بطخ میاں انصاری کی انوکھی کہانی /مرتب : ایم ڈبلیو انصاری – ڈاکٹر داؤد احمد
ہر ملک کے اپنے سیاسی،سماجی،تہذیبی،ثقافتی اور اقتصادی حالات ہوتے ہیں۔ہندوستان بھی اس سے اچھوتا نہیں ہے،یہاں کے بھی اپنے حالات رہے ہیں۔ ماضی میں یہاں کی سر زمین پر بھی بہت کچھ گزرا ہے جو اب قصہ ٔ پارینہ ہوچکا ہے،جس کو تاریخ کی آنکھوں سے ہم دیکھ سکتے ہیں،پڑھ سکتے ہیں اور ماضی کے ہندوستان سے واقف ہوسکتے ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب ’’ بطخ میاں انصاری کی انوکھی کہانی‘‘ فراموش کردہ مجاہد آزادی بطخ میاں انصاری کی شخصیت اور جدو جہد آزادی کی تحریک میںان کے کردارپر مبنی ہے۔اس کتاب میں ایک ایسے گمشدہ مجاہدین آزادی کے کارناموں کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی گئی ہے جن کے کام اور نام سے ہماری نئی نسل ناواقف ہے جو کسی تاریخ کا حصہ نہیں ہے۔کتاب کے مرتب سبکدوش آئی پی ایس آفیسر جناب ایم ڈبلیو انصاری ہیں۔ انھوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے مکمل کی اور 1984ئ میں انڈین پولس سروس کے لئے منتخب ہوئے ۔مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں اپنی ملازمت کے دوران اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے اور 2017ئ میں ڈائرکٹر جنرل آف پولس( فنانس) چھتیس گڑھ میں اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں اور حسن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 31 دسمبر 2017ئ کو سبکدوش ہوئے۔ انھوں نے مختلف خلیجی ممالک مثلاً سعودی عربیہ،متحدہ عرب امارات اور قطر کے علاوہ نیپال، جرمنی، بھوٹان، انگلینڈ و یونان کے سفر بھی کئے۔ وہاں جو کچھ دیکھے اور تجربات حاصل کئے ان کی روشنی میں قوم و ملت کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کتاب کے ذریعہ ایم ڈبلیو انصاری نے بطخ میاں انصاری کی شخصیت اور ان کے جذبۂ حب الوطنی کو اعلیٰ پیمانے پر نئی نسل خصوصاً مسلم نوجوانوں تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔
پیش لفظ کے تحت ایم ڈبلیو انصاری رقمطراز ہیں ’’ میں نے ذاتی طور پر ان مجاہدین آزادی کی حیات و خدمات اور کارناموں سے نئی نسل کو متعارف کرانے کا خواب دیکھا ہے جو یا تو پردۂ گمنامی میں پڑے ہیں یا جنھیں فراموش کر دیا گیا ہے۔ یہ کتاب میرے اسی خواب کی تعبیر کی ایک کڑی ہے‘‘۔ ( صفحہ ۔8)
زیر تبصرہ کتاب کا پہلا مضمون محمد عارف انصاری کا ہے جس میں انھوں نے چمپارن ستیہ گرہ کے اسباب و عوامل پر گفتگو کرتے ہوئے بطخ میاں انصاری کو ’’ محسن قوم‘‘ قرار دیا ہے اور ان کے کارنامے و انجام پر دستاویزی حوالے کے ساتھ تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ انجینئر سلیم انصاری نے بطخ میاں انصاری کی شخصیت اور تحریک آزادی میں ان کی خدمات کا جائزہ لیا ہے۔ڈاکٹر نوشاد عالم آزاد نے بطخ میاں انصاری کو ایک خاموش مجاہد آزادی سے تعبیر کیا ہے۔ ڈاکٹر علاؤ الدین انصاری عزیزی نے اس فراموش کردہ مجاہد کی بیش بہا خدمات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔پروفیسر صالحہ رشید نے اپنے مضمون میں بطخ میاں انصاری کے بارے میں اس واقعے کا تفصیلی ذکر کیا ہے جس میں انھوں نے گاندھی جی کی جان بچائی۔ معروف صحافی سہیل انجم نے اپنی تحریر میں موثر انداز سے بطخ میاں کے حالات و خدمات پر روشنی ڈالی ہے۔کتاب میں دیگر جن قلمکاروں کے مضامین شامل ہیں ان میں عبد الرشید انصاری،سرور نگینوی،شکیل استھانوی،افتخار قریشی،محمد مبشر عالم،حکیم رشاد الاسلام،ڈاکٹر ایم اے حق، مختار حسین انصاری،جاوید بن علی،ساجد عبید،شمیم اقبال خان،تنویر احمد،رضوان الدین انصاری،فلاح الدین فلاحی،ایم ڈبلیو انصاری اور انصاری صبیحہ اطہر و انصاری اطہر حسین ہیں جن کے مضامین ہمارے علم میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بطخ میاں انصاری کو خراج عقیدت کے طور پر چند نظمیں بھی شامل کتاب ہیں جو فراموش کردہ اس مجاہد آزادی کی شخصیت اور ان کی خدمات کے حوالے سے کافی اہمیت کی حامل ہیں۔ بطخ میاں انصاری کو منظوم خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں سلیم انصاری،سرور نگینوی،ڈاکٹر بختیار نواز، شاداں سلطانپوری،ڈاکٹر نیاز سلطانپوری،پروفیسر عرفان آصف،زخمی اورنگ آبادی،ڈاکٹر اعجاز داؤدنگری اور ساحر داؤدنگری شامل ہیں جنھوں نے اپنے منفرد انداز میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
بطخ میاں انصاری کی زندگی کا ایک مختصر واقعہ قارئین کے زیر نظر ہے ’’ واقعہ 1917کا ہے جب چمپارن میں سنگین صورت حال کا سامنا کر رہے کسانوں نے گاندھی جی کو حالات کا جائزہ لینے کے لئے مدعو کیاتھا۔ گاندھی جی کے ساتھ ڈاکٹر راجیندر پرساد و دیگر کانگریسی رہنما بھی تشریف لائے تھے۔ اس موقع پر جس طرح گاندھی جی کو عوام کی حمایت حاصل ہوئی اس سے انگریز کافی پریشان ہوگئے۔ نیل کوٹھی کے انگریز مینجر ارون نے مذاکرہ کے لئے گاندھی جی کو اپنے گھر پر بلایا اور اپنے باورچی بطخ میاں کو دودھ میں زہر ملا کر گاندھی جی کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا۔بطخ میاں نے ارون کے سامنے دودھ میں زہر تو ضرور ملایا لیکن اپنی جان کی پروا کئے بغیر یہ بات ڈاکٹر راجیندر پرساد کے کانوں میں کہہ دی جس سے گاندھی جی کی جان بچ گئی۔ دودھ کا گلاس گاندھی جی کے نیچے ڈال دیا جس سے وہاں پر بیٹھی ایک بلی نے دودھ چاٹ لی اور فوراً وہ مر گئی۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کس قدر گلاس میں بھرا ہوا دودھ زہر آلود تھا۔ بعد میں ارون نے بطخ میاں کو جیل کی سلاخوں کے حوالے کردیا اور ان کے گھر کو تباہ و برباد کرکے جائداد بھی نیلام کر دی۔ حیرت کی بات ہے کہ بطخ میاں کی اتنی بڑی قربانی بھلادی گئی لیکن محسوس کرنے کی بات ہے کہ اگر اس دن گاندھی جی کی موت واقع ہوجاتی تو معلوم نہیں آج ہندوستان کی حالت کیا ہوتی۔ یہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ بطخ میاں کی ہمت اور وفاداری کی وجہ سے گاندھی جی کی جان بچی اور گاندھی جی نے انگریزوں کے ساتھ پر امن جدو جہد کرکے ملک کو آزاد کرایا اور عوام نے انھیں بابائے قوم تسلیم کیا‘‘۔ ( صفحہ۔68)
ملک کے تاریخی واقعات پر اگر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آزادی کے بعد بڑی سازش کے تحت مسلم مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو فراموش کر دیا گیا۔ ان میں سے ایک نہایت ہی معتبر اور قابل احترام نام بطخ میاں انصاری کا ہے جنھوں نے انگریزوں کی سازش کو ناکام بناتے ہوئے بابائے قوم مہاتما گاندھی کی جان بچائی تھی۔ بطخ میاں ہندوستان کی تاریخ آزادی کا ایک ایسا نام ہے جو ملک سے وفاداری کے جرم میں انگریزوں کے ظلم و زیادتی کا شکار ہوکر اپنا سب کچھ لٹا دینے کے باوجود آج گمنامی کے اندھیرے میں اسی طرح ڈوبا ہوا ہے۔ بہت کم لوگ اس تاریخی سچائی کو جانتے ہیں کہ یہ وہی بطخ میاں ہیں جنھوں نے چمپارن کی ستیہ گرہ تحریک کے میر کارواں گاندھی جی کی زندگی بچاکر ملک کی آزادی کا خواب آسان بنا دیا تھا۔
کل 175 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں 23 مضامین ،شعرا کے منظوم خراج عقیدت،موزوں تصاویر و دستاویزات کے ساتھ مختلف اخبارات کے تراشے اور آخری صفحے پر انصاری اطہر حسین کے تصورات شامل ہیں۔
اس کتاب کے ذریعہ ایم ڈبلیو انصاری نے بطخ میاں انصاری کی شخصیت،کارنامے اور ان کے جذبۂ حب الوطنی کو اعلیٰ سطح پر نئی نسل تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا خیر مقدم یقینی طور پر ہونا چاہیے۔
قیمت : 300 روپے
ملنے کا پتا : مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ ،اردو بازار،دہلی۔ 110006
تبصرہ نگار : ڈاکٹر داؤد احمد،
فلیٹ نمبرA-1/22،سلبھ آواس،
کرسی روڈ،جانکی پورم،لکھنؤ۔226026
E-mail :daudahmad786.gdc@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

