بِہار کی یونی ورسٹیوں میں اُردو زبان و ادب کی توسیع میں اساتذہ کی خدمات(تحقیق و تنقید) -ڈاکٹڑ ابراہیم افسر
صوبۂ بِہار کو یوں کو کئی معنوں میں پورے ہندوستان میں امتیاز و افتخارحاصل ہے۔اسی صوبے نے قدیم ہندوستان کو جمہوریت کا درس دیا۔اسی سر زمین پر قدیم ہندوستان کی عظیم حکومتیں قائم قائم و دائم تھیں۔اسی خطّے میں قدیم ہندوستان کی اعلا درجے کی درس گاہیں موجود تھیں ۔دنیا کے دو بڑے مذاہب (بدھ اور جین مذہب)بھی اسی سر زمین میں پیداہوئے۔اس علاقے کی جتنی تعریف و توصیف کی جائے کم ہے۔۔جدید دور میں بھی اس صوبے کی افادیت و اہمیت کم نہیں ہوئی ہے۔پٹنہ کی مشہور ’’خدا بخش لائبریری‘‘ بھی ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اپنا منفرد مقام رکھتی ہے۔درس و تدریس کے میدان میں اس زر خیز خطہ ٔ ارض نے بڑے قد آور اساتذہ کو پیدا کیا۔خاص کر اُردو اساتذہ نے اس صوبے اور ہندوستان کا نام اُردو ادب کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر روشن کیا۔یہ ایک لمبی ادبی کہکشاں ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔جن استاذہ یامحققین و ناقدین نے صوبہ بِہار کے نام کو عروج ،وقاراورافتخار عطا کیا ان میںپروفیسر عبدالغفار شہباز،اختر اورنوی،حسن عسکری،عبدالمنان بیدل،امداد امام اثر،قاضی عبدالودود، پروفیسر اختر قادری،مطیی الرحمن ،ڈاکٹر ممتاز احمد خاں،پروفیسر طلحہ رضوی برق،پروفیسر علیم اللہ حالی برق،،پروفیسر حفیظ بنارسی،پروفیسر ظفر اوگانوی،پروفیسر،افصح ظفر،پرو فیسر وہاب اشرفی،پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی،پروفیسر صدرالدین فضا، اقبال حسن،پروفیسر کلیم عاجز،کلیم الدین احمد،پروفیسر عبدالمغنی،پروفیسر شکیل ایرحمن اور پروفیسر تاج انورکے اسما قابل اعتبار و اعتماد ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب’’بِہار کی یونی ورسٹیوں میں اُردو زبان و ادب کی توسیع و ترقی میں اساتذہ کی خدمات(تحقیق و تنقید)‘‘ڈاکٹر احمد صغیر(مشہور فکشن نگاراور گیا کے انوگرا میمورئیل ڈگری کالج میں اُردو کے استاد) کا ایسا ادبی ،تحقیقی و تنقیدی دستاویز ہے ،جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔موصوف نے جس عرق ریزی،گہرائی ،گیرائی ،انہماک اور جاں فشانی سے اس کتاب کو مکمل کیا ہے وہ قابلِ تعریف و ستائش ہے۔در اصل یہ تحقیقی پروجیکٹ قومی کونسل برائے فروغ ِ اُردو زبان ،نئی دہلی کے مالی تعاون سے مکمل کیا۔ڈاکٹر احمد صغیر نے اس کتاب کا انتساب ’’اُن اساتذہ کے نام جنہوں نے کئی نام ور قلم کار پیدا کیے ‘‘کے نام موسوم کیا ہے۔موصوف نے اس تحقیقی و تنقیدی کتاب کو آٹھ(8)عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔
پہلاباب’’پٹنہ یونی ورسٹی ایک تعارف‘‘کے نام سے قائم کیا گیا ہے۔اس میں پٹنہ یونی ورسٹی کی تاریخ اہمیت و افادیت کے ساتھ اس ادارے کے شعبۂ اُردو سے وابستہ اساتذہ اکرام کی اُردو زبان و ادب کے فروغ میں دی گئی خدمات کو منشۂ شہود پر لانے کی سعی کی ہے۔باب میں جن اساتذہ کی فہرست اور قلمی خاکہ پیش کیا گیا ہے اُن کی تعداد 25ہے۔جن میں اختر اورنوی ،ممتاز احمد،کلیم عاجز،اسلم آزاد،اسرائیل رضا ،کلیم الدین احمد،عبدالمغنی اور نذر امام کے نام فہرست میں شامل کئے گئے ہیں۔باب کے آخر میں پٹنہ یونی ورسٹی سے فارغ التحصیل اُن198 طلبا کی فہرست دی گئی ہے جنھوں نے اس ادارے سے تحقیقی مقالے سپرد قلم کئے ہیں یا کرنے جا رہے ہیں۔
دوسرا باب ’’بھیم راؤ امبیڈ کر یونی ورسٹی :بِہار یونی ورسٹی۔ایک تعارف‘‘کے عنوان سے لکھا گیا ہے ۔اس باب میں اس درس گاہ کے قیام اوراس کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ساتھ ہی اس یونی ورسٹی کے شعبۂ اُردو کی کردگی کا طائرانہ جایزہ بھی لیا گیا ہے۔شعبۂ اُردو سے وابستہ جن 20اساتذہ کا قلمی خاکہ ڈاکٹر احمد صغیر نے کھینچا ہے ان میں عبدالماجد اختر،عبدالواسع ،شکیل الرحمن،شمیم احمد،توقیر عالم،نعم کوثر،ممتاز احمد خاںکے نام قابل ذکر ہیں۔اس یونی ورسٹی کے تحت لکھے گئے تحقیقی مقالوں کی فہرست (348وہ تحقیقی مقالے جن پر ڈگریاں تفویض ہو چکی ہیں اور 32مقالے وہ جن پر تحقیقی کام ہو رہا ہے )بھی ساتھ میں منسلک ہے۔
تیسرا باب ’’مگدھ یونی ورسٹی،بودھ گیا۔ایک تعارف ‘‘کے نام سے لکھا گیا ہے۔اس باب میں اس یونی کی تاریخی اہمیت ،شناخت اور اس کے قیام کے مقصد پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ساتھ ہی یونی ورسٹی کے شعبہ اُردو کی خدمات کا بھی اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔شعبہ میں جن 97اساتذہ نے خدمات انجام دیں ان کی فہرست کے علاوہ یونی ورسٹی سطح پر کئے گئے 245تحقیقی مقالات کی فہرست بھی باب کے آخر میں دی گئی ہے۔
چوتھے باب ’’للت نارائن متھلا یونی ورسٹی۔ایک تعارف‘‘کے عنوان سے رقم کیا گیا ہے۔اس باب تے تحت اس یونی ورسٹی کے قیام کا مقصد اور شعبۂ اُردو سے وابستہ20اساتذہ کے اسما کی فہرست اور ان کے قلمی خاکے قابل دید ہیں۔باب کے اختمام پر 21ریسرچ اسکا لر س کے نام کی نا مکمل فہرست دی گئی ہے۔
پانچوے باب کے تحت’’تلکا مانجھی بھاگل پور یونی ورسٹی۔ایک تعارف ‘‘کے عنوان سے اس یونی ورسٹی کے قیام اغراض و مقاصد اور شعبۂ اُردو کی کار کردگی کو صفحۂ قرطاس پر بیان کیا گیا ہے۔جن اساتذہ نے اس ادارے کے شعبۂ اُردو میں خدمات انجام دیں یا خدمت انجام دے رہے ہیں ،ان کی تعداد11بتائی گئی ہے۔ان کے بھی قلمی خاکے سلیقگی کے ساتھ قاری کے سامنے رکھے گئے ہیں۔61طلبا کی ایک فہرست بھی دی گئی ہے جنھوں نے اس یونی ورسٹی کے تحت تحقیقی مقالے تحریر کیے۔
چھٹا باب ’’ویر کنور سنگ یونی ورسٹی۔ایک تعارف ‘‘کے نام سے لکھا گیا ہے۔یونی ورسٹی کا قیام ،تاریخی پس منظر اور شعبۂ اُردو سے منسلک رہے9اساتذہ کے اسما اور ان کے قلمی خاکے تحریر کیے گئے ہیں۔جن 16 طلبا نے اس یونی ورسٹی کے تحت تحقیقی مقالے سپرد قلم کیے ان کے اسما بھی باب کے آخر میں دیے گئے ہیں۔
ساتواں باب ’’جے پرکاش نارائن یونی ورسٹی ۔ایک تعارف‘‘کے تحت لکھا گیا ہے۔اس یونی ورسٹی کے مختصر تعارف کے ساتھاس کے علمی و ادبی کارناموں اور شعبۂ اُردو میں درس و تدریس کی خدمات انجام دینے والے11اساتذہ کے اسما ،ان کے قلمی خاکے ڈاکٹر احمد صغیر نے پیش کیے ہیں۔اس یونی ورسٹی کے تحقیقی مقالوں کی فہرست منسلک نہیں کی گئی ہے۔
آخری اور آٹھواں باب’’بی ۔این۔منڈل یونی ورسٹی ۔ایک تعارف‘‘کے عنوان سے رقم کیا گیا ہے۔یونی ورسٹی کے مختصر تعارف کے ساتھ 10اساتذہ کے اسما اور ان کا مختصر قلمی خاکہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ساتھ ہی اُن 43ریسرچ اسکالر س کی فہرست بھی دی گئی ہے جنھوں نے اس یونی ورسٹی کے تحت مقالے رقم کیے ہیں۔
المختصر! یہ کتاب بِہار کے ادبی افق پر ایک نئے دور کے آغازکی غماز ہے۔ڈاکٹر احمد صغیر نے اس تحقیقی کام کووسیع مطالعے،سخت محنت اور لگن کے ساتھ انجام دیا ہے۔پیش لفظ کے مطابق اس پروجیکٹ کے شروع میں جو سوال نامے اساتذہ کو بھیجے گئے تھے اس میں سے صرف اور صرف ڈھائی فی صدی نے ہی انھیں پُر کیا ۔خیر!یہ ادبی اور علمی کار نامہ اکیلے شخص کی کاوش اور جہت کا نتیجہ ہے۔اس ادبی دستاویز کے منظرِ عام پر آنے سے بِہار ہی نہیں بلکہ ملک اور بیرونِ ملک کے طلبا اور اساتذہ کو تحقیق کے میدان میں یہ فائدہ ہوگا کہ ان کے پاس تحقیقی موضوعات کی فہرست ہوگی اور تحقیقی مقالات کے عنوانات وموضوعات کا انتخاب کرتے وقت مماثلت اور یکسانیت سے بچا جا سکے گا اور نئے تحقیقی عنوان پر مقالے لکھے جا سکیں گے۔
IBRAHEEM AFSAR,WARD NO-1,MEHPA CHOURAHA NAGAR
PANCHAYAT SIWAL KHAS ,DISTT MEERUT(UP)PIN 250501.
EMAIL,IBRAHEEM.SIWAL@GMAIL.COM
MOB 9897012528
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

