نئی دہلی۔
دہلی کے بزرگ اور جواں عمر قلمکاروں کاپانچ روزہ ادبی اجتماع ’’نئے پرائے چراغ‘‘ کا آخری مشاعرہ پروفیسر شہپر رسول کی صدارت میں منعقد ہوا جس کی نظامت پیمبر عباس نقوی نے کی۔ مشاعر ہ کی شمع صدر مشاعرہ پروفیسر شہپر رسول،جناب فاروق ارگلی ،متین امروہوی، جناب اعجاز انصاری ، پیمبر نقوی اور سلمی شاہین کے ہاتھوں روشن ہوئی ۔ روازنہ کی طرح آخری مشاعرہ میں بھی تقریباً 80 سے زائد شعرا نے اپنے کلام سے سامعین و طلبہ کو محظوظ کیا ۔ شعرا کے منتخب اشعار پیش ہیں :
جونظریں ملتے ہی جھک جائے وہ نظر کیا
وہ تیر کیا ہے جو سینے کے آر پار نہیں
شہپر رسول
خطا ہے میری عشق میں نے کیا ہے
مجھے دنیا دیوار میں چن رہی ہے
متین امروہوی
تیر ی مرضی کی بہو تو آگئی
ماں ترا بیٹا پرایا ہوگیا
شکیل جمالی
کبھی خود کو نہ تم ناشاد رکھیو
دعاؤں میں ہمیں بھی یاد رکھیو
پیمبر عباس
موضوع حسن عشق ہے اتنا رہے ملحو ظ
کہہ دو یہ جنوں سے حد آداب میں آئے
سلمیٰ شاہین
زیب و زینت کی سبھی چیزیں ضروری ہیں مگر
گھر کی دیواں کی زینت ہے تری تصویر سے
اعجا ز انصاری
لفظوں سے ہم دل پر وار نہیں کرسکتے
نوک قلم کوہم تلوار نہیں کرسکتے
شعیب رضا فاطمی
پھر اس کے بعد تر ک تعلق پہ سوچنا
اک بار بھول کر کے ذرا یا د کر مجھے
امیر امرہوی
ہم بھی کچھ اپنے قول سے رہتے تھے منحرف
عرفان لیکن آپ نے جو بھی کہا کیا
عرفان احمد
اپنی دہلیز سے ہٹوا دیے پتھر اس نے
میں پریشاں ہوں کہ سراب کہاں پھوڑا جائے
ڈاکٹر وسیم راشد
لبوں سے پھول کھلانے کا سلسلہ رکھنا
کسی نے کانپتے ہونٹوں سے التجا کی ہے
شر ف نانپاروی
سیر کرنا تم آسمانوں کی
پاؤں لیکن زمین پہ رکھنا
طاہر ملک
میں گرچہ اک خار ہوں لیکن ممکن ہے کل پھول بنوں
مجھ کو چھوڑ کے جانے والے تواک دن پچھتائے گا
امتیاز احمد
ناداں ہیں کم فہم سمجھتے ہیں جو اس کو
گھر بار چلاتی ہے سمجھ دار ہے عورت
سائرہ بھارتی
گر یونہی بڑھتی رہی ماحول کی آلودگی
عین ممکن ہے کہ زیرِ آسماں کوئی نہ ہو
ریاضت علی شائق
نئی بہار نئے گلستاں تلاش کرو
پھر اس کے بعد نئے باغباں تلاش کرو
کرامت علی
باقی سفر اگرچہ اب آسان رہ گیا
ان منزلوں کی چاہ میں سامان رہ گیا
تسلیم دانش
وہ رات میرے خواب میں آکر میرے خواب میں جل گیا
کل رات مجھ پہ آکے قیامت گزر گئی
حامد حسین
عشق ہوجائے تو اظہار نہ کرنا ورنہ
چھین لی جائیں گی تم سے بھی تمہاری یادیں
فردوس رضا
جن سائے دار درختوں کی شاخیں کٹنی ہیں
ان سبز پتوں کی خدمات دل میں رکھ لیا
عقیل نہٹوری
ایک پیکر مرے لباس میں ہے
سنگ ہوں میں مگر تراش میں ہوں
کیلاش سمیر دہلوی
کسی کے اشک شامل ہوگئے ہین
سمندر اس لیے کھاری بہت ہے
صدف برنی
مسلسل مسکرایا جارہا ہوں
ہمارا دل جلایا جارہا ہے
نقی کرتپوری
لگا نہ ٹیس تو رشتوں کی آبگینوں کو
پھر اس کو جوڑنے میں دل لہو لہو ہوگا
منصور ذکی
اپنے چہرے پر بہاروں کا سماں رکھتا ہوں میں
جسم کے اندر مگر آتش فشاں رکھتا ہوں میں
سلمان فیصل
تم مرا عشق ہو معلوم نہیں کیسا عشق
میں تمہیں لفظ کے ہالے میں نہیں رکھ سکتا
حبیب الرحمن
چمن پہ جو سیاست چھار ہی ہے
گل سے آج خوشبو جارہی ہے
نعیم پرواز
تم خوش نصیب ہو کہ تمہیں دشت کھا گیا
کتنے تو ایسی چاہ لیے گھر میں رہ گئے
علی ساجد
صدیاں گزرگی ہیں تری راہ دیکھتے
’’ تومیرا شوق ہے دیکھ مرا انتظار دیکھ ‘‘
تحسین قمر
چہرہ بھی نمایاں ہے قد اس کا بڑا ہے
لیکن وہ کسی اور کے کاندھوں پہ کھڑا ہے
ایم ٹی ملک
سکون دل کے لیے گھر نئے بدلتے رہے
نہ بدلا خود کو کبھی آئینے بدلتے رہے
گل افشاں
حشر سامانی نا ہید میں کہا کہتے ہیں
عشق ہوجائے تو تمہیں میں کیاہیں
ناظر وحید
کبھی شان جھوٹی دکھائی نہیں ہے
جو عزت ملی ہے گنوائی نہیں ہے
قاصر سہسوانی
سو بار بھی تم دیکھ کے کچھ نہ کر سکو
اک بار وہ دیکھے تو دوانہ کردے
سکندر عاقل
اک انتقام کا پردہ تھا میری آنکھوں میں
دکھائی دینے لگا سب معاف کرکے اسے
مینا سحر
کوئی چہر نظر کو بھائی تو
دل ہمارا کسی پے آئے تو
مجاز امروہوی
آئینہ لے کے ماضی کا دیکھ ذرا
شکل پہلے تھی کیا آج کیا ہوگئی
ماسٹر نثار احمد
کام جب کرنے کا کئی قصد فرماتا ہے وہ
صر ف کہہ دیتا ہے اور ہوجاتا ہے وہ
شارق اعجاز عباسی
ہم شکستہ دل کہاں تیر ی جفا کو روتے ہیں
ہم نہیں ہے وہ جو اپنے ہم سفر کوروئے ہیں
محمد رضوان
جس کو دیکھو وہی چاہتا ہے تجھے
تیرا کوئی نہیں ہے دھر م آرزو
محمد مبار ک قاسمی
وقت کی شب میں ایک یہ مشکل بڑی رہی
ہر لمحہ اس کی یاد مقابل کھڑی رہی
اسلم خورشید
یہ راز محبت دلِ حیراں میں رکھنا
ممکن ہی نہیں کفر کو ایمان میں رکھنا
اسرار رازی
جو اپنے مال کا صدقہ نکال دیتا ہے
ہر اک بلا کو خدا اس کی ٹال دیتا ہے
فرقان گوہر
یہ دل صدائے یا ر پہ دوڑا چلا گیا
پھر وہ ادھر سے بولے نہ آئین خمار لوگ
فردوس رضا
وہ رات میرے خواب میں آکر چلا گیا
کل رات مجھ پہ آکے قیامت گزر گئی
حامد حسین
ہمارا نا م ہے شیزان ناظم
تعارف کو یہی کافی بہت ہے
محمد شیزان علی
تو ہے خورشید تو اس کا بھی سویرا کردے
بھر کے آنکھوں میں جو امید سحر جاتا ہے
مجیب قاسمی
میں گرچہ ایک خار ہوں لیکن ممکن ہے پھول بنوں
مجھ کو چھوڑ کے جانے والے تو اک دن پچھتا ئے گا
امتیاز احمد
آنکھ میں آنسو ہیں ہونٹوپر ہنسی
دنو ں موسم چل رہے ہیں ساتھ ساتھ
محسن اورنگ آبادی
ذرا ہٹ جاؤ تم اب سامنے سے
کوئی پلکیں جھپکانا چاہتا ہے
سیف الدین سیف
پروفیسر شہپر، ڈاکٹر سلمیٰ شاہین، متین امروہوی، اعجاز انصاری اور پیمبر عباس نقوی شمع مشاعرہ روشن کرتے ہوئے۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

