زندگی کی رونقیں ساری کی ساری ماں سے ہیں
روشنی بھی دلکشی بھی اور خوشی بھی ماں سے ہیں
بجھ گئے سارے دیئے جب آندھیاں چلنے لگیں
اور پھر کانٹوں بھری سب جھاڑیاں اگنے لگیں
مٹ گئے ارمان سارے وادیاں ہلنے لگیں
پھر سمجھ آیا کہ سب رعنائیاں بھی ماں سے ہیں
اے خدا تو کر عطا ماں کو وہ سوغات حیات
جس میں ہو مشکل نہ کوئی ، ہوں فقط آسانیاں
دے مکاں خلد بریں میں ، جو چلیں راہ عدم
بخش دے تو ان کو مولا دے حیات جاوداں
ماں ہی وہ نعمت ہے کہ جنت بھی قربان ہے
زندگی کی رہ میں سب آسائشیں بھی ماں سے ہیں
ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی
آراضی باغ، اعظم گڑھ
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

