دہلی،بنگال،راجستھان،جھار کھنڈ، بہار،اتر پردیش،جموو کشمیر کے اسکالرز نے کی شرکت
اتر پردیش اردو اکا دمی، لکھنؤ، دہلی اردو اکادمی، قومی کونسل برا ئے فروغ اردوزبان، نئی دہلی اور این۔بی ۔ٹی نئی دہلی نے لگائے اپنے اسٹال
اردو،ہندی اور سنسکرت سمیت پڑھے گئے بائیس مقالات
میرٹھ29؍ اکتوبر2022ء
شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ، اتر پردیش اردو اکادمی ،لکھنؤ،بین الاقوامی نسائی ادبی تنظیم، (بنات) اوربین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجن(آیوسا)کے اشتراک سے چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں منعقد ہورہے پانچ روزہ بین الا قوامی کثیر لسانی نوجوان اردو اسکالرس فیسٹیول(اردو، ہندی، انگریزی، سنسکرت، فارسی)بعنوان’’ اردو کی ادبی صحافت‘‘ کے دوسرے دن ہندی اور سنسکرت سمیت پانچ اجلاس منعقد کیے گئے ۔جس میں دہلی،بنگال،راجستھان،جھار کھنڈ، بہار، اتر پردیش،جموںو کشمیر کے اسکالرز نے کی شرکت کی۔اس دوران صبح11:00بجے بک فیئر،سید اطہر الدین نیشنل ایوارڈ اور شام 7:00؍ بجے شام غزل کا بھی انعقاد کیا گیا۔
اردو فیسٹیول کے دوسرے دن پہلا اجلاس شعبہ کے پریم چند سیمینار ہال میں منعقد کیا گیا جس کی محفل صدا رت پروفیسر عابد حسین حیدری، سنبھل، ڈاکٹرریاض احمد جمووں اور ڈاکٹر ولا جمال العسیلی،مصر جلوہ افروز رہے۔ جب کہ تنویر اختر رومانی، جمشید پور’’جمشید پور کے ادبی رسائل‘‘ڈاکٹر یامین انصاری، دہلی نے’’ اردو کے فلمی رسالے‘‘ اور ڈا کٹر منور حسن کمال، دہلی نے عنوانات سے اپنے مقالات پیش کیے۔ مہمانان اعزازی کے بطور ذیشان خان، آفاق احمد خاں نے شر کت کی۔نظامت کے فرا ئض ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے انجام دیے۔
ہندی و سنسکرت کادوسرا اجلاس شعبۂ ہندی میں منعقد کیا گیا۔ جس کی مجلس صدارت پر پروفیسر نوین چند لوہنی(ڈین فیکلٹی آف آرٹس،چودھیری چرن سنگھ یو نیورسٹی،میرٹھ)،پروفیسر واچسپتی مشرا، میرٹھ،پروفیسر پرگیہ پاٹھک، میرٹھ،پروفیسرکویتا تیاگی،میرٹھ،سشیل کمار سیتاپوری اور ڈاکٹر عبد الرحیم،لکھنؤ نے کی۔ مقالات ڈاکٹر اسلم صدیقی، مظفر نگر،ڈا کٹر پردیپ کمار،میرٹھ، کفیل احمد، میرٹھ،کماری ورشا،میرٹھ، پنکو کمار ،میرٹھ،شیوم کمار،میرٹھ،کماری سمرین،میرٹھ، فرقان اور وکرانت نے اپنے اپنے مقالات پیش کیے۔ساتھ ہی ڈاکٹر مدھو مشرا کی کتاب’’مہا کوی سور داس اور چیتنیہ مت‘‘ کا اجراء بھی عمل میں آ یا۔نظامت ڈاکٹر الکا وششٹھ نے کی۔
تیسرے اجلاس کی مجلس صدارت پرعارف نقوی،جرمنی، محمد نوشاد، جمشید پور،تنویر اختر رو مانی، ڈاکٹر ہما مسعود ،میرٹھ جلوہ افروز رہے اور مقا لہ نگار کے بطور ،بشیر ما لیر کوٹلوی،پروفیسر عابد حسین حیدری،سنبھل ، ’’شب خون :ایک مطالعہ‘‘ اور شاہد حبیب فلاحی’’سہ ماہی اکادمی، لکھنؤ:ایک جائزہ‘‘ کے عنوانات سے اپنے مقالے پیش کیے۔
اسی دوران فکشن تنقید کے لیے پروفیسر قدوس جاوید،کشمیر اوراردو فکشن کے لیے معروف افسانہ نگاربشیر مالیر کوٹلی کو سید اطہر الدین نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ساتھ ہی منظر کاظمی کا افسانوی مجموعہ’’لکشمن ریکھا‘‘ اور ڈاکٹر شبستاں آس محمد کی کتاب’’قدرت اللہ شہاب کے منتخب افسانے و تجزیے‘‘کا اجراء بھی مہمانان کے ہاتھوں عمل میں آیا۔
بعد دو پہر دو اجلاس منعقد ہو ئے جس میں محفل صدارت میں انجینئر رفعت جمالی،آفاق احمد خاں،میرٹھ اور احمد صغیر، گیا،بہار جلوہ افروز رہے ۔ڈاکٹر فرحت خاتون،میرٹھ ،نے،فرح ناز،بچوں کا ماہنامہ’’امنگ‘‘،ناصر آ زاد، مالیر کوٹلہ نے’’ پرواز ادب، ادب کی پرواز‘‘ عنوان سے اپنے مقالے پیش کیے۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر ہما مسعود کی کتاب’’ اردو نثر کے ارتقا میں مولوی بشیر الدین احمد کا حصہ‘‘ کا اجراء بھی عمل میں آیا۔نظامت کے فرائض۔نوازش مہدی نے انجام دیے۔
شام بجے ’’محفل افسانہ‘‘ کا انعقاد کیا گیا جس کی مجلس صدارت میں بشیر مالیر کوٹلوی،پرو فیسر اسلم جمشید پوری، اشتیاق سعید،ممبئی اور افسانہ نگار کے بطور ارشد منیم ،پنجاب، ڈاکٹر تو صیف علی، eگڑھ،ڈاکٹر ذا کر فیضی، دہلی اور سیدہ مریم الٰہی نے شر کت کی اور اپنے افسانوں کی قرأت کی۔محفلِ افسانہ میں عارف نقوی کے ناولٹ ’’بجھتے جلتے چراغ‘‘ کا اجراء عمل میں آ یا۔نظامت کے فرائض عظمیٰ پروین نے انجام دیے۔
شام7:00؍ بجے شام غزل کا پرو گرام منعقد ہوا جس میں عالمی شہرت یافتہ غزل سنگر مکیش تیواری نے مختلف شعراء کی غزلیں پیش کر کے سماں باندھ دیا۔
اتر پردیش اردو اکا دمی، لکھنؤ، دہلی اردو اکادمی، قومی کونسل برا ئے فروغ اردوزبان، نئی دہلی اور این۔بی ۔ٹی نئی دہلی نے لگائے اپنے اسٹال۔ خواہش مند حضرات فیسٹیول میں شر کت کر کے ان سبھی بک اسٹال سے فیض یاب ہوسکتے ہیں۔
پروگرام میں عمائدین شہر اور کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات نے شر کت کی۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

