Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
خصوصی مضامین

مولانا ابوالکلام آزاد کی صحافت : ایک تحقیقی وتجزیاتی مطالعہ – ڈاکٹر یوسف رامپوری

by adbimiras نومبر 29, 2021
by adbimiras نومبر 29, 2021 0 comment

’صحافت‘ مولانا ابوالکلام آزادکے لیے خاص اہمیت اور توجہ کی حامل رہی۔انھوںنے جس طرح شاعری، تصنیف وتالیف اورترجمہ نگاری کا آغاز بچپن میں ہی کردیا تھا،اسی طرح صحافت کے وسیع وعریض میدان میں بھی کمسنی کی عمرمیں قدم رکھ دیا تھا۔جب مولانا کی عمر محض بارہ سال چند ماہ تھی ،تووہ کلکتہ سے نکلنے والے ہفتہ وار ’’المصباح‘‘کے مدیر تھے ۔یہ اخبار جنوری۱۹۰۱ میں منظرعام پرآیاتھا۔ بعض حضرات کے نزدیک اس کی اشاعت کا عمل ۱۹۰۰ میں شروع ہوالیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس کی اشاعت۲۲؍ جنوری ۱۹۰۱ کوعمل میں آئی۔کیوں کہ اس کا پہلا شمارہ عیدالفطر کے موقع پر شائع ہوا تھا اوراُس سال عیدالفطر ماہ جنوری ۱۹۰۱ کی ۲۲؍تاریخ کوواقع ہوئی تھی۔ یہ اخبارصرف تین چار مہینے ہی نکل پایا۔مولاناآزاد کے ’’المصباح‘‘ کی ادارت کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا آزاد اس کے مدیر بننے سے پہلے ہی صحافت سے وابستہ ہوگئے تھے۔

جب مولانا آزاد اپنا گلدستہ ’’نیرنگ عالم‘‘نکال رہے تھے تووہ اس دوران متعدد رسائل واخبارات مثلاً ’’اودھ اخبار‘‘ لکھنؤ ، ’’الپنچ ‘‘پٹنہ ، ’’دارالسلطنت کلکتہ‘‘ کامطالعہ کرتے تھے۔اسی کے ساتھ عربی جرائدجیسے ’’الہلال‘‘ اور ’’المنار‘‘بھی پڑھتے تھے اور ان سے کماحقہٗ استفادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔کیونکہ ان کی مادری زبان عربی تھی۔مولاناکی عربی اخبارات ورسائل تک رسائی اس لئے آسانی سے ہوجاتی تھی کہ مولانا کے والدکے پاس عرب دنیا کے معروف رسائل واخبارات آتے تھے ۔ کثرت کے سا تھ اردو،عربی اخبارات وجرائد کے مطالعہ کے سبب مولانا شاعری سے زیادہ صحافت میں دلچسپی لینے لگے اورپھرجلد ہی عملی طورپر اس سے باضابطہ وابستہ بھی ہوگئے۔’’المصباح‘‘ کے بعدمولانا آزادجس دوسرے پرچے سے جڑے وہ ’’احسن الاخبار‘‘ تھا جو ۱۹۰۲ میں کلکتہ سے نکلنا شروع ہواتھا۔مولانا اس رسالے کی ترتیب واشاعت میں معاونت کرتے تھے ۔اسی کے ساتھ وہ عربی اخبارات کی خبر و ںو مضامین کا ترجمہ کرکے’’ احسن الاخبار‘‘ میں شائع کرنے کی ذمہ داری بھی نبھاتے تھے ۔اگرچہ مولانا کی صحافت میں فی نفسہٖ گہرائی تھی، تاہم اس میں عربی کے مؤقرجرائد ورسائل کے مستقل مطالعے نے مزید چار چاند لگادئیے تھے۔یہی وجہ تھی کہ ان کی تحریریں عام صحافیوںکی تحریروں سے ممتازنظرآنے لگیں۔قارئین کے درمیان بڑھتی مقبولیت اورمستند ومعروف قلمکاروں کے حوصلہ افزا تبصروں نے مولانا کے شوقِ صحافت میں روح پھونک دی۔ مولانا نے اپنے مضامین کو کسی محدود رسالے یا اخبار تک محدود نہ رکھا بلکہ انھیں متعدد اخبارات ورسائل کو اِرسال کیا ۔ اسی لیے چند سال کے عرصے میں ان کے جامع مقالات’’ لسان الصدق‘‘ کلکتہ، ’’خدنگ نظر‘‘لکھنؤ، ’’الندوہ‘‘ لکھنؤ ،’’ وکیل‘‘ امرتسر،’’دارالسلطنت ‘‘کلکتہ ،’’ماہنامہ مخزن‘‘ لاہوراورہفتہ وار’’الپنچ‘‘ کے زریں صفحات پرنظرآئے۔

اس اثنا میں مولانا آزادکو متعدد اخبارات ورسائل کی ادارت کا تجربہ بھی حاصل ہوا اور کئی اخبارات ورسائل انھوں نے خود بھی جاری کیے۔مثلاً جنوری۱۹۰۱ میں مولانا نے’’المصباح‘‘نکالا۔۱۹۰۲  میں ’’ احسن الاخبار‘‘ کلکتہ کی ادارت سنبھالی۔مارچ ۱۹۰۳ میں ’’ خدنگ نظر‘‘  لکھنؤ کے معاون ایڈیٹر ہوئے۔۱۹۰۳ کے رواں سال میں ہی ’’ایڈورڈ گزٹ‘‘ شاہجہاں پورکے بھی مدیربنے۔اور اسی سال ۲۰؍نومبر کو ماہنامہ ’’ لسان الصدق‘‘ جاری کیاجو مئی ۱۹۰۵ تک شائع ہوتا رہا۔اکتوبر ۱۹۰۵  میں ماہنامہ’’ الندوہ‘‘ لکھنؤ کی سب ایڈیٹری کی ذمہ داری کو قبول کیا، لیکن ۱۹۰۶  میں اس سے علیٰحدگی اختیار کرلی اور امرتسر سے شائع ہونے والے سہ روزہ اخبار’’ وکیل ‘‘کے مدیر بن گئے مگراسی سال اس کی ادارت کو خیرباد بھی کہہ دیا۔جنوری ۱۹۰۷ میں مولانا کی ادارت میں  ہفت روزہ ’’ دارالسلطنت‘‘ کا کلکتہ سے ازسرِ نو اجرا ہوا۔اس دوران ’’وکیل‘‘ امرتسر کے مالک شیخ غلام محمد کا مسلسل اصرار رہا۔لہذا ایک بارپھر ’’وکیل ‘‘ کی ادارت قبول کرلی مگراخبارکی پالیسیوں سے اختلاف کے باعث اس سے دوبارہ بھی زیادہ مدت تک وابستہ نہ رہ سکے اور بالآخراگست ۱۹۰۸ میں اخبار سے الگ ہوگئے۔

مولانا ابوالکلام آزاد کی صحافت اس وقت بام عروج کو پہنچ گئی جب وہ  ہفت روزہ اخبار ’’الہلال ‘‘ جاری کرنے میں کامیاب ہوگئے۔الہلال کاپہلا شمارہ ۱۳؍جولائی ۱۹۱۲ کو منصہ شہود پر جلوہ گر ہوا۔کتابت،طباعت اور مضامین ومواد کے لحاظ سے اخبار کا معیاربہت بلند تھا ،اس لئے مشاہیر علما وادبا اور قدآورشخصیات نے اس کی اشاعت پر خوشی واطمینان کا اظہار کیااورقارئین نے اسے بے حد پسند کیا۔چند ماہ کے اندر الہلال کی اشاعت ہزاروں تک پہنچ گئی۔اپنی خواہش کے مطابق ’’الہلال‘‘ کو منظرعام پرلانے میں مولانا آزاد کوکتنی محنت و جدوجہد کرنی پڑی اور وہ اس کے لئے کتنے تڑپے وبے قراررہے۔پہلے ہی شمارے میں اس کی بابت یوں لکھتے ہیں:

’’ ۱۹۰۶ کے موسم سرما کی آخری راتیں تھیں جب امرتسر میں میری چشم بیداری نے ایک خواب دیکھا۔انسان کے ارادوں اور منصوبوں کو جب تک ذہن وتخیل میں ہیں عالم بیداری کا ایک خواب ہی سمجھناچاہئے ۔کامل چھ برس اس کی تعبیر کی عشق آمیز جستجو میں صرف ہوگئے ، امیدوں کی خلش اور ولولوں کی شورش نے ہمیشہ مضطرب رکھا اور یاس وقنوط کا ہجوم بارہا حوصلہ وعزم پر غالب آگیا لیکن الحمدللہ کہ ارادے کا استحکام اور توفیق الہی کا اعتماد ہر حال میں طمانیت بخش تھا، یہاںتک کہ آج اس خواب عزیز کی تعبیر عالم وجود میں پیش نظرہے‘‘۔  ( الہلال: ۱۳جولائی ۱۹۱۲)

’’الہلال ‘‘کی اشاعت کے پیچھے عظیم جذبات ومقاصد کارفرماتھے۔مولاناآزاد اس کے ذریعے ایک طرف ملک وقوم کی خدمت کرنا چاہتے تھے تو دوسری طرف دین کی اشاعت کا مقصد بھی ان کے پیش نظرتھا۔جیسا کہ خود لکھتے ہیں:

’’ میری حالت الحمدللہ کہ عام حالات سے مختلف ہے۔ میں اپنے تمام کاموں کو ایک خالص دینی دعوت کی حیثیت سے انجام دیتا ہوںاور میرے پاس احکام دینی کے قوانین کی ایک کتاب موجود ہے پس میری نظر ہمیشہ اس پر رہتی ہے کہ خداکے ساتھ میرا رشتہ کیسا ہے؟‘‘ ۔ ( الہلال :۲۴؍ ستمبر ۱۹۱۳،جلد ۳،شمارہ ۱۳)

مولانا آزاد صحافت برائے خدمت پر یقین رکھتے تھے اور صحافت برائے تجارت کے قائل نہ تھے۔ دراصل مولاناکے نزدیک انسانی زندگی میں دولت کی کوئی وقعت نہ تھی ۔اس لیے انھوں نے کبھی دولت جمع کرنے کی قطعا ً کوشش نہ کی، حتی کہ اس کے مواقع ہونے کے باوجود بیزاری اختیار کی۔اس کااندازہ  ۲۱؍جنوری کے شمارے میں شائع ان کی تحریر کے مندرجہ ذیل اقتباس سے کیا جاسکتا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’ میرے آگے دنیوی عزت کے حصول اور دولت وجاہ سے مالامال ہونے کی بہت سی راہیں آئیں اور اگر میں صرف تھوڑی سی غیر محسوس تبدیلی بھی اپنی روش میں کردیتا تو حق پرستی کے دعووں کو باقی رکھ کر بھی دنیا حاصل کرسکتا تھا،پر خدانے میرے دل کو ہمیشہ اپنی قدوس انگلیوں میں اس طرح رکھا کہ چند لمحوں کے فانی تزلزل کو مستثنیٰ کردینے کے بعد میں اس کے تخت جلال وعظمت کی قسم کھاسکتا ہوں کہ میں نے کبھی اپنے ذاتی فائدے کے لیے ایک رائی برابر بھی اعراض کرنا پسند نہیں کیا‘‘۔ (الہلال:شذرات، ۲۱؍جنوری ۱۹۱۴ ، جلد :نمبر ۴، شمارہ :۳)

مولانا کی صحافت خالص تھی ،اس میں کسی طرح کے مفاد کی کوئی آمیزش نہ تھی۔اگر مولانا چاہتے تویقینا الہلال کے واسطے سے خطیر رقم جمع کرسکتے تھے کیوںکہ کتنے ہی اہلِ ثروت حضرات مولانا کے ایک اشارے پر روپوں کے ڈھیر لگاسکتے تھے، لیکن مولانا نے اسے قطعا ً گوارہ نہ کیا ، یہاںتک کہ الہلال کی خستہ مالی حالت کے باوجود تعاون کی طرف نظرنہ کی،ہاں اخراجات کے بارِگراں کو متوازن کرنے کے لیے قارئین کی تعداد میں اضافے کی ضرور کوشش کی۔آڑے سے آڑے وقت میں مولانا آزاد نے ثابت کردیا کہ وہ سچے صحافی ہیں،تاجرنہیں ۔ان کامقصد ملک وملت کی خدمت کرناہے، دولت وجاہ کمانا نہیں۔

’الہلال‘ اگرچہ بہت طویل مدت تک جاری نہ رہ سکا ،تاہم انتہائی قلیل مدت میں اس نے جو کارہائے نمایاں انجام دیے اور صحافت کا جو معیار پیش کیا، اُردوصحافت اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصرہے۔الہلال کے بعد سے آج تک ہزاروںاخبارات ورسائل شائع ہوچکے ہیں اور ہنوزیہ سلسلہ جاری ہے مگر الہلال اپنی زبان و مواد اور معیار میں سب سے نمایاں نظرآتا ہے۔مالک رام لکھتے ہیں:

’’ الہلال کئی لحاظ سے عہد آفریں ثابت ہوا۔اس شان کا کوئی ہفتہ وار پرچہ اردومیں شائع نہیں ہوا تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد بھی جو پرچے نکلے، ان کے سامنے نمونہ ’’الہلال‘‘ کا ہی رہا۔ہر ایک کی یہی خواہش رہی کہ شکل وصورت، مضامین کی ترتیب، اداریے، تصاویر وغیرہ میں ’’ الہلال‘‘ کا تتبع کریں‘‘۔(کچھ ابوالکلام آزاد کے بارے میں، از مالک رام ، صفحہ: ۶۱)

