غزل اردو شاعری کی مقبول ترین صنف سخن ہے۔ غزل کا فن ایجاز و اختصار رمز و کنایہ، مجاز و تمثیل، استعارہ و تشبیہ اور آہنگ و نغمگی سے مزین ہوتا ہے۔ غزل میں شروع سے ہی مختلف موضوعات زندگی، سماجی معاشرتی خیالات، تاریخی واقعات و نظریات کی ترجمانی ہوتی رہی ہے۔ ہر طرح کے خیالات کی عکاسی دیگر اصناف سخن کی بہ نسبت غزل میں زیادہ موثر اور جامع طریقے سے کی جاسکتی ہے۔اس طرح غزل کا ہرشعر اپنے اندر ایک جہان معنی رکھتا ہے۔
غزل کے متعلق نقادوں کے مختلف نظریے رہے ہیں۔ فراق کے نزدیک غزل انتہاؤں کا سلسلہ ہے۔ پروفیسر رشید احمد صدیقی نے غزل کو اردو شاعری کی آبرو قرار دیا۔ خواجہ احمد فاروقی غزل کو محبوب ترین صنف سخن بتاتے ہیں۔
غزل کی اصلاح کا رجحان حالی سے شروع ہوا لیکن صرف موضوعات کی حدتک رہا۔ اس کے بعد عظمت اللہ خاں، وحیدالدین سلیم، جوش ملیح آبادی، کلیم الدین احمد وغیرہ کے نام آتے ہیں جو غزل کی ہیئت اور ساخت ہی کے مخالف تھے۔ ان حضرات کے نزدیک غزل بے وقت کی راگنی، نیم وحشیانہ شاعری یا ربط و تسلسل سے عاری کلام ہے۔ عظمت اللہ خاں کا تو یہ خیال تھا کہ اردو شاعری کی ترقی صرف تبھی ہوسکتی ہے جب غزل کی گردن بے تکلف ماردی جائے۔یہ ردِ عمل انتہا پسندانہ تھا۔ غزل کے سلسلے میں پروفیسر آل احمد سرور کی رائے بڑی متوازن ہے:
’’غزل کی مقبولیت سے کچھ لوگ اس حقیقت سے چشم پوشی کرنے لگے ہیں کہ غزل ساری شاعری نہیں ہے۔ اور نہ غزل کو اردو شاعری کی آبرو کہہ کر دل خوش کرلینا مناسب ہے۔‘‘۱؎
ابتدائی دور میں ترقی پسند شعرا نے غزل کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی اور جب اسے اپنایا تو اردو غزل کی عام روایت سے اجتناب کی کوشش کرتے ہوئے۔ اب اس کے روایتی اور بنیادی کردار عاشق و معشوق اور رقیب معنوی طور پر بدلے ہوئے تھے اور ابہام کی بہ نسبت وضاحت ضروری ہوگئی تھی۔ ترقی پسند شاعر کے لئے طے شدہ نتائج کو منظوم کرنا لازمی تھا۔ لہٰذا اس میں مقصد کو اولیت اور فن کو ثانویت حاصل رہی جس کی وجہ سے اکثر ترقی پسند غزل خطابت اور بیانیہ بن کر رہ گئی۔
اس کے باوجود ترقی پسند شعرا نے اچھی غزلیں کہیں ہیں۔ اسی دور میں فیض کی غزلیں ان کی نظموں سے زیادہ مقبول ہوئیں۔ جذبی، مجاز، مجروح، سردار جعفری،،وامق، مخدوم، جاں نثار اختر، ساحر، تاباں، پرویز شاہدی، اختر انصاری وغیرہ نے ترقی پسند خیالات کی عکاسی اپنی غزلوں میں کی ہے۔
ترقی پسند غزل گو شعرا کی صف میں کیفی اعظمی اپنی چند اہم غزلوں کی وجہ سے شامل ہیں۔ کیفی اعظمی بنیادی طور پر نظم کے شاعرہیں لیکن انھوں نے عام روایت کے مطابق اپنی شاعری کی ابتدائ اس غزل سے کی :
اتنا تو زندگی میں کسی کی خلل پڑے
ہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کل پڑے
جس طرح ہنس رہاہوں میں پی پی کے گرم اشک
یوں دوسرا ہنسے تو کلیجہ نکل پڑے
اک تم کہ تم کو فکر نشیب و فراز ہے
اک ہم کہ چل پڑے تو بہر حال چل پڑے
ساقی سبھی کو ہے غم تشنہ لبی مگر
مے ہے اسی کی نام پہ جس کے ابل پڑے
مدت کے بعد اس نے جو کی لطف کی نگاہ
جی خوش تو ہوگیا مگر آنسو نکل پڑے
کیفی اعظمی خود اس غزل کے بارے میں کہتے ہیں کہ :
’’یہ میری زندگی کی پہلی غزل ہے جو میں نے گیارہ برس کی عمر میں کہی تھی۔‘‘۲؎
کیفی کے ابتدائی کلام کا زیادہ حصّہ ضائع ہوگیا، یہ غزل اس لئے باقی رہی کیوں کہ اس کو بیگم اختر نے اپنی آواز کے جادو سے زندہ رکھا اور وہ ہندو پاک میں مشہور ہوگئی۔
یہ غزل پوری طرح روایت سے ہٹ کر نہیں ہے ،لیکن اس سے کیفی کی قادر الکلامی کا پتہ چلتا ہے۔
کیفی اعظمی نے اپنی بات کو عوام تک پہنچانے کے لئے نظم کو آلۂ کار بنایا اور ساتھ ہی غزل کے گیسو بھی سنوارے لیکن نظم کی طرف ان کا جھکاؤ زیادہ رہا۔اس کا خاص سبب یہی ہے کہ جس موضوع پر وہ اپنے قاری کو تفصیل سے کچھ سمجھانے کا ارادہ رکھتے ہیں اس موضوع پر نظم کے ذریعہ ہی اپنے خیالات و محسوسات کا اظہار کرتے ہیں۔ غزل میں اشاروں اور کنایوں میں ہی کوئی بات کہی جاسکتی ہے۔ تفصیل و وضاحت سے اس کا داخلی تاثر برقرار نہیں رہتا۔
کیفی اعظمی نے غزلیں کم ہی کہی ہیں ان کی غزلوں کی مجموعی تعداد کم و بیش پچاس ہے۔۳؎ لیکن انھوں نے غزلوں کے انتخاب کے سلسلے میں بڑی سختی سے کام لیا ہے۔ اپنی شاعری کے کل انتخاب ’’سرمایہ‘‘ میں انھوں نے صرف گیارہ غزلوں کو ہی جگہ دی ہے۔
کیفی اعظمی کی پوری غزلیہ شاعری کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات آسانی سے سمجھ میں آتی ہے کہ ان کے پہلے دور کی غزلیں رومانی ہیں جو بڑی نرم سبک رفتار مترنم اور نغمگی سے بھرپور ہیں۔ ان کے مصرعوں میں اتنی بے ساختگی روانی او رس ہے کہ پڑھنے والا ایک سحر آگیں کیف میں ڈوب جاتا ہے:
بس اک جھجھک ہے یہی حال دل سنانے میں
کہ تیرا ذکر بھی آئے گا اس فسانے میں
یہ کہہ کے ٹوٹ گیا شاخ گل سے آخری پھول
اب اور دیر ہے کتنی بہار آنے میں
کیفی کی ابتدائی غزلوں میں اثر پذیری کا ایک سبب زبان کی سادگی اور جذبے کی سچائی ہے:
تمہیں نے دل کو دل سمجھا نہیں ہے
کوئی ارماں نہ ہو ایسا نہیں ہے
مرے سینے میں اپنا درد بھر دو
اکیلے بوجھ یہ اٹھتا نہیں ہے
دوسرے دور میں کیفی نے نظمیں ہی لکھیں جو ان کے دوسرے مجموعے کلام ’’آخرشب‘‘ میں موجود ہیں اس مجموعے میں ایک بھی غزل نہیں ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ اس وقت تک ترقی پسند منشور کے تحت ترقی پسند شعرا کے لئے غزل کہنا ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ اس بارے میں یعقوب یاور لکھتے ہیں:
’’ترقی پسند تحریک پر چوں کہ اشتراکیت کا نشہ سوار تھا اس لئے اس کے ذمہ داروں نے جب یہ محسوس کیا کہ غزل ان کی اشتہاری مہم کا آلۂ کار بننے سے انکار کررہی ہے تو اشتراکی اصولوں کے تحت انھوں نے فوراً ہی اس کو ختم کردینے کا فیصلہ کرلیا۔‘‘۴؎
جب انقلابی تحریکیں ٹھنڈی پڑ گئیں اور پوری دنیا میں اشتراکی تحریک کے افتراق نے نئی صورت حال کو جنم دیا تو ایک مدت تک کیفی پر خاموشی طاری رہی اور جب خاموشی ٹوٹی تو اب ان کی شاعری کا لہجہ مختلف تھا۔ یہ نیا لہجہ کیفی کی شاعری کے تیسرے دور کی پہچان ہے۔ اس دور کو کیفی کا اصل رنگ قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہاں کیفی کا اسلوب قطعی منفرد ہے۔
’’آوارہ سجدے‘‘ کی نظموں اور غزلوں میں کیفی اپنے فنی کمال پر نظر آتے ہیں۔ آوارہ سجدے کی غزلیں اپنے ترقی پسند معیار پر پوری اترتی ہیں۔جو ان کے پختہ تخلیقی شعور کو اک جامع اظہار فراہم کرتی ہیں۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ دوسرے ترقی پسند شعرا کی طرح کیفی اعظمی کی غزلوں میں بھی عصری زندگی کے مسائل جگہ پاتے ہیں۔ ان کی غزلوں میں ان کی شخصیت کا عکس اور زندگی کے مختلف پہلو نظر آتے ہیں۔
کیفی کو گاؤں اور گاؤں کی زندگی سے بہت محبت ہے ان کے بچپن کی یادیں گاؤں سے وابستہ ہیں۔ اس کا ذکر انھوں نے جابجا اپنی غزلوں میں بھی کیا ہے :
میرا بچپن بھی ساتھ لے آیا
گاؤں سے جب بھی آگیا کوئی
چنانچہ گاؤں چھوڑنے کے بعد وہ پچھتاتے ہیں :
غربت کی ٹھنڈی چھاؤں میں یاد آئی اس کی دھوپ
قدرِ وطن ہوئی ہمیں ترکِ وطن کے بعد
وہ گاؤں کی مشکلات سے واقف ہیں اور کسانوں مزدوروں کی بے روزگاری، بھوک انھیں پریشان کردیتی ہے :
وہ میرا گاؤں ہے وہ میرے گاؤں کے چولہے
کہ جن میں شعلے تو شعلے دھواں نہیں ملتا
قحط اور سیلاب جو کسانوں اور دیہاتیوں کی ایک عام پریشانی ہے کے متعلق کہتے ہیں:
کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں
اس سر پہ جھوم کے جو گھٹائیں گذر گئیں
دیوانہ پوچھتا ہے یہ لہروں سے بار بار
کچھ بستیاں یہاں تھیں بتائو کدھر گئیں
شہر کی عام زندگی اور اس کے مسائل کیفی کی غزلوں کا خاصہ ہے :
لگ گیا اک مشین میں مَیں بھی
شہر میں لے کے آ گیا کوئی
میں کھڑا تھا کہ پیٹھ پر میرے
اشتہار اک لگا گیا کوئی
ہر دور میں انسان کو انسان کی تلاش رہی ہے۔کیفی کو جس انسان کی تلاش ہے وہ اس کے اوصاف کی تفصیل بیان کرنے کے بجائے صرف اس کی تعریف نئے بشر سے کرتے ہیں:
نئی زمین نیا آسمان مل جائے
نئے بشر کا کہیں کچھ نشاں نہیں ملتا
نئے بشر کی تلاش سے تھک کر وہ مایوس نہیں ہیں۔وہ اپنی امیدوں کا دیا اپنے کارواں میں روشن رکھنا چاہتے ہیں:
خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلے
میں اگر تھک گیا قافلہ تو چلے
کیفی مزدوروں کو آواز دیتے ہیں کہ خود کو پانے کے لئے زمین کی تہیں کھودو، وقت کی ضرورت اور تقاضہ یہی ہے کہ ہم اپنی ذات کو پہچانیں:
بیلچے لاؤ کھولو زمین کی تہیں
میں کہاں دفن ہوں کچھ پتہ تو چلے
ہر زمانے میں فرقہ پرست اور ظلمت پرست طاقتوں نے ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی ہیں اور کچھ حق شناسوں نے ان کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور انھیں شکست دی ہے۔ ان حقائق نے کیفی کی شاعری میں مایوسی اور نامرادی کی جگہ حرارت اعتماد اور رجائیت بھر دی ہے :
اعلانِ حق میں خطرۂ دار و رسن تو ہے
لیکن سوال یہ ہے کہ دار و رسن کے بعد
جرم ہے تیری گلی سے سر جھکا کر لوٹنا
کفر ہے پتھراؤ سے گھبرانا تیرے شہر میں
کیفی اعظمی ایسے تصورات سے فکری سطح پر جنگ کرتے ہیں جو گمراہ کن ہوں اور ہماری ہمتوں کو پست کردیں :
چاند سورج بزرگوں کے نقش قدم
خیر بجھنے دو ان کو ہوا تو چلے
ہے آج زمیں کا غسل صحت
جس دل میں ہو جتنا خون لائے
کیفی کی غزلوں میں ان کی نظم کی گونج سنائی دیتی ہے کیونکہ کیفی بنیادی طور پر نظم کے شاعر ہیں اور ان کا مزاج نظم نگار شاعر کا مزاج ہے اس لیے ان کی غزلوں میں بھی نظمیہ شاعری کے اثرات در آئے ہیں۔ اس کے باوجود کیفی کی غزلیں ایک پختہ تخلیقی شعور کو ایک جامع ایمائی اظہار فراہم کرتی ہیں۔
کیفی ترقی پسند غزل گو شعرائ میں اپنی چند اہم غزلوں کی وجہ سے ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ ان کی غزلوں میں بلا کا تیکھاپن، عصری حِسیت اور حقیقت پسندی کے ساتھ رومانی روایت پسندی موجود ہے۔ ان کی کئی غزلیں داخلی تاثر حسن اور وقار کے معیار پر پوری اترتی ہیں :
زمیں نے بوجھ اٹھایا نہ جانے کس کس کا
رہا جو نقشِ قدم تو کسی کسی کا رہا
انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں
دو گز زمیں بھی چاہیے دو گز کفن کے بعد
دستور کیا یہ شہر ستمگر کے ہو گئے
جو سر اٹھا کے چلتے تھے بے سر کے ہو گئے
دل میں کوئی صنم ہی بچا نہ خدا رہا
اس شہر پر وہ ظلم بھی لشکر کے ہو گئے
ایسا لگا غریبی کی ریکھا سے ہوں بلند
پوچھا کسی نے حال کچھ ایسی ادا کے ساتھ
گر ڈوبنا ہی اپنا مقدر ہے تو سنو
ڈوبیں گے ہم ضرور مگر ناخدا کے ساتھ
اس کو مذہب کہو یا سیاست کہو
خودکشی کا ہنر تم سکھا تو چلے
جو اک خدا نہیں ملتا تو اتنا ماتم کیوں
مجھے خود اپنے قدم کا نشاں نہیں ملتا
وہ تیغ مل گئی جس سے ہوا ہے قتل مرا
کسی کے ہاتھ کا اس پر نشاں نہیں ملتا
جب سر ڈھکا تو پائوں کھلا پھر یہ سر کھلا
ٹکڑے اس میں پرکھوں کی چادر کے ہوگئے
رشک آئے کیوں نہ غالب کے مقدر پر مجھے
جانے کیسی مشکلیں تھیں وہ جو آساں ہوگئیں
اکیسویں صدی کی طرف ہم چلے تو ہیں
فتنے بھی جاگ اٹھے ہیں آوازِ پا کے ساتھ
پایا بھی ان کو کھو بھی دیا چپ بھی ہو رہے
اک مختصر سی رات میں صدیاں گزر گئیں
بہار آئے تو میرا سلام کہہ دینا
مجھے تو آج طلب کر لیا ہے صحرا نے
بحیثیت مجموعی کیفی اعظمی کی غزلیں حقیقی تجربے سے ماخوذ ہیں۔ جن میں عصری حقیقتوں کی گہری نشتریت، حیات افروز جہد حیات ایک پختہ تخلیقی شعور، نظمیہ کے اثرات موجود ہیں۔ انھوں نے عہد حاضر کے شعور و احساس کو نئے معنیاتی نظام سے کچھ ایسا ہم آہنگ کیا ہے کہ غزل کے قلیل سرمایہ کے باوجود ترقی پسند غزل گو شعرا کی فہرست ان کے نام کی شمولیت کے بغیر نامکمل رہے گی۔
حواشی:
۱؎ پہچان اور پرکھ- آل احمد سرور، ص ۴۰
۲؎ میں اور میری شاعری – دیباچہ ’’سرمایہ‘‘ – کیفی اعظمی، ص ۱۷
۳؎ میرا پڑوسی – محمد ایوب واقف- کیفی اعظمی عکس اور جہتیں – شاہد ماہلی، ص ۱۰۳
۴؎ ترقی پسند تحریک اور اردو شاعری- یعقوب یاور،ص ۲۷۶
– – – – – – –
Dr. Waseem Anwar
Assistant Professor
Department of Urdu & Persian
Dr. H. S. Gour University, Sagar M. P. 470003
wsmnwr@gmail.com, 09301316075
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

