علی سردار جعفری ایک تعارف:
علی سردار جعفری کا شمار اردوزبان وادب کے اہم شعر اء ادباء میں ہوتاہے۔ان کی شخصیت ہمہ جہت شخصیت تھی وہ بیک وقت ایک بلندپایہ شاعر وادیب ، ناقد،محقق،نثرنگار،ڈراما، افسانہ نویس،صحافی،خطیب،فلم سازاور ہدایت کارتھے۔ساتھ ہی وہ ایک انقلابی اور ترقی پسند شاعرتھے۔اور ترقی پسندفکر وفلسفہ تحریک کے اہم ستون تھے۔۲۹؍نومبر ۱۹۱۳ء بلرام پور ضلع گونڈہ میں پیداہوئے۔والد محترم کانام سید جعفر طیارجعفری،والدہ محترمہ زاہدہ خاتون جعفری اور سادات جعفری کے خاندان سے تعلق تھا۔
لکھنویونیورسٹی سے ایم اے (سال اول) کیا ۔سال دوم میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تھے کہ انہیں خارج کردیا گیا اور فائنل امتحان میں بیٹھنے نہیں دیا۔ طلباء فیڈریشن کے سیکریٹری تھے۔دوسرے تحریک آزادی کا زمانہ تھا۔اسی دوران ان کی عملی سیاست کا آغازہوتا ہے۔اس احتجاج کی وجہ سے گرفتارہوئے اور مقید ہوئے ۔ پہلی مرتبہ ۱۹۴۰ء میں گرفتارہوئے اور دوسری مرتبہ ۱۹۴۹ء میں یہی وجہ سے ان کی انقلابی اور باغیانہ شاعری کی ابتداء ہوئی ہے۔
ان کی تصانیف میں پرواز،خون کی لکیر ،نئی دنیا کو سلام، امن کا ستارہ ،ایشیا جاگ اٹھا،پتھر کی دیوار،ایک خواب اور پیراہن،لہوپکارتا ہے ،سرحد ،لکھنو کی پانچ راتیں،اقبال شناسی وغیرہ کی شمولیت ہے۔انہیں بہت سے انعامات واعزازات سے نوازاگیا۔سویت لینڈ ہزوا یوارڈ۶۵،پدم شری،اقبال میڈل پاک،فیض عالمی ایوارڈ،سنت گیانیشور ایوارڈمہاراشٹر،گیان پٹھ ایوارڈ،عالمی امن ایوارڈہا رورڈ یونیورسٹی ۱۹۹۹ء وغیرہ سے نوازے گئے۔۱۹۹۹ء میں وزیر اعظم اٹل بہاری واجبپئی کے ساتھ پاکستان گئے۔موصوف کی بہت سی ادبی ثقافتی سرگرمیاں بے شمار ہیں۔آپ یکم اگست ۲۰۰۰ء کو ہمارے درمیان سے رخصت ہوئے۔
حبسیاتی ادب اورعلی سردار جعفری:
پنڈت برج موہن دقاترکیفی نے سچ کہاہے ؎
اردو بنی ہے مسلم و ہندو کے میل سے
دونوں نے صرف اس پہ دماغ اور دل کے
قوموں کے اتحاد کا یہ شاہکار ہے
کلچر کا اس کی ذات پہ دارومدار ہے
تاریخ ہند کی ہے وہ سرتاج آج تک
ہے اتّحاد و انس کی معراج آج تک
ادب،انسان کے خیالات وجذبات کے اظہار کانام ہے۔عام طورپرادب زندگی کی آئینہ دار تحریر ہے۔ادب زندگی کے وسیع ترمسائل کا احاطہ کرتا ہے اور اس کے ذریعے پروان چڑھتا ہے ۱؎ مختصراً یہ کہاجاسکتا ہے کہ ادب انسان کے خیالات وجذبات کا ترجمان ہوتا ہے اورادیب وشاعر اپنے زمانے کا آئینہ دار ہوتا ہے ۔ وہ جوکچھ دیکھتا ہے اور سنتا ہے اسے اپنے قلم سے صفحہ قرطاس پر بکھیر دیتا ہے جس میں زندگی کی حقیقت حسن بیان وحسن خیال کے ساتھ جلوہ گرہوتی ہے اسی کانام ادب ہے۔حسن بیان اور حسن خیال کے لحاظ سے ادب کی مختلف اقسام وجود میں آئیں جن میں سے ایک یعنی حبسیاتی ادب ہے۔
حبسیاتی ادب:
حبس کے لغوی معنی ہیں قید ،بند اور قید خانہ ۲؎ حبسیات سے مراد قید وبند سے رکھنے والی چیزیں ہیں ۳؎ قیدایک طرح کی دل ودماغ پر پابندی اور ممانعت ہوتی ہے۔قیدکے معنی بھی اسیری ،پابندی اور ممانعت کے ہوتے ہیں۔دوران اسیری ،قیدی کو قید خانے میں بہت سخت پابند یوں میں رکھاجاتاہے اور جیل کے قوانین کے تحت رکھاجاتا ہے توپابندیوں کاعائد ہونا لازمی ہوتا ہے۔ساتھ ہی جرم کے اعتبار سے مجرم سے سلوک کیاجاتا ہے ۔سخت محنت کے ساتھ سزادی جاتی ہے جسے قید بامشقت کہاجاتاہے۔مقید ادبیوں اور شاعروں نے اپنے تاثرات ،خیالات وجذبات کااظہار نثر یاشاعری میں کیاہے۔اسی نثری یاشعری اظہار کو ہم حبسیاتی ادب کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
علی سردار جعفری کی حبسیاتی شعری تخلیقات:
ہمارے دل کی پتش سے چراغ جلتے ہیں
ہماری تشنہ لبی مے کدے بناتی ہے
یہ آواز تھی انقلابی اور اشتراکی شاعرعلی سردار جعفری جن کی شاعری باغیانہ اندازاور بلند آہنگی کی بھی حامل ہے۔سردار جعفری ترقی پسند ادیب او شاعر بھی تھے۔ بچپن سے ہی حق اور صداقت کے حامی تھے ۔وہ سچائی کے علمبردار بھی تھے۔ظلم وزیادتی کو کسی حال میں برداشت نہیں کرتے تھے۔ ظلم کے خلاف صدائے احتجاج اٹھانا ، اپنا فرض سمجھتے تھے۔حق اور صداقت کے لئے جان کی بازی لگا دینا انسانیت کی دلیل سمجھتے تھے چنانچہ وہ کہتے ہیں:
اسی سے تیغ نگہ آبدار ہو تی ہے
تجھے بتاؤں بڑی شے ہے جرأت انکار
جب ہوں اسواسیر بازار تو ہے لطف سخن
حرف حق جب ہو سردار تو ہے لطف سخن
مصلحت وقت کی اقرار سکھائے لیکن
دل میں ہو جرأت انکار توہے لطف سخن
ظلم کے خوف کے اور موت کے سنائے میں
ایک ایک لفظ ہو بیدار توہے لطف سخن
ہے ہمیشہ سے یہی افسانہ پست وبلند
حرف باطل زیب ممبرحرف حق بالائے راز
سردار وہ اس روشنی کو عرفان ذات کی روشنی کہتے ہیں۔اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’عرفان ذات کی یہ روشنی تمام ترقی پسند ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات میں جگمگا رہی ہے۔‘‘چنانچہ وہ اپنی شاعری کو ’’نالہ ینم بنتی‘ ‘اور’’ آہ سحر گاہی‘‘نہ بناکر اسے بیک وقت ستارکا نغمہ اور تلوار کی جھنکاربنانا چاہتے ہیں وہ رقمطراز ہیں:
میرے سامنے اقبالؔ کا پیش کیا ہوا یہ آدرش ہے ؎
جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دل جس سے پہاڑوں کے دہل جائیں وہ طوفان
(چھتر کی دیوار ۷؎ )
سرداربچپن سے ہی تلاش حق کی تائید کرنا جانتے تھے۔سچائی اورانصاف کی حمایت اور پرزورتائید کرتے تھے۔انگریزوں کے خلاف سیاسی سرگرمیوں کے جرم میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے خارج کردیا گیا اور انہیں ایم اے سال دوم امتحان میں بیٹھنے نہیں دیاگیا۔تحریک آزادی میں شریک ہوئے۔جس کی وجہ سے دوبارہ جیل جاناپڑا۔پہلی مرتبہ ۴۰۔۱۹۳۹ء میں لکھنوجیل میں داخل زنداں ہوئے تقریباً آٹھ ماہ مقیدرہے۔ ۱؎ دوسری مرتبہ ناسک جیل داخل ہوئے اور تقریباً دیڑھ سال قید رہے ۔ ۲؎ یہیں سے ہی سردار جعفری کی سرداری اور سیاسی سرگرمیوں کا آغازہوتا ہے۔وہ علی گڑھ پہنچنے پر ہی سردار بنائے گئے۔اسٹوڈنس فیڈریشن کے سیکریٹری بنائے گئے ۔اس احتجاج میں باغیانہ رویہ غالب ہوتا تھا چنانچہ سردار نے کیاتھا ؎
اسی سے تیغ نگہ آبدار ہوتی ہے تجھے بتاؤں بڑی شئے ہے جرأت انکار
ان احتجاج سے سردار جعفری سردار بنائے گئے ۔اس احتجاج اور بغاوت کی وجہ سے ان کی شاعری میں انسان دوستی ‘ عالمی امن ،بین الاقوامی اُخوت وغیرہ کی شمولیت ہوتی ہے۔حق تلفی،نا انصافی ،انقلاب ،استحصال ،تعصب اور نابرابری کے خلاف جہاد ان کا مسلک بن چکا تھا۔یعنی اب سردارانقلابی آوازالاپ رہے تھے۔ان کے یہاں انقلابی صدائیں بڑھنے لگیں۔
’پتھر کی دیوار‘ ان کی دوسری حبسیاتی تصنیف ہے۔اس میں وہ نظمیں ہیں جو ناسک اور بمبئی کی جیلوں میں کہی گئیں :
کیا کہوں بھیانک ہے یا حسیں ہے یہ منظر خواب ہے کہ بیداری کچھ نہیں چلتا
جیل کی فـضاؤں پر آج بھی اندھیرا ہے جیسے ریت میں گرکر دھوپ جذب ہوجائے
علی سردار جعفری کی نظم ’’تمہاری آنکھیں‘‘ ایک طویل آزاد نظم ہے جو فکر ی محاسن کے علاوہ فنی اوصاف سے بھی مملو ہے۔ یہ نظم اس قابل ہے کہ تمام وکمال نقل کی جائے۔ ملاحظہ فرمائیں ؎
حسین شفاف مسکراتی جوان آنکھیں
لرزتی پلکوں کی چلمنوں میں
شہابی چہرے پہ ابروؤں کی کماں کے نیچے تمہاری آنکھیں
وہ جن کی نظروں کے ٹھنڈے سائے میں میری الفت
میری جوانی کی رات پروان چڑھ رہی تھی
تمہاری آنکھیں اندھیری راتوں میں جوستاروں کی روشنی سے
فضائے زنداں میں جھانکتی ہیں میں لکھ رہا ہوں
تمہاری آنکھیں سفید کا غذ پر اپنی پلکوں سے چل رہی ہیں
میں پڑھ رہا ہوںہر ایک مسطر کی بھنوؤں کے نیچے لزررہی ہیں
میں سورہا ہوں تمہاری آنکھیں تمہاری پلکیں
کہانیاں سی سنارہی ہیں ساتھیوں میں گھرا ہوا ہوں
ہماری آنکھوں سے جب بہاریں جھلک پڑیں گی
’پتھرکی دیوار‘میں بہت سی نظمیں مثلاً یلغار،زنداں بہ زنداں ،جیل کی رات ،سجاد ظہیرکے نام،بھوکی ماں،بھوکابچہ ،اور موت وغیرہ اچھی نظمیں ہیں:
سردار کہتے ہیں ؎
ہم سفر یہ ہوں تو پھر عزم سفر کیاکہنا رنگ شب یہ ہوتو پھر رنگ سحر کیا کہنا
(سنٹرل جیل ناسک،اپریل ۱۹۵۰ء)
بخشا ہے انہیں جہد ملسل کے عمل نے
وہ ذوق لطافت کہ ہے پروردہ طوفان
شاعر کو یقین ہے کہ نکھر آئے گا اک روز
وہ حسن جو افلاس کی چادر میں ہے پنہاں
عزم مسکراتے ہیں
اور نگہ کی لرزش میں
حوصلے مچلتے ہیں
تیوریوںکی شکنوں میں
نقش پانعاوت کے
انقلاب زندہ باد
’’ایشیاء جاگ اٹھا ‘‘اور ’’پتھرکی دیوار‘‘کے علاوہ سردار جعفری نے متعد دمعیاری پراثر اورسحر انگیزنظموں کااردو شاعری میں اضافہ کیا ہے۔یہ نظمیں ہمارے موضوع سے خارج ہیں تاہم ان کی حبسیاتی شاعری بھی ان خصوصیات سے خالی نہیں ہے ۔وہ نہ صرف ترقی پسند شاعری کی بہترین مثال ہیں بلکہ اردو کی حبسیاتی شاعری کوبھی وقار عطا کرتی ہیں۔
خصوصیا ت کلام:
بقول نند کشور وکرم مدیر جریدہ’ عالمی اردو ادب‘نے پیش لفظ کے آخر میں لکھا تھا کہ سردار جعفری ایک عظیم المرتبت شاعری تھے ان کی شاعری ترقی پسند نظریات ‘ انسان دوستی‘کلاسکی اقدار ‘فرقہ وارانہ ہم آہنگی اورعالمی بھائی چارے کاایک ایساامتراج ہے جس نے انہیں اس دور کاایک ایسا آفاقی شاعر بنادیا ہے۔جسے اردو ادب بھی فراموش نہیں کرے گا۔‘‘
بالکل صحیح فرمایاہے ۔ان کی شاعری کے مختلف سوت اور جہات ہیں۔مختلف سمت ہیں۔مختلف سوت نکلے ہیں ۔جہاںانسان دوستی ‘عالمی بھائی چارہ ‘ترقی پسند نظریات ‘ہمدردی دوستی ویگا نگت اور محبت کااظہار ‘بغاوت وانقلاب ‘اوراحتجاج ‘صداقت وحق پسندی ‘جیسی خصوصیات ان کی شاعری میں پائی جاتی ہیں۔لیکن موضوع کومدنظر رکھتے ہوئے ان کی حبسیاتی شعری تخلیقات خصوصیات کی حامل ہیں۔اس کا سرسری کا جائزہ پیش کرنا ضروری ہے۔
(۱) حبسیاتی ادب دوران قید وبند معرض وجود میں آئے ہوئے فن پاروں اور شہ پاروں کا شمار حبسیاتی ادب میں ہوتا ہے۔
(۲) حبسیاتی ادب میں مقام قید وبند کوائف وحالات کی ترجمانی کی جاتی ہے۔
(۳) ادب اظہارفن سے عبارت ہے حبسیاتی ادب بھی اظہار فن سے عاری نہیں ہوتا۔اس میں ادب کی فکری وفنّی خوبیاں ہوتی ہیں۔
(۴)حبسیاتی ادب حق وباطل کانتیجہ میں وجود پذیر ہوتا ہے ۔چنانچہ جعفری حق وصداقت کے لئے آواز اٹھاتے ہیں۔
(۵) چونکہ سردار کے احتجاج میں باغیانہ رویہ غالب تھا ،اس میں انکار کا صاف رنگ دکھائی دیتا تھا اسی لئے کہتے ہیں ؎
اسی سے تیغ نگہ آب دار ہوتی ہے تجھے تباؤں بزی شے ہے جرأت انکار
(۶)حبسیاتی ادب میں آزادی اور بغاوت کا رنگ بھی دکھائی دیتا ہے ،آزادی کا مطالبہ ہوتا ہے نظم آزادی میں کہتے ہیں:
تفرقہ پڑتا ہے جب دنیا میں نسل ورنگ کا لے کے میں آتی ہوں پرچم انقلاب وجنگ کا
رفعت عرش بریں سے پرفشاں ہوتی ہوں میں صبح کے زریں تبسّم میں عیاں ہوتی ہوں میں
(آزادی)
’ایشیاجاگ اٹھا‘میں کہتے ہیں:
اسی لئے توہے زنداں کو جستجو میری کہ مفلسی کو سکھائی ہے سرکشی میںنے
دل ونظر کو ابھی تک وہ دے رہے ہیں فریب تصورّات کپت کے قدیم بُت خانے
انقلاب آئے گا رفتار سے مایوس نہ ہو بہت آہستہ نہیں ہے جو بہت تیز نہیں
(۷) سردارکے یہاں افلاس ‘ظلم اور جبرکو ختم کرنے کے سلسلے میں صدائے احتجاج بلندہوتی ہے ۔یہی صداپتھرکی دیوار،اور ایشیاء جاگ اٹھا ،میں سنائی دیتی ہے۔سردار جعفری کی اسی شاعری کے بارے میں سیداحتشام حسین نے درست کہاہے کہ ؎’’ان کی شاعری میں انسان دوستی ‘عالمی امن‘بین الاقوامی اخوت وغیرہ سمٹ کر آگئی ہیں حق تلفی ‘ناانصافی ‘استحصال ‘نابرابری اور تعصّب کے خلاف جہاد ان کا مسلک بن چکا ہے۔‘‘۴ ؎ (تنقید اورعلمی تنقید ۔ص:۲۵۰)
حرف آخر :
زیر نظر عنوان کافی اہمیت رکھتا ہے۔علی سردار جعفری کے انقلابی اور ترقی پسند خیالات سے اردو شاعری نئے رنگ وآہنگ سے آشناہوئی اور اپنے فکری کردار سے بھی مالامال ہوئی۔سردار تبدیلی وتغیر کے خواہاں تھے۔اس لئے ان کی یہاں ایجی یشنل شاعری کی ابتدائی ہوئی اسی احتجاج اور باغیانہ رویہ نے یہ کہنے پرمجبور کیا:
اسی سے تیغ نگہ آب دار ہوتی ہے تجھے بتاؤں بڑی شے ہے حیرات انکار
دوسری جانب سے صداآتی ہے:
ہمارے دل کی پتش سے چراغ جلتے ہیں
ہماری تشنہ لبی مے کر لے بناتی ہے
اسی دل کی تیش نے حبسیاتی شعری تخلیقات کو جنم دیا۔وہ نہ صرف ترقی پسند شاعری کی بہترین مثال ہیں بلکہ اردو کے حبسیاتی شاعری کو بھی وقار عطا کرتی ہیں۔اسی لئے سجاد ظہیر نے کہا ہے: ’’سردار جعفری کی شاعری جدید اردو شاعری میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔جعفری کی شاعری ایک ایسا آئینہ ہے جس میں اردوکی ترقی پسند خلاقی اپنی پوری آب وتاب اور اپنے تمام پیج وخم کے ساتھ دیکھی جاسکتی ہے۔‘‘
حوالہ جاتی واستفادہ کردہ کتب:
(۱)عملی اور عملی تنقید ۔سید احتشام حسین
(۲)بنے بھائی۔ مرتبہ عتیق احمد
(۳)ضبط شدہ نظمیں ۔مرتبہ خلیق انجم ،مجتبیٰ حسین
(۴)ایشیاء جاگ اٹھا ۔علی سردار جعفری
(۵) پتھر کی دیوار ۔سردار جعفری
(۶)ماہنامہ اردو دنیا ۔نومبر ۲۰۱۳ء (قومی کونسل برائے اردو زبان ،نئی دہلی )
(۷)اردو ادب کی تنقیدی تاریخ۔سید احتشام حسین(۱۹۸۳ء)
(۸)مختصر اردو لغت ۔قومی کونسل برائے اردو زبان ۔نئی دہلی
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

