وحشت کلکتوی: حیات اور کارنامے:ایک مکالمہ – مقصود دانش
ہماری پیڑھی کے نثر نگار اب گونگی نثر لکھنے پر آمادہ نہیں’ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس نسل کے بعض نثر نگاروں کی زبان لکنت آمیز ہے اور بعض کے ہاں کسی ادبی قضایا سے متعلق تشفی بخش دلائل موجود نہیں- لیکن اب نثر نگاری میں قصیدہ گوئی کی روش سے اجتناب برتا جارہا ہے- میرے اس خیال کی تصدیق ہماری نسل کے محقق پروفیسر سید علی عرفان نقوی کی حالیہ تصنیف بعنوان” وحشت کلکتوی: حیات اور کارنامے” سے ہوسکتی ہے- کتاب صحتمند ہے- صحتمندی سے مراد محض ضخامت نہیں بلکہ مواد کو بھی اعتبار حاصل ہے- کتاب کے عنوان کے ساتھ انصاف کرنے کی کامیاب سعی کی گئی ہے- ادبی کارناموں کے حوالے’ شاعر کی تخلیقی و ادبی نگارشات کے نمونوں اور اکابرینِ ادب کے اقتباسات کی مدد سے کتاب کی تکمیل کرنے کے بجائے محقق نے اپنی گانٹھ سے بہت کچھ لگانے کی کوشش کی ہے- تحقیق و تنقید کو لازم و ملزوم قراردیا گیا ہے- اس خیال کی پاسداری نے کتاب کو قابلِ مطالعہ بنادیا ہے- کتاب کے پہلے دو ابواب میں محققانہ فرائض ادا کئے گئے ہیں- ظاہر ہے شاعر کی حیات اور عہد سے متعلق موجود بیانات کو محقق ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کی ادبی کوشش ہی کرسکتا ہے-
"وحشت: حیات اور کارنامے ” پر مشتمل باب نہ صرف قابلِ مطالعہ ہے بلکہ محقق کی فکر و نظر کا اظہاریہ بھی ہے-
جیسا کہ کہا گیا’ اب نثر نگاری محض قصیدہ گوئی نہیں’ اس تناضر میں زیرِ مطالعہ تصنیف میں تحریری احتیاط سے خوب کام لیا گیا ہے- محقق کا یہی محتاط رویہ سنجیدہ قاری کو اپنی طرف راغب کرتا ہے- اہم شخصیات سے متعلق پی-ایچ-ڈی کے مقالے اس لئے قابلِ مطالعہ نہیں ہوتے کہ محقق دورانِ تحقیق ادبی فریضہ ادا کرنے کے بجائے اپنے کام کے مواد جمع کرکے درسی ضرورت پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے’ اس روئیے سے عرفان نقوی نے بہت حد تک دامن بچانے کی سعی کی ہے- وحشت سے متعلق منعقدہ تقریبات اور کچی پکی تحریروں میں اس بات کا اکثر رونا رویا جاتا ہے کہ ابتک وحشت کے سرو ادبی قد کے متعلق کوئی اہم گفتگو نہیں ہوسکی- نقوی صاحب نے اس خیال کی نفی کرتے ہوئے حقیقت کو بے نقاب کیا ہے- مثلاً
” ان(وحشت) پر جو کچھ بھی ابتک لکھا گیا ہے وہ اتنا کم بھی نہیں ہے کہ انہیں اردو ادب کی تاریخ میں اپنا نام درج کروانے کے لئے کسی بڑے مقالے کا سہارا لینا پڑے(صفہ نمبر213)”
اور سچی بات یہی ہے کہ وحشت کی توصیف میں جتنی باتیں اب تک ہوئی’ اور ہورہی ہیں’ اتنی توصیف شاید ہی بنگال کے کسی ادیب و شاعر کی’ کی گئی ہو- ان سے قبل نساخ نے اپنے بوتے پر ضرور بنگال سے باہر دہلی اور لکھنؤ میں اپنا لوہا منوایا- لیکن وحشت کے بعد پرویز شاہدی کو زندگی میں حسرت ہی رہ گئی کہ انہیں بنگال سے باہر ان کے مرتبے کا اعتراف کیا جائے- جمیل مظہری کا ذکر اس لئے نہیں کیا جا سکتا کہ بہار کے مغویہ شاعر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں-
وحشت کے جس تخلیقی روئیے پر اعتراض کیا جاتا رہا ہے دراصل وہی روّیہ ان کا سرمایہ ہے- ظاہر ہے روائتی شاعری پر اکتفا کرتے تو بہت سارے روائتی شاعروں کی طرح وحشت بھی ایک عام شاعر ہوتے۔ جس طرح روائتی شعراء اہم ہونے کے باوجود ہماری سائکی کا حصہ نہ بن سکے’ وحشت بھی گم ہوجاتے – کتاب میں شاعر کی معصومیت سے متعلق کئی جہتوں کو روشن کیا گیا ہے- وحشت سادہ لوح شاعر تھے- اس حقیقت سے شائد ہی کسی کو انکار ہو’ صاحبِ کتاب نے درجنوں مثالیں پیش کی ہیں- لیکن وہ شاعر کا نفسیاتی مطالعہ کرتے ہوئے یہ بھی ظاہر کرتے کہ وحشت معصوم ہونے کے ساتھ ساتھ بصیرت افروز بھی تھے’ تو ایک پہلو اور بھی نمایاں ہوتا- جن بڑوں نے تتبعِ غالب پر وحشت کی پیٹھ ٹھونکی’ ان میں چند شعراء بھی شامل تھے- اگر انہیں وحشت کا یہ روّیہ اتنا ہی پسند تھا تو خود کیوں نہیں غالب کے اسیر ہوئے- یہ ایک اہم سوال ہے-
پھر بھی وحشت کی وسیع النظری داد طلب ہے- ان کی دور رس نگاہ اس حقیقت کو دیکھ رہی تھی کہ غالب سے نسبت ہی انہیں زندہ رکھے گی- حالیہ مثال سے اس نفسیاتی نکتے کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ جدیدیت کا رجحان زوال پذیر’ جدیدیت کے موئدین خاموش’ تجریدی افسانوں کا دامن تنگ’ لیکن سریندرپرکاش کا افسانہ ” بچو” آج بھی موضوعِ مطالعہ ہے کہ افسانہ نگار نے افسانے میں پریم چند کے ناول کے ایک کردار ” ہوری” کو زندہ کردیا ہے-
جو کتاب سوالات نہیں قائم کرتی اپنی اہمیت کھو دیتی ہے- زہرِ مطالعہ کتاب خصوصی طور پر وحشت اور تتبعِ غالب کے حوالے سے متعدد سوالات قائم کرتی ہے- مثلاََ غالب کے شعر:
وفاداری بشرطِ استواری اصل ایماں ہے
مرے بت خانے میں تو کعبہ میں گاڑو برہمن کو
اور وحشت کے شعر:
بغیر از صدق کچھ مطلب نہیں ہے کفر و ایماں سے
دلوں سے کام ہے اس کو کہ ہندو و مسلماں سے
کا تقابلی مطالعہ پیش کرتے ہوئے عرفان نقوی رقمطراز ہیں:
” البتہ وحشت کے یہاں لفظ "اس” سے واضح اشارہ "خدا” کی طرف سے جس کے بعد یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ خدا کو کفر و ایماں سے نہیں دلوں کے جذبہ صدق سے مطلب ہے”
مذکورہ بالا اشعار کا تقابلی مطالعہ پیش کرنا میرے لئے حدِ ادب ہے لیکن عرفان نقوی کے جرأتِ اظہار کی سراہنا اس لئے ضروری ہے کہ شاعر کو بت تصور کرنے کے بجائے بشر سمجھ کر انہوں نے غالب اور وحشت کے معتدد اشعار کی روشنی میں قارئین کو مزید سوچ بچار کی دعوت دی ہے- لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ بعض مقامات پر جذباتی ہوگئے ہیں- مثلاً
"کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالب”
والے شعر سے متعلق لکھتے ہیں:
"غالب گویا بے غیرتوں کی طرح خود کو گناہ گار مانتے ہوئے بھی کعبہ جانے کے لئے تیار ہی”
(صفحہ149)
جب شعر کو ظرافت نگاری کا تاج عطا کردیاگیا تو پھر ” بے غیرتوں” جیسے الفاظ سے پہلو تہی کی جاسکتی تھی- لیکن کتاب میں بہت سارے ایسے مقامات میں جہاں صاحبِ کتاب نے محتاط رویہ کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے گفتگو کی ہے- مثلاََ
"وحشی نے غالب کا تتبع ایک مخصوص حدتک ہی کیا ہے- ان کا اشہبِ فن غالب کی ان سرحدوں تک نہیں پہنچ پایا جہاں صرف غالب ہی کی حکمرانی ہے” ( صفحہ 143)
٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

