دھیہ پردیش اردو اکادمی،مدھیہ پردیش سنسکرتی پریشد، محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام یادِ مجروح سلطانپوری کے تحت ”کارواں بنتا گیا“ موضوع پر سیمینار اور مشاعرہ کا انعقاد 27 نومبر، 2021 کو دوپہر 3:00 بجے سے رویندر بھون، بھوپال میں معروف فلم اداکار، ہدایت کار اور فلم ساز سچن پِلگاؤں کر اور رومی جعفری -ممبئی کی باوقار موجود گی میں کیا گیا.
پروگرام کی شروعات میں مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام یاد مجروح سلطانپوری کے تحت انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔مجروح سلطان پوری نے فلمی نغموں میں بھی اردو شاعری کے معیار کو قائم رکھا. پروگرام تین اجلاس پر مبنی تھا ۔ پہلے اجلاس میں 3: ڈاکٹر محمد نعمان خان۔ بھوپال اور ڈاکٹر صادق۔ دلّی، مجروح سلطانپوری کے فن و شخصیت پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انھوں نے مجروح سلطان پوری کی حیات و خدمات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جن میں سے کئی پہلو ایسے تھے جو آج لوگوں کو معلوم نہیں ہیں. پروفیسر صادق نے کہا کہ مجروح کی شاعری کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، ایک حصہ فلمی شاعری کا، دوسرا حصہ ادبی شاعری کا ہے. ادبی شاعری میں صنف غزل پر ان کا کام ناقابل فراموش ہے. انھوں نے غزل کی روایت کی پاسداری رکھتے ہوئے غزل کو آگے بڑھایا اور اس کی توسیع کی، اور فلمی گیتوں میں بھی انھوں نے معیار سے سمجھوتہ نہیں کیا. ڈاکٹر محمد نعمان خان نے کہا کہ مجروح سلطانپوری کی شاعرانہ عظمت یہ ہے کہ ان کی شاعری صرف ان کے عہد تک محدود نہیں ہے. ان کی شاعری نہ صرف یہ کہ ان کے عہد پر روشنی ڈالتی ہے بلکہ اس میں آئندہ زمانے کے لیے بھی رہنمائی موجود ہے. مجروح الفاظ اور شاعرانہ اصطلاحات کے بادشاہ تھے. اس اجلاس کی نظامت کے فرائض اقبال مسعود نے انجام دیے۔ دوسرا اجلاس شام 4:00 بجے شروع ہوا جس میں معروف فلم اداکار، ہدایت کار اور فلم ساز سچن پِلگاؤں کر جنہیں مجروح سلطانپوری اپنا بیٹا مانتے تھے، اور فخر بھوپال و معروف فلم ہدایت کار رومی جعفری مجروح نے مجروح کے فن و شخصیت، اردو اور فلموں کے حوالے سے دلچسپ گفتگو کی اور مجروح کی فلمی زندگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی. اس موقع پر سچن پلگاؤں کر نے مجروح سلطان پوری سے جڑے اپنے بچپن کے قصوں کو یاد کرتے ہوئے عیدی والا قصہ بیان کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ابا(مجروح سلطان پوری) میرے لکھنے پڑھنے اور ادب کے شوق کو مجھ سے بھی زیادہ سمجھتے تھے. اس لیے عید کے موقع پر انھوں نے جہاں سب بچوں کو دس روپے عیدی دی وہاں مجھے اپنی ایک غزل خالص اردو میں اسی وقت ایک کاغذ پر لکھ کر بطور عیدی عنایت کی جس کے ابتدائی اشعار درج ذیل ہیں.
مانا شب غم صبح کی مرہم تو نہیں
سورج سے ترا رنگ حنا کم تو نہیں
اب کارگہ دہر میں لگتا ہے بہت دل
اے یار کہیں یہ بھی تیرا غم تو نہیں
اس اجلاس کی نظامت کے فرائض ثمینہ علی صدیقی نے انجام دیے.۔آخری اجلاس میں شام 6:00 بجے کل ہند مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا. مشاعرے کی صدارت ڈاکٹر سلمی شاہین نے فرمائی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر کلیم قیصر نے بحسن خوبی انجام دیے.
جن شعراء نے اپنا کلام پیش کیا ان کے اسمائے گرامی اور منتخب اشعار درج ذیل ہیں
آئینہ دیکھا انھوں نے، انھیں آئینے نے
دونوں کو آج مزہ مل گیا حیرانی کا
(ڈاکٹر سلمیٰ شاہین)
محبت کرنے والوں کی حمایت میں بھی کرتا تھا
حمایت شرط تھی محبت میں بھی کرتا تھا
(ڈاکٹر کلیم قیصر)
وقت نکاح میں جو تھے دولہا بنے ہوئے
بلوایا عورتوں نے سلامی کے واسطے
ہم رخصتی کے وقت یہی کہتے چل پڑے
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
(پاپولر میرٹھی)
ترقیوں کے دور میں اسی کا زور چل گیا
بنا کے اپنا راستہ جو بھیڑ سے نکل گیا
(نعیم اختر خادمی)
خدا کا شکر ہے ماں باپ کی دعاؤں سے
یقین جانیے محفوظ ہوں بلاؤں سے
(عارف علی عارف)
عشق سچا ہے تو امکان میں آسکتا ہے
چاند چھت سے بھی مرے لان میں آسکتا ہے
(قاضی ملک نوید)
پھر اس کے بعد کا رستہ بچی سانسوں سے پوچھیں گے
وہاں تک چل جہاں زندگی امید دیتی ہے
(رینو نیر)
اب کے بچھڑا تو بچھڑنے پہ گیا سارا خوف
ساتھ رہتا تھا تو دھڑکا سا لگا رہتا تھا
( تارا اقبال)
یہ پہلا عشق ہے تمہارا سوچ لو
میرے لیے یہ راستہ نیا نہیں ہے
(اظہر اقبال)
مجھے بھی کچھ نہیں کہنا کہ اب خموشی ہی
ہمارے بیچ کوئی راستہ نكالے گی
( دھیریندر سنگھ)
پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر نصرت مہدی نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا..
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

