اصحاب علم کا ایک طبقہ جس میں علما وفاضلین مدارس پیش پیش ہیں،حدیث وآثارمیں وارد مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی پیشین گوئیوں کے آئینے میں امت مسلمہ کے حال و مستقبل کو دیکھنے اور ان کے نقشے کو طے کرنے کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ عالمی سطح پرمسلمانوں کے خلاف دار وگیر سے پیداہونے والے مایوسی کے ماحول میں اس تصور کو تقویت حاصل ہوئ۔ ہندوپاک میں اس حوالے سے دو شخصیات کو خصوصی شہرت ومقبولیت حاصل ہوئ۔اتفاق سے یہ دونوں تقریبا ہم نام ہیں ۔یعنی پاکستان کے ڈاکٹر اسرار احمد اور ہندوستان کے اسرار عالم۔ اول الذکر کا انتقال ہو چکا ہےجب کہ ثانی الذکر ابھی باحیات ہیں۔اس موضوع کے حوالے سے ڈا کٹر اسرار احمد صاحب رح کی تقاریر وخطبات مشہورعام ہیں۔بعض کتابچے بھی ہندوپاک سے شایع ہوچکے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم نے اپنے مختلف خطبات میں حال کے سیاسی واقعات کی بنیاد پر امت کے مستقبل کا تانا بانا بننے کی کوشش کی ہے۔ یہ لے انہوں نے اتنی بڑھائ کہ فرمایا کہ یہ امام مہدی کے ظہور کی صدی ہے۔ان کے ظہور کا اسٹیج تیار ہو چکا ہے ۔شاہ فہد کے انتقال کے بعد ان کی آمد متوقع ہے۔بلکہ شاید ان کا ظہور ہو بھی چکا ہے۔(متعلقہ بیانات کو یو ٹیوب پر سنا جاسکتا ہے) ۔
جب کہ اسرار عالم نے "دجالیات” کا پورا دفتر تیار کرڈالا۔ انہوں نے پوری قطعیت کے ساتھ اس فکر کو پروان چڑھانے کی کوشش کی پچھلی چند صدیوں میں جو بھی تہذیبی ترقیات وایجادات ہوئی ہیں،وہ سب کی سب فتنہ دجال کی پیداوار ہیں۔ لہذا اس فتنے سے بچنے کے لئے جنگلوں اور پہاڑوں میں بس جانا اور پختہ مکانات سے کچے مکانات میں منتقل ہوجانا چاہیے۔(دیکھیے:فتنہ دجال اکبر :خطرات وتدابیر)-اسرار عالم کی طلسماتی فکر نے ہندوپاک کے بڑے بڑے علما کے ذہنوں کو متاثر کیا جن میں خود قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رح شامل ہیں۔جن کی ایما پر اسلامک فقہ اکیڈمی،دہلی سے ان کی بعض کتابیں شائع ہوئیں لیکن بوتل کا دجالی جن جب باہر آیا اور ڈاکٹر اسرار صاحب کی پر اسرار فکر کی پرتیں کھلیں تو ان کی اشاعت موقوف کر دی گئ۔ تاہم علما و فاضلین مدارس کی اکثریت کا سحر اس وقت ٹوٹا جب انہوں نے اپنی کتاب” امت کا بحران” میں قران کو بھی جعلی اور علما، مفسرین و محدثین اور مجتہدین امت کو یہودیوں کا ایجنٹ قرار دے ڈالا۔ (یہ بھی پڑھیں مولانا وحید الدین خاں ؒ :ذاتی مشاہدات وتاثرات – ڈاکٹر وارث مظہری )
یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ فتن وملاحم اور علامات قیامت کے ذیل میں جو احادیث و آثار وارد ہوئی ہیں وہ اس معنی میں "ضمنی” ہیں کہ دین و شریعت کا کوئ حکم ان سے متعلق نہیں ہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ پیشین گوئی اور کشف والہام کی فطرت کے مزاج وفطرت کے عین مطابق، وہ رمز واشارے کی زبان میں بیان کی گئ ہیں اور اس لیے ان میں ایک درجہ ابہام پایا جاتا ہے جو بالقصد اور منشایے نبوی کے عین مطابق ہے۔ ان کی بنیاد پر کوئ نظریاتی کلیہ وضع کرکے امت کے سیاسی مستقبل کا نقشہ ترتیب دینا محض دینی سادہ لوحی کی ایک قسم ہے۔
اس موضوع پر کچی پکی تحریروں نے امت کے ایک طبقےکو نہایت خوش فہمی میں مبتلا کردیا ہے کہ بس امام مہدی آئیں گے اور ہمارے سارے دشمنوں کا قلع قمع کردیں گے۔ جب کہ دوسرے طبقے کا ذہن مایوسی اور میدان عمل سے راہ فرار اختیار کرنے کی نفسیات کا شکار ہوکر رہ گیا ہے کہ ہم دجالی دور میں جی رہے ہیں اور بس اس دنیا کی بساط لپیٹی جانے والی ہے۔
علامات قیامت کی نبوی پیشین گوئیوں کے زمانی انطباق کا مسئلہ نہایت پیچیدہ ہے۔علمایے اسلاف کے درمیان تقریبا یہ بات متفق علیہ ہے کہ قطعیت کے ساتھ ان آثار کے انطباق کی زمانی تحدید صحیح نہیں ہے۔ حدیث کے مطابق خود بعثت اور وفات رسول آثار قیامت میں سے ہیں۔ آپ نے ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ میری بعثت کے بعد قیامت اتنی ہی قریب جتنی یہ دو انگلیاں باہم قریب ہیں۔ ( بخاری)۔ اس نوع کے آثار پر بظاہر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں قرب و بعد کا اعتبار زمین و آسمان کی عمر کے لحاظ سے ہے جو اربوں سال پر محیط ہے۔ ان آثار واحادیث کا مقصود بظاہر امت کو ہمہ دم اپنے ایمان وعمل کے لیے متنبہ رکھنا ہے۔ اسی لیے ایک صحابی کے وقوع قیامت کے زمانے سے متعلق سوال پر آپ نے فرمایا کہ تم نے اس کی کیا تیاری کی ہے؟ تاریخ میں ہر زمانے میں لوگوں کو محسوس ہوتا رہا ہے کہ بس قیامت آیا چاہتی ہے۔ اور اس کی نشانیاں پوری ہورہی ہیں۔ اس فکری رجحان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کہ مثلا حضرت مہدی کی آمد کا وقت ہوچکا ہے، جھوٹے مدعیوں کے لیے دعوی مہدویت کا دروازہ آپ ہی کھل جاتا ہے۔
امت مختلف تاریخی ادوار میں آشوب ناک صورتحال سے دوچار ہوتی رہی ہے۔ سب سے بڑا سانحہ تاتاریوں کا عالم اسلام پر حملہ تھا ،جس کے بارے میں غالبا ابن اثیر نے لکھا کہ لگتا ہے کہ جیسے روئے زمین سے اسلام کا صفایا ہوجایے گا۔تب بھی اس قسم کی نفسیات کا ظاہرہ سامنے نہیں آیا۔
ایسا لگتا ہے کہ امت کی قوت عمل کو شل کردینے کی خارجی کوششوں اور سازشوں کا خود مسلمانوں کا ایک طبقہ شکار ہوکر رہ گیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں علمی روایت سے انقطاع پر مبنی دینی تعبیر کا رجحان – ڈاکٹر وارث مظہری )
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

