عورت وہ عظیم ہستی ہے جس سے نسلیں پروان چڑھتی ہیں۔ اس جہاں کی تمام رعنائیاں اسی کے دم سے ہے۔ لیکن جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ عورتوں پر کیسے کیسے مظالم ڈھائے گئے۔ کہیں وہ خادمہ اور لونڈی بنائی گئی تو کہیں حیوانی خواہشات کا کھلونا بنا کر اس کی عزت وتوقیر کو نیلام کیاگیا۔
تہذیب یافتہ کہی جانے والی پچھلی قوموں میں سماجی حیثیت سے عورت کی حالت بہت پست تھی، ضرورت پڑنے پر اسے مہاجنوں کے یہاں رہن رکھاجاتا تھا۔ یونان میں عورت کی حیثیت ایک ادنیٰ درجہ کی مخلوق کی سی تھی۔ رومیوں کے یہاں عورت کی کچھ بھی قدر وقیمت نہ تھی۔ اس کو گناہ کی ماں اور بدی کی جڑ قرار دیا جاتا تھا۔ معصیت کی تحریک کا سرچشمہ اور جہنم کا دروازہ سمجھا جاتا تھا۔
ہندوستان بھی صدیوں سے عورتوں کے سلسلے میں افراط و تفریط کا شکار رہا ہے۔ کہیں وہ داسی بنائی گئی تو کہیں اسے شوہر کی چتا پر بھینٹ چڑھایا گیا تو کہیں اسے وراثت کے حق سے محروم رکھا گیا۔
عرب کی اس سے بھی خراب حالت تھی۔ وہاں عورتوں کا وجود خاندان کے لیے عار سمجھا جاتا تھا۔ اسلام کی آمد سے قبل عورت انتہائی مظلومیت اور ذلت کی زندگی گزارر ہی تھی۔ اسے پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔ قرآن عربوں کی اس جاہلی ذہنیت کی طرف اشارہ کرتا ہے، ارشاد ربانی ہے :
وَ إِذا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثي ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَ هُوَ کَظيمٌ. يَتَواري مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوءِ ما بُشِّرَ بِهِ أَ يُمْسِکُهُ عَلي هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرابِ أَلاَ سَاءَ ما يَحْکُمُونَ(النحل:۵۸/۵۹)
’’ان میں سے جب کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جائے تو اس کاچہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے۔ اس بری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کیااس کو ذلت کے ساتھ لیے ہوئے ہی رہے یا اسے مٹی میں دبا دے، آہ! کیا ہی برے فیصلے کرتے ہیں۔‘‘
دوسری جگہ فرمایا :’’وَ إِذَا الْمَوْؤُدَةُ سُئِلَت. بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ‘‘ (التکویر:۸۔۹)
’’ اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا کہ کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی۔‘‘
اسلام آنے کے بعد عورت پر ہونے والے تمام مظالم کا خاتمہ ہوا۔ اس نے عورت کی حقیقی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے اسے عزت و شرافت کے اعلیٰ مقام پر پہنچادیا۔ اسلام ہی وہ دین فطرت ہے جس نے عورتوں کو سارے حقوق دیئے اور یہ بتایا کہ وہ بھی معاشرے کا حصہ ہیں، چنانچہ عرب میں اسلام آنے کے بعد نبی رحمت محمد مصطفیٰؐ کی شکل میں عورتوں کو ایک ایسا رحیم و شفیق حامی اور محافظ مل گیا کہ اگر ان پر ذرا سی بھی زیادتی ہوتی تو بلا تکلف حضور ؐ کے سامنے اپنی شکایات لے کر جاتیں، اس وجہ سے لوگ کسی قسم کی تکلیف دینے سے ڈرتے تھے کہ کہیں یہ آپؐ کے پاس شکایت نہ لے کر پہنچ جائیں۔
آپؐ نے عورتوں کو بحیثیت بیٹی، بہن، بیوی اور ماں کے حقوق متعین کیئے اور ان کے ساتھ الفت و محبت سے زندگی بسر کرنے کی تلقین کی۔ رسول اللہ نے بیٹیوں کے ساتھ الفت و محبت، ان کی تعلیم و تربیت اور ان کے ساتھ رحم کا برتاؤ کرنے کا درس دیا۔ بیٹیوں سے نفرت و کراہیت کو یہ کہتے ہوئے ختم کیا کہ ’’ میں بھی خود لڑکیوں کا باپ ہوں‘‘۔ ایک بار ایک شخص اپنے زمانۂ جاہلیت کا قصہ نبیؐ کے سامنے بیان کرتا ہے کہ میری چھوٹی لڑکی تھی جاہلیت کے دستور کے مطابق میں نے اپنی بیٹی کو زندہ گاڑدیا وہ ابا ابا کہہ کر پکارتی تھی اور میں اس پر مٹی اور ڈھیلے ڈالتا رہا، اس بے دردی کے واقعہ کو سن کر آپؐ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور آپؐ اتنا روئے کہ داڑھی مبارک تر ہوگئی۔ آپؐ نے فرمایا: ’’ خدا کی قسم یہ بڑی قساوت قلبی ہے جس کا دل رحم سے آشنا نہ ہو وہ مستحق رحم نہیں۔‘‘
آپؐ نے فرمایا: ’’ جس شخص نے تین بیٹیوں یا بہنوں کی پرورش کی، ان کو اچھا ادب سکھایا اور ان سے شفقت کا برتاؤ کیا یہاں تک کہ وہ محتاج نہ رہیں تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے جنت واجب کردے گا۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ اور اگر کسی نے صرف دو لڑکیوں کے ساتھ یہ حسن سلوک کیا تو کیا وہ بھی اس فضل کا مستحق ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا: ’’ہاں دو پر بھی یہی اجر ہے۔ ‘‘دوسری جگہ فرمایا: ’’ جس کے یہاں لڑکی ہو وہ اسے زندہ دفن نہ کرے، نہ ذلت کے ساتھ رکھے، نہ بیٹے کو اس پر ترجیح دے تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔‘‘
آپؐ کا اپنی بیٹیوں کے ساتھ یہ معمول تھا کہ آپ کہیں سفر پر جاتے تو حضرت فاطمہؓ سے ضرور ملاقات کرتے۔ حضرت فاطمہؓ خود فرماتی ہیں کہ جب میں حضور ؐ کی خدمت میں تشریف لاتی تو آپؐ احتراماً کھڑے ہوجاتے، میری پیشانی چومتےاور میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی جگہ بٹھاتے۔ آپؐ نے باپ کی نگاہ میں بیٹی کو صرف محبوب ہی نہیں بتایا بلکہ بیٹے کی طرح باپ کی جائداد سے حصہ بھی مقرر فرمایا۔ اسی طرح بہن کابھی وراثت میں حصہ اسلام نے مقرر کیا۔
اسی طرح اسلام نے عورت کو بحیثیت بیوی کے سب سے پہلے تاریخ میں اونچا مقام عطا کیا۔ نبی ؐ کا ارشاد ہے: ’’ عورت اور خوشبو مجھے محبوب ہے۔‘‘( مسند احمد )
اور آپ ؐ نے یہ بھی فرمایا: ’’ نیک عورت دنیا کی سب سے بہتر متاع ہے۔‘‘
زمانۂ جاہلیت میں مرد کثرت سے نکا ح کرتے تھے اور عورتوں کے حقوق کی ادائیگی کے بجائے انھیں ظلم و ستم کا نشانہ بناتے تھے۔ اسلام نے کثرت ازدواج پر روک لگا دی، زیادہ سے زیادہ چار بیویوں کی حد مقرر کرکے اسے عدل و انصاف کے ساتھ مشروط کردیا اور ان کے ساتھ معروف طریقے سے پیش آنے کی تلقین کی۔ آپؐ نے فرمایا:
’’ مومنوں میں کمال ایمان والا وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ خلق احسن اور ملاطفت میں بہتر ہو اور میں اپنی ازواج مطہرات کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔‘‘(مشکوۃ)
آپؐ کا نہ صرف اپنی بیویوں کے ساتھ یہ معمول تھا بلکہ ان کے قریبی رشتے دار وں اور سہیلیوں کے ساتھ بھی نرمی و مہربانی سے پیش آتے تھے۔ حضرت خدیجہؓ کے انتقال کے بعد آپؐ کے گھر میں جب بھی کوئی جانور ذبح ہوتا تو آپؐ ڈھونڈ ڈھونڈ کر آپؓ کی سہیلیوں کے پاس گوشت بھیجواتے۔
اسی طرح اسلام نے مہر کو بیوی کا حق بتایا اور اس کی مکمل ادائیگی کاحکم دیا۔
اسلام نے بیوی کو شوہر کے گھر اور بچوں کا نگہبان بنایا، ساتھ ہی شوہر پر معروف طریقے سے اس کے کھانے اور کپڑے کی ذمہ داری ڈالی. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تم کھاؤ وہ اسے کھلاؤ جو تم پہنو وہ اسے پہناؤ اور اس کے چہرے پر نہ مارو۔(ابو داؤد)
آپؐ نے ہر طرح سے اپنے خاوند کا خیال رکھنے والی مومنہ بیوی کو جنت کی بشارت بھی دی ہے۔ حضرت ام سلمہؓ روایت کرتی ہیں کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’ جس مومنہ عورت نے اس حال میں وفات پائی کہ اس کے ایمانی کردار و عمل سے اس کامومن شوہر خوش تھا تو وہ عور ت جنت میں داخل ہوگی۔‘‘ (ترمذی)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول ؐ اللہ نے فرمایا: ’’ عورت جب پانچ وقت کی نماز پابندی سے ادا کرے اور ماہ رمضان کے روزے اہتمام سے رکھے اور اپنی ناموس و عصمت کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی معروف میں اطاعت کرے تو وہ جنت میں جس دروازے سے چاہے داخل ہوجائے۔‘‘
اسلام نے ماں کی حیثیت سے بھی عورت کو بلند مرتبہ دیا ہے جس کی مثالیں ہمیں آپؐ کی تعلیمات میں ملتی ہیں، جیسا کہ ’’ ایک شخص نے رسول ؐ اللہ سے دریافت کیا کہ یا رسولؐ اللہ میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ رسولؐ اللہ نے فرمایا: تیری ماں، پھر میں نے پوچھا اس کے بعد کون؟ آپؐ نے فرمایا: تیر ی ماں، پھر اس نے تیسری مرتبہ پوچھا اس کے بعد کون؟ آپؐ نے فرمایا: تیری ماں، پھر جب چوتھی مرتبہ اس نے دریافت کیا کہ پھر کون؟ توآپؐ نے فرمایا: تیرا باپ، اس کے بعد جو اس سے قریب ہو۔‘‘(متفق علیہ)
اسی طرح ایک صحابی نے پوچھا یا رسول ؐ اللہ میں نے جہاد میں شرکت کا اردہ کیاہے اور اس سلسلے میں آپ سے مشورہ چاہتا ہوں، آپؐ نے فرمایا کہ کیا تمہاری ماں زندہ ہیں؟ کہا ہاں وہ زندہ ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ ان کی خدمت کرو جنت ان کے پاؤں کے نیچے ہے۔‘‘ (ابن ماجہ)
ایک دفعہ آپؐ نے چار بڑے گناہوں کا ذکر کیا اور سب سے بڑا گناہ ماں کی نافرمانی کو قرار دیا اور فرمایا: تمہار ے رب نے ماں کی نافرمانی کو تم پر حرام قرار دیا ہے۔ابوالطفیلؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورؐ کو مقام ہرانہ میں دیکھا کہ آپ ؐ گوشت تقسیم فرما رہے تھے کہ اتنے میں ایک عورت آئیں تو آپ نے اپنی چادر مبارک بچھا دی جس پر وہ بیٹھ گئیں۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ صحابہ نے بتایا کہ یہ آپؐ کی رضاعی ماں ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی ماں کے عزیز رشتے داروں سے بھی آپ کی بے پناہ محبت کا ثبوب ملتا ہے۔
اسلام نے عورت کو ہر طرح سے حقوق عطا کئے ہیں چاہے وہ معاشی ہو، تمدنی ہو، یا تعلیمی ہو، اسے مرد کے برابر سمجھا۔ وراثت میں ان کے حقوق متعین کئے۔ شوہر سے اس کا مہر دلوایا۔ شوہر کے انتخاب میں اس کی رضامندی کو مقدم رکھا۔ اس کو دینی علوم سیکھنے کی پوری اجازت دی یہی نہیں بلکہ ذہنی حیثیت سے بھی ایک عظیم انقلاب برپاکیا کہ اس کو ’’دیوداسی‘‘ اور لونڈی کے مقام سے اٹھا کر گھر کی ملکہ بنادیا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
ماشاءاللہ بہت عمدہ تحریر ہے۔