زیست کے فلسفے چارسو ان گنت کرامات دکھاتے ہیں کہیں یہ سرخ پری ہن کر اٹھلاتی ہی ہے تو کہیں سفید لباس زیب تن کئے آسمان سے محوِ گفتگو ہے۔ زیست کے جھمیلوں میں نہ پڑنا بعید عقل ہے۔ جیست کی الجھن موروثی حقوق میں سے ایک ہے ہاں مگر جہاں کے سفید و سیاہ میں انسان کی حیثیت ایک دئے سے زیادہ کچھ نہیں جب تک دئے میں تیل باقی ہے زیست سے پنجہ آزمائی جاری ہے۔یہ پنجہ آزمائی کبھی کبھی تقدیر سے بھی ہو جاتی ہے اور پھر انسان تقدیر کی گتھیوں کو سلجھاتے سلجھاتے الجھ کر رہ جاتا ہے۔ لیکن شاعر کا دل بڑا سخت جان واقع ہوا ہے۔ یہ ننھا سا دل بڑے سے بڑے جبر کو زیر کر دیتا ہے۔ایسا ہی زیست کی الجھنوں سے پنجہ آزما شاعر دل عرفانی تھے
دل عرفانی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شریف النفس انسان تھے شاعری ان کا جنون رہا، جنون جب شوق کی رگوں میں سماتا ہے تو پھر میدان عمل میں حائل ریگزاروں کو گلستاں بنا دیتا ہے۔ شاعری حسین تخیل کا حسین اظہار ہے۔ فن کار کبھی کوئی مخصوص نظریے کے زیراثر فن کا مظاہرہ نہیں کرتا اور اگر کرتا ہے تو اپنے فن کے ساتھ پورا انصاف نہیں کرتا۔فن تو احساسات کی ترسیل ہے۔فن کار تو صرف اپنا ہنر دکھاتا ہے اپنے احساسات و جذبات کو کبھی برش بنا لیتا ہے اور دل پر ابھرنے والے بے رنگ نقوش میں رنگ بھرتا ہے ،کبھی چھینی اور ہتھوڑا اٹھا کر پتھر کو دیوتا بنا دیتا ہےاور کبھی قلم میں خون بھر کر زندگی کے قرطاس پر بکھیر دیتا ہے اور اپنا نقش چھوڑ جاتا ہے بعد آنے والے اس نقش کو اپنے نظرئیے کے مطابق نام دیتے ہیں۔اس کے فن پر گفت و شنید کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کچھ کو قبولیت ملتی ہے اور کچھ کی تردید ہو تی ہے پھر کوئی اور آتا ہے اور رد کیے کو قبولیت دیتا ہے اور قبول کۓ ہوۓ کو رد کرتا ہے۔اس لۓ انسان کا کہا حرف آخر نہیں ہو سکتا۔دنیا کی ریت رہی ہے عروج کو سلامی پیش کی جاتی ہے اور زوال پر خاک ڈال دیا جاتا ہے۔ مگر یہ یاد رہے اس فانی دنیا کی ہر شئے فانی ہے۔کمال تو یہ ہے کہ زوال میں عروج کا سماں پیش کیا جائے۔طوفان کے زور میں حوصلے کا چراغ جلایا جائے۔دل عرفانی نے بھی حالات کے طوفان میں امید کا چراغ روشن رکھا۔
دل عرفانی کی شاعری میں جہاں زندگی کے روزمرہ کے مسائل کا ذکر ہے وہی دنیاۓ رنگ و بو کے ہر پل بدلتے منظر نامے کی عکاسی بھی ہے۔ غزلوں میں ان کا اپنا رنگ ہے۔غزل کے اشعار دل کو چھو جاتے ہیں دل میں بیٹھ کر دل کی سنانے والے دل عرفانی نے نظمیں بھی کہی مگر ان کا شعری ذوق غزل میں زیادہ نمایاں نظر آتا ہے الفاظ کا بر محل استعمال فن پر ان کی گرفت کا پتہ دیتا ہے۔ اشعار کے موضوعات بھی مختلف ہیں اور انداز بیاں بھی اسلوب سادہ اور دلکش ہے۔دو استادِ فن محترم ارمان شیام نگری اور محترم حشم الرمضان صاحبان کی سر پرستی میں نہ صرف انکے فن کے گل بوٹے کھلیں بلکہ گلشنِ شعر و ادب کو معطر بھی کرتے رہیں۔
انکے چند اشعار پیش خدمت کرتا ہوں جو انکے بالیدہ شعری شعور کی وسعت کا پتہ دیتے ہیں۔
تصورات کی آنکھوں میں جب نفی دیکھی
مرے خیال نے گھبرا کے خود کشی کرلی
وہ ریزہ ریزہ ہوکے ہوا میں بکھر گیا
باہر نکل پڑا تھا جو آئینہ توڑ کے
جانے اس بھیڑ میں وہ کہاں کھوگئ
ایک تصویر تھی آپ ہی کی طرح
شاعر کا دل بڑا حساس واقع ہوا ہے زمانے کی نبض پر ہمیشہ اس کی انگلیاں ہوتی ہیں اور یہ ثبوت ہے اس کے بیدار ہونے کا۔ وہ قلم کو اپنی زبان دیتا ہے اور اپنے جذبات کو بطور روشنی بھر کے زیست کی داستان رقم کرتا ہے ۔ادب برائے زندگی کے مصداق شاعر حسن کی وادیوں میں صرف سیر ہی نہیں کرتا بلکہ وہ پتھریلی راہوں میں گلکاری کی سعی بھی کرتا ہے،حق و انصاف کی صدائیں بھی بلند کرتا ہے,خوف و دہشت کے لبادے سے نکل کر مشکلوں سے آنکھیں ملاتا ہے ،مسکراتا بھی ہے، کراہتا بھی ہے اور تمام تر کیفیات کا مظاہرہ اپنے فن میں کرتا ہے۔غرض تمام تر کیفیات کا مظاہرہ اپنے فن میں کرتا ہے۔دور رواں میں حساس ہونا ایک بددعا ہی ہے،بے حسی کا رقص تمام دیدہ وروں کے ہوش اڑا چکا ہے لہذا ایسی صورتحال میں ایک ہوش کی بات کرنے والا حساس شاعر بے حسی کو گلے کیسے لگا سکتا ہے؟ وہ چیخ اٹھتا ہے
دندان شب کو چاہئے رکھ دے بھنبھوڑ کے
سوۓ ہوۓ ہیں لوگ بدن اپنا چھوڑ کے
دنیا بہت حسین ہے اس سے انکار ممکن نہیں خالق کائنات نے دنیا کو بہت خوبصورت بنایا ہے دنیا کی سبھی حسین چیزوں میں انسان سب سے حسین ہے،انسان نے بدلتے حالات کے تحت اپنے اندر بہت سی تبدیلیاں کر لیں جو وقت کی عین ضرورت بھی ہیں پر دل کا بدلنا بعیدالقیاس تو نہیں ہے مگر قابل حیرت ضرور ہے اور ایک شاعر کا دل کبھی کسی موڑ پر شاعر کا دل ہی ہوتا ہے وہ اس بدلاؤ کو ناپسند نہیں کرتا اور نا ہی انسانی روئے کے بدلنے کا اسے ملال ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ زمانے کی تیز رفتاری میں بہت پیچھے چھوٹ گیا، زمانہ تیز تو ہوا پر بہت لاچار بھی ہوگیا اخلاق، خلوص و محبت سب کو روندتا ہوا آگے بڑھ گیا ایسی صورتحال میں شاعر کا پریشان دل اپنا دکھ اپنے دل کو ہی سنانے میں عافیت محسوس کرتا ہے اور بصد خلوص کہہ اٹھتا ہے۔
اپنی بانہوں کے سہارے کا تکلف نہ کرو
میرا سر میرے زانوں پہ دھرا رہنے دو
ہمدردی کے کھوکھلے دعوے سے شاعر باخبر ہے اور ہو بھی کیوں نہ شاعر جو ٹھہرا۔وقتی ہمدردی کی حقیقت سے آشنا شاعر بخوبی جانتا ہے کہ کسی کی ذرا سی ہمدردی اس کے نحیف کاندھوں پرعمر بھر کا بوجھ بن جاۓ گا وہ ایسے مہربانوں سے اللہ کی خیر چاہتا ہےجو محفلوں اور مجلسوں میں اس کی غربت کا تماشہ بنا کر اپنی ہمدردی کی داستان سنانا پسند کرتے ہیں اپنے ہاتھ پاؤں کی طاقت کو ہی خالق کی نعمت گردانتا ہے ۔غربت جہاں سینکڑوں الزام لاتی ہے ،عدم اعتماد کا باعث بنتی ہے وہیں رگوں میں خودداری کا لہو بھی بھر دیتی ہے۔ایک خوددار کبھی دست درازی نہیں کرتا جب تک کے حالات کا تھوڑا اسے پوری طرح توڑ کر بکھیر نہ دے،اس خیال کی ترجمانی ذیل کے شعر میں ہوتی ہے۔
خود فریبی کو سہارا نہ بناؤ یارو!
دست خوددار کو محتاج عصا رہنے دو
اس جہان فانی میں کچھ کھونے کا غم کس کو نہیں، درحقیقت یہاں کھونا ہی کھونا ہے ایک کے بعد دوسرا۔ زندگی نشیب و فراز سے گزرتی ہے کبھی وہ بہار لاتی ہے کہ تا عمر اس کی دل کسی کبھی ماند نہیں پڑتی اور کبھی غم کے ایسے کال کوٹھری میں ڈھکیل دیتی ہے جہاں امید کا کوئی دیا روشنی نہیں کر سکتا۔سب کا آغاز یکساں ہے سب کا انجام یکساں ہے مگر آغاز و انجام کے بیچ کی زندگی یکساں نہیں، کامیابی کے بعد انسان فلسفی بھی ہو جاتا ہے،صلاح کار بھی اور وقت کا سکندر بھی گونگوں کو بھی بولنا مگر جس کی زیست نے مسلسل ٹھوکریں دیں ہو وہ زبان والا ہوتے ہوئے بے زبان بن جاتا ہے۔اس کا شعور ذہن کو خدا حافظ کہہ چکا ہوتا ہے اور وہ خوشی کی چاہ میں صحراؤں میں روح کی مانند بھٹکتا پھرتا ہے۔
بھٹک رہا ہوں میں صدیوں سے روح کی مانند
مجھے تلاش تھی جس کی وہ زندگی نہ ملی
دل عرفانی نے کم لکھا مگر بہت خوب لکھا ان کے اشعار میں حوادث زمانہ سے نبرد آزمائی کا تجربہ ملتا ہے ایک خود آگاہی کا احساس پنپتا دکھائی دیتا ہے دل عر فانی کی شاعری دل کی شاعری ہے دماغ کا دخل کب ملتا ہے اس لئے اشعار بھی دل کو چھو جاتے ہیں کچھ اشعار دماغی کثرت ضرور کراتے ہیں۔ان کی شاعری میں خیال چست ملتا ہے، الفاظ اور محاورے کا استعمال اشعار کے حسن میں اضافہ کرتا ہے ۔موصوف کی شاعری اپنے عہد سے بیدار تھی لہذا ان کی شاعری میں ان احساسات کو جو ایک بیدار دل محسوس کرتا ہے الفاظ کی بیڑیوں میں جکڑ لیا تاکہ فرار نہ ہوجائیں۔ روز بہ روز بگڑتے حالات کی ترجمانی انہوں نےکیا خوب کیا ہے۔
یہ کیا!کہ پیڑ بھی سایہ تلاش کرتا ہے
بدل گئی ہے ہوا کس قدر زمانے کی
پیڑ کا سایہ تلاش کرنا نئ بات ہے اور شعر کے حسن کے ساتھ شاعر کی بالیدہ شعری شعور کو بھی بیان کرتا ہے۔
خوش فکر اور خوش نظر شاعر نے تصویرِ حیاتِ شاعری میں کائنات کے مختلف مشاہدوں کے رنگوں کا استعمال کیا اور بہت خوب کیا۔
دل عرفانی کی غزلوں کے مقطعے بھی بہت متاثر کرتے ہیں۔
دل وسعت نظر کے شکستہ حصار میں
شاعر ہوۓ تو صاحب پندار کیوں ہوۓ
دل اپنی شخصیت کے تصور سے ڈر گیا
رکھ دیتا ورنہ لفظ کے پنجے مروڑ کے
میں ان کا ایک شعر آپ کے حوالے کرتے ہوۓ مضمون کوسمیٹتا ہوں۔
زندگانی کے سوانح ہو بھلا کیسے رقم
"اک شکن”وقت کے ماتھے پہ لکھا رہنے دو۔
نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398
e-mail : nasimashk78@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
بہت عمدہ مضمون ۔۔۔۔اللہ لکھنے والے کو مزید لکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔۔اور جسکے لئے لکھی گئی ہے انکے قبر میں رحمت و نور کی بارش عطا کرے ۔۔۔۔آمین یارب العالمین
بہت خوبصورت ۔۔۔۔۔بہت عمدہ مضمون۔۔۔۔۔ماشاء اللہ