افسانہ زندگی سے عبارت ہے اور انسانی زندگی سماج میں تشکیل پاتی ہے۔مختصر افسانے میں سماجی زندگی کی بھرپور عکاسی ممکن نہیں ہے پھر بھی سماجی عوامل کے بغیر افسانہ نامکمل ہوتا ہے۔معاشرہ گاہے نمایاں طور پر افسانے میں راہ پاتا ہے، گاہے بیانیہ کے پس منظر میں۔ کبھی کرداروں کے فکر و عمل سے بھی محل وقوع کی جلوہ گری ہوتی ہے یعنی ہرحال میں سماجی، مذہبی، سیاسی، اقتصادی، سائنسی، تہذیبی اور ثقافتی عوامل افسانے کی بناوٹ میں براہِ راست یا بالواسطہ قائم ہوتے ہیں کیوںکہ افسانہ خارجی واقعات، حالات و معاملات اور داخلی کیفیات و محسوسات کا ترجمان ہوتا ہے۔اس لیے سماجی سروکار سے افسانہ مبرا نہیں ہوسکتا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ افسانے کا فن ہی اس کو امتیازی درجہ عطا کرتا ہے خواہ افسانہ بیانیہ ہو یا ماجراتی، افسانہ وجودی ہو یا تمثیلی۔افسانے میں کردار کے داخلی انتشار کا اظہار ہو یا نفسیاتی گرہ کشائی، یا علامتی و تجریدی افسانے لکھے جائیں، افسانے کا فن سے انحراف کامیاب افسانے کا تکملہ نہیں ہوسکتا۔
قاری تخلیق کی اساس ہیں اور ناقد عام قاری اور تخلیق کے درمیان تفہیمی پل۔اس لیے جب افسانے عام قاری کی سمجھ سے پرے ہوئے اور ناقد بھی افسانہ نگار کے افکار و اذکار کے بھول بھلیوں میں بھٹکنے لگے تو افسانے میں کہانی کی مراجعت ہوئی اور واقعہ کو ملحوظِ نظر رکھا جانے لگا۔دراصل فنی لوازم ہی کسی صنف کی شناخت ہوتے ہیں جس کی گھاٹیں فنی لوازم کے جز ہیں۔ لہٰذا واقعہ، فنکار کے ذہن میں پروان چڑھتا ہے اور تپ کر جب فن کے سانچے میں ڈھلتا ہے تو سانچے کے مطابق تخلیق ابھرکر سامنے آتی ہے اور اس کو صنف کا درجہ ملتا ہے۔اس تناظر میں افسانہ بھی فن کا حامل ہے۔افسانے میں معاشرتی زندگی ایک بحرِ بیکراں کی طرح ہے۔ جس طرح سمندر کی تہوں میں بہت ساری جاندار اور بے جان اشیا لہروں سے ہم آہنگ ہوکر لہروں سے متاثر بھی ہوتی ہیں اور ان کو سمت و رفتار بھی عطا کرتی ہیں، اسی طرح سماجی زندگی میں بے شمار واقعات، وقت اور حالات کے تابع بھی ہوجاتے ہیں اور ان کے رُخ بھی موڑ دیتے ہیں۔انھیں بے شمار واقعات سے افسانہ نگار کسی ایک واقعہ کو منتخب کرتا ہے۔گویا زندگی کی بحرِ بیکرانی سے کسی ایک لہر یا ایک وصف کی ترجمانی کا نام افسانہ ہے۔ لہٰذا افسانہ کو وقت اور صفحات کی قید میں ڈال کر نہیں دیکھا جاسکتا لیکن طوالت اور ایجاز کی بھی ایک حد ہونی چاہیے۔افسانے کو نہ اتنا طویل ہونا چاہیے کہ وہ ناولٹ(Novelette) بن جائے اور نہ ہی دو چار جملے افسانے کا حق ادا کرسکتے ہیں۔اسی موڑ پر افسانہ تکنیک کے مرہونