Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحقیق و تنقیدخصوصی مضامین

نئے ادبی اصول اور شبلی – پروفیسر احمد محفوظ

by adbimiras نومبر 18, 2021
by adbimiras نومبر 18, 2021 2 comments

انیسویں صدی کے ہندوستان میں جو چند مایۂ ناز ہستیاں پیدا ہوئیں ، ان میں علامہ شبلی نعمانی (۱۸۵۷ – ۱۹۱۴) کی حیثیت بہت ممتاز ہے ۔ ان کے علمی اور ادبی کارناموں کا دائرہ اس قدر وسیع ہے اور اس میں موضوعات کا ایسا تنوع ہے کہ اس سے شبلی کی غیر معمولی علمی شخصیت کا آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ متعدد دیگر موضوعات کے علاوہ انھوں نے ادب و شعر کے میدان میں بھی اپنے علمی کارناموں کے ایسے نقوش چھوڑے ہیں جن کی اہمیت اور معنویت ایک صدی سے زیادہ عرصہ گذرنے کے بعد بھی آج کم نہیں ہوئی ہے ۔ ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ شبلی نے ’’شعرالعجم‘‘ کی صورت میں فارسی شاعری کی مفصل تاریخ لکھ کر جدید عہد کو اپنی کلاسیکی روایت سے جس طرح روشناس کرایا اور ’’موازنۂ انیس و دبیر‘‘ کے ذریعے اردو میں تقابلی اور عملی تنقید کا جو اولین نمونہ پیش کیا ، وہ آج بھی ہمارے لیے حددرجہ قابل قدر ہے ۔ شاعری سے متعلق یہ ایسے علمی کارنامے ہیں جن کی بنا پر اردو تنقید کے میدان میں شبلی کو بجا طورپر ایک اعلیٰ پائے کے نقاد کی حیثیت حاصل ہے ۔ اسی کے ساتھ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ شبلی کی تنقید نگاری میں نظری اور عملی دونوں طرح کی تنقید کا خاطر خواہ سرمایہ موجود ہے ۔

اس مقالے کا موضوع چونکہ ’’نئے ادبی اصول اور شبلی‘‘ ہے ، لہٰذا یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پہلے اس امر کی وضاحت کردی جائے کہ نئے ادبی اصول سے میری کیا مراد ہے؟ اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ ادب بالخصوص شاعری کے بارے میں وہ نئے خیالات اور تصورات جو ہمارے یہاں انیسویں صدی کے اواخر میں منظر عام پر آئے اور جنھیں شاعری کی تفہیم و تنقید کی غرض سے اصولی حیثیت سے پیش کیا گیا ، انہیں نئے ادبی اصول کہنا نامناسب نہ ہوگا ۔ دوسری بات یہ کہ یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ وہ نئے اصول جو اواخر انیسویں صدی میں سامنے آئے ، کیا اس سے پہلے ان کا وجود نہیں تھا؟ کیونکہ اگر وہ تصورات پہلے سے موجود تھے تو پھر انھیں نئے اصول کیوں کر کہا جاسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب یہی ہے کہ ہاں وہ نئے تصورات جن کا رواج نئے زمانے میں ہوا ، ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کا نشان ہماری قدیم کلاسیکی شعری روایت میں نہیں ملتا ۔

