(۱۰)
سردارجعفری کا یہ قول بھی دیکھیے:
’’ظاہر ہے کہ یہ درویشی اور قلندری ،شاہینی اور انفرادیت پرستی تجدید اور احیائیت اور تصوف ہمارے کام کی چیزیں نہیں ہیں کیونکہ ان سے آج کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ‘‘(۱۱)
ان اقتباسات سے یہ تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ سردارجعفری نے اپنے ابتدائی عہد میں کلام اقبال کا جو جائزہ لیا وہ معاصر ادیبوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھا ۔انھوں نے بھی پارٹی لائن کو معیار بنایا اور اقبال کی شاعری تمام تر خوبیوں کے باوجودان کی نظر میں امتیازی شان نہیں حاصل کر سکی ۔سردارجعفری نے اقبال کی شاعری میں زندگی بخش رجحانات کے ساتھ ساتھ جن زہریلے رجحانات کا ذکر کیا ہے ان کی واضح نشاندہی نہیں کی ہے لیکن بین السطور سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقبال کی تاریخیت اور ماضی سے ان کا گہرا ربط و تعلق جو انھیں بار بار پیچھے لے جاتا ہے اور وہ ان تعلیمات کو اسوہ بناتے ہیں جو ان کی ذہنی تشکیل میں شامل رہی ہیں ۔دنیا کے سارے فلسفے انھیں معلوم ہیں وہ ان کا ذکر بھی کرتے ہیں مگر خودی کی تشکیل میں کوئی فلسفہ کام نہیں آتا سردار جعفری نے لکھا ہے کہ قبال کی شخصیت کی تعمیر میں کشمیری برہمن کا دماغ ،مسلمان کادل،قرآن کریم کی تعلیمات سب شامل ہیں ان کے مجموعی تاثر نے کلام اقبال کو حرکت و عمل کی دستاویز بنا دیا ہے۔کلام اقبال کا سب سے نمایاں وصف یہی ہے ۔ اقبال مختلف انداز میں حرکت وعمل کو ماضی سے مربوط کرتے ہیں اور وہ یہ بتاتے ہیں کہ ماضی کے عظیم نشانات اور آثار حرکت و عمل کے سبب ہی یادگار ہیں ۔حرکت اور عمل کایہی فلسفہ عشق سے عبارت ہے جو بے لوث اور پائیدار ہے اور جو ’’ذوق و شوق ‘‘سے ’’مسجد قرطبہ‘‘ تک پھیلاہوا ہے ۔واضح رہے کہ سردار جعفری کی اس کتاب’’ترقی پسند ادب‘‘ میں کلام اقبال کامطالعہ مقصود نہیں تھابلکہ اقبال کے ان ترقی پسندانہ افکار ونظریات کاجائزہ لیاگیا ہے جن کے اثرات اردو شاعری پر مرتب ہوئے ۔
اقبال شناسی کے دیباچے میں سردار جعفری لکھتے ہیں :
’’ میری کتاب کے تین مقالات میں اقبال کے فکر و شعر کے ان ترقی پسند پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے بغیر اقبال کی عظمت کا پورا راز سمجھ میں نہیں آسکتا ۔‘‘(۱۲)
کتاب کا پہلا مقالہ ’شاعر مشرق ‘ہے اس میں اقبال کے فکر وفن کے ارتقائی سفر کو تحریک آزادی کے پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے ۔علی سردار جعفری نے تاریخی سیاق،تہذیبی اتصال اور خیر و شر کی تہذیبی اور مذہبی صداقتوں کے ساتھ ساتھ محدود نیشنلزم جو کہ فرقہ پرستی کی طرح تنگ نظر ہوجاتا ہے کے سیاق میں کلام اقبال کو سمجھنے کی سعی کی ہے ۔اس اعتراف کے باوجود کہ اقبال جیسے شاعر کو کسی ایک مذہب اور ملک میں قید نہیں کیاجاسکتا کیونکہ وہ ذہنی اعتبار سے آفاقی اور عالمی ہیں ۔سردار جعفری نے اقبال کی وسیع المشربی اور ان کی ذہنی کشادگی کو بطور خاص نمایاں کیاہے ۔کیونکہ سامراج سے اقبال کی مخالفت حب الوطنی کی دلیل ہے ۔اقبال کہیں نہیں بھولتے کہ وہ ایک کشمیری برہمن ہیں لیکن اسی کے ساتھ ساتھ انھوں نے قرآنی تعلیمات کو جس طرح اپنی شاعری میں استعمال کیااس سے ان کی مذہب سے غیر معمولی وابستگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔اقبال کے ذہنی توسع کو سردار جعفری نے اس طرح پیش کیاہے :
اقبال کی شخصیت کی تعمیر میں کشمیری برہمن کا دماغ ،مسلمان کادل،قرآن کریم کی تعلیمات،مغربی علوم،ہندوفلسفہ،جلال الدین رومی اور غالب کی شاعری اور مارکس اور لینن کے انقلابی تصورات سب شامل ہیں ‘‘(۱۳)
سردار جعفری کا یہ خیال بالکل صحیح ہے، کیونکہ اقبال کی شاعری میں مشرق و مغرب کے حوالے جس کثرت سے ملتے ہیں کسی اور شاعر کے یہاں نہیں ہیں ۔
طالسطائی،شیکسپیئر،ہیگل،گوئٹے،برگساں،بائرن،براوئننگ،لانگ،فیلو،ٹینی سن،مارکس،لینن،آئن اسٹائن کے ساتھ مشرقی تہذیب کی شخصیات میں رام ،گوتم،بدھ،شیو،بھرتری ہری ،شنکرآچاریہ اور گرونانگ تک کے افکار ونظریات کو انھوں نے اپنی شاعری میں پیش کیا ہے ۔
سردارجعفری کے بقول :
’’اس مزاج کے شاعر کو نہ تو ہندو تنگ نظری سمجھ سکی اور نہ مسلم عصبیت اور دونوں نے مل کر ایک عظیم آفاقی شاعر کو نہ جانے کیابنادیا‘‘ (۱۴)
زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتاہے مسلماںہو ں میں
اس ضمن میں سردار جعفری نے نظریاتی مباحث کے ساتھ ساتھ کلام اقبال سے خاطر خواہ مثالیں دی ہیںجس سے ان کے دعووں کی تائید بھی ہوتی ہے۔سردار جعفری کے مطالعہ کا یہ رخ جس میں اقبال کے کلام اور ان کے نثر پاروں کے ساتھ ساتھ دیگر تہذیبی اور ثقافتی حوالوں کو بھی بروئے کار لایا گیاہے، اہم کہا جاسکتاہے اوراس لحاظ سے ان کایہ مطالعہ یک رخا نہیں کہا جاسکتا ۔
کتاب کادوسرا مقالہ’’ اقبال اور فرنگی‘‘ ہے ۔اس مقالے میں دراصل علامہ کے انقلابی افکار و خیالات پیش کئے گئے ہیں ۔یہ لفظ صرف سیاسی تبدیلی تک محدود نہیں ہے بلکہ اقتصادی ،سیاسی اور سماجی تبدیلی کے طور پر بھی اس لفظ کا استعمال کیاگیا ہے ۔سردار جعفری نے لکھا ہے کہ انیسویں صدی کے وسط تک یورپ میں جاگیر داری سماج ختم ہوکر سرمایہ داری سماج میں تبدیل ہوچکا تھا اور یہ اس وقت تاریخ انسانی کا سب سے بڑا انقلاب تھا اس انقلاب کی بدولت انسان فطرت پر حکمرانی کے خواب دیکھنے لگا تھا ۔جعفری نے بین الاقوامی تجارتی ادارہ کو بین الاقوامی استحصالی نظام کہا ہے۔جعفری کے بقول :
’’اب انقلاب سے مراد وہ تبدیلی ہوئی جو معاشی اور طبقاتی رشتوں کو بدل دے گی یعنی ایک بھر پور معاشی،سماجی اور سیاسی تبدیلی جو اشتراکیت کی طرف رہنمائی کررہی تھی اور اقبال نے پہلی بار اپنی شاعری میں انقلاب کا لفظ اس تبدیلی کے لیے استعمال کیا اور جہاں تک مجھے علم ہے ‘‘(۱۵)
