مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام منعقد ہوا "کشمیری پنڈتوں کا اردو زبان و ادب میں حصہ ” موضوع پر سیمینار، مشاعرہ اور تقرب رسم اجرا
مدھیہ پردیش اردو اکادمی ،محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام ” کشمیری پنڈتوں کی اردو زبان و ادب میں حصہ داری” موضوع پر سیمینار، افسانوں کی قرات، مشاعرہ اور تقریب رسم اجراء کا انعقاد 16 مئی 2022 کو شام 4 بجے گورانجنی آڈیٹوریم، رویند بھون کنونشن سینٹر، بھوپال میں کیا گیا۔
پروگرام کی شروعات میں اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے مہمان خصوصی ڈائریکٹر سنسکرتی ادیتی کمار ترپاٹھی کا استقبال کیا اور ادیتی کمار ترپاٹھی نے تمام مقررین کا کتابیں پیش کر استقبال کیا اور اپنے خطاب میں کہا کہ ہم سبھی ادبا و شعراء کے بہت شکرگزار ہی کہ انھوں نے ہماری دعوت کو قبول کیا اور یہاں تشریف لائے. ڈاکٹر نصرت مہدی پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ کشمیری پنڈت کئی دہائیوں سے اردو ادب کی مختلف اصناف پر لگاتار کام کررہے ہیں اور انھوں نے اردو زبان کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے مزید ثروت مند بنایا ہے لیکن اردو زبان میں ان کی حصہ داری پر کبھی کہیں گفتگو نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے اس موضوع پر گفتگو کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے مدھیہ پردیش اردو اکادمی ،محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام متذکرہ پروگرام کا انعقاد کیا گیا ہے۔
سیمینار کی صدارت فرما رہے برج ناتھ بیتاب جموں نے کہا کہ کشمیری پنڈت دنیا کے ہر کونے میں سکونت پذیر ہیں اور اردو کے حوالے سے ان کا کردار مختلف سطحوں اور مختلف مرحلوں پر نمایاں رہا ہے، مگر صحافت کے شعبہ میں یہ کردار شاید دیگر شعبوں سے کہیں زیادہ ہے۔
سیمینار کے مہمان ذی وقار اور نیوز 18 کے گروپ ایڈیٹر راجیش رینا کشمیر نے کہا کہ اردو خالص ہندوستانی زبان ہے اسے کسی مذہب سے جوڑنا مناسب نہیں. کشمیری پنڈتوں نے اردو زبان و ادب کو فروغ دینے میں اپنے مذہب سے اوپر اٹھ کر کردار نبھایا ہے.
معروف فکشن نگار دیپک بدکی شری نگر نے اس موقع پر اپنا افسانہ ’’جڑوں کی تلاش‘‘ پیش کیا۔ خالد حسین جموں نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہ مغلوں، پٹھانوں اور سکھوں کے دور میں جو کشمیری پنڈت دوسری ریاستوں میں آباد ہوئے ان میں پنڈت برج نرائن چکبست، پنڈت دیا شنکر نسیم، پنڈت رتن ناتھ سرشار، پنڈت آنند نرائن ملا اور گلزار دہلوی وغیرہ نے اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت اور فروغ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ان معتبر شخصیات نے اردو زبان کی نوک پلک سنواری۔ کشمیری پنڈتوں نے تعلیم کے فروغ کے لیے بہت بڑا کام کیا۔
ڈاکٹر محمد نعمان خان بھوپال نے کہا کہ اردو ادب کی ترویج و اشاعت اور فروغ میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد واشخاص کی حصہ داری شامل ہے۔ اس ضمن میں مسلمانوں کے دوش بہ دوش کائستھوں ، سکھوں، مارواڑیوں، پنڈتوں اور خاص طور سے کشمیری پنڈتوں نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے اور بہت نام ان میں ایسے بھی ہیں کہ جن کے ذکر کے بغیر اردو زبان و ادب کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔
ڈاکٹر عزیز عرفان نے کشمیری پنڈتوں کی اردو زبان و ادب میں حصہ داری کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا وہیں رافیعہ محی الدین اننت ناگ نے اپنے مقالے میں کہا کہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ملک بھر کے قلمکاروں کے ساتھ ساتھ کشمیر کے بلندپایہ دانشوروں، عالموں، ادیبوں اور شاعروں کا اہم رول رہا ہے۔ اس زبان کو فروغ دینے میں مسلم ادبا و شعرا کے ساتھ ساتھ کشمیری پنڈت ہر عہد میں پیش پیش رہے۔ انھوں نے اردو ادب کے ہر گوشے میں طبع آزمائی کرکے اردو زبان کو ترقی کی منزولوں تک لے جانے میں ایک اہم کردار ادا کیا. سیمینار کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر مہتاب عالم نے اپنے مخصوص انداز میں ادا کیے.
سیمینار کے بعد کل ہند مشاعرے کا انعقاد سید صلاح الدین دبئی، کی صدارت میں کیا گیا. جن شعرا نے اپنا کلام پیش کیا ان اسمائے گرامی اور اشعار درج ذیل ہیں.
کل بیٹھے تھے دھوپ کے مارے جس کی گھنی چھاؤں میں
آج اس سوکھے پیڑ کو جڑ سے کٹوانے آئے ہیں لوگ
(برج ناتھ بیتاب)
کہاں تو بات کر رہا تھا کھیلنے کی آگ سے
ذرا سی آنچ کیا لگی کہ موم سا پگھل گیا
(نعیم اختر خادمی)
محبتوں کی روایات کا امیں بن کر
میں آسمانوں ملتا رہا زمیں بن کر
(رئیس نظامی)
ملنے کو تو مل آئیں ان سے ابھی جاکر
جانے میں مگر کتنے پیسے بھی تو لگتے ہیں
(ڈاکٹر پروین کیف)
رد عمل ہوا ہے کسی کے سلوک کا
دنیا تمام میری نظر اتر گئی
(ڈاکٹر قمر سرور)
امیدوں کی کرن بن کر گھنی راتوں میں شامل ہے
تیری خوشبو ہر اک لمحہ میری سانسوں میں شامل ہے
(ارونا چوہان)
میر و غالب کی دل آزاری نہیں کی جاتی
منچ پر ہم سے اداکاری نہیں کی جاتی
(کنور جاوید)
میں اپنی آنکھوں سے دنیا کو جیت لاؤں گی
تو میرے پاؤں کی زنجیر دیکھتے رہنا
(جیوتی آزاد کھتری)
ایک دریا کو تکبر ہے روانی پر بہت
اور سمندر خامشی سے کتنے دریا پی گیا
(سہیل عمر)
جبیں کے نیچے رکھی بانجھ سیپیوں کو میری
کسی دکھ میں بنانا گہر نہیں آتا
(سندیپ شریواستو)
مشاعرے کی نطامت کے فرائض رئیس نظامی نے بحسن خوبی انجام دیے.
اس موقع پر مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے مالی تعاون سے شائع ہونے والی کتابوں کا رسم اجرا بھی کیا گیا. جن ادیبوں اور شاعروں کی کتابوں کا رسم اجرا ہوا ان میں نعمت اللہ ندوی، شاہد ساگری، خالد عابدی، یعقوب صابر، عبدالعزیز روشن، حنیف اول اور آدرش دوبے کے نام شامل ہیں. ساتھ ہی کشمیر کے معروف فکشن نگار دیپک بدکی کے نئے ناول "اپنا اپنا سچ” اور تنقیدی مضامین کی کتاب "عصری رجحانات” کا اجرا بھی عمل میں آیا.
پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر نصرت مہدی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا.
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