الہلال کا پہلا شمارہ ۱۳؍جولائی ۱۹۱۲ کو سر زمین کلکتہ سے نکلا اور اس کا آخری شمارہ ۱۸؍نومبر ۱۹۱۴ کو شائع ہوا ۔اس کے بند ہونے کی وجہ حکومت کی جانب سے طلب کی گئی ضمانت تھی ۔ابتدائی اًالہلال سے دوہزار روپے کی ضمانت طلب کی گئی جسے ادا کردیا گیامگر اس کے بعد مزید دس ہزار روپے کی ضمانت مانگی گئی۔اخباراتنی بڑی رقم کی ادائیگی کا متحمل نہیں تھا،اس لئے لاچار ومجبور ہوکراسے بند کرناپڑا ۔بظاہر تویہ اخبار ضمانت کی عدم ادائیگی کے سبب بند ہوا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت اسے اس لیے بندکرانا چاہتی تھی کہ اس کے ذریعے تحریکِ آزادی کوفروغ اور ہندومسلم اتحاد کی فضا سازگارہورہی تھی ۔ اربابِ اقتدار کو خطرہ تھا کہ اگر الہلال جاری رہا تو ان کی پالیسی’ لڑائو اور حکومت کرو‘دم توڑدے گی اور پھر انھیں ہندوستان چھوڑکر جانا پڑے گا۔ڈاکٹر شفیع ایوب رقطرازہیں:

’’ ۱۹۱۴ میں جب پہلی جنگ عظیم چھڑگئی تو الہلال نے انتہائی بے خوفی سے سامراج کی بدعنوانی کی قلعی کھولنی شروع کردی۔نہ صرف حکومت کے سنسر کا محکمہ بلکہ انگریز دوست حلقے تلملااٹھے۔الہ آباد سے اس زمانے میں انگریزی اخبار’’پانیئر‘‘ نکلتا تھا، جو مشہور ومقبول بھی تھا اور حکومت نواز بھی۔پانیئر نے الہلال کے خلاف ایک زبردست اداریہ لکھا اور حکومت کو الہلال کی تحریروں کے خلاف کارروائی کرانے پر اکسایا۔حکومت نے جب مزید ضمانت طلب کی تو مولانا نے طے کیا کہ اب اخبار بھلے ہی بند ہوجائے لیکن مزید ضمانت کی رقم ادانہیں کریں گے ،لہذا انھوںنے الہلال بند کردیا‘‘۔(تحریک آزادی اور الہلال ، از : ڈاکٹر شفیع ایوب ، ص: ۳۷۔۳۸، )

الہلال کے بند ہونے کے ایک سال بعد ۱۹۱۵ میں مولانا ابوالکلام آزادنے ایک دوسرا اخبار ’’البلاغ‘‘ جاری کیا۔ٹائٹل کے علاوہ یہ اخبار ۱۸؍ صفحات پر مشتمل تھا۔مولانا آزاد ’’البلاغ‘‘ کوبھی ہفتہ وار نکالنا چاہتے تھے مگر انھیں پہلے شمارے کی اشاعت کے دوران محسوس ہوا کہ اسے ہفتہ وار نکالنا مشکل ہوگا۔چنانچہ مہینے میں دوبار شائع کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ مولاناآزاد کی خواہش تھی کہ ’البلاغ‘الہلال کی طرح معیاری ہواور پابندی سے نکلتا رہے۔ مالک رام لکھتے ہیں:

’’ کوئی سال بھر کے التوا کے بعد انھوں نے دوسراپرچہ ۱۲؍نومبر ۱۹۱۵ کو ’’البلاغ‘‘ جاری کردیا، صرف نام کا فرق تھا، ورنہ دونوں کی صوری اور معنوی حیثیت میں کوئی فرق نہیں تھا‘‘۔ (کچھ ابوالکلام آزاد کے بارے میں ، از : مالک رام ، ص: ۶۰)

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مولانا نے’البلاغ‘کی شکل میں’’ الہلال‘‘ ہی نکالا تھا۔’الہلال‘ چونکہ ضمانت کے سبب بندہوا تھا ، اس لیے اسی نام سے نکالنے کے لئے ضمانت کی ادائیگی اور دیگر کارروائیوں کو انجام دینا پڑتا ۔ان سب چیزوں سے بچنے کے لیے مولانا نے ’الہلال‘ کو ’البلاغ‘ کے نام سے جاری کردیا۔اسی لیے ماہرین نے اس ’البلاغ ‘ کے اجرائ کو ’الہلال ‘کے دوسرے دور کا آغاز کہا۔لیکن مولانا آزاد ’البلاغ‘ کو اپنی مصروفیات اور متعدد مسائل کے سبب زیادہ وقت نہ دے سکے ۔نتیجہ یہ ہوا کہ’ البلاغ‘ کی اشاعت میں’الہلال‘ جیسی پابندی کو برقرار نہ رکھاجاسکااور کئی کئی شمارے ایک ساتھ نکالنے پڑے ۔مثال کے طورپر شمارہ ۱۳؍۱۴، شمارہ ۱۵،۱۶،۱۷، ایک ساتھ چھاپے گئے۔