دراصل سردارجعفری نے اس مقالے میں اقبال کے معاشی انقلاب پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہے۔ جاگیردارانہ سماج سے سامراجی نظام تک کا جو سفر ہے اس میں مزدوروں کا ہی استحصال تھا ۔اقبال نے بہ باطن یہ دیکھ لیا تھا کہ سائنس و ٹکنالوجی کے نام پر جو کچھ آرہا ہے، اس سے بھی عوام کا بھلا نہیں ہوگا اور استحصالی طبقہ بڑھتا ہی جائیگا۔اس تناظر میں اقبال جس مغرب کی تصویر پیش کررہے ہیں اس میں ترقی ہے ،ٹکنالوجی ہے اور ایک مشینی انداز سے زندگی کو گوارا کرنے کی صلاحیت ۔مشرق اس حد تک مغرب کی نقل نہیں کرسکتامگر اقبال کا معاملہ واضح ہے یعنی مغرب کے یہ سروکار اس کی ترقی کے ضامن ہیں مشرق کو ان سے فائدہ اٹھانے کی صورتیں پیدا کرنی ہوں گی اور یہ صورت اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتی جب تک کہ ہم بیدار نہ ہوں اپنی حالت کو بدلنے کے لیے۔اقبال کا بڑا مقصد بیداری ہی پیدا کرنا ہے ۔اقبال مغرب کے حکما ،فلاسفہ، ادیبوں اور دانشوروں کے افکار و خیالات کو جس کشادگی کے ساتھ پیش کرتے ہیں او رجس کثرت سے انگریزی شعرا کی نظموں کا تخلیقی ترجمہ کرتے ہیں وہ دراصل مشرق کو آگاہ کرنا ہے کہ تمہاری اپنی روایت میں علم و دانش کو متاع گمشدہ کہاگیا ہے اور وہ جہاں ملے اسے حاصل کرلو مگر ایسی تہذیب اور ثقافت سے متاثر نہیں ہونا چاہیے جس کی صورت تمہارے اپنے تہذیبی رویوں کے خلاف ہو۔مارکس،لینن،گوئٹے اور ویٹنی سن کے حوالوں کے باوجود اقبال جرمن مفکرین سے زیادہ قریب ہیں اور اس زبان و ادب کے شیدائی بھی ۔ان مفکرین کے خیالات سے استفادہ اور ان کی داد و تحسین کے باوجود اقبال نے سرمایہ دارانہ نظام پر نہ صرف تنقید کی ہے بلکہ شہنشائیت کے زوال کی پیش گوئی بھی کی ہے ۔اقبال مغرب اور استعمار کے نقائص اور ان کی چیرہ دستیوں سے خوب واقف تھے ۔سردار جعفری نے ان حوالوں سے اقبال کو نہ صرف سمجھنے کی کوشش کی بلکہ ان کا یہ مقالہ اقبال کے فکری اور تہذیبی تشخص کے مختلف پہلوؤں کو روشن کرتا ہے ۔انھوں نے بانگ درا کی ابتدائی نظموں سے لے کر مسجد قرقطبہ ،پیام مشرق اور جبریل و ابلیس جیسی شہرہ آفاق نظموں کے فکری ابعاد کی عقدہ کشائی کی ہے ۔پس منظر اور متن کے براہ راست مطالعہ نے ہی یہ کہنے پر مجبور کیا :
’’سیاسی اعتبار سے اس کتاب(پیام مشرق) کی بہت سی نظمیں فرنگی سیاست اور معاشرت پر بھر پور تنقید ہیں۔پہلی بار اس کتاب میں انقلاب روس اور کمیونزم کا ذکر آیا ہے ۔پہلی بار ہندستان میں کارل مارکس اور لینن کے نام شعر کا حصہ بنتے ہیں ‘‘۔(۱۶)
اقبال کی شاعری میں تہذیب،تاریخ اور افکار باہم دست و گریباں دکھائی دیتے ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ تاریخ وتہذیب کے تمام معاملات بہ زبان شعر ادا کیے گئے ہیں۔ اس لیے ضروری تھا کہ تاریخی اور تہذیبی سیاق کے ساتھ ساتھ شعری و ادبی محاکمہ بھی کیا جاتا ۔شعر اقبال میں قوموں کی سربلندی اور ارتقا کی جو تاریخ ہے اس کی حیثیت مورخ کے بیان کی طرح نہیں ہے اور نہ انھیں تاریخ کے سائنٹیفک اصولوں کی شکل میں پیش کیاگیاہے ۔شعر اقبال کی پہچان مشکل ہے کیونکہ اقبال نے مختلف حسی سطحوں کے ساتھ ساتھ نئی لفظیات،زبان اور علائم کا حامل اپنا اسلوب اور اپنا منفرد شعری محاورہ بھی تخلیق کیا ہے۔ان کی شاعری عام رسمی اورروایتی انداز کی متصوفانہ /مذہبی شاعری سے یکسر مختلف ہے ۔ تخلیقی سطح پراقبال کے یہاں جو ایک خاص قوت کار فرمانظر آتی ہے وہ بھی دوسروں کے حصے میں کم ہی آئی ہے ۔
اقبال کی دنیا یے شعر میں ایک اہم مسئلہ زمان و مکاں کا تصور ہے ۔سردار جعفری نے اقبال کے تصور وقت کے عنوان سے اس اہم مسئلہ کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے ۔انہوں نے لکھاہے کہ:
’’تصور وقت فلسفے اور سائنس کا مسئلہ ہے جسے اقبال نے شعری سانچے میں ڈھال کر جمالیاتی رنگ دے دیاہے ۔‘‘(۱۷)
حالانکہ انھوں نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ ’’میرا ذہن فلسفیانہ تربیت سے محروم ہے ‘‘۔سردارجعفری نے اس اہم مسئلہ کو ہندو تصور وقت،مغربی تصور وقت اور اسلامی تصور وقت کے حوالے سے اقبال کے تصور وقت کو سمجھانے کی کوشش کی ہے ۔ ہندو تصور وقت کے بارے میں سردار جعفری نے لکھا ہے :
ایک برہما کے بعد دوسرا برہما آتاہے ۔ایک آدم کے بعد دوسرا آدم پیدا ہوتاہے ۔یہی وشنو کا خواب ہے یہی مایاہے ۔یہی وقت ہے اور تمام انسان اس کے دائرے میں اسیر ہیں ‘‘۔(۱۸)
سردار جعفری کے بقول:
’’اس فلسفیانہ تصور میں دنیا کے مایا ہونے کا ،غیر حقیقی اور خواب وخیال ہونے کا تصور بھی پنہاں ہے جو فلسفۂ خودی کی نفی کرتا ہے، اس لیے یہ تصور اقبال کے لیے قابل قبول نہیں ہے ‘‘۔(۱۹)
واضح رہے کہ اقبال کے تصور وقت کے بنیادی عناصر تین ہیں ۔پہلا امام شافعی کے مقولے الوقت سیف یعنی وقت تلوار ہے اور رسول اکرم ﷺ کی دو حدیثوں لی مع اللہ وقت اور ولا تسبو الدھر ہے ۔دوسرا عنصر قدیم ایرانی تصور وقت ہے جسے زروانیت کا نام دیا جاسکتا ہے ۔
’’اسے قدیم ایرانی فلسفۂ وقت میں لامحدود زمانہ کہاجاتا ہے ۔جاوید نامہ میں اقبال نے اس کو روح ز مان و مکان کہا ہے‘‘ (۲۰)
۔تیسرا سرمدی وقت ہے ۔وقت کے تیسرے عنصر کے بارے میں سردارجعفری نے لکھا ہے کہ ’’اقبال کے اس تصور وقت پر برگساں کے فلسفہ کا اثر ہے ‘‘
فریب نظر ہے سکون و ثبات
تڑپتا ہے ہر ذرۂ کائنات
ٹھہرتا نہیں کاروان وجود
کہ ہر لحظہ ہے تازہ شان وجود
سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی
فقط ذوق پرواز ہے زندگی
دراصل برگساں کے تصور وقت میں پیمائشی وقت کے ساتھ ساتھ خالص وقت بھی ہے جس کو دوران کہا گیاہے۔پیمائشی وقت کو محدود وقت بھی کہا جاتا ہے جس میں رات ،دن،مہینہ،سال وغیرہ آتے ہیں۔البتہ برگساں کا خالص و قت اقبال کے یہاں ز مانے کی رو میں تبدیل ہوجاتاہے ۔بقول اقبال ؎
تیرے شب وروز کی اور حقیقت ہے کیا
ایک ز مانے کی رو جس میں نہ دن ہے نہ رات
سردار جعفری نے لکھا ہے کہ وقت کا مسئلہ مولانا رومی کے سامنے بھی تھا مگر وہ وقت کو اعتباری اور اضافی سمجھتے ہیں۔
زمانہ ایک حیات ایک کائنات بھی ایک
دلیل کم نظری قصۂ قدیم و جدید
وقت اور انسان کے مابین رشتوں کے بارے میں سردارجعفری نے لکھا ہے کہ:
’’ایک خداجو خالق کائنات ہے دوسرا خالق وقت ہے اور تیسرا خالق انسان ‘‘(۲۱)
وقت کے حوالے سے اقبال کی نظموں کے تناظر میں سردار جعفری نے یہ بھی لکھا ہے کہ’’ سارے حادثات وقت سے صادر ہوتے ہیں اور وقت ان کا حساب رکھتا ہے‘‘ ۔اقبال کی شہرہ آفاق نظم مسجد قرطبہ میں وقت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے ۔
سلسلہ روز و شب نقش گر حادثات
سلسلہ روز وشب اصل حیات و ممات
سلسلہ روز وشب تارحریر دورنگ
جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات
سلسلہ روز وشب ساز ازل کی فغاں
جس سے دکھاتی ہے ذات زیرو بم ممکنات
نظم ’’خضر راہ‘‘ کا یہ شعر بھی وقت کے انھیں تصورات کا آئینہ دار ہے؎
تو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں پیہم دواں ہر دم رواں ہے زندگی
یہاںفلسفہ و شعر کی آویز ش سے وقت کی بحث کو دلچسپ اور تجسس آمیز بنادیا گیا ہے ۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سردار جعفری وقت اور زمان و مکاں کے حصار کو صرف اقبال کی نظر سے نہیں دیکھتے بلکہ انھوں نے اس میں تاریخ و تہذیب اور مختلف ثقافتی عناصر کو سمونے کی کوشش کی ہے ۔البتہ سردارجعفری نے یہ واضح کردیا ہے کہ
’’ اقبال نے وقت کے سارے فلسفیانہ اور شاعرانہ استعمال کے بعد یہ اعلان کردیا کہ خدا وقت سے باہرہے ‘‘۔(۲۲)
جیسا کہ شروع میں کہاجاچکا ہے اقبال کی تفہیم ایک مشکل اور صبر آزماکام ہے ۔اس کا سبب یہ ہے کہ اقبال نے جس طرح فلسفہ، تاریخ،تہذیب،ثقافت اور مذہب کو شاعری کا حصہ بنایا ہے اس کی مثال ہماری شعری تاریخ میں نایاب نہ سہی کمیاب ضرور ہے ۔سردار جعفری کی یہ کوشش اس لیے بھی قابل قدر ہے کہ انھوں نے اقبال کے ممدوح اور عقیدت مند ہونے کے بجائے اسکالر اور تخلیقی ادب کے پارکھ کے طور پراقبال کو سمجھنے کی کوشش کی ہے ۔
حوالے :
۱۔نظم جدید کی کروٹیں ،وزیر آغا ص :۴۹،ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ ۲۰۱۱
۲۔اقبال اور عصر حاضر کا خرابہ ،پروفیسر شمیم حنفی ص :۱۱۸۔غالب اکیڈمی ،بستی حضرت نظام الدین ۔نئی دہلی ۲۰۱۰
۳۔روشنائی سجاد ظہیر ص:۱۷۸ ۔دہلی ۱۹۸۵
۴۔ ادب اور انقلاب اختر حسین رائے پوری ص:۸۰
۵۔اقبال، مجنوں گورکھ پوری ص:۵۷
۶۔اردو ادب کے رحجانات پر ایک نظر، ڈاکٹر عبدالعلیم ص :۱۶
۷۔ترقی پسند اد ب ص:۱۰۲
۸۔ ایضاً ص ۱۰۳
۹۔ایضاًص:۱۰۸
۱۰۔ایضاً ص ۱۰۸
۱۱۔ایضاً ص:۱۱۴
۱۲۔اقبال شناسی،علی سردار جعفری ص:۱۲ مکتبہ جامعہ لمٹیڈنئی دہلی ۲۰۱۱
۱۳۔اقبال شناسی ص:۲۸
۱۴۔اقبال شناسی ص:۳۰
۱۵۔اقبال شناسی،ص:۵۸
۱۶۔اقبال شناسی ص :۷۶
۱۷۔اقبال شناسی،ص:۸۹
۱۸۔اقبال شناسی ص :۹۰
۱۹۔اقبال شناسی ص :۹۰
۲۰۔اقبال شناسی ص:۹۰
۲۱۔اقبال شناسی ص :۱۰۹
۲۲۔اقبال شناسی ص:۱۰۱
ڈاکٹر عمیر منظر
اسسٹنٹ پروفیسر
شعبۂ اردو ۔مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی
لکھنؤ کیمپس ۔لکھنؤ۔
8004050865
٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
ڈاکٹر عمیر منظر نے ایک مشکل موضوع پر نہایت عمدہ مضمون تحریر کیا ہے۔ اس مضمون سے علی سردار جعفری کے فکر سے متعلق متعدد غلط فہمیاں دُور ہوتی ہے اور ان کی اقبال شناسی کو درست انداز میں سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ان سے ایسے ہی اعلیٰ مضمون کی توقع رہتی ہے۔