شاہد علی خاں،شوکت حیات، انجم عثمانی،مشرف عالم ذوقی اورمولا بخش کی وفات پرشعبۂ اردوبنارس ہندویونیورسٹی میں آن لائن تعزیتی جلسے کا انعقاد
وارانسی:اردو کے منفرد اور مقبول فکشن نگار شوکت حیات،مشرف عالم ذوقی اورانجم عثمانی، مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ کے سابق جنرل مینیجراور نئی کتاب کے مدیرجناب شاہد علی خاں، معروف نقاد اور شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے استاذپروفیسر مولا بخش اسیر کے انتقال پر شعبۂ اردوکی جانب سے گوگل میٹ پر آن لائن تعزیتی جلسے کاانعقادکیا گیا۔اس موقع پر صدرشعبہئ اردو پروفیسر آفتاب احمدآفاقی نے فرمایا یا کہ ہم آزمائش سے پُرایک سیاہ دور سے گزر رہے ہیں۔ ایسا کڑا وقت اردو کیا انسانیت کی تاریخ میں شاید ہی گزرا ہو۔ ان حالات میں اردو کی اہم شخصیات بالخصوص شاہد علی خاں، شوکت حیات، انجم عثمانی،مشرف عالم ذوقی،مولا بخش اور ان سے پہلے پروفیسرظفرالدین کا راہیِ عدم ہوجانا تکلیف دہ تو ہے ہی ساتھ ہی اردو شعر وادب کا ایسا نقصان ہے جس کی تلافی شاید ممکن نہیں۔ مشرف عالم ذوقی سے میرا تعلق گزشتہ تیس برسوں سے تھا۔ وہ بہت دوست دار، بے تکلف بے باک اور ہمدردانسان تھے۔ ذوقی صاحب قلم کی حرمت سے واقف تھے۔ ان کے افسانوں اورناولوں پرزبان وبیان کے حوالے سے گفتگوہوسکتی ہے، البتہ ایک ادیب کی جوذمہ داری ہوتی ہے؛ اس کوانھوں نے بحسن وخوبی اداکیاہے۔ وہ حق وصداقت کی زندہ مثال تھے۔ ان کی تخلیقی نگارشات میں ایک جذبہ ہے، وہ مظلوموں کی نمائندگی کے مقصدکے تحت لکھ رہے تھے۔ ظالموں کے خلاف سوشل میڈیاپربہت کچھ لکھتے تھے نیز انھوں نے اپنی بے باکی اور دانشوری نیز دوراندیشی کا ثبوت حالیہ دنوں میں شائع ہونے والے ناولوں اور اپنے صحافتی مضامین میں دیا ہے۔ وہ مصلحت کوشی سے عاری اور حق انصاف کے علم بردار تھے۔ ہماری درخواست پر کئی مرتبہ شعبے میں تشریف لائے۔وہ طلبہ سے گھرے گھنٹوں باتیں کیا کرتے تھے۔انجم عثمانی نستعلیق شخصیت کے مالک تھے۔دوردرشن اور آل انڈیا ریڈیو کی اردو مجلس میں ان سے ملاقاتیں رہیں۔ انھوں نے جو افسانے لکھے وہ اپنے وقت کے بہترین ترجمان ہیں۔ شاہد علی خاں مکتبہ جامعہ کے مینیجر تھے۔ انھوں نے مکتبہ جامعہ، کتاب نما اور پیام تعلیم کو جو بلندی عطا کی اس کا تصور خواب سا معلوم ہوتا ہے۔وہ طلبا اور نئی نسل کے لکھنے والوں کے ساتھ نہایت محبت اور شفقت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کا حوصلہ اسی طرح قائم رہا وہ برسوں تک نئی اور پرانی نسل کی تحریروں کی اصلاح کرتے رہے اور انھیں اپنے رسالوں میں اہتمام کے ساتھ شائع کرتے۔رسالوں کو ایسے باصلاحیت، بامروت اور وضع دار مدیرشاید ہی ملے۔پروفیسر مولا بخش سے میرا تعلق اس وقت ے ہے جب وہ رانچی میں زیرتعلیم تھے۔انھوں نے اپنی ذاتی زندگی میں بہت محنت و مشقت کی اور کئی طرح کے کام کیے جن سے ان کی محنت اور لگن کا اندازہ ہوتا ہے۔ایک وقت ایسا بھی آیا جب انھوں نے صرف کتابوں کو اپنا اوڑھنابچھونا بنا لیا اور یہ محنت رنگ لائی۔ ان میں رفتہ رفتہ نکھار آتا گیا۔ان کی تقریر و تحریر میں ایک نوع کی تازگی ہوتی تھی جوقارئین اور سامعین کو فکر و خیال پر ابھارتی تھی۔ مشرقی اور مغربی روایات نقد پر ان کی مضبوط گرفت تھی، اگر یہ کہا جائے کہ معاصر ناقدین میں وہ سب سے سربلند تھا تو کچھ بے جا نہ ہوگا۔وہ ادھر تنقید پر مسلسل کام کررہے تھے۔ ہماری درخواست پر دستک کے لیے کبیر کے تعلق سے ایک بھرپور مقالہ لکھا جو تازہ کبیر نمبر میں شامل ہے۔انھوں نے شوکت حیات کے تعلق سے کہا کہ ابھی کچھ دنوں قبل ان سے بات ہوئی تھی۔ شوکت حیات نے جوبھی لکھا، زبان کی سطح پر، طرزنگارش کی سطح پروہ بہت بلندہیں، جس محفل میں بھی وہ ہوتے تھے؛ اپنی گفتگوسے اس محفل کولوٹ لیتے تھے۔ گنبد کے کبوتر میں شامل افسانوں کاتذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بہار کے افسانہ نگاروں کے تعلق سے ان کی زبان پرجو گرفت کی جاتی ہے شاید ان ناقدین کی نظر سے شوکت حیات کے افسانے نہیں گزرے۔ ایسی پختہ اور رواں نثر ان کے معاصرین کے یہاں شاید ہی ملے۔ ڈاکٹرمشرف علی نے مشرف عالم ذوقی، انجم عثمانی اور شوکت حیات کے انتقال کو اردو فکشن کی محرومی قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ان تینوں کا ایک ساتھ چلے جانا نہ صرف اردو ادب کا نقصان ہے بلکہ انسانیت کے حق میں آوازہ بلند کرنے اور فسطائی طاقتوں سے لوہا لینے کی اہم آوازوں کاخاموش ہوجانا بھی ہے۔ شاہد علی خاں سے میرا ذاتی تعلق نہیں تھا لیکن کتاب نما اور مکتبہ جامعہ کو وقار عطا کرنے میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔ مولا بخش کی حیثیت میرے لیے بڑے بھائی جیسی تھی۔ انھوں نے کہاکہ شعبۂ اردو سے ان کا گہرا رشتہ تھا۔ ’اردواورہندی کی ساجھی وراثت‘ سیمینار میں انھوں نے جو تقریر کی تھی اس کی حیثیت تاریخی ہے۔جدید تنقید پر انھیں جو دست رس تھی وہ ہندوستان میں شاید ہی کسی اورمعاصر نقاد کے حصے میں آئی ہو۔ان کا بے وقت جانا اردو شعر و ادب بالخصوص اردوتنقید کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔ڈاکٹررشی کمار شرما نے مشرف عالم ذوقی اور مولیٰ بخش کے انتقال کو اردو فکشن اور تنقید کا بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہ ان لوگوں کا جانا ایک طرح سے رہنماؤں کا جانا ہے۔ اب ہمارے پاس ایسے لوگ کم رہ گئے ہیں جو نئی نسل کی رہنمائی کرسکے۔ڈاکٹرمحمدقاسم انصاری نے انجم عثمانی، مشرف عالم ذوقی اور مولیٰ بخش کی شخصی اور پیشہ وارانہ سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ ان لوگوں سے دہلی میں اکثر ملاقات ہوتی رہی، ان سب کا گزر جانا ہمارے لیے بڑا خسارہ ہے۔ ڈاکٹر رقیہ بانو نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے فیس بک اور وہاٹسپ دیکھتے ہوئے یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ نہ جانے کس کی خبر آجائے۔ ایک عجیب بے کسی کا ماحول ہے۔ ایک ایک کرکے ہمارے نامور قلم کار اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ڈاکٹر افضل مصباحی نے انجم عثمانی، مشرف عالم ذوقی اور مولیٰ بخش کے کارناموں کا تذکر کرتے ہوئے انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔ ڈاکٹراحسان حسن نے بذریعہ فون اپنی تعزیت کا اظہار کیا اور مرحومین کے لیے مغفرت کی دعا کی۔ جلسے کی نظامت کے فرائض شعبۂ اردو کے استاد ڈاکٹر عبدالسمیع نے انجام دیے۔ انھوں نے مذکورہ اہم شخصیتوں کاتعارف بھی پیش کیااوران کی خدمات کے حوالے سے گفتگوبھی کی۔ اس آن لائن تعزیتی نشست میں عظیم اسلامی اسکالر مولانا وحید الدین خاں، مناظر عاشق ہرگانوی، تبسم فاطمہ، ڈاکٹرسیدرضاحیدر ڈائریکٹر غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی اور رسالہ اسپین کے نائب مدیرتحسین عثمانی کے لیے بھی تعزیت کا اظہارکیا گیا اورتمام مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔اس تعزیتی نشست میں بڑی تعدادمیں طلبہ وطالبات اور ریسرچ اسکالرزنے شرکت کی۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

