تحقیق میں موضوع اور تحقیق کرنے والے کی ہم مزاجی ضروری ہے ورنہ تحقیق کرنے والا ریسرچ کا حق ادا نہیں کر سکے گا۔ تحقیق ایک سنگلاخ وادی ہے عجلت پسندی اور ہر شے کو مادی فائدے کی نظر سے دیکھنے والا اس سفر کی تاب نہیں لا سکتا۔غالب انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے منعقد سہ روزہ بین الاقوامی وبینار میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار پروفیسر عتیق اللہ نے کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اساتذہ کے لیے لازم ہے کہ موضوع دیتے وقت طالب علم کے طبعی رجحان پر بھی نظر رکھیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب میں سمینار میں شریک ہو رہا ہوں ایک مسلسل تاریخ ہے جو غالب انسٹی ٹیوٹ نے رقم کی ہے، اس کے لیے وہ قابل ستائش ہے۔ صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے پروفیسر شارب ردولوی نے کہا کہ غالب انسٹی ٹیوٹ قابل مبارکباد ہے کہ اس نے وبا کے دنوں میں اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔ آج کے کلیدی خطبے سے اس وبینار کا شاندار آغاز ہوا ہے اور اس نے وبینار کی سمت کو بڑی حد تک متعین کر دیا ہے۔ میں اپنے دور کی تحقیق سے مایوس نہیں ہوں بس مجھے چند عوامل نظر آتے ہیں جن کی وجہ سے تحقیقی رجحان کو ضرب لگی ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ وقت اس کا علاج کر دے گا۔ موجودہ دور میں بھی چند ایسے جوان لکھنے والے ہیں جن کی تحقیقی بصیرت سے مستقبل کے امکانات روشن ہیں۔ افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی نے کہا، غالب انسٹی ٹیوٹ کے پروگراموں میں ریسرچ اسکالر سمینار مجھے اس لیے بہت پسند ہے کہ اس کے ذریعے سے طلبا کی تربیت بھی ہو جاتی ہے اور وہ ایک دوسرے کے قریب بھی آتے ہیں۔ اس سمینار کی روایت رہی ہے کہ اس میں بیرون ملک سے ریسرچ اسکالرس کو دعوت دی جاتی ہے اور وہ ہمیشہ اپنے ملک اور اپنی دانشگاہ کی بہترین نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب یہ سمینار آن لائن منعقد کیا جا رہا ہے لیکن ہمیں یقین ہے کہ جلد ہی آف لائن سمینار کا سلسلہ شروع ہوگا اور ہم ملک و بیرون ملک کے ریسرچ اسکالرس سے روبرو ہو سکیں گے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے کہا کہ ریسرچ اسکالر سمینار کا سلسلہ 1999سے شروع ہوا تھا اور اس کے بعد سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہوتی ہے کہ ابتدا میں جن لوگوں نے اس سمینار میں ریسرچ اسکالر کی حیثیت سے شرکت کی تھی آج وہ ملک کی بہترین دانشگاہوں میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں یا ادب میں اپنی نمایاں شناخت قائم کر چکے ہیں۔ اس سمینار کے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ ہماری دانشگاہوں میں ہونے والی تحقیق کا ایک خاکہ سامنے آئے اور طلبا کا ایک دوسرے سے رابطہ قائم ہو اور ہم اس مقصد میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ افتتاحی اجلاس کے بعد اکیڈمک اجلاس کا سلسلہ شروع ہوا پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر علی احمد فاطمی نے کہا، کہ تحقیق میں تازگی اور اخذ نتائج ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر آپ پرانی چیزوں کو دہرا ر ہیں تو وہ تحقیق نہیں ہو سکتی، اسی طرح اگر محض اطلاعات جمع کر دی ہیں تو وہ بھی تحقیق نہیں ہے۔ مجھے بے حد خوشی ہے کہ غالب انسٹی ٹیوٹ نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مختلف یونیورسٹیز کے طالب علموں کو ایک ساتھ جوڑا اور ایک کامیاب وبینار منعقد کیا۔ اس اجلاس میں محمد افضل زیدی، غزالہ حفیظ، محمد عارف، محمد شریف اور دیپانشو شرما نے مقالات پیش فرمائے۔ دوسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر فاضل احسن ہاشمی نے کہا کہ مجھے بے حد خوشی ہے کہ طلبا نے اپنے اپنے موضوع پر بڑی محنت سے مقالے لکھے اور ان کی پیشکش بھی قابل تعریف تھی۔ تحقیق کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے اسلاف کی تحریروں کو بغور پڑھیں اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا موضوع سے متعلق تمام ضروری اطلاعات آپ کے پاس جمع ہو جائیں گی اور تحقیق کے طریقوں سے بھی آشنائی ہو جائے گی۔ اس اجلاس میں سمیرا گیلانی(ایران) تجمل حسین، عبدالرحمٰن انصاری، محمد عالم، اور فاطمہ حق نے مقالات پیش کیے۔ اس وبینار کے بقیہ مقالات 30 اور 31 اکتوبر کو پیش کیے جائیں گے۔
تصویر میں دائیں سے: پروفیسر عتیق اللہ، پروفیسر شارب ردولوی، ڈاکٹر ادریس احمد، پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

