سیداحمد شمیم کے ’’کاسۂ شب ‘‘میں تلاشِ ذات کاعمل – عشرت ظہیر
سیداحمد شمیم کاتازہ شعری مجموعہ ’’کاسۂ شب ‘‘ میرے پیش نظر ہے۔
سیداحمدشمیم کی شاعری کامیں70کے دہے سے اسیرہوں ۔ مظہر امام ،حسن نعیم ، شاہد احمد شعیب اوروہاب دانش کے ساتھ ہی ساتھ، یہ سید احمد شمیم کی شاعری کے عروج کازمانہ تھا۔ان دنوںمیں ،کلام حیدری کے ادارہ کلچرل اکیڈمی سے منسلک تھا،اوروہاں سے شائع ہونے والے جریدے ،آہنگ اورمورچہ کے معاون مدیرپروفیسر تاج انورکواسسٹ کیاکرتاتھا۔ان دنوں سیداحمدشمیم کی نظمیںاورغزلیں ’’مورچہ ‘‘کے پہلے صفحہ پربڑے اہتمام سے شائع ہواکرتی تھیں۔
سیداحمدشمیم بطورپروفیسرجمشیدپورمیں خاصے مقبول رہے ہیں،اوربحیثیت شاعر،اسلوب کی ندرت اورفکری تنوع کے حامل شاعر ہونے کے سبب ان کی خاص پہچان تھی۔ان کی شاعرانہ عظمت اورقدرومنزلت کے تعین میں شمس الرحمن فاروقی ،وہاب اشرفی ،علیم اللہ حالی ، حسین الحق اورحقانی القاسمی جیسے متعدد بڑے اورقدآور ناقدوں اورتخلیق کاروں نے خامہ آرائی کی ہے۔اب ان کی شاعرانہ عظمت وآراستگی پر مجھ جیساگمنام اورطفل مکتب کے لئے اظہارخیال گویاپل صراط سے گزرنے کاعمل ہے ۔لیکن مجھ پریہ قرض ہے ،اوراس قرض کواتارنالازم ہے ۔دیکھیں کیاگزرے ہے ……
میرے سامنے سیداحمدشمیم کی شاعری کاایک اسکائی اسکریپرایستادہ ہے اورمیں وہاں کھڑاہوں،جہاں سے اس بلند وبالا عمارت کی نظارگی کے لئے 64سالہ طویل مسافت پرمحیط ،سیڑھیوں کالمباسلسلہ ہے ،اوریہ عمارت بصورت حسن ِ مجسم مرکزنگاہ ہے ۔ لہٰذا میں کہہ سکتاہوں شاعر نے زندگی کے دھندلکوں میں ڈوب کرتلاش ذات کی جستجو میں سمندر منتھن سے حاصل زہر ہلاہل کوجس طور گھونٹ گھونٹ پیا ہے ’’کاسۂ شب ‘‘اس کے ردعمل اورکیفیت کاسچا اورکھرااظہار ہے ،اوراس اظہار میں ندرت اورانوکھاپن بھی ہے، فنکاری اورصناعی بھی ہے ۔
’’کاسۂ شب ‘‘ کے انداز پیش کش میں خوش سلیقگی اورہنرمندی کوبڑا دخل ہے ۔ پیش لفظ اسلم بدرنے تحریرکیاہے اورترتیب وتدوین کا باربھی انہوں نے ہی اٹھایاہے ۔ ’’لوح قلم ‘‘کے تحت منتخب حمد اورنعت کابہترین انتخاب شامل ہے ۔حمد ونعت کی شمولیت شاعرکے مزاج ومیلان کے عین مطابق ہے کہ وہ کہتے ہیں :
’’میرامذہب اسلام ہے اورمسلک خانقا ہیت ہے ۔‘‘
’’زخم تازہ ‘‘ کے تحت شاعرنے اپنی تازہ ترین نظموں اور غزلوں کو پیش کیاہے ۔یہ اس بات کی غمازی ہے کہ شاعر 64سالہ طویل شعری مسافت کے بعدآج بھی عصر حاضرکے تقاضوں اوران کے اظہارکی صعوبتوں کو جھیلنے کے لئے تازہ دم ہے ۔
اس کے بعدان کے شعری مجموعے ’’بے درودیوار‘‘اور’’ڈوبتی شام ‘‘ سے منتخب نمائندہ غزل ونظم کوReproduceکیاگیاہے ۔ ’’دردتہہ جام‘‘ کے تحت جو نگار شات شامل ہیں ان میں چندایسی غزلیں اورنظمیں ہیں، جوشاید شاعرکے دل کے بہت قریب افراد کے لئے کہی گئی ہیں۔اورآخر میں’’دل گم گشتہ ‘‘ کے زیرعنوان شامل تخلیقات شاعر کے نوخیز بیٹے عرفی کے بے وقت رخصت کے سبب شاعر کے درد کا نتیجہ فکرہے جوبیٹے سے ان کی محبتیں،اور بے ثباتی عالم کے احساس دائمی کابرملا اورفنکارانہ اظہار ہے ۔
لیکن ان تمام ہنرمندانہ اورسلیقہ آمیزپیش کش سے پہلے ،کتاب کے سرنامے اورشاعر کے نام والے صفحہ سے قبل :
پہلے صفحہ پربسم اللہ الرحمن الرحیم درج ہے ۔
اوردوسرے ،یعنی صفحہ نمبر2پرمجموعہ کلام’’ڈوبتی شام‘‘میں شامل نظم’’ میں کون ہوں۔۔۔۔۔۔‘‘ سے پانچ منتخب مصرعے درج ہیں ۔جسے میں مفہوم کی مکمل ادائیگی کے سبب ایک مختصر نظم کے روپ میں محسوس کررہاہوں۔
میں جوبھی ہوں ،جیساہوں
اب تیرے حوالے ہوں
یہ تو ہی بتا مجھ کو
میں کون ہوں؟
میں کیاہوں؟
ان مصرعوں کامعصومانہ اظہار اپنے اندر عمیق ماؤرائیت سموئے ہوئے ہے ۔شاعری میںیہ بڑی بات ہے کہ قاری تخلیق کی فضا بندی سے ، اپنے مطلب کامفہوم اخذکرنے پرقادر ہوجائے یہاں بھی لطیف احساس ،اور تخلیقی فضا بندی اس درجہ ٹچنگ ہے کہ قاری تلاش وجود کی جستجومیںدور تک نکل جاتاہے ۔یوں ان مصرعوںمیں ابہام حسن اورلذت کشش کی انوکھی رعنائیاں ہیں،جس نے معنی ومفہوم کے کئی درواکئے ہیں اور یہ پرت درپرت عرفان ذات کے اسرار کے بلیک ہول کے سفر پرقاری کو آمادہ کرتا ہے ۔ابہام کی یہ کیفیت تخلیق کاحسن ہے اور خالق کاحق ۔ سیداحمدشمیم اپنی شاعری میں،اس حسن کواپنے جلو میں لئے انتہائی فنکاری کے ساتھ برتنے پرقادر ہیں۔ یہ شعر دیکھیں ؎
میںہوں ، میرے سوا یہاں ہے کون
کوئی اب خود کو تولتا بھی ہے ؟
سیداحمد شمیم کی شاعری میں تلاش ذات ،انانیت ،ناسٹلجیا اورمحبت ،غالب عناصر کے طورپرابھرکرسامنے آتے ہیں۔ یوںانانیت اورخودی فنکاروں کا مقدر ہے اوربڑی شاعری کاخاصہ۔
سیداحمدشمیم کی شاعری سے روبرو ہوتے ہی ایک نوسٹلجک صورت حال ابھر آتی ہے ۔یہ صورت حال کبھی خوشی کی شگفتگی کبھی غم کی تپش بن کراثرپذیر ہوتی ہے۔سیداحمد شمیم کے یہاں نوسٹلجیاتخلیقی عمل کاحصہ بن کر ،اور محرک کے روپ میں،ان کی شاعری کے ایک قابل لحاظ حصّے کا احاطہ کرتی ہے ۔اوریہ کہ سیداحمدشمیم ناسٹلجک احساسات سے اپنی شاعری کوثروت مندبنانے پرپوری طرح قادرہیں۔
پچھلے پہرکل رات کو
خلوت کی جلوہ گاہ میں
بیتے ہوئے ایام کی
ابھرے نقوش جاوداں(نظم لرزیدہ گرسے)
ترے خلوص نے کل شب
جوتھوڑی لودے دی
گمان ہواکہ میں
قوس قزح سے لپٹاہوں
مرے وجود میں تحلیل
موج رنگ ہوئی (نظم قوس قزح حلقۂ بازو سے)
مگراچانک
دلوں کی وادی میں شمع اک ہوگئی فروزاں
شکستہ دل،مضمحل نگاہوں
ملول روحوں کوجس کے دم سے
ضیائ ملی ہے ،جولاکھوں صدیوں سے جل رہی ہے
جلاکرے گی (نظم’’آئینہ کہ جمال داردسے‘‘)
انسان اپنے وجود کے تعلق سے روزازل سے ہی الجھن اورکشمکش کاشکار رہاہے ،یعنی ، میں کیاہوں ؟ کیوں ہوں ؟ انسان کے اس حیات کی آخری اوراخروی منزل کیاہے ؟ گویا،یہ تذبذب ،یہ بے چینی انسان کامقدر رہاہے،لہٰذا ادب وشعر کے تحت اس احساس کوفنکاروں نے مختلف انداز اورزاویے سے قرطاس ابیض میں مقید کیاہے ۔سیداحمدشمیم نے اس دائمی ، ازلی وابدی احساس ،تلاش ذات، کواپنی شاعری میں بطور احسن برتاہے ،یوں یہ ان کی شاعری کااثرانگیزحصہ ہے ،اوراس دھندلکے کو سید احمدشمیم نے لطیف فکرکے تحت اشعار کی شکل میں پیش کیاہے ۔
کچھ سمجھ میں نہیں آتی ہے حقیقت اپنی
زندگی تو ہی بتا کیا ہے ضرورت اپنی
میں سفرمیں نہیں اور پھر بھی ہوں مصروف سفر
کسی منزل پہ ٹھہرتی نہیں وحشت اپنی
———-
ساری دنیا کو جانتے ہو شمیم
ہاں، مگر خود سے کم شناسائی ہے
اوریہ نظم ’’میرامیں سوالی ‘‘ -دیکھیں :
زندگی ……! تجھ سے پوچھتاہوں میں/اب کے آیاہے کون ساموسم
کوئی منظر بھلانہیں لگتا/کوئی منظر برانہیں لگتا
جیسے ہرنقش …/نقش بے معنی
کاسۂ ذہن خالی خالی ہے
میرامیں /مجھ سے ہی سوالی ہے
میں سید احمدشمیم کو، غزلوں یانظموں کاشاعرہونے کی حیثیت سے یاحمدونعت کے تعلق سے Specialiseنہیں کرناچاہتا،کیونکہ ان کی شاعری میں ان کے اسلوب کی انفرادیت، تازہ کارموضوع ،عصر حاضر کے تقاضے اورالفاظ کی آراستگی نشست وبرخواست اور ان سے اجاگر ہونے والی نئی انوکھی اورگہرائی گیرائی کی حامل حمدکایہ شعر ملاحظہ ہو-
ہاں، وہ میرا کون ہے ، جس کے تصور نے شمیم
تازگی اسلوب کو، الفاظ کو پیکر دیا
اورنعت کایہ شعر دیکھیں ؎
آج پھر محتاج ہے تیری نگہ کا یہ جہاں
اٹھ رہاہے سینۂ ہستی سے پھر پیہم دھواں
اور ’’دعا‘‘ جس میں شاعرنے عدم کی تاریکیوں سے وجود کی روشنی اورشعورکی ’’چاندنی‘‘ جیسی نوازشوں کاذکر نہایت عاجزی اور انکساری کاساتھ توکیاہے ، لیکن وہ غیور طینت کاخوگر ہونے کے سبب تشکیک میں بھی مبتلاہے ،اور جستجو کامتلاشی بھی ، لہٰذا اپنی سرشت کی بے چینی کے زہر اثر ’’نورعرفان ‘‘کاطلبگار ہے ۔
حدگماں سے
عظیم ترنعمتیں /عطا کیں ……
مگریہ تیرا /حقیربندہ
غبار تشکیک میں گرفتہ
خوداپنے باراناکے نیچے
دباہواہے ……
میرے رحیم کوکریم مولا……
جوتونے یہ سب عطا کیاہے
تواپنے عرفان کانور بھی دے ……
حمد اورنعت جیسی صنف کے لئے یہ طرز اداسیداحمدشمیم کے فکری تنوع کاغماز ہے ، سیداحمد شمیم اپنی شاعری کے تمام اصناف میں اپنے رجحان اورتیور کوبرقراررکھنے پر قادر ہیں، لہٰذا غزل ونظم کے ساتھ ہی ساتھ حمدونعت میں بھی انہوں نے نئی روش اختیار کرتے ہوئے ، انانیت ،تشکیک ذات ، اورانسانی سرشت کی بے چینی اوراضطرابی کیفیت کوبحسن وخوبی بروئے کارلایاہے ۔
ایک باوقار اور پرافتخارزندگی کاسفر ادھوراہے ،اگر انسان راہ گزرِ حیات کے ہجوم نشیب وفراز ،یعنی انبساط وکیف اورغم والم کے محرکات کے ساتھ ساتھ اپنی انااورخودی کا بار نہ اٹھاسکے گویا یہ فنکارکاایسا وصف ہے، جوفن کے لئے ایک اعجاز ہے اور فنکار کے لئے باعث اعزاز ۔سیداحمدشمیم کی شاعری کاایک نمایاں پہلوانانیت بھی ہے -نمونتاً یہ اشعار پیش ہیں ؎
دنیا والے یہ کہیں ، دولت دنیا کیا ہے
ہم تو ٹھوکر پہ زمانے کی عطار رکھتے ہیں
———-
سلطان کہیں کے ہیں نہ کسی کے وزیر ہم
رکھتے ہیں زمانے میں اپنی نظیر ہم
———-
بڑھ کے اپنی انانے تھام لیا
تشنۂ حرف التماس رہے
———-
ترا پانا نفیٔ ذات پر ہے منحصر جاناں
توہم ایسی محبت سے چلو انکار کرتے ہیں
———-
سر پھراکہتے ہیں، مغرورسمجھتے ہیںیہ لوگ
شکر مولا، نہ کسی کی بھی ثنا خوانی کی
———-
جو تو نہیں نہ سہی پاس ہے انا اپنی
میں وہ نہیں جو سر سنگِ در سے مارتا ہے
انسان اپنی زندگی میں اکثر ،ماضی میں جھانکنے کاعادی ہوتاہے ۔یعنی یہ کہ انسان حیات کے ایک ایسے دوراہے پرکھڑاہوتا ہے ، جس کے آگے دھندمیں ملفو ف مستقبل ہے،اورپیچھے چھوٹا ہواماضی ، جس دریچے سے نشاط آگیں ایام بھی اوراداس و ملول کرنے والی یادیں بھی، ایک سرورساعطا کرتی ہیں،اوران سے وہ پیچھا نہ چھڑاسکتاہے ،نہ چھڑانا چاہتاہے ۔یعنی اس کی سرشت میں شامل ہے کہ بیٹھے رہیں تصور جاناں کئے ہوئے -سید احمد شمیم بھی اس ناسٹلجیا کے شکنجے سے اچھوتے نہیں، اوراپنی یادوں کے ذائقے سے خود بھی کیف وسرور سے روبرو ہوتے ہیں اورقاری کوبھی حظ اٹھانے کے وسیلے بہم پہنچتے ہیں ؎
جھیل پربت ،شوخ ندی ، بادباں
اس سفر کا ذائقہ اچھا لگا
———-
میرا ماضی مدتوں بھولا ہوا
کل اچانک مل گیا اچھا لگا
———-
مدتیں بیت گئیں پھربھی بھلائی نہ گئی
ایک آواز جو ہمدرد کئی سال رہی
———-
سرمئی شام کی گہرائی میں ڈوباسورج
اب پرندوں کی وہ چہکارکہاں سے لاؤں
———-
ہربارتری یادیں ساون کی طرح برسیں
ہربار یہی سوچا ،ہم تجھ کوبھلادیں گے
———-
یہ گھنی رات ہے اماوس کی
اس اندھیری میں تم کہاں آئے
مالک کون ومکاں نے انسان کی گھٹی میں ’’محبت‘‘ کے عنصر کوکچھ اس طرح شامل کیاہے کہ اس کے ہرعمل دخل کی تہہ میں ’’محبت ‘‘ ہی کی کارفرمائی ہوتی ہے ،اب وہ نفرت میں مبتلاہوکہ دشمنی میں،اس کی ابتدامحبت ہی ہوتی ہے –
سیداحمدشمیم کی شعری کائنات بھی ’’محبت ‘‘ سے خالی نہیں ۔اور ان کے اظہار میں تہہ داری اورالفاظ کی بندش کاہنر اس طرح اجاگر ہوتاہے کہ جمالیاتی احساس انگڑائی سی لیتی معلوم ہوتی ہے ۔ان کے یہاں محبت کی روایتی پاسداری نہیں ہے ، بلکہ سیداحمد شمیم کی محبتیں معانی کی ایسی جہات کااضافہ کرتی ہیں،جس میں، مانوس تجربہ بھی ہے اوربے پایاں امکانات بھی ۔ دیکھیں یہ اشعار، ان میں زندگی کے تئیں مثبت رویہ کے چراغ روشن ہیں ؎
بھیگی بھیگی شب کاآنچل اورتم
چپکے چپکے بولنااچھا لگا
———-
عمربھرمیں نے محبت کی فراوانی کی
لوگ کہتے ہیں شمیم آپ نے نادانی کی
———-
رمیدہ سرمئی بادل ،ہوائیں ،ریشمی آنچل
مناظرایسے ہی مجھ کوبہت بیمارکرتے ہیں
———-
اے شوق بغل گیری ،وہ آگ لگادیں گے
پھرجلنے پگھلنے کی تاعمر سزادیں گے
———-
جو تماشا ہے اسی شوخ آنکھوں کا ہے
رنج اپناہے کوئی ، نہ راحت اپنی
———-
تحفہ ٔ دردگراں مایہ ، کسی نے تودیا
میں نہیں کہتا ،مری زندگی کنگال رہی
———-
اس پہ ظاہر نہ کیا خود میں پگھلتاہی رہا
شبنمی آنچ ہی سرگرمئی احوال رہی
———-
محبت کی حقیقت مسلم ، لیکن بے ثباتی ٔعالم کااحساس بھی انسان کی زندگی کے ساتھ ساتھ ہے ۔اوربالآخر یہ تمام احساسات پرحاوی ہوتی سی معلوم ہوتی ہے ۔
بھاگتے دوڑتے لمحوں کا سفر
کب اچانک ہی ٹھہر جائے گا
———-
یونہی ہر سانس جینا مرنا ہے
دوسرا کوئی راستہ بھی نہیں
———-
دن کاجلتا سفرتمام ہوا
رات اب کہہ رہی ہے سونے کو
———-
منزلوں کی سمت روز وشب یونہی چلتے رہے
راستے کٹتے گئے اورفاصلہ باقی رہا
سیداحمدشمیم کایہ شعری مجموعہ ’’کاسۂ شب ‘‘ دراصل شاعرکے اپنی ذات کے نہاں خانہ میں ڈوبنے ابھرنے کاایساعمل ہے‘جس کا حاصل وہ دُرِّنایاب ہے جوحیاتِ انسانی کی کامل تفسیر پیش کرتاہے ۔یوں یہ مجموعہ دردوگداز ، ناساز گارئی عالم ، قدروں کازوال دل کی ویرانی ،اور بے ثباتی ٔ عالم کے نہ مٹنے والے نقوش مرتسم کرتاہے ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

