Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ناول شناسی

   سفر کا درد: ایک تہذیبی ورثہ – وصیہ عرفانہ

by adbimiras اکتوبر 28, 2022
by adbimiras اکتوبر 28, 2022 0 comment

’’’سفر کا درد‘‘ صوفیہ انجم تاج کا ایک سوانحی ناول ہے۔صوفیہ انجم تاج کا نام زبان پہ آتے ہی مختلف رنگوں کی قوس و قزح ذہن کے افق پر نمودار ہونے لگتی ہے،کانوں میں سات سُروں کی سنگم کی لَے گونجنے لگتی ہے اور نظروں کے سامنے ایک دلنواز پیکر اُبھر آتا ہے۔میں صوفیہ انجم تاج کو پہلے صرف ان کی نظموں اور غزلوں کے توسط سے جانتی تھی۔ان کی شاعری میں نسائی انداز گھر کی انگنائی،کھیتوں کی ہریالی ،پھولوں کی تازگی اور خوشبوؤں کی طراوت کے حوالے سے ملتا ہے۔گذشتہ برس اتفاق سے ان کی نظمیہ مصورانہ پیشکش’’۔۔۔۔۔تم کو خبر ہونے تک‘‘ دیکھنے کو ملی جس کے ذریعے میں ان کی مصوری سے آشنا ہوئی اور دل نے اعتراف کیا کہ ان کی شناسائی حرفوں سے زیادہ رنگوں سے ہے۔ان کے موئے قلم کے لمس سے رنگ بول اُٹھتے ہیں۔مجھے خیال آیا کہ صوفیہ نے اپنے قلم اور موئے قلم کی جنبش سے اپنے وطن کی البیلی اداؤں،محبت و یگانگت،جوہی چنبیلی کی خوشبوؤں، آنگن و دالان کی رونقوں کو مجسم کر دیا ہے۔ہم روز و شب جن واقعات اور مناظر سے متصادم ہوتے رہتے ہیں، ایک تخلیق کار اپنے قلم کے ذریعے اور اپنے تخلیقی شعور کے سہارے ان میں معانی اور پس معانی تلاش کر لیتا ہے۔صوفیہ انجم تاج کی خوش نصیبی سَوا ہے کہ وہ اپنی تخلیقی سوچ کا اظہار لفظوں اور رنگوں،دونوں وسیلے سے کر لیتی ہیں۔’’۔۔۔۔۔تم کو خبر ہونے تک‘‘کے مطالعے کے بعد میں نے اپنے تاثرات کو ’’حرف و رنگ کی شاعرہ : صوفیہ انجم تاج‘‘ کے عنوان سے سپرد قلم کیا جو رسالہ’’انتساب‘‘ جولائی تا ستمبر ۲۰۱۱ء میں شائع ہوا،بعد ازاں کئی اور رسالوں میں بھی ڈائجسٹ ہوا۔میرا مضمون صوفیہ انجم تاج سے ٹیلی فونک رابطے کاوسیلہ بنا اور ان سے گفتگوکے دوران مجھے اپنے اندازے کے درست ہونے کے شواہد ملے کہ صوفیہ ناسٹلجیائی کیفیات کی اسیر ہیں۔وطن سے دوری کے سبب ان کی روح آج تک اپنے گاؤں کی گلیوں، آنگنوں اور دالانوںمیں بے قرار گھومتی رہتی ہے۔یقیناً ان کی زندگی مسلسل رواں دواں ہے لیکن بچپن سے وابستہ یادوں، باتوں اور کہانیوں کا قافلہ کہیں ٹھہر سا گیا ہے اور اس کا کیف پوری توانائی کے ساتھ ان کے احساسات میں شامل ہے۔میرے اس خیال کو مزید تقویت ملی جب میں نے ان کی خود نوشت’’یادوں کی دستک‘‘ پڑھی۔اپنی اس کیفیت کے بارے میں وہ خود کہتی ہیں:

’’مجھے ایسا لگا جیسے میرے اندر دو روحیں بستی ہوں۔ایک وہ جو بچپن کی حسین یادوں کے جھرمٹ میں گھری ہوئی آج تک اسی  زمانے میں رہ رہی ہے،جس میں اس نے آنکھیں کھولی تھیں۔دوسری وہ ہے جو عصر حاضر کی بالغ عورت ہے،جس نے زندگی کے نشیب و فراز کوقدم بہ قدم چل کر طیٔ کیا ہے۔یہ دونوں روحیں آپس میں پرانی سہیلیوں کی طرح کئی بار یوں گلے ملتی ہیں کہ یہ قیاس کرنا دشوار ہو جاتا ہے کہ بچپن کی معصوم اور کھلنڈری روح کون سی ہے اور آج کی تعلیم یافتہ ،زمانہ شناس بالغ روح کون سی ہے۔‘‘

صوفیہ اپنے بچپن سے جڑی معمولی سے معمولی جزویات اور تفصیلات کو یاد رکھتی ہیں بلکہ انہیں یاد رہ جاتی ہیں۔قدرت نے کمال فیاضی سے انہیں جتنی نعمتیں عطا کی ہیں،ان میں سے یہ بھی ایک اہم نعمت ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یاد ماضی صوفیہ کے لئے عذاب کی صورت کبھی نہیں رہا اور نہ ہی وہ حافظے کے چھن جانے کی تمنا رکھتی ہیںبلکہ انہوں نے اپنے حافظے کو خدا کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت تسلیم کر کے ہمیشہ اس کا مثبت استعمال کیا ہے۔اسی نعمت کے طفیل’’یادوں کی دستک‘‘ ایک خود نوشت کی حد بندیوں سے بلند ہو کر اس عہد کی تہذیب و تمدن کی ایک مئوقر دستاویز بن گئی ہے جس میں اس وقت کا ماحول،مختلف طبقوں کی زبان اور بولی،سیاسی و سماجی حالات،فرقہ وارانہ ہم آہنگی،تقسیم وطن کا المیہ،ہجرت کا کرب،اخلاص و محبت،سبھی کچھ شدت احساس کے ساتھ ملتا ہے۔گویا ’’یادوں کی دستک‘‘ کے ذریعے میری ملاقات ایک نثر نگار صوفیہ سے ہوئی ،جو اپنی نثر میں مصورانہ اور شاعرانہ صفات کی آمیزش سے قاری کے سامنے متعلقہ عہد، واقعے یا شخص کی متحرک اور جیتی جاگتی تصویر پیش کر دیتی ہیں۔

صوفیہ کے خمیر میں محبت کا تناسب کچھ زیادہ ہی ہے۔یوں بھی ان کا تعلق جس خانوادے سے ہے،اس میں محبت،خلوص،ہمدردی،غربا پروری،قرابت داری،انکساری و خاکساری بدرجہ اتم پایا جاتا رہا ہے۔’’یادوں کی دستک‘‘ میں جا بجا مختلف کرداروں کے حوالے سے ان اوصاف کی جھلکیاں ملتی ہیں اوران کی حالیہ تصنیف ’’سفر کا درد‘‘ کے سارے تانے بانے میںیہی اوصاف بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔

’’سفر کا درد ‘‘آج کے عہد کی کہانی نہیں ہے بلکہ تقریباً پینتیس چالیس سال قبل کا ماحول اس میں پایا جاتا ہے جب اہل ثروت کے گھروں میں خاتون خانہ کی سہولت کے لئے متعدد مددگار پائے جاتے تھے۔اس وقت اہل ثروت میں وضع داری تھی اور غریبوں میں انکساری و خاکساری۔صاحب حیثیت اگر نوازنا جانتے تھے تو غریب اپنی وفا اور محبت نچھاور کرنا۔لیکن محبت کا حق بہت کم لوگ اس طرح ادا کرتے ہیں،جس طرح صوفیہ انجم تاج نے ادا کیا ہے یعنی اپنے گھر میں کام کرنے والی ایک خاتون’بتولن بی‘ کی زندگی کے تمام نشیب و فراز کو کتابی شکل میں پیش کرکے محفوظ کردیا ہے۔ چونکہ صوفیہ بتولن بی کی کہانی کے ہر اتار چڑھاؤ میں جسمانی وجود اورمکمل ذہنی و قلبی احساسات کے ساتھ شامل ہیں لہٰذا ’’سفر کا درد‘‘ میں ناول سے زیادہ خود نوشت کا تاثر ابھرتا ہے۔

یہ ایک کردار اساس ناول ہے۔شروع سے آخر تک کہانی بتولن بی کے کردار کے نین و نقش اُبھارتی جاتی ہے۔صوفیہ،ان کے امی ابا،بتولن بی کی بیٹی سحر،شہزاد،عبدا لرحمٰن اور جلّو میاں،یہ تمام کردار اپنے حرکت و عمل اور اپنی باتوں سے بتولن بی کے ہی نقوش واضح کرتے جاتے ہیں۔

بتولن بی ایک متوسط طبقے کی خاتون تھیںجن کے شوہر کو ان کے بزنس پارٹنر نے دھوکہ دیااوران کا بزنس آن واحد میں ختم ہو گیااوران کا کنبہ سڑک پر آگیا۔بتولن بی کے شوہر یہ غم برداشت نہیں کر سکے ۔وہ اپنی بیوی اور بیٹی سحر کو بے یارومددگار چھوڑ کر داعئی اجل کو لبیک کہہ گئے۔بتولن بی نے نہایت جواں مردی سے حالات کا سامنا کیا اور صوفیہ انجم تاج کے گھر میں کام کرنے لگیں۔ان کی تمام تر توجہ سحر پر مرکوز رہتی اور اسے زندگی کی حقیقتوں سے واقف کرانے کی کوششوں میں وہ لگی رہتیں۔لیکن انہیں یہ پتہ نہ چل سکا کہ سحر پڑوس میں رہنے والے ایک صاحب حیثیت لڑکے شہزاد کی محبت میں گرفتار ہو گئی ہے۔جب شہزاد کے والدین مصنفہ کے گھر میں آکر ان کی عزت نفس پر حملہ کرتے ہیں تو اس صورت حال کو برداشت کرنا بتولن بی کے لئے دشوار ہو جاتا ہے اور وہ نہایت عجلت میں سحر کی شادی عبدالرحمٰن سے کر دیتی ہیں۔عبدالرحمن اور سحرکی عمر میں کافی تفاوت تھا۔شہزاد سحر کی جدائی برداشت نہیں کر پاتا ہے اور مخبوط الحواس ہو کر کہیں غائب ہو جاتا ہے۔سحر عبدالرحمٰن کو دل سے قبول نہیں کر تی ہے اور ان دونوں کی شکستہ ازدواجی زندگی بتولن بی کے لئے ایک اورزخم بن جاتی ہے۔بچے کی ولادت میں سحر کا انتقال ہو جاتا ہے اور بیوی کے غم میں رفتہ رفتہ گھل کر عبدالرحمٰن بھی ختم ہو جاتے ہیں۔سحر کے بچے ’جلّو میاں‘کی پرورش کے بہانے بتولن بی خود کو سنبھالنے کی کوشش کرنے لگتی ہیں کہ سات آٹھ سال کی عمر میں وہ بھی ناگہانی طور پر ختم ہو جاتا ہے۔بتولن بی کی برداشت کی حد بس یہیں تک تھی۔وہ ذ  ہنی طور پر مائوف ہو جاتی ہیں اور آخر کا ر ایک دن اپنی عمر تمام کر لیتی ہیں ۔

بتولن بی کی زندگی گویا ابتدا تا انتہا،غم و اندوہ اور کشاکش سے عبارت رہی ہے لیکن انہوں نے اپنے غموں کو اپنے وجود پر اوڑھ کر زندگی سے کبھی کوئی شکوہ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ نہایت فعال، متحرک اور بلند ہمت رہیں ۔صوفیہ انجم تاج نے ان کے مکالموں کو ادبی چولا نہ پہنا کر ان کے کردار کو زندہ جاوید کردیا ہے۔قدیم پٹنہ کی نواحی بولی نے اس ناول میں ایک انوکھا اور اچھوتا حسن پیدا کردیا ہے۔بتولن بی تعلیم یافتہ نہ تھیں لیکن انہیں زندگی کا شعورحاصل تھا ۔اپنے مرتبے و منصب کا احساس تھا ۔احسان شناس تھیں اور نیکی ان کی روح میں پیوست تھی۔ان کی ٹوٹی پھوٹی بولی میں بھی حیات و کائنات کے گہر ے راز مضمر ہیں :

’’دیکھو بابو،مصیبت اکیلی نا آوے ہے۔اسی سے کہے ہیں میّاں کی، دھیان سے چلو۔ای دنیا جنگل ہے بیٹی۔ہیاں(یہاں) طرح طرح کا جناور رہے ہے۔‘‘

’’دیکھو بیٹی،چار حرف کا جان لیو(لیا) ہو، تواوکا(اس کا)شان مت دکھاؤ۔زیادہ اُڑو مت۔۔۔۔اوچھا گھڑا چھلکے ہے بابو،دیکھو بھرا گھڑا تو چپ ہی رہے ہے۔‘‘

’’وہی کرو بابو،جو تم کو ساجے۔۔۔۔دیکھو نا بابو،توں(تم) جو ببول کا پیڑ لگاووگی تو،تو کو(تم کو)اوہی کانٹا ہی نا ملے گا،آم کہاں سے کھاؤگی بیٹا۔۔۔۔۔!‘‘

’’دھیرے بولو۔۔۔۔اجی ای(یہ)پاؤں پٹخ پٹخ کے کاہے(کیوں) چلو ہو۔۔۔۔تمرے ایسے چلے سے بابو میرا دل دہلے ہے۔۔۔۔۔دیکھو بابو،ایک بات سن لو ۔۔۔۔۔۔اکیلی لڑکی سڑک پہ کھلی تجوری کی طرح ہوئے ہے۔‘‘

سادگی،سادہ دلی اور معصومیت بتولن بی کا خاص وصف تھا۔ان کی معصومانہ سادگی کبھی کبھی ایسی پھلجڑی ثابت ہوتی کہ ساری محفل زعفران زار ہو جاتی۔صوفیہ انجم تاج نے بتولن بی کے کردار کے اس پہلو کو فن کارانہ چابک دستی سے نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے:

’’ارے کا(کیا) بتاویں۔۔۔۔لو سنو کا(کیا) ہوا۔ارے بنّی،ای(اس) جان کی ہڈی بڑی کمجور ہو گئی ہے بابو۔۔۔۔۔ سو،روز کا (کیا) کرتے تھے کی،لوٹا میں ٹھنڈا ٹھنڈا پانی تھوڑا سا کھلّے آسمان تلے رکھ دیتے تھے،کی سبنم(شبنم) کی بوند او(اُس) میں گریہے(گرے گی)،تو نہار منھ اوہی پانی پئیں گے۔مگر کا بتاویں،اوہی کسمت کھراب (وہی قسمت خراب)،سو بنّی ،اب او بھی نصیب نا ہے۔‘‘ میں نے پوچھا :’’تو کیوں نہیں اب آپ وہ ٹھنڈا پانی پی رہی ہیں۔وہ تو آپ کو ضرور پینا چاہئے، اگر آپ کو فائدہ تھا تو؟‘‘ تو بولیں’’ہائے بنّی سنا کی(کہ)دور دیس(امریکہ کی جانب اشارہ)میں ای(یہ) منھ جھونسا سب ہوائی جہاج لے کے چاند پر چلا گیا۔‘‘ ۔۔۔۔’’ہائے بتولن بی ،تو کیا ہوا اگر وہ چاند پر چلا گیا تو آپ کے اس ٹھنڈے پانی سے اس کا کیا تعلق؟‘‘وہ بولیں:’’بنّی کی بات۔۔۔!اور او

جو ہواں(وہاں) سے موتیہیں(پیشاب کریں گے) تو اوکہاں جیہے(جائے گا)۔ ارے اوہی پانی میں ہی نہ گرہئے جی۔۔۔۔۔اور توں کہو ہو کہ اوہی(وہی) پانی ہم پی جائیں۔‘‘

بتولن بی کے قبیل کی وہ نسل اب تقریباً ختم ہو چکی ہے۔نہ وہ معصومیت اور بھولا پن،نہ وہ سادگی اور سادہ دلی،نہ وہ وفاداری اور جانفشانی،نہ وہ بولی میں لوچ اور نرمی،نہ انداز میں وہ حلاوت،کچھ بھی اب باقی نہ رہا۔البتہ یہ بات قابل غور ہے کہ صوفیہ کی نسل کے متعدد لوگوں کو بتولن بی جیسے کردار سے اپنے بچپن یا لڑکپن میں واسطہ پڑا ہوگا،لیکن ایسے کردار کو صفحۂ قرطاس پر جیتا جاگتا اتار دینے کی ذمہ داری کم ہی لوگ ادا کر پاتے ہیں۔اس ناول کے مطالعے کے دوران کتنے ہی ایسے چہرے خود میری نظروں کے سامنے گھومنے لگے جن کی محبتوں کا قرض میری روح پر آج بھی ہے لیکن محبتوں کا قرض ادا کرنے کا سلیقہ صوفیہ انجم تاج نے دکھایا ہے ۔

بر سبیل تذکرہ ، بتولن بی کے کردار نے مجھے ’’کندن‘‘ کی یاددلا دی جس کا کامیاب خاکہ پیش کرکے رشید احمد صدیقی نے اسے زندہ جاوید کر دیا۔کندن ،علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی میں،ان کے شعبے میںگھنٹی بجانے پر مامور چپراسی  تھا۔رشید احمد صدیقی نے اپنے خاص اسلوب میں کندن کے منصبی فرائض اور اس کی شخصیت کے گوناگوں پہلوؤں کی ایسی تصویر کشی کی ہے کہ بظاہر معمولی نظر آنے والا یہ کردار اپنی پوری توانائی کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔

بتولن بی کے کردارکو زندگی اور تحرک بخشنے میں صوفیہ انجم تاج کی شگفتہ نثر اور ان کے سادہ بیانیہ کا اہم رول ہے۔صوفیہ کی زبان پیچیدگی سے مبرّا،سلیس اور رواں ہے۔وہ بڑی بے ساختگی کے ساتھ اپنی بات کہہ جاتی ہیں۔لفظوں کی تراش خراش اور جملوں کی دروبست سے زیادہ ان کی توجہ متن کی خالص پیشکش پر رہتی ہے۔دراصل وہ کہانی گڑھتی نہیں ہیں،بلکہ کہانی سناتی ہیں اورکہانی سنانے کا عمل فن کارانہ سے زیادہ مخلصانہ ہوتا ہے:

’’لے دے کر سحر ہی تو ان کی زندگی کی واحد کرن تھی،جو آب حیات کی صورت قطرہ قطرہ ان کے وجود میں سما کر ۔۔۔۔۔انہیں جینے کے لئے آمادہ کر چکی تھی۔اسے خوش دیکھ کر وہ نہال و نہال ہو جاتی تھیں۔اس کی ہر ادا پر اپنی نظروں کو وارتے ہوئے اسے آنکھوں ہی آنکھوںمیں آٹھوں پہر گلے لگاتی رہتیںمگر محبت کے کسی بول کی ادائیگی اس کے سامنے نہیں کرتیں۔جب اس پر پیار آتا تو یوں کہتیں۔۔۔۔۔’’ہم تو کو (تم کو) کھوب(خوب) جانیں ہیں۔۔۔۔۔بڑی پھتوری(فتوری) ہو۔۔۔۔۔‘‘

صوفیہ انجم تاج شاعرہ بھی ہیں اور مصنفہ بھی، لیکن سب سے پہلے وہ ایک مصورہ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری اور نثردونوں ہی میں پردے کے پیچھے سے ایک مصور کے رنگ اپنی جھلکیاں دکھاتے رہتے ہیں۔مصوری ان کی فطرت کا ایک اہم حصہ ہے۔جب وہ اپنی نثر میں کسی منظر کی ملفوظی تصویر اتارنے کی کوشش کرتی ہیں،تو عبارت قابل دید ہوجاتی ہے:

’’  سورج اپنی کرنوں کو نہ جانے کتنی الگ الگ پیالیوں میں رنگ بھر بھر کے دیتا اور یہ کرنیں جہاں جہاں جاتیں،وہ ان رنگوں کو روشنیوں کے تانے بانے میں ابھارتی جاتیں ۔کہیں کاسنی۔۔۔کہیں سبز۔۔۔کہیں چمپئی اور کہیں زعفرانی۔پھر ایک جلوۂ صد رنگ بن کر نظروں کے سامنے حسن میں ڈوبے ہوئے پیکر جا بجا اُبھرنے لگتے ہیں،اس کے بعد انسان ایک عجیب سی کیفیت میں،ایک سرور میں ڈوب جاتا ہے۔‘‘

’’ جب آسمان پر لال،عنابی،نارنجی،گلابی اور نیلے رنگوں کو بکھیر کر سورج الوداع کہتا  ہے۔جب آسمان پر بادل کے ٹکڑوں کی چمکتی ہوئی کناری مچل مچل کر اپنا حسن بکھیرتی ہیں اور پھر ایک طلسماتی کیفیت سے ہر حساس دل بے قرار ہونے لگتا ہے۔‘‘

قدرتی مناظر کی پیشکش میںصوفیہ کا یہ مصورانہ وصف تو نمایاں ہوتا ہی ہے،لیکن وہ حالات اور ماحول کی منظر کشی بھی کچھ اس طرح کرتی ہیں کہ نظروں کے سامنے وہ منظر متحرک ہونے لگتا ہے اور قاری خود بخود ،غیر محسوس طور پر اس منظر نامے میں شامل ہو جاتا ہے۔’’سفر کا درد‘‘ میں ایسی سچوئیشن جا بجا ملتی ہے۔ صوفیہ جب بتولن بی کے گھر آنگن کا ذکر کرتی ہیں تو ٹاٹ کے دبیز    پردے کو ہٹا کر قاری بھی ان کے دالان میں داخل ہو جاتا ہے اور بچشم خود تمام چیزوں کا مشاہدہ کرتا ہے:

’’گھر کے دروازے پر ایک بہت ہی دبیز سا ٹاٹ کا پردہ لٹکا رہتا تھا۔اندر داخل ہوتے ہی ایک چھوٹا سا دالان ڈیوڑھی نماجس پر دو لکڑی کے ستون کھڑے تھے۔اور وہیں ایک ستون سے بتولن بی کی بکری رسی سے بندھی ہوتی تھی۔دوسرے پائے سے چنبیلی کی بیل چڑھی رہتی تھی جس کی نچلی شاخوں کی پتیوں کو بکری نے چبا چبا کر ختم کر دیا تھا مگر آسمان کی طرف اُٹھتی ہوئی شاخوں میں پتیوں سے زیادہ پھول کھلے رہتے۔دالان سے متصل بہت چھوٹا سا آنگن تھا،جس میں لال اینٹیں بچھی تھیں۔۔۔۔۔۔سامنے کی دیوار کے اوپری حصے کا پلاسٹر غائب تھا جہاں پر مٹی سے لپائی کی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔آنگن کے ایک کونے میں چھوٹا سا چبوترہ تھا ،جس پر چاپا نل لگا ہوا تھا۔اسی سے ہٹ کر تھوڑے فاصلے پر دو منھ والا چولہا بتولن بی نے بنوا رکھا تھا۔۔۔۔۔وہیں پر بتولن بی کا چھوٹا سا کھٹولہ تھا جس پر ایک پچکی ہوئی تکیہ،پاندان،تسبیح اور جائے نماز رکھی رہتی۔۔۔۔۔چولہے کے پاس ہی مچئے پر بیٹھی بیٹھی بتولن بی خود کو ذرا سا دائیں طرف موڑ دیتیں تو سِل اور بٹہ تک پہنچ جاتیں اور بائیں طرف مڑ کر آنگن کی کھلی نالی میں پان کی پرکی پھینک دیتیں۔‘‘

اسی طرح صوفیہ انجم تاج جب بتولن بی کے محلے کے شب و روز،وہاں کی ہما ہمی،وہاں کے ماحول اور وہاں کی زندگی کا بیان شروع کرتی ہیں توسائیکل کی گھنٹیوں اور پھیری والوں کی آوازیں قاری کی حدسماعت سے زیادہ دور نہیں رہتیں۔قلفیوں کے پگھلنے کا برفیلا لمس رگوں میں محسوس ہوتاہے۔زندگی سے بھرپور اس محلے میں قاری کواپنی موجودگی کا احساس ہونے لگتاہے:

’’سبزی کے ہرے بھرے ٹھیلے،پھیری والوں کی گاتی ہوئی آوازوں کے ساتھ سائیکل کی گھنٹی اور ’ہش ہاش‘ سے اس علاقے کا خاص سماں بنتا تھا۔قلفی بیچنے والے اپنے بڑے سے فلاسک میںقلفیوں کو رکھ کر لئے پھرتے اور کہتے رہتے۔۔۔۔۔’’لے لو قلفی۔۔۔۔لے لو۔لے لو محبت میں گھلی جا رہی ہے۔‘‘۔۔۔۔۔۔۔آم اور امرود بیچنے والے بھی اپنی ایسی سریلی آواز میں الاپ لگاتے کہ گلی اور بھی پُر رونق ہو جاتی۔بساطن کنگھی چوٹی ربن چٹلا کو ٹوکری میں سجا کر سر پر رکھ کرمسکراتی ہوئی آہستہ آہستہ گھروں کے سامنے سے گذرتی۔اگر کسی کے گھر کے اندر داخل ہو گئی تو پھر گھنٹہ بھر تو گذر ہی جاتا۔اور پھر ہر گھر سے خواتین نکل کر اسی آنگن میں آ جاتیںجہاں وہ اپنے سامان کو کھول کھول کر دکھاتی جاتی اور اپنے سامان کی تعریف کرتی جاتی۔اسی گلی میں کسی کی بکری بندھی کیوری کرتی رہتی۔مرغیاں اور بطخیں اپنے آپ کو لچکا لچکا کر دانہ چگنے کی فراق میں ادھر سے اُدھر گھومتی پھرتیں۔ان ساری چیزوں کے علاوہ بیچ سڑک پر کچھ لڑکے ننگے اور دھول میں اَٹے پاؤں سے گلّی ڈنڈا اور شیشے کی گولیاں بھی کھیلتے۔‘‘

’’درد کا سفر‘‘ ایک مختصر ناول ہے اور اس کی کہانی بھی اکہری ہے لیکن بتولن بی کے کردار کی رنگا رنگی ،ان کے جاندار مکالموںاور ان سے وابستہ کرداروں کے حرکت و عمل نے ناول کے منظر نامے میں وسعت پیدا کردی ہے۔ناول کی زبان میں اتنی شگفتگی،سلاست اور روانی ہے کہ قاری ایک پل کے لئے بھی کہیں پر رکنے یا ٹھہرنے کا روادار نہیں ہوتا اور کہانی خود کو سناتی آگے بڑھتی جاتی ہے۔

’’درد کا سفر‘‘اس لحاظ سے گرانقدر ہے کہ ناول کے انداز میںیہ ایک سوانح ہے جس میں صوفیہ انجم تاج نے معاشرے کے ایک بظاہر معمولی اور کمزور طبقے کے کردار کے تمام دکھ سکھ، ا س کی محرومیوں اور مجبوریوں،اس کے صبر و ضبط،اس کی شکر گذاری اور احسان شناسی کو نہایت دلگدازی سے رقم کیا ہے۔انہوں نے اس ناول میں بتولن بی کا رومانی اور جمالیاتی خاکہ پیش کیا ہے جس کی وجہ سے ان کا کردار قاری کے قلب و ذہن پر گہرا نقش قائم کرتا ہے۔اردو فکشن میں اس قبیل کے کرداروں کی پیشکش میں اتنی جذباتی وابستگی اور والہانہ پن عام طور پر مفقود نظر آتا ہے۔اس ناول کا ایک اور امتیاز یہ ہے کہ صوفیہ انجم تاج نے اس میں متعلقہ عہد کے عظیم آباد کی نواحی بولی اور وہاں کی ثقافت کو نہایت خوب صورتی سے پیش کرکے ایک تہذیبی وراثت کو محفوظ کر لیا ہے۔

 

(اشاعت: سہ ماہی اردو ’’آمد‘‘ ، کتابی سلسلہ ۱۰ ، جنوری تا مارچ ۲۰۱۴ء )

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

 

 

 

 

 

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
پانچ روزہ بین الا قوامی کثیر لسانی نوجوان اردو اسکالرس فیسٹیول کے دوسرے دن عالمی سیمینار،بک فیئر اور شام غزل کا انعقاد

یہ بھی پڑھیں

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک مبسوط جائزہ...

نومبر 17, 2024

ناول ”مراۃ العُروس “ایک مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین

جولائی 25, 2024

ڈاکٹر عثمان غنی رعٓد کے ناول "چراغ ساز”...

جون 2, 2024

گرگِ شب : پیش منظر کی کہی سے...

اپریل 7, 2024

حنا جمشید کے ناول ’’ہری یوپیا‘‘  کا تاریخی...

مارچ 12, 2024

طاہرہ اقبال کے ناول ” ہڑپا “ کا...

جنوری 28, 2024

انواسی :انیسویں صدی کے آخری نصف کی کہانی...

جنوری 21, 2024

مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا تعارفی مطالعہ...

دسمبر 10, 2023

اردو ناول: فنی ابعاد و جزئیات – امتیاز...

دسمبر 4, 2023

نئی صدی کے ناولوں میں فکری جہتیں –...

اکتوبر 16, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں