اٹھارہویں صدی عیسویں میں دہلی کے نگارخانے میں ایسی ایسی شخصیتوں کا وجود ملتا ہے جن کے فضائل و کمالات پر جتنا رشک کیا جائے اتنا کم ہے۔ ا ن شخصیات میںوہ یگانہ روزگار اور نابغہ عصر ہستیاں شامل ہیں جو تا حال فقید المثل ہیں۔اس پر بھی طرہ امتیاز یہ کہ انھیں ایک ساتھ کئی علوم و فنون پر عبور کامل حاصل رہا۔حکیم مومن خان مومنؔ بھی دہلی کی انھی یادگار ہستیوں میں شمار کئے جاتے ہیں،جن کے معتقدوں میں غالبؔ جیسا صاحب علم و ادب شامل ہے۔حکیم مومن خان مومنؔ ایک قادرالکلام شاعر،طبیب ِ حاذق،طالع شناس نجومی و رمّال اور صاحب طرز انشا پردازنثّار کی حیثیت سے اپنی حیات میں ہی مقبولیت حاصل کرنے والی شخصیت ہیں۔استاذ الشعرا مرزا ابراہیم ذوق ؔاور دبیر الملک مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ کے ساتھ ساتھ اگر کسی شاعر کا نام لیا جاتا ہے تو وہ نام حکیم مومن خان مومنؔ کا ہے۔یہ بات اور ہے کہ اس قدر نابغہ روزگار شخصیت کو بعد کے زمانے میں اس نگاہِ قدر سے نہیں دیکھا گیا یا ان کے فضائل و کمال سے بے اعتنائی برتی گئی جیسی قدر ذوقؔ اور غالبؔ جیسے شعرا کو نصیب ہوئی۔ مثال کے طور پر ’آبِ حیات‘ جیسے تذکرے کے ذریعے بزرگوں کی عظمت زندہ کرنے کی دھوم مچانے والے محمد حسین آزاد ؔنے بھی تصنیف ِ مذکور کے پہلے ایڈیشن میں مومن ؔ کی سوانح یا ذکر ِ خیر کو سرے سے معدوم کر دیا، اور جب بعد میں اعتراض کیے گئے تو بڑے بھولے انداز میں اگلے ایڈیشن میں طرح طرح کے عذر پیش کرتے ہوئے کچھ احوال و کوائف پر اکتفا کرتے ہوئے اپنا دامن بچا گئے۔
’آبِ حیات‘ کا وہ تراشہ یہاں لطف کے لئے نقل کیا جا رہاہے،جہاں آزادؔ عجیب و غریب عذر ِ لنگ سے کام لیتے ہوئے توصیف و تعریف کے ساتھ ساتھ تحقیق کے در بھی بند کرتے ہوئے چلتے ہیں ملاحظہ ہو؎
’’پہلی دفعہ ا س نسخے میں مومن خاں صاحب کا حال نہ لکھا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ دورِ پنجم جس سے ان کا تعلق ہے،بلکہ دورئہ سوم و چہارم کو بھی اہلِ نظر دیکھیں کہ جو اہلِ کمال اس میں بیٹھیے ہیں،کس لباس و سامان کے ساتھ ہیں۔کسی مجلس میں بیٹھا ہوا انسان جبھی زیب دیتا کہ اسی سامان وشان اور وضع و لباس کے ساتھ ہو،جو اہلِ محفل کے لیے حاصل ہے ۔نہ ہو تو ناموزوں معلوم ہوتا ہے۔خاں موصوف کے کمال سے مجھے انکار نہیں۔اپنے وطن کے اہلِ کمال کا شمار بڑھا کر اور ان کے کمالات دکھا کر ضرور چہرہ چمکاتا لیکن میں نے ترتیب ِ کتاب کے دنوں میں اکثر اہلِ وطن کو خطوط لکھے اور لکھوائے۔وہاں سے صاف جواب آیا۔ وہ خط بھی موجود ہیں۔مجبوراََ ان کا حال قلم انداز کیا۔‘‘(۱)
آزادؔ کی اس بے تکی اور بے سرو پا تمہید سے صاف ظاہر ہےکہ ان کا منشا کیا تھا۔مومنؔ کے حالات وہ پہلے ترک کر چکے تھے اور جب اعتراض کا سلسلہ چلا تو انھوں نے ہر طرح سے اپنا بچاؤ کیا جو ان کی تحریر سے جھلکتا ہے اور گرفت کرنے والوں سے پوشیدہ نہیں۔
غرض کہ حکیم مومن خان مومن ؔ کی زندگی ،احوال و کوائف اور فن و شخصیت سے متعلق تحقیق کا جو در بند تھا اسے وا کرنے کی کوشش بعد کے محققین نے کی مگر افسوس ایک زمانہ گزر جانے کے بعد نتائج میں تشنہ کامی کا احساس بر قرار رہا۔ جس کی سیرابی آج تک نہیں ہو پائی ہے۔دیوان مومن مطبوعہ۱۹۳۴کے مقدمے میں مرتب دیوان ضیا احمد ضیا بدایونی مومنؔ کی عدمِ مقبولیت کے بارے میں رقمطراز ہیں؎
’’مومن کے معاصرین میں ذوق ؔ کی مقبولیت کا سکّہ تقریباََ پچاس برس بعد تک چلتا رہا۔جس کا سب سے بڑا سبب ان کے ذاتی کمال اور قلعہ کی حمایت کے علاوہ یہ ہوا کہ آزاد ؔ کی تصانیف نے ان کے نام اور داغ کی شاعری نے ان کے رنگ ِکلام کو ملک بھر میں روشن کر دیا۔ذوقؔ کے بعد جب نئی نسلیں جدید تعلیم کے اثر سے حقائق کی جانب متوجہ ہوئیں توکلامِ غالبؔ کی قدر شروع ہو ئی۔ادھر حالیؔ اور ان کے بعد عبد الرحمان بجنوری نے غالبؔ کے حقیقی کمالات کو نمایاں کیا۔ ادھر نظامی پریس بدایونی نے سب سے پہلے دیوان ِ غالبؔ کا صحیح اور دیدہ زیب ایڈیشن شائع کیا۔ پھر تو یہ نوبت ہوئی کہ ایڈیشن پر ایڈیشن اور شرح پر شرح طبع ہونے لگیں جن کا سلسلہ اب تک جاری ہے اور نہ جانے کب تک رہے۔
رہے مومن۔ ان غریب کے ساتھ شروع سے ہی حق تلفی اور نا انصافی برتی گئی۔اور ہنوز روزِ اوّل سمجھنا چاہئیے۔ حد یہ ہے کہ اب تک ان کے کلام کا عمدہ اور صحیح ایڈیشن یا ان کا کوئی مفصل و مستند تذکرہ شائع نہ ہو سکا ۔‘‘ (۲)
واضح رہے جو تراشہ یہاں نقل کیا گیا وہ سن ۱۹۳۴کی یادگار ہے۔ اس کے بعد مومن خان کی جانب کئی محققوں نے سنجیدگی سے نظر کی مگر اس سنجیدگی میں کافی دیر ہو چکی تھی۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ جہاں ذوقؔ و غالبؔ کا ذکر آتا وہیں مومنؔ سے صرفِ نظر نہیں کی جاتی۔
مومن خان مومن کو اردو اور فارسی زبان پر ملکہ حاصل تھا، مگر انھوں نےغالبؔ کی طرح اپنے اس کمال کو کبھی باعث فخر نہیں جانایہ ان کی سادگی ہے۔ اردو کے ساتھ ساتھ ان کا فارسی دیوان بھی ان کے پھوپھی زاد بھائی اور دہلی کی فقید المثل شخصیت سمجھے جانے والے شاہی طبیب حکیم احسن اللہ خاں نے ترتیب دیا تھا۔مومن ؔکے فارسی خطوط اور تقویموںکے دیباچوں کو ’انشائے مومن‘کے نام سے احسن اللہ خاں نے ہی مرتب کیا تھا۔ جس کو بعد میں ظہیر احمد صدیقی نے اردو ترجمے کے ساتھ ترتیب دیا۔ کبیر احمد جائسی کے الفاظ میں ’’اس سلسلے میں ان تقویموں کےوہ حصے خاص طور سے سماجیات کے طالب علموں کے لیے قابلِ مطالعہ ہیں جن میں مومن نے یہ حکم لگایا ہے کہ اس سال جنسی کج روی کا فلاں طریقہ ترقی کرے گا اور یہ کجروی پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔مومن کا کوئی دیباچہ اس طرح کے احکام سے خالی نہیں۔اس طرح مومن کی فارسی نثر کا مطالعہ صرف ادب کے طالبِ علموں ہی کو نہیں بلکہ تاریخ اور سماجیات کے طالبِ علموں کو بھی دعوتِ نظر دیتا ہے۔‘‘(۳)
حکیم مومن خان مومنؔ کی قدر شناسی بھلے ہی کم ہوئی ہو مگر اہلِ نظر اور صاحب رائے سے ہمیشہ انھیں خراج تحسین ملتا رہا ہے۔ مرزاغالبؔ جیسا خود شناس شاعر مومن ؔ کے ایک شعر پر اپنا پورا دیوان قربان کرنے پر تیار ہے تو نیاز فتح پوری جیسا ناقد کلامِ مومن ؔ کے تاثر میں یہ کہنے کو آمادہ ہے کہ’’اگر میرے سامنےتمام شعرا کا کلام رکھ کر صرف ایک کے انتخاب کی اجازت دی جائے تو بلا تامل کلیاتِ مومن ؔؔاٹھا لوں گا۔‘‘(۴)
مومنؔ کے عجائب خانہ شاعری میں تقریباََ ہر صنف سخن موجود ہے۔انھیں غزل گوئی میں جتنی مہارت تھی اسی شان سے وہ قصائد اور مثنوی میں طبع آزائی کرتے تھے ۔معمہ اور رباعی میں آپ کا کمال فن دیکھتے ہی بنتا ہے۔ اس کے علاوہ تاریخ گوئی کے فن کی معراج ہمیں مومن کے تاریخی قطعات میں نظر آتی ہے۔ مومن کی شاعری کے نقش و نگار مختلف علوم و فنون کی اصطلاحات سے مرصع ہیں۔ علم نجوم میں انھوں نے مہارت حاصل کی تھی جس کو اپنی شاعری میں بخوبی برتا ہے۔مومن کے یہاں معنی آفرینی، ایہام گوئی، معاملہ بندی غرض کہ ہر وہ شے موجو د ہے جس نے ان کے کلام کو منفردِ زمانہ بنا دیا ہے۔بعض ناقدوں کے نزدیک یہ شاعرانہ کمزوری سے عبارت بھی ہے مگر ایسا بھی نہیںکہ اس کے حسن کو دیکھنے والی آنکھوں کا فقدان ہو۔مومن کی شاعرانہ فضیلت کا اعتراف کرنےوالے صاحب ِ نظر وںکی ایک طویل فہرست ہے۔تمکین کاظمی کا قولِ فیصل ہے کہ’’حکیم خاں مومنؔ ہندوستان کے ان شعرا میں سے ہیں جن پر ملک کو ہمیشہ فخر رہے گا۔میر تقی میرؔ کے بعد اگر کوئی شاعر فن کی بلندیوں تک پہنچا ہے تو وہ صرف مومنؔ ہیں۔‘‘(۵)
اگر چہ مومن خان مومنؔ کی وفات ۱۸۵۲ میں ہی رضائے الہی سے ہو گئی مگر انھوں نے انگریزوں کے ظلم و استبداد کا زمانہ بھی دیکھا تھا۔ اور اس کے مضر اثرات سے ان کا دل خون کے آنسو روتا تھا۔وہ ایک سچے پکے مسلمان تھے۔ انھیں شاہ عبد العزیز دہلوی کے مذہبی عقاید سے بے پناہ دل بستگی تھی۔ شاہ عبدالعزیز کے شاگردوں میں سید احمدبریلوی سے مومن بہت متاثر ہوئے اورفرنگیوں کے خلاف جہاد کے بڑے حامیوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ مومن ؔ کی ’مثنوی جہادیہ‘ اس بات پر دال ہے۔پروفیسر گوپی چند نارنگ نے بحوالہ ’ کلاسکی ادب‘ ۱۹۳۵خواجہ احمد فاروقی کے قول کو نقل کیا ہے کہ ’’وہ غیر ملکی حکومت کے خلاف جہاد کو اصل ایمان اور اپنی جان کو اس راہ میں صرف کر دینے کو سب سے بڑی عبادت سمجھتے تھے۔‘‘(۶)
اس قول کی روشنی میں مومن خان مومن ؔ کی حب الوطنی اور جذبہ ایمان کا جائزہ بھی لیا جا سکتا ہے۔مثنوی جہادیہ کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں؎
الہی مجھے بھی شہادت نصیب یہ افضل سے افضل عبادت نصیب
یہ دعوت ہو مقبول درگاہ میں مری جاں فدا ہو تری راہ میں
میں گنجِ شہیداں میں مسرور ہوں اسی فوج کے ساتھ محشور ہوں
غرض یہ کہ مومن خان مومن ؔکا مقام ادب و انشا سے لے کر تاریخ کا بھی ایک نا گزیر باب ہے جس کا تحقیقی مطالعہ ہمیں ابھی بھی دعوت فکر دے رہا ہے۔ظفر ادیب نے کیا خوب لکھاہے؎
’’ذوقؔ کو زندگی میں اور غالبؔ کو زندگی کے بعد لیکن مومن ؔ کو نہ زندگی کے بعد وہ دؤر ملاجس دؤر کا اس کا کلام تقاضا کرتا تھا۔ہوا تو بس اتنا ہی ہوا کہ چند کتابیں لکھ دی گئیں اور چند جرائدکے خاص نمبر نکال دئے گئے۔یہ کافی نہیں بلکہ بہت معمولی یا نہ ہونے کے برابر حصہ ہےاس حصے کے مقابلے میں جو ذوقؔ کو زندگی میں اور غالبؔ کو زندگی کے بعد دربارِ عوام سے ملا ، مومنؔ کسی طرح بھی اور کہیں بھی غالبؔ سے پیچھے نہیں رہتا،جہاں مو منؔ کا شعلہ لپک جاتا ہے وہاں کسی دوسرے اردو شاعر کا چراغ لو بھی نہیں دیتا۔‘‘(۷)
مختصر یہ کہ اہلِ نقد و تحقیق کو ایسے بہترین شاعر کے ساتھ فراموشی کا رویہ روا رکھنا زیب نہیں دیتا۔حکیم مومن خان مومنؔ کی شخصیت اور فن پر گفتگو یقینی طور پر کلاسیکی شاعری کے تحقیقی مطالعے میں ایک اضافے سے تعبیر ہوگی۔مومن ؔ کی زندگی کا تاریخی پہلو بھی قدر و قیمت سے عاری نہیں۔آخر میں اپنی بات مومنؔ کے اس شعر سے ختم کرتا ہوں؎
جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے با وفا
میں وہی ہوں مومنؔ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
محمد عشرت صغیر
شاہجہاں پور
اتر پردیش
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
مضمون کی اشاعت کے لیے عمق دل سے شکریہ۔۔۔۔