انگریزی حکومت مولانا ابوالکلام آزاد کی سرگرمیوں پر گہری نظررکھتی تھی۔ ان کی صحافت وخطابت نے انگریزی افسران کے ہوش اڑارکھے تھے۔اس لیے حکومت کو’’الہلال ‘‘کی طرح ’’البلاغ‘‘ بھی برداشت نہ تھا ۔چنانچہ مولانا پر یہ الزام لگایا کہ وہ ملک معظم کے دشمنوں سے سازباز رکھتے ہیں۔ گورنمنٹ بنگال نے ڈیفنس ایکٹ کی دفعہ ۳ کی بنیادپر انہیں صوبہ بنگال سے باہر نکل جانے کا حکم جاری کردیا۔اس طرح حکومت ’’البلاغ‘‘ کو بند کرانے میں کامیاب ہوگئی۔’البلاغ‘نے تقریباً پانچ مہینے کی عمر پائی ۔اس مدت میں اس کے ۱۱؍پرچوں میں ۱۷؍شمارے شائع ہوئے۔

الہلال کی اشاعت کے دوران مولاناآزاد ایک ماہنامہ نکالنے کا بھی ارادہ رکھتے تھے جس کانام ’’البصائر‘‘ تجویز کیا گیاتھا ، اس کی مکمل منصوبہ بندی کی جاچکی تھی، اس کی نوعیت، اس کا معیار، اس کے عنوانات ،اشاعت کا مہینہ، ضخامت ، سائز،قیمت تقریباً سب کچھ طے ہوچکا تھا۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس ماہنامہ کی اشاعت کا’ الہلال‘ کے متعدد شماروںمیں اعلان بھی کیا گیا تھا۔اس اعلان میں’’ البصائر ‘‘کی جن خصوصیات کا ذکر کیا گیا تھاوہ بلاشک وشبہ اہمیت وعظمت کی حامل تھیں ۔اگروہ رسالہ اُن خصوصیات کے ساتھ ُافق صحافت پر جلوہ گر ہوجاتا تو ایسی علمی دستاویزکی شکل اختیار کرلیتا جس پر اہل علم وبصیرت سر دھنتے رہ جاتے اور اس کی نظیر نہ صرف اس زمانے میں بلکہ اس کے بعد بھی ملنی مشکل ہوتی۔’’البصائر‘‘کی اشاعت کے بارے میں دیا گیا اعلان اس طرح تھا:

’’ایک ماہوار دینی وعلمی مجلہ جس کا اعلان پہلے ’’ البیان‘‘ کے نام سے کیا گیا تھا، وسط شوال سے شائع ہونا شروع ہوجائے گا، ضخامت کم از کم ۶۴ صفحہ ، قیمت سالانہ چارروپیہ مع محصول ، خریداران الہلال سے ۳؍روپیہ، اس کا اصلی موضوع یہ ہوگا کہ قرآن حکیم اور اس کے متعلق تمام علوم ومعارف پر تحقیقات کا ایک نیا ذخیرہ فراہم کرے اور ان کے موانع ومشکلات کو دور کرنے کی کوشش کرے جن کی وجہ سے موجودہ طبقہ روز بروز تعلیمات قرآنیہ سے ناآشنا ہوتا جاتا ہے۔

اس کے ذیل میں علوم اسلامیہ کا احیا ،تاریخ نبوۃ وصحابہ وتابعین کی ترویج، آثار سلف کی تدوین اور اردو زبان میں علوم مفیدہ حدیثہ کے تراجم اور جرائد ومجلات یورپ ومصر پر نقد واقتباس بھی ہوگا، تاہم یہ امور ضمنی ہونگے اور اصلی سعی یہ ہوگی کہ رسالے کے ہر باب میں قرآن حکیم کے علوم ومعارف کا ذخیرہ فراہم کرے ۔ مثلا تفسیر کے باب میں تفسیر ہوگی، حدیث کے باب میں احادیث سے متعلق تفسیر پر بحث کی جائے گی۔آثار صحابہ کے تحت میں تفسیر صحابہ کی تحقیق ، تاریخ کے ذیل میں قرآن کریم کی تنزیل وترتیب واشاعت کی تاریخ ، علوم کے نتیجے میں علوم قرآنیہ کے مباحث اور اس طرح دیگر ابواب میں بھی وہ موضوع وحید پیش نظررہے گا‘‘۔ (الہلال ،۳۰جولائی ، ۱۹۱۳، شمارہ : ۵ ، جلد ۳،ص: ۲)

