زبان کا مذہب نہیں ہوتا، لیکن زبان کا سماج ضرور ہوتا ہے۔ ہر زبان کسی نہ کسی مخصوص سماج میں بولی جاتی ہے اور ہر مخصوص سماج مخصوص تہذیب رکھتا ہے۔ کسی سماج کے ماننے والے اگر ایک مذہب سے تعلق رکھتے ہیں تو تہذیبی اعتبار سے وہ سماج یک سطحی ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس سماج کے افراد میں کئی مذہب رائج ہوں تو تہذیبی اور ثقافتی اعتبار سے وہ سماج اتنا ہی متمول، تہ در تہ اور تکثیری ہوتا ہے۔ کسی بھی سماج کا تہذیبی اور فکری سرمایہ اس کے ادب میں جھلکتا ہے کیونکہ ادب تہذیب کا چہرہ ہوتا ہے۔ ہر زبان کا ادب اپنے سماج کی دھرتی اور اس میں اتری ہوئی جڑوں کو کسی نہ کسی طرح سے ضرور پیش کرتا ہے اور اس طرح ہر سماج کا تہذیبی اور تاریخی ورثہ، اس کی انسانی قدریں، اس کا نصب العین، اس کی خواہشیں اور آرزوئیں حتیٰ کہ اس کی قبل تاریخی میراث اور اساطیر و آرکی تصورات بھی ادب کے تخلیقی عمل میں برسرکار رہتے ہیں۔ ہندستانی سماج ایک تکثیری اور تہ در تہ سماج ہے۔ اردو زبان جو گیارھویں صدی کے بعد ہندوؤں اور مسلمانوں کے سابقے سے تاریخ کے فطری تقاضوں کی وجہ سے وجود میں آئی، محض ایک لسانی مفاہمے کا نام نہیں۔ اس کے ادب کے مضامین و موضوعات کو غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس میں لسانی مفاہمے کے ساتھ ساتھ ایک زبردست تہذیبی مفاہمے کی صورت بھی نظر آتی ہے، یعنی ایک وسیع تر انسان دوستی اور روشن خیالی پر مبنی ایک ہمہ گیر ملی جلی تہذیب کی تلقین ملتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں فراق کی تین نظمیں— تشریح و تعبیر – پروفیسر کوثر مظہری )
یہ ملی جلی تہذیب کیا تھی؟ اس کے بنیادی فکری ارکان کیا تھے؟ اس بات کا جواب دینے سے پہلے یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ جب کوئی باہر سے آنے والی قوم کسی مفتوح سے ملتی ہے تو وہ اس کے رہن سہن اور فکری طور طریقوں کو متاثر تو کرتی ہی ہے لیکن باوجود اپنی برتری اور بالادستی کے وہ خود بھی مغلوب قوم سے متاثر ہوتی ہے۔ حملہ آور قوم کے افراد تعداد میں کم ہوتے ہیں۔ ان کی بدولت نئی لسانی و تہذیبی قدروں کا نفوذ تو ہوتا ہی ہے، لیکن بنیادیں وہی دیسی رہتی ہیں۔ زبان ہو یا ادب کا فکری سرمایہ، دونوں میں جہاں متاثر کرنے والی قدروں کی اہمیت ہے، وہاں ان بنیادوں کی بھی اہمیت ہے جن پر یہ قدریں اثرانداز ہوئیں۔ مثال کے طور پر اردو زبان ہی کو لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اردو کا امتیازی وصف اس کے مستعار الفاظ اور صرفی و نحوی ترکیبوں کا وہ خزانہ ہے جو عربی فارسی سے آیا ہے۔ لیکن یہ اردو ذخیرۂ الفاظ کا کتنا فیصد ہے؟ مشکل سے 20 سے 25 فیصد۔ باقی ستر پچہتر فیصد وہی دیسی الفاظ ہیں جو آریائی خزانے سے پراکرتوں کی بدولت آئے ہیں۔ بالکل یہی معاملہ ہماری غزل کے فکری سرمایے کا ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو اس میں بھی عربی و فارسی اثرات کا نفوذ تو ضرور ہوا ہے اور اسی سے ایک شان بھی پیدا ہوئی ہے لیکن بنیادی فکری نہج وہی ہے جس میں اُن روحانی اور لاشعوری قدروں کی تہہ نشیں کارفرمائی ہے جو قبل آریائی زمانے سے لے کر اب تک ہندستانی ذہن کی خصوصیات خاصہ رہی ہیں۔
یہاں بحث اس سے نہیں کہ اردو غزل کے لکھنے والوں میں سے کتنے کس مذہب سے تعلق رکھتے تھے، اور کتنے کس سے۔ ادب کا مطالعہ اس طرح سے کیا ہی نہیں جاسکتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو ذہن اردو غزل کی تخلیق میں مصروف رہے، ان کی ساخت کیا تھی۔ خالص اسلامی، یا خالص ہندو یا تہ در تہ پیچیدہ اور ملی جلی ہندستانی۔ یہاں ہم اردو غزل کے فکری سرمایے کے صرف ایک پہلو کو لیں گے یعنی ذات کے تصور کو۔ اور صرف اسی ایک پہلو کی بحث سے اپنی گفتگو کو اختتام تک پہنچائیں گے۔ اتنی بات معلوم ہے کہ اردو غزل نے اپنے مضامین و معیار فارسی غزل سے لیے۔ ذات کا جو تصور فارسی والوں نے اہل عرب سے لیا تھا، ایران میں اور خلیج فارس کے ساحلی علاقوں میں اس میں بعض بنیادی تبدیلیاں ہوگئیں۔ یوں تو تصوف کی ابتدا ساتویں صدی ہجری ہی سے ہوگئی تھی لیکن تصوف کی وہ شکل جس میں اتنا زور شریعت پر نہیں جتنا طریقت پر دیا جاتا تھا اور جو ہندوستان کے طول و عرض میں اپنے ہمہ اوستی اندازِنظر کی وجہ سے بے حد مقبول ہوا، وہ پہلے دور کے زاہدانہ اور راہبانہ تصوف سے بہت مختلف تھا۔ تصوف پر لکھنے والے کئی مفکرین خاص طور پر نکلسن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بعد کے تصوف میں جو باغیانہ شان، مذہب کی سخت گیری سے گریز اور خدا کی ماورائیت کی جو تلقین ملتی ہے اس کی کوئی تشفی بخش توجیہہ سوائے اس کے نہیں کی جاتی کہ بعد کا تصوف سامی ذہن کے خلاف آریائی ذہن کا ردِعمل تھا۔ یاد رہنا چاہیے کہ خراسان، ایران اور افغانستان سے لے کر ہندوستان تک آریہ نسل کی اقوام پھیلی ہوئی تھیں۔ اس بات کی توثیق اس امر سے بھی ہوجاتی ہے کہ تصوف کے ہمہ اوستی خیالات جو اسلامی ملکوں میں علما اور صوفیا کے درمیان زبردست کشاکش کا باعث بنے اور منصور کی ذات جن کا عینی نصب العین بن کر ابھری، وہ خیالات مسلمانوں کے ساتھ اسپین سے لے کر انڈونیشیا تک بیسیوں ملکوں میں پہنچے، لیکن جو مقبولیت اور ہردلعزیزی انھیں ہندوستان میں حاصل ہوئی اور جس طرح ہندوستان میں خواص و عوام نے ان کی پذیرائی کی اور جس طرح ان کے اثر سے صوفیا کے مختلف سلاسل مقبول ہوئے، اور ملک کے طول و عرض میں بھگتی تحریک اور اس کی مختلف شکلوں کو فروغ حاصل ہوا، اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ جواب کے لیے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ تصوف کے ان ہمہ اوستی خیالات میں آریائی ذہن کو خود اپنی ہی صورت نظر آتی تھی یعنی تصوف کے ہمہ اوستی یا وحدت وجودی ماورائی اندازنظر میں اور ویدانت کے بنیادی فلسفے یا اپنشدوں کے مایا کے نظریے میں بعض بنیادی چیزیں مشترک تھیں۔ یہ ہے صدیوں پر پھیلا ہوا وہ لاشعوری ذہنی ربط و اشتراک جو اردو غزل کے فکری و روحانی سرمایے کی نہج فراہم کرتا ہے۔ اردو غزل کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے :
دنیا کے اکثر مذہبوں کی طرح ہندو مذہب اور اسلام دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ اصل ہستی یا ذات واجب الوجود صرف ایک ہے لیکن جب اس ذاتِ واحد کی علمی اصطلاحوں میں تعبیر کی جاتی ہے اور اس کے اور کائنات کے باہمی تعلق کا پتہ چلانے کی کوشش کی جاتی ہے تو ذات باری کے مختلف تصورات حاصل ہوتے ہیں۔
اپنشدوں کی رو سے اصل ہستی ’برہمہ‘ یعنی خدائے مطلق ہے، جس تک عقل و ادراک کی رسائی نہیں۔ ’برہمہ‘ ہر قسم کی صفات سے بالاتر ہے۔ وہ موضوعِ کلّی ہے۔ اس کے دو پہلو ہیں، آتما اور کائنات۔ ’برہمہ‘ آتما اور کائنات ان تینوں میں ایک ہی بنیادی رشتہ ہے۔ ان کا فرق جو ہمیں عالم رنگ و بو کی کثرت میں نظر آتا ہے محض اعتباری ہے، اصل نہیں۔ حقیقت ایک ہی ہے جو ہر جگہ اور ہر کہیں موجود ہے، سوائے اس حقیقت کے جو کچھ نظر آتا ہے وہ ’مایا‘ یعنی فریب حواس ہے اور طلسم خیال۔
اسلام بھی خدا کا تصور ذاتِ واحد کی حیثیت سے کرتا ہے۔ خدا کو یہاں بھی تعینات سے بری قرار دیا گیا ہے، مگر اس حد تک نہیں کہ اس کا کوئی تصور ہی قائم نہ ہوسکے۔ قرآن شریف کی رو سے ذاتِ باری اور کائنات میں خالق اور مخلوق کی نسبت ہے۔ خدا نے کائنات کو اپنے ارادۂ خاص سے پیدا کیا ہے۔ چنانچہ کائنات ’طلسم خیال‘ نہیں، بلکہ ٹھوس اصلیت ہے۔
غرض اسلامی اور ہندستانی نظریوں میں فرق ہے۔ ایک ذاتِ واحد کو کائنات میں جاری و ساری بتاتا ہے۔ دوسرا اس کے برعکس صفات کو ذات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایک دنیا کو فریبِ نظر یعنی مایا کہتا ہے (عالم تمام حلقۂ دام خیال ہے)۔ دوسرا اسے ٹھوس اصلیت قرار دیتا ہے اور مقصدی بتاتا ہے۔ اسلام میں روحانی ماورائیت اور کائنات کے فریب حواس ہونے کے خیالات تصوف کے ذریعے داخل ہوئے اور تصوف کے بارے میں اتنا اشارہ پہلے کیا جاچکا ہے کہ اس میں اور ویدانتی فلسفے میں گہری مشابہت ہے۔
روحانی ماورائیت کے اس نظریے کو تصوف کی اصطلاح میں ’وحدتِ وجود‘ یا ’ہمہ اوست‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی رو سے ذاتِ باری کائنات کے ذرّے ذرّے میں جاری و ساری ہے مگر ’وحدتِ شہود‘ یا ’ہمہ از اوست‘ کی رو سے کائنات مظہرِذات ہے لیکن عین ذات نہیں۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا، ہندوستان میں زیادہ مقبولیت پہلے نظریے یعنی وحدتِ وجود ہی کو حاصل ہوئی کیونکہ اس میں اور ہندستانی ذہن و مزاج میں روحانی ماورائیت کے خیالات قدر مشترک کی حیثیت رکھتے تھے۔
عہدوسطیٰ میں نظریۂ وحدتِ وجود کے مقبولِ عام ہونے کا یہ عالم تھا کہ مذہب، اخلاق، علمیت، قابلیت، شعر و ادب، شاید ہی زندگی کا کوئی شعبہ ہو جو اس سے متاثر نہ ہوا ہو۔ اردو غزل میں ’روحانی ماورائیت‘ کے ان خیالات نے رفتہ رفتہ ایک باقاعدہ موضوع کی حیثیت اختیار کرلی۔ غزل میں چونکہ عقلی نظریات کو بھی تاثرات کے پیرائے میں بیان کیا جاتا ہے، اس میں وجودی تصورات بے حد رنگارنگ صورتیں اختیار کرگئے ہیں۔ تاہم بعض مضامین اور خیالات کی تکرار و تعمیم سے یہ بات بخوبی ظاہر ہوجاتی ہے کہ اردو غزل کا میلان وحدتِ وجود کے انھیں روادارانہ اور ماورائی نظریات کی طرف رہا ہے جو کثرت میں وحدت دیکھنے کی ہندستانی ذہنی خصوصیت سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں۔ یہ چند اشعار ملاحظہ ہوں :
ولی :
عیاں ہے ہر طرف عالم میں حسن بے حجاب اس کا
بغیر از دیدۂ حیراں نہیں جگ میں نقاب اس کا
ہوا ہے مجھ پہ شمعِ بزمِ یک رنگی سوں یو روشن
کہ ہر ذرّہ اُپر تاباں ہے دائم آفتاب اس کا
شاہ عالم آفتاب :
واحد ہے لاشریک تو ثانی ترا کہاں
عالم ہے سب کے حال کا تو ظاہر و نہاں
ظاہر میں تو اگرچہ نظر آتا ہے نہیں
دیکھا جو میں غور سے تو ہے جہاں تہاں
سودا :
اس قدر سادہ و پرکار کہیں دیکھا ہے
بے نمود اتنا نمودار کہیں دیکھا ہے
میر :
میر کا یہ شعر دیکھیے۔ خلیفہ عبدالحکیم نے لکھا ہے کہ کوئی ویدانتی بھی اس سے بڑھ کر کیا کہے گا :
آنکھیں جو ہوں تو عین ہے مقصود ہر جگہ
بالذات ہے جہاں میں وہ موجود ہر جگہ
میر ہی کے چند اور شعر ملاحظہ ہوں :
تھا وہ تو رشکِ حورِ بہشتی ہمیں میں میر
سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا
———
عام ہے یار کی تجلی میر
خاص موسیٰ و کوہِ طور نہیں
———
گل و رنگ و بہار پردے ہیں
ہر عیاں میں ہے وہ نہاں ٹک سوچ
قائم چاندپوری :
جلوہ کس جا پہ نہیں اُس بتِ ہرجائی کا
یہ پریشاں نظری جرم ہے بینائی کا
درد :
خواجہ میر درد کے ہاں بھی ماورائی تصورات سے ملتے جلتے یہی خیالات ملتے ہیں :
جگ میں آکر اِدھر اُدھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
———
دل بھی تیرا ہی ڈھنگ سیکھا ہے
آن میں کچھ ہے آن میں کچھ ہے
ان دنوں کچھ عجب ہے میرا حال
دیکھتا کچھ ہوں دھیان میں کچھ ہے
ایک اور شعر میں فرماتے ہیں :
ڈھونڈے ہے تھے تمام عالم
ہرچندکہ تو کہاں نہیں ہے
شاہ نیاز بریلوی :
شاہ نیاز بریلوی کی یہ پوری غزل ہمہ اوست کی تخلیقی تشریح ہے :
دید اپنے کی تھی اسے خواہش
اس کو ہر طرح سے بنا دیکھا
صورتِ گل میں کھل کھلا کے ہنسا
شکل بلبل میں چہچہا دیکھا
شمع ہوکر کے اور پروانہ
آپ کو آپ میں جلا دیکھا
کرکے دعویٰ کہیں اناالحق کا
برسرِدار وہ کھچا دیکھا
کہیں وہ در لباسِ معشوقاں
برسرِناز اور ادا دیکھا
کہیں عاشق نیاز کی صورت
سینہ بریاں و دل جلا دیکھا
غالب :
اسی سلسلے میں دو شعر غالب کے بھی ملاحظہ فرمائیے :
دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں
ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خودبیں
———
ہے تجلی تری سامانِ وجود
ذرّہ بے پرتوِ خورشید نہیں
اردو غزل سے ایسے سیکڑوں اشعار پیش کیے جاسکتے ہیں۔ جیساکہ ظاہر ہے ان میں بار بار یہی کہا گیا ہے کہ عالمِ رنگ و بو مظہر صفاتِ الٰہی ہے۔ اس کی اصل وہی مصدرِ ہستی اور ذاتِ باری ہے۔ اسما اور اشکال کی کثرت نظر کا دھوکا ہے۔ کائنات بے اصل ہے اور اصل ذاتِ مطلق ہے۔ کثرت محض یار کی تجلی سے دکھائی دیتی ہے ورنہ اصل تو وہی وحدت ہے جو کائنات کے ذرّے ذرّے میں جاری و ساری ہے۔ اردو کے غزل گو کی نظر میں کائنات خیال کا چمن ہے یا حلقۂ دامِ خیال :
ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد
عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے
یا بقول میر :
یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا
کائنات کو ’نہیں‘ اور صرف ذاتِ مطلق کو ’ہاں‘ سمجھنا، نظر آنے والی چیز کو نفی (شونیہ) اور نہ نظر آنے والی کو مثبت یا اصل جاننا، کائنات کو محض جلوہ گاہِ صفات ہی نہیں بلکہ ذات مطلق کو اس میں جاری و ساری دیکھنا، ان خیالات میں اور ویدانت کی روحانی ماورائیت اور تصوریت میں ذرا برابر بھی فرق نہیں۔ یہ اور ایسے تمام خیالات جن کا اردو غزل میں باربار اظہار ہوا ہے، ہندستانی ذہن کے اس بنیادی رویے کے غماز ہیں جو خالق کو تخلیق سے الگ نہیں سمجھتا، جو کثرت کو تعدد کا طلسم اور وحدت کلی کو کائنات کی کثرت میں بھی حاضر و ناظر دیکھتا ہے۔ تصوریت کی اس تخئیلی و ماورائی دنیا میں خاصی شعری کشش ہے، قطع نظر اس کے کہ شیخ کیا کہتا ہے اور برہمن کیا کہتا ہے، یہ موضوعات اور مضامین اردو غزل کے اپنے ہوکر رہ گئے، اور ہر کلاسیکی شاعر خواہ وہ مسلمان ہو یا ہندو یا کوئی اور، انھیں سینے سے لگائے نظر آتا ہے۔ ان وجودی خیالات کے بہت سے دوسرے رُخ اور پہلو ہیں، مثلاً معاشرتی وسیع المشربی، ذہن و نظر کی کشادگی، ظاہرداری اور خارج پرستی نیز تنگ نظری و تعصب کی مذمت، باہمی اشتراک اور رواداری کی تلقین اور ذاتِ مطلق یعنی اصل جوہر یا وجودی کنہہ کی تلاش و جستجو۔ ان سب پر روشنی ڈالنے کی اس مختصر مضمون میں گنجائش نہیں۔ البتہ جیساکہ اوپر واضح کیا جاچکا ہے کہ اگر ان میں سے صرف ایک پہلو یعنی تصورِذات مطلق ہی کو لیا جائے تو بھی اردو غزل کے فکری و تخلیقی سرمایے میں ہندستانی ذہن کی کارفرمائی دیکھنے اور دکھانے کے خاصے شواہد مل جاتے ہیں۔
(1966)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