اپنی قدیم شاعری کے بارے میں تفصیلی اظہار خیال کا سب سے پہلا نمونہ ’’آب حیات‘‘ (۱۸۸۰) ہے ۔ اگرچہ نئے خیالات کی اچھی خاصی جھلک یہیں سے ملنی شروع ہوجاتی ہے ، لیکن ان خیالات کو اصولوں کے پیکر میں ڈھالنے کی کوشش اس کتاب میں نہیں نظر آتی ، البتہ اصولی مباحث کی راہ ہموار ہوتی ہوئی ضرور دکھائی دیتی ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ ان نئے خیالات کو باقاعدہ طور پر اصول بند کرنے کا کام سب سے پہلے مولانا حالی نے ’’مقدمۂ شعر و شاعری‘‘ (۱۸۹۳) میں کیا ۔ اس کتاب میں حالی نے زیادہ تر باتیں جو بطور اصول بیان کیں ، وہ اس سوال کا جواب کہی جاسکتی ہیں کہ شاعری کیسی ہونی چاہیے؟ اگر وہ اس سوال کو سامنے رکھ کر کہ شاعری کیسی ہوتی ہے ، باتیں بیان کرتے تو ان کے خیالات وہ نہ ہوتے جو موجودہ صورت میں ہمارے سامنے ہیں ۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ نئے زمانے کے حالات کے پیش نظر حالی شاعری کو اپنے مخصوص زاویے سے دیکھ رہے تھے ۔ اس زاویے پر ایک طرف مغربی تصورات کا دباؤ تھا تو دوسری طرف قوم و ملت کی اصلاح کا جذبہ بھی انھیں مجبور کررہا تھا کہ وہ شاعری کو مخصوص تقاضوں کی تکمیل کا آلۂ کار سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کریں ۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں حالی کے بیان کردہ زیادہ تر جدید خیالات قدیم شاعری اور اس کے بیشتر تصورات سے میل نہیں کھاتے ۔ بہرحال اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اردو میں نئے ادبی اصولوں کے بنیاد گزار مولانا حالی ہی ہیں ۔

حالی کے بعد اسی زمانے میں جس شخص نے شاعری کے تعلق سے اصولی مباحث قائم کیے، وہ علامہ شبلی ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ شبلی نے فن شعر اور اس کے اصولوں سے متعلق الگ سے کوئی کتاب نہیں لکھی ، بلکہ انھوں نے اپنی تصنیف ’’شعرالعجم‘‘ کی چوتھی جلد کے ابتدائی تقریباً سو صفحات ان مباحث کے لیے وقف کیے ہیں ۔ ملحوظ رہے کہ یہ چوتھی جلد کل تین ابواب پر مشتمل ہے ، جس میں سے پہلا باب مکمل طور پر شاعری سے متعلق مذکورہ مباحث پر محیط ہے ۔ یہاں نامناسب نہ ہوگا اگر باب اول کی چند ذیلی سرخیوں کی نشاندہی کردی جائے ، جس سے اس بات کا اندازہ لگانا آسان ہوگا کہ شاعری سے متعلق مباحث میں کون کون سے امور شبلی کے پیش نظر تھے؟ چنانچہ چند ذیلی سرخیوں کے عنوانات یہ ہیں : شاعری کی حقیقت ، شاعری کے اصلی عناصر کیا ہیں ؟ محاکات یعنی شاعرانہ مصوری کی تعریف ، تخیل کی حقیقت ، تخیل کی بے اعتدالی ، تشبیہ اور استعارہ ، جدت اور لطف ادا ، حسن الفاظ ، فصیح اور مانوس الفاظ ، سادگی ادا ، واقعیت اور اصلیت ، شعر کیوں اثر کرتا ہے ، شاعری کا استعمال ، شعر اور شاعری کی عظمت ۔

ان عنوانات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ شاعری سے متعلق بحث و گفتگو کے دوران شبلی نے تقریباً ان تمام پہلوؤں کو پیش نظر رکھا ہے جو اس موضوع کے لیے ضروری اور ناگزیر کہے جاسکتے ہیں ۔

قدیم زمانے سے شعر کی جو مروجہ تعریف بیان کی جاتی رہی ہے، اس کی رو سے کلام موزوں اور مقفیٰ کو شعر کہا گیا ہے ۔ ظاہر ہے، اس تعریف میں شعر کو ظاہری صورت میں نثر سے ممتاز قرار دینا بنیادی مقصد رہا ہے، لیکن اسی کے ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس تعریف سے شاعری کی حقیقی کیفیت کا اندازہ نہیں ہوتا ۔ یعنی یہ کہ فی الحقیقت شاعری کیا ہے ، اس کے بارے میں ہمیں کچھ نہیں معلوم ہوتا ۔ شبلی شاعری کی حقیقت پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’شاعری چونکہ وجدانی اور ذوقی چیز ہے ، اس لیے اس کی جامع و مانع تعریف چند الفاظ میں نہیں کی جاسکتی ۔ اس بنا پر مختلف طریقوں سے اس کی حقیقت کا سمجھانا زیادہ مفید ہوگا کہ ان سب کے مجموعے سے شاعری کا ایک صحیح نقشہ پیش نظر ہوجائے۔‘‘(۱)

اس کے بعد شبلی شاعری کے نمایاں اوصاف زیر بحث لاتے ہیں اور ان میں جذبات کا برانگیختہ کرنا اور اثر انگیزی کا خاص طور سے ذکر کرتے ہیں ۔ چونکہ یہ خصوصیات شاعری کے علاوہ دوسرے فنون مثلاً موسیقی ، مصوری اور فن خطابت وغیرہ میں بھی عموماً پائی جاتی ہیں ، اس لیے شبلی شاعری کو ان فنون سے ممتاز کرنے کے لیے ایسے پہلوؤں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن سے شاعری کی انفرادی شناخت قائم ہوسکے ۔ انھوں نے خطیب اور شاعر کے فرق کو واضح کرتے ہوئے شاعر کی امتیازی خصوصیت کی طرف عمدہ اشارہ کیا ہے :

’’(خطیب کے برخلاف) شاعر کو دوسروں سے غرض نہیں ہوتی ، وہ یہ نہیں جانتا کہ کوئی اس کے سامنے ہے بھی یا نہیں؟ اس کے دل میں جذبات پیدا ہوتے ہیں ، وہ بے اختیار ان جذبات کو ظاہر کرتا ہے ، جس طرح درد کی حالت میں بے ساختہ آہ نکل جاتی ہے ۔ بے شبہ یہ اشعار اوروں کے سامنے پڑھے جائیں تو ان کے دل پر اثر کریں گے ، لیکن شاعر نے اس غرض کو پیش نظر نہیں رکھا تھا ۔‘‘(۲)

اسی سلسلے میں وہ مزید لکھتے ہیں :

’’اصلی شاعر وہی ہے جس کو سامعین سے کچھ غرض نہ ہو ۔ لیکن جو لوگ بہ تکلف شاعر بنتے ہیں ، ان کا بھی فرض ہے کہ ان کے انداز کلام سے یہ مطلق نہ پایا جائے کہ وہ سامعین کو مخاطب کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔شاعر اگر اپنے نفس کے بجائے دوسروں سے خطاب کرتا ہے ، دوسروں کے جذبات کو ابھارنا چاہتا ہے،جو کچھ کہتا ہے، اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے کہتا ہے ، تو شاعر نہیں بلکہ خطیب ہے۔‘‘(۳)

درج بالا دونوں اقتباسات میں بیان کردہ باتوں میں یہ پہلو تو یقینا بے حد اہم ہے کہ یہاں شاعر کے حقیقی منصب اور اس کی تخلیقی آزادی پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ لیکن اس بیان کا یہ پہلو کہ شاعر جو کچھ بیان کرتا ہے ، وہ اپنے نفس سے مخاطب ہوکر کہتا ہے اور یہ کہ شاعر کا یہ بیان اس کے شدید ذاتی احساسات اور جذبات کا اظہار ہوتا ہے ، قدیم مشرقی شعریات کی رو سے پوری طرح درست نہیںہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ شاعری کی یہ صفت تمام انواعِ شعر اور ہر دور کی تمام شاعری پر منطبق نہیں کی جاسکتی ۔ خیال رہے کہ شاعر کے ذریعے اپنے ذاتی احساسات کے بیان کا تصور در حقیقت مغرب سے ہمارے یہاں رائج ہوا اور یہ بھی کہ مغرب میں بھی اس صفت کو تمام شاعری کے لیے ضروری قرار نہیں دیا گیا ۔ الیٹ نے شاعری کی تین آوازوں کا جو تصور پیش کیا ، اس میں پہلی آواز کی بنیاد اسی صفت پر قائم کی گئی ہے ۔

شبلی شاعری کے اصلی عناصر کے بارے میں بھی تفصیلی بحث کرتے ہیں ۔ اصلی عناصر سے ان کی مراد ان چیزوں سے ہے جن کے بغیر شعر حقیقی معنی میں شعر کہلانے کا مستحق نہیں ٹھہرتا ۔ اس سلسلے میں انھوں نے تخیل اور محاکات پر الگ الگ نہایت مفصل اور کارآمد بحث کی ہے ۔ شاعری میں تخیل کی ناگزیر حیثیت اور اس کی کارفرمائی سے متعلق تصورات تو ہماری قدیم شعریات میں موجود رہے ہیں ۔ چنانچہ قدیم زمانے میں ہمارے یہاں یہ تصور عام رہا ہے کہ شاعری دراصل خیالی باتوں کا بیان ہوتی ہے اور عموماً شعرا خیالوں کی دنیا کی سیر کرتے ہیں ۔ البتہ شبلی نے شاعری کے بارے میں محاکات کا جو تصور پیش کیا، وہ اس لحاظ سے نیا کہا جاسکتا ہے کہ ہماری قدیم شعری روایت میں اس کا وجود نہ تھا ۔ اس تصور کے نئے ہونے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ خود شبلی نے اسے ارسطو کے وضع کردہ تصور کی حیثیت سے پیش کیا ہے ۔ یہاں اس تفصیل میں جانے کا موقع نہیں کہ ارسطو کے Mimesisکے تصور کی اصل حقیقت کیا ہے اور شبلی نے اسے محاکات یعنی شاعرانہ مصوری کہہ کر جو کچھ مراد لیا ہے ، کیا وہی مراد ارسطو کی بھی تھی ؟ لیکن اتنا کہہ دینا ضروری ہے کہ ارسطو نے Mimesis کا جو نظریہ پیش کیا ، وہ یونانی المیوں کو پیش نظر رکھ کر وضع کیا گیا تھا۔ اسی کے ساتھ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ قدیم مشرقی شعری روایت میں المیہ یا Tragedy کا کوئی وجود نہیں تھا۔

شبلی نے محاکات کے بارے میں جو کچھ بیان کیا ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں کی صراحت میں جس قدر زور قلم صرف کیا ہے، وہ یقینا قابل تعریف ہے اور اس سے بہت سے نئے پہلو روشن ہوتے ہیں ۔ تاہم شبلی کی اصابت فکر سے یہ بات پوشیدہ نہیں تھی کہ مشرقی شاعری کی تفہیم و تعئین قدر کے عمل میں ہر جگہ محاکات کا نظریہ مفید اور بامعنی نہیں ٹھہرے گا ۔ اسی کے نتیجے میں انھوں نے نہایت بنیادی بات بہت واضح الفاظ میں کہی جس سے تخیل کی حقیقی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ شبلی لکھتے ہیں :

’’اگرچہ محاکات اور تخیل دونوں شعر کے عنصر ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ شاعری دراصل تخیل کا نام ہے ۔ محاکات میں جو جان آتی ہے ، تخیل ہی سے آتی ہے ، ورنہ خالی محاکات نقالی سے زیادہ نہیں ۔‘‘(۴)

محاکات کے مقابلے میں تخیل کی ترجیحی حیثیت کو مزید مستحکم کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں :

’’محاکات کا یہ کام ہے کہ جو کچھ دیکھے یا سنے ، اس کو الفاظ کے ذریعے سے بعینہٖ ادا کردے ۔ لیکن ان چیزوں میں ایک خاص ترتیب پیدا کرنا ، تناسب اور توافق کو کام میں لانا ، ان پر آب و رنگ چڑھانا قوت تخیل کا کام ہے۔‘‘(۵)

اوپرکے پہلے اقتباس میں مندرج شبلی کا یہ جملہ کہ ’’شاعری دراصل تخیل کا نام ہے‘‘ اس بنیادی حقیقت کا واضح اعلان ہے ، جس پر قدیم مشرقی شاعری کی مہتم بالشان عمارت قائم ہے ۔ایسی ہی باتوں کی بنا پر بجاطور پر یہ کہا جاتا ہے کہ شاعری کے بارے میں شبلی کے بیان کردہ خیالات حالی کے خیالات کے مقابلے میں شاعری کی حقیقت سے زیادہ قریب رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ نئے زمانے کے نئے تصورات کا دباؤ شبلی بھی محسوس کررہے تھے ، جس کے زیر اثر انھوں نے بھی بہت سی ایسی باتیں بیان کیں جو ایک طرف اس وقت کے حالات سے ہم آہنگ تھیں لیکن دوسری طرف قدیم شعری تصورات سے ان کی مطابقت نہ تھی ۔

تخیل کے تعلق سے شبلی نے جو تفصیلی بحث کی ہے اور فارسی شعراکے یہاں سے مثالیں لاکر جن پہلوؤں کو روشن کرنے کی کوشش کی ہے وہ حد درجہ اہم اور لائق توجہ ہے ۔ شبلی کا یہ جملہ ایک نہایت بلند حقیقت کی طرف ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ ’’شاعر کی نظر میں عالم کائنات قوت تخیل سے ایک اور عالم بن جاتا ہے۔‘‘ (۶)  ملحوظ رہے کہ ’’مقدمۂ شعر و شاعری‘‘ میں حالی نے قوت متخیلہ کو قوت ممیزہ کے محکوم ہونے پر اصرار کیا ہے تاکہ قوت متخیلہ بے لگام نہ ہوسکے ۔ اس سلسلے میں شبلی بھی تخیل کی بے اعتدالی کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں :

’’شعر کی اس سے زیادہ کوئی بدقسمتی نہیں کہ تخیل کا بے جا استعمال کیا جائے ۔ طبیعیات کے متعلق جس طرح یونانی حکماکی قوتیں بیکار گئیں اور آج تک ان کے پیرو ہیولیٰ اور صورت کی فضول بحثوں میں الجھ کر کائنات کا ایک عقدہ بھی حل نہ کرسکے ، بعینہٖ ہمارے متاخرین شعرا کا یہی حال ہوا ۔ ان کی قوت تخیل قدماسے زیادہ ہے ، لیکن افسوس بالکل رائیگاں صرف کی گئی۔‘‘(۷)

وہ مزید لکھتے ہیں :

’’متاخرین کی اکثر نکتہ آفرینیاں اسی قسم کی ہیں ] یعنی ایسے اشعار جن میں مضمون کو خیال بندی اور نازک خیالی کی صورت میں باندھا گیا ہے[  جس کی وجہ یہی ہے کہ قوت تخیل کا استعمال بے جا طور سے ہوا ہے۔‘‘(۸)

شبلی تخیل کی بے اعتدالی کے مختلف اسباب میں سے ایک اہم سبب مبالغے کو قرار دیتے ہیں ۔ اس ضمن میں وہ کہتے ہیں :

’’قوت تخئیل کو سب سے زیادہ بے اعتدالی کا موقع مبالغے میں ملتا ہے۔ یہ تسلیم کرلیا گیا ہے کہ مبالغے کے لیے اصلیت اور واقعیت کی ضرورت نہیں ، اس بنا پر قوت تخئیل جی کھول کر بلند پروازی دکھاتی ہے اور کج روی اور بے راہ روی کی اس کو پرواہ نہیں ہوتی۔‘‘(۹)

درج بالا اقتباسات سے کئی باتیں سامنے آتی ہیں ، جن کے بارے میں خاطر خواہ بحث کے لیے خاصی تفصیل درکار ہوگی ، مثلاً متاخرین شعرا کی پوری شاعری کو عمومی طور سے بے راہ رو کہنا ، متاخرین شعرا کے تمام کارناموں کا رائیگاں جانا اور یہ کہ شاعری میں مبالغے کی کیا حیثیت ہے ؟ یہ ایسے مسائل ہیں جن کے بارے میں شبلی کے بیان کردہ خیالات کو پوری طرح قبول نہیں کیا جاسکتا ۔ اس سلسلے میں شبلی کا عام نظریہ یہ ہے کہ قدما اور متوسطین کا دور شاعری کے لحاظ سے مستحسن تھا لیکن متاخرین کا تقریباً پورا دور حقیقی شاعری سے بیگانہ ہے اور اسی بناپر ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے ۔ شبلی کے خیال میں جلال اسیر ، ناصر علی ، غنی کاشمیری اور بیدل اور انھیں کی طرح کے دیگر شعرانے اپنی شاعرانہ صلاحیت کا صحیح استعمال نہیں کیا ۔ چونکہ ان شعراکی قدر و منزلت اور عظمت جن تصورات شعر پر قائم تھی ، وہ تصورات بذات خود شبلی کے لیے قابل قبول نہ تھے ، لہٰذا ان شعرا کے شعری کارناموں کامعرض سوال میں آنا ناگزیر تھا ۔

تخئیل کی بے راہ روی کو ثبوت فراہم کرنے کے لیے شبلی نے خیال بندی اور نازک خیالی کے طرز پر مبنی کئی اشعار مثال میں پیش کیے ہیں اور یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ان اشعار میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ محض بے لطف خیال آفرینی ہے اور ان میں لفظی شعبدہ بازی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ اس ضمن میں ایک شعر کی مثال دینے سے پہلے وہ کہتے ہیں :

’’وہ تخئیل اکثر بیکار اور بے اثر ہوتی ہے جس میں تمام عمارت کی بنیاد صرف کسی لفظی تناسب یا ایہام پر ہوتی ہے ۔ متاخرین کی اکثر نکتہ آفرینیاں اسی قسم کی ہیں مثلاً ایک شاعر کہتا ہے    ؎

مستانہ کشتگان تو ہر سو فتادہ اند

تیغ ترا مگر کہ بہ مے آب دادہ اند(۱۰)

اس کے بعد شعر کا مطلب بیان کرتے ہوئے شبلی لکھتے ہیں :

’’شعر کا مطلب یہ ہے کہ معشوق کی تلوار کے مارے ہوئے ہر طرف مست پڑے ہوئے ہیں ، جس کی وجہ یہ ہے کہ معشوق نے جس تلوار سے قتل کیا ہے ، اس پر شراب کی باڑھ رکھی گئی تھی۔

اس خیال کی تمام تر بنیاد آب کے لفظ پر ہے ۔ آب تلوار کی چمک دمک اور باڑھ کو کہتے ہیں ۔ آب کے معنی پانی کے بھی ہیں ، شراب بھی پانی کی طرح سیال ہے ۔ تلوار کی باڑھ کو پانی سے کوئی تعلق نہیں ، بلکہ پانی سے تلوار کو زنگ لگ جاتا ہے ۔ لیکن چونکہ باڑھ کو فارسی میں آب کہتے ہیں ، اس لیے یہ قرار دیا کہ تلوار میں پانی ہے ، اور جہاں پانی مستعمل ہوسکتا ہے ، شراب بھی ہوسکتی ہے ۔ اس لیے تلوار میں شراب کی باڑھ ہے ۔ اس لیے مقتولین نشے میں چور ہیں ۔ اس تمام عبارت کی بنیاد آب کے لفظ پر ہے ۔ اس لفظ کے دو معنی نہ ہوتے تو یہ گورکھ دھندا قائم نہیں رہ سکتا تھا۔‘‘(۱۱)

اس بات سے قطع نظر کہ لفظی مناسبت اور ایہام کی مشرقی شعریات کے عالم میں غیر معمولی اہمیت رہی ہے اور مضمون آفرینی اور بعد میں معنی آفرینی کی عملی صورت میں ان کا بہت اہم کردار رہا ہے ، قابل غور پہلو یہ ہے کہ شبلی ان چیزوں کا ذکر جس تحقیر آمیز انداز میں کرتے ہیں ، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ شاعری میں یہ چیزیں شبلی کو قطعاً پسند نہیں تھیں ۔ کیونکہ ہم ہرگز یہ تسلیم نہیں کرسکتے کہ عربی اور فارسی کی پوری شعری روایت پر ایسی گہری نظر رکھنے والے شبلی مضمون آفرینی اور خیال بندی کے تقاضوں سے ناواقف رہے ہوں گے ۔ یہاں لطف کی بات یہ بھی ہے کہ شبلی جن عناصر کی تنقیص کرتے ہیں، وہی عناصر دراصل قدیم شعریات میں روح کی طرح داخل ہیں ۔ اردو شعرا میں میر کو ایک زمانے تک نہایت سادہ اور سلیس شاعر کی حیثیت سے دیکھا جاتا رہا، لیکن وہی میر صاحب جہاں جہاں مضمون آفرینی اور خیال بندی کے جوہر دکھاتے ہیں تو انھیں اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں جو اس طرز کے لیے مخصوص ہیں ۔ میر کی مشہور زمانہ غزل کا یہ مقطع دیکھئے، جس کی بنیاد بھی اسی آب کے لفظ پر قائم ہے    ؎

تشنۂ خوں ہے اپنا کتنا میرؔ بھی ناداں تلخی کش

دمدار آبِ تیغ کو اس کے آبِ گوارا جانے ہے

یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ میرکی اس غزل کا مطلع جس قدر مشہور ہے ، اتنا ہی یہ مقطع گمنام ہے ۔ اس مقطعے کے تئیں عام بے توجہی کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں ۔ لیکن میرے خیال میں ایک اہم سبب اس طرز شعر کے بارے میں اس نئے اور منفی تصور کا حددرجہ پھیلاؤ بھی ہے ، جس پر اس مقطع کی بنیاد قائم ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ شاعری کے بارے میں شبلی نے جو خیالات پیش کیے ، ان میں سے بیشتر ایسے تھے جن کو انھوں نے پہلی بار نہایت شرح و بسط کے ساتھ اصولی بنیاد فراہم کی۔ شبلی کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ انھوں نے شاعری کی بحث میں ان باتوں پر زیادہ توجہ دی جن کا تعلق براہ راست شعر کی فنی حیثیت سے ہے ۔ یہی سبب ہے کہ ان مباحث میں شبلی کے یہاں غیرادبی امور کم سے کم زیر بحث آئے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:

۱۔  شعرالعجم، جلد چہارم از علامہ شبلی نعمانی،مطبوعہ دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڈھ، اشاعت جون ۱۹۹۹، ص ۱

۲۔  ایضاً       ص۵

۳۔  ایضاً     ص۵

۴۔  ایضاً     ص۲۳

۵۔  ایضاً     ص۲۳

۶۔  ایضاً     ص۲۳

۷۔  ایضاً     ص۴۰

۸۔  ایضاً    ص۴۱

۹۔   ایضاً   ص۴۱

۱۰۔   ایضاً   ص۴۲

۱۱۔  ایضاً     ص ص ۴۲۔۴۳

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

احمد محفوظشبلی نعمانی
2 comments
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
علامہ شبلی نعمانی اور طب یونانی- حکیم وسیم احمد اعظمی
اگلی پوسٹ
علامہ شبلی کے موعودہ تصنیفی منصوبے – ڈاکٹر خالد ندیم

یہ بھی پڑھیں

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

جولائی 26, 2025

دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –...

جولائی 10, 2025

جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

جون 20, 2025

نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا...

فروری 1, 2025

لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو –...

جنوری 21, 2025

اردو کی زبوں حالی – ماریہ غزال

جنوری 18, 2025

مظفر فہمی “پر ایک طائرانہ نظر- ڈاکٹر منصور...

جنوری 6, 2025

2 comments

خالد ندیم مارچ 9, 2022 - 11:56 صبح

شبلی کی تنقیدی جہت کو اتنی توجہ نہیں ملی، جس کے وہ حقدار تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا حالی کے مقابلے میں شبلی نے زیادہ جرات مندانہ انداز میں تنقیدی فیصلے دیے ہیں۔ شبلی کے بعض تنقیدی فیصلوں سے اختلاف بھی ممکین ہے، لیکن انھوں نے دوسروں کے چراغ سے اپنا چراغ روشن نہیں کیا۔ ڈاکٹر احمد محفوظ نے اس موضوع پر قلم اٹھایا اور اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔ امید ہے کہ وہ اس موضوع پر مزید تحریر فرمائیں گے۔

Reply
جاوید رحمانی دسمبر 29, 2022 - 6:39 شام

اچھا مضمون ہے۔صرف خیال بندی کے تعلق سے میر کے مقطعے پر گفتگو تشنہ ہے اور اس سلسلے میں مجھے احمد محفوظ صاحب سے اتفاق نہیں۔ دوسرے نئے تصورات پر بھی کچھ اور گفتگو ہونی چاہیے تھی۔ حالی تمام تر اختلافات کے باوجود حالی ہیں۔ان پر بہت محتاط انداز میں گفتگو کرنی چاہیے ۔ہر چند کہ ہماری ادبی تاریخ میں سلیم احمد جیسے لوگ بھی رہے ہیں جو بے احتیاطی کی تمام حدوں سے آگے جاکر دیکھ چکے ہیں !

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں