اے سنو حاملِ بندوق و تفنگ و غصہ
ہے کہاں ظلم روا بے بسوں معصوموں پر
تیرے دامن پہ پڑیں خون کی چھینٹیں اب تو
چینخ کے پوچھتیں کیوں مجھ پہ ستم ڈھاتے ہو
حضرتِ ساحرِ حق گو نے کہا تھا سچ ہی
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے”
"خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
مدعی ہو جو اگر دینِ مبیں کے پیرو
روک لو ہاتھ جو مظلوموں پہ اٹھ جاتے ہیں
تاک لو سارے قدم سوئے غلط جاتے ہیں
ہاں سنو حاملِ بندوق و تفنگ و غصہ
اخلاق آہن
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