’’البصائر ‘‘کی اردواشاعت کے ساتھ مولانا آزادنے اس کا عربی ایڈیشن بھی نکالنے کی منصوبہ بندی کی تھی ۔جیساکہ مندرجہ ذیل اعلان سے اندازہ ہوتا ہے:

’’القسم العربی یعنی البصائر کا عربی ایڈیشن جو وسط شوال سے شائع ہونا شروع ہوجائے گا اور جس کا مقصد وحید جامعہ ٔ اسلامیہ، احیائے لغۃ اسلامیہ اور ممالک اسلامیہ کے لئے مسلمانان ہند کے جذبات وخیالات کی ترجمانی ہے‘‘ ۔ (الہلال : ۶؍اگست ۱۹۱۳، جلد : ۳، شمارہ: ۶)

مولانا آزاد ۸؍جولائی ۱۹۱۶ سے ۲۷ ؍دسمبر ۱۹۱۹ تک رانچی میں نظربند رہے۔رہائی ملنے کے بعد مولانا آزاد یکم جنوری ۱۹۲۰ کو کلکتہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ اس کے بعد پھرجدوجہدِ آزادی سے متعلق مصروفیات میں منہمک ہوگئے، لیکن صحافت کی جانب ان کی طبیعت کامیلان پھر بھی باقی رہا اور وہ اس دوران بھی اخبار کی اشاعت کے بارے میں غوروفکر کرتے رہے ۔

ان کی اسی فکر اورتڑپ کانتیجہ ہفتہ وار ’’پیغام ‘‘ کی شکل میں ایک بار پھر سامنا آیا۔اس کا پہلا شمارہ ۲۳؍ستمبر ۱۹۲۱ میں کلکتہ سے منظر عام پرآیا۔ مولانا نے اس اخبار کی نگرانی کی، البتہ اپنی مشغولیات کے سبب ترتیب وتدوین کی ذمہ داری مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی کے سپرد کردی۔جلد ہی اس اخبار کو خاصی مقبولیت حاصل ہوگئی اور اس کی اشاعت ۱۰ہزار تک پہنچ گئی۔قارئین اس اخبار کو پڑھنے کے لئے کتنے مشتاق رہتے تھے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ اس کی قیمت دوآنہ فی شمارہ تھی لیکن کبھی کبھی وہ ایک ایک روپے میں فروخت ہو جاتااور ناشر قارئین کا مطالبہ پورا نہیں کرپاتاتھا۔حکومت روز افزوں ترقی کرتے ہوئے اس اخبار کو آخر کیسے برداشت کرسکتی تھی، اس لیے اسے بند کرانے کے لئے سرکار نے منصوبہ بندی شروع کردی ۔چنانچہ ایڈیٹر عبدالرزاق ملیح آبادی کو گرفتار کیا گیا اور ۱۰؍دسمبر ۱۹۲۱ کو خود مولانا آزاد کی گرفتاری بھی عمل میں آگئی۔اس کے بعدیہ اخباربند ہوگیا۔مجموعی طورپر یہ اخبار صرف ساڑھے تین مہینے ہی نکل سکا۔مولانا آزاد کی سرپرستی میں ایک عربی زبان کا رسالہ’’ الجامعہ‘‘ ۱؍اپریل ۱۹۲۳ کو شائع ہوا۔مولانا آزاد اس رسالے کے مضامین ومواد پر گہری نظررکھتے تھے ،البتہ اس رسالے کی ترتیب وتزئین کی ذمہ داری کے فرائض مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی کے سپردتھے۔اس رسالے نے ایک سال کی عمر پائی اور مارچ ۱۹۲۴ کے شمارے کے بعد بند ہوگیا۔(۲)

جوں جوں وقت آگے بڑھ رہا تھا، مولانا آزادی سیاسی وتحریکی سرگرمیوں میں زیادہ مصروف ہوتے جارہے تھے اور کسی چیز کے لیے بھی وقت نکال پانا مشکل ہوتاتھامگرچوںکہ مولاناکارشتہ صحافت کے ساتھ بہت گہراتھااور صحافت گویا کہ ان کے خون میں شامل تھی، اس لیے ایک بار پھراخبار نکالنے کا جذبہ ان کے سینے میں کروٹیں بدلنے لگا ، اس باران کا رُجحان روزنامہ نکالنے کی طرف ہوا،مگرپھر بعض وجوہات کی بناپریہ ارادہ تبدیل کردیا اور الہلال ہی کو دوبارہ جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا۔عبدالقوی دسنوی لکھتے ہیں:

’’ آخر ۱۹۲۷ پہنچتے پہنچتے ایک بار ہمت کرکے روزانہ نکالنے کا فیصلہ کرلیا لیکن معلوم نہیں کن وجوہ سے وہ اپنی اس خواہش کی تکمیل نہ کرسکے اور روزانہ اخبار کی جگہ کلکتہ سے ہفتہ وار ’’الہلال‘‘ نکالنے پر آمادہ ہوگئے‘‘۔ (حیات ابوالکلام آزاد: از عبدالقوی دسنوی، صفحہ: ۵۸۵۔۵۸۶)

مالک رام نے اردوروزنامہ نہ نکالنے کی وجہ وسائل وسرمایہ کی کمی کو قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’پیغام ‘کے بند ہوجانے کے بعد سیاسی سرگرمیوں نے انھیں کسی اور موضوع کے بارے میں سوچنے کی فرصت نہ دی لیکن وہ صحافت سے بے خبر نہیں رہے، کچھ دن وہ ایک روزنامہ جاری کرنے کے منصوبے پربھی غورکرتے رہے، لیکن اس کے لیے جتنے سرمایے اور اہتمام اور لاؤ لشکر کی ضرورت ہے اس کاانتظام آسان نہیں تھا۔آخر کار انھوں  نے روزنامے کا خیال چھوڑدیا اور الہلال ہی کو دوبارہ زندہ کرنے کی ٹھان لی‘‘۔  (کچھ ابوالکلام آزادکے بارے میں ، از مالک رام: ص: ۶۴)

الہلال کو از سرِنونکالنے کی کوشش کامیاب ہوئی اورایک دہائی سے زائد عرصہ کے وقفے کے بعد اس کا پہلاشمارہ ۱۰؍جون ۱۹۲۷ کو مطلعِ صحافت پر طلوع ہوگیا۔مولانا آزادکی خواہش تھی کہ الہلال اسی آب وتاب کے ساتھ نکلے تاکہ مقاصدِعظیمہ کاحصول اور طویل وقفے کی تلافی ممکن ہوسکے۔ مولانا کے جوش وجذبات کے تلاطم کا اندازہ مندرجہ ذیل اقتباس سے کیاجاسکتاہے:

’’ الہلال کے تیسرے دور کا پہلا پرچہ شائع کرتے ہوئے مقتضائے وقت نے فکروتصور کے گوشے میں جنبش پیداکردی۔۔۔۔۔جی چاہتا ہے گیارہ سال کی خاموشی کی تلافی ایک ہی مجلس میں کردیجئے لیکن مشکل یہ ہے کہ طبیعتیں طوالت بیان کی متحمل نہیں اور رشتۂ بیان کا یہ حال ہے کہ ایک مرتبہ کھل جائے تو پھر جلد لپیٹا نہیں جاسکتا‘‘۔  (الہلال: ۱۰؍جون۱۹۹۷)

اس مرتبہ’’ الہلال‘‘ کی ترتیب وتدوین کی ذمہ داری مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی کے سپرد کی گئی۔ اس نام کے ساتھ یہ الہلال کی دوسری بار اشاعت تھی، لیکن ۱۹۱۵ میں مولانا آزادکے ذریعے نکلنے والے ’’البلاغ‘‘ کو بھی الہلال کا حصہ تسلیم کیا گیا ہے ۔چنانچہ اس اعتبار سے’’ الہلال ‘‘کی ۱۹۲۷ئ کی اشاعت کو الہلال کا تیسرا دور کہاجاسکتاہے، جیساکہ خود مولانا آزاد نے مذکورہ اقتباس میں یہی لکھا۔

اول اور دوم کے ’الہلال‘ اور آخری دور کے’ الہلال‘ میں صوری اعتبار سے بڑا فرق تھا۔ایک یہ کہ اس مرتبہ الہلال کا پہلے جیسا ادارۂ تحریر نہ تھا،صرف مولانا عبدالرزاق تھے۔ دوسری طرف مولانا آزاد خود اپنی گوناگوں مصروفیات کے سبب زیادہ وقت نہیں دے پاتے تھے،یہاں تک کہ بعض اوقات وہ اس کے لیے خودبھی نہیں لکھ پاتے تھے، حالاںکہ جب الہلال کی اشاعت پہلی بار عمل میں آئی تھی تو مولاناآزاد اس کو پورا وقت دیتے تھے اورایڈیٹوریل میں ہندوستان کے نامور مشاہیر قلم کار تھے۔چنانچہ اس بار قارئین میں اس کوپہلی جیسی مقبولیت حاصل نہ ہوسکی اور الہلال ۹؍دسمبر ۱۹۲۷ئ کو بند ہوگیا ، اس کے بعد پھر کبھی یہ اخبار نہیں نکل سکا۔

نوسال کے بعد۱۹۳۶ میں قددانوں کے اصرار پر مولانا آزادنے ’’الہلال‘‘ کو جاری کرنے کاپھر من بنایا،البتہ اس بارانھوں نے اسے ہفتہ وار کی بجائے ماہانہ شکل میں نکالنے کی منصوبہ بندی کی۔ایک سال کے بجٹ کا تخمینہ بھی لگالیا گیاتھا لیکن اس کا انتظام نہ ہوسکا اورمولانا آزاد کی ماہانہ’الہلال‘ نکالنے کی خواہش سینے میں ہی دبی رہ گئی۔

’الہلال‘ مجموعی طورپر تین ادوار میں نکلا۔اس کا پہلا دور ۱۳؍جولائی ۱۹۱۲ تا۱۸؍نومبر۱۹۱۴ رہا۔دوسرا دور جس میں اس کا نام ’البلاغ‘ تھا ،۱۲؍نومبر ۱۹۱۵ تا۳۱؍مارچ ۱۹۱۶ رہا ، تیسرااور آخری دور ۱۰؍جون ۱۹۲۷ سے شروع ہوا اور۹؍دسمبر ۱۹۲۷ میں ختم ہوگیا۔’الہلال‘ کے ۱۳۵شمارے شائع ہوئے، چونکہ’ البلاغ‘ کو بھی الہلال میں شامل کیا گیا ہے، اس لیے اس کے ۱۱؍شماروں کو شامل کرنے کے بعد ’’الہلال‘‘ کے مجموعی شماروں کی تعداد ۱۴۶ہوتی ہے۔

مولانا آزادکی صحافت کے مقام کا تعین کرنے کے لیے ’الہلال‘ کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔کیوںکہ جس قدر صحافت کے جوہر مولانا آزاد نے اس کے صفحات پر دکھائے ہیں ، اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی ۔اگرچہ’ الہلال‘ مجموعی طورپر تقریباً تین سال شائع ہوالیکن اتنے قلیل عرصے میں اس نے کئی سطح پر قابل رشک کارنامے انجام دیے ۔دعوت دین جو مولانا آزاد کا اولین مقصد تھا،اسے الہلال نے بڑے دلکش اور پُرجوش انداز میں پیش کیا۔الہلال نے موثر کن انداز میں آزادی کے لئے بھی ماحول سازگارکیا۔ الہلال نے اردوصحافت کو ایک معیار بخشا اور اسے عروج تک پہنچایا۔الہلال نے صحافت کے ساتھ اردوادب کی بھی خدمت کی۔ مالک رام اپنی کتاب’’کچھ ابو الکلام  آزاد کے بارے میں‘‘ رقمطراز ہیں:

’’ صحافت کو بوجوہ ادب میں شمار نہیں کیاجاتا، لیکن الہلال کے کئی مضمون ادب میں بھی بلند مقام پانے کے مستحق ہیں،انہوں نے جومقالے مسلم یونیورسٹی علیگڑھ سے متعلق لکھے تھے اور جن میں طنزومزاح کا عنصر نمایاں ہے۔وہ ادبی لحاظ سے بہت قیمتی اور اہم ہیں‘‘۔  (ص: ۶۱۔۶۲)

الہلال کے بعد مولانا آزاد سیاسی سرگرمیوں میں بہت زیادہ مصروف ہونے کے سبب کوئی اور اخبار نہیں نکال سکے۔گویاکہ ادب وصحافت سے ان کا تعلق منقطع ہوگیا لیکن ان کے قلم کی تازگی ہمیشہ باقی رہی۔

 

مستقل خط وکتابت کا پتہ

Address: MD Yusuf S/O Hafiz Saleem

Mohalla Tandola Tanda Rampur U.P,

Pin: 244925

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

maulana azadمولانا آزاد
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
علی سردار جعفری کی حبسیاتی شعری تخلیقات ایک مختصر جائزہ – ڈاکٹر عبدالعزیزعرفانؔ
اگلی پوسٹ
سردار جعفری کی اقبال شناسی – ڈاکٹر عمیر منظر

یہ بھی پڑھیں

گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

جولائی 26, 2025

نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا...

فروری 1, 2025

لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو –...

جنوری 21, 2025

اردو کی زبوں حالی – ماریہ غزال

جنوری 18, 2025

مظفر فہمی “پر ایک طائرانہ نظر- ڈاکٹر منصور...

جنوری 6, 2025

دار المصنفین – ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

اکتوبر 8, 2024

دارالمصنفین کی مالیات کا مسئلہ : کیا کوئی...

اکتوبر 7, 2024

سچ، عدم تشدد اور مہاتما گاندھی – سید...

اکتوبر 3, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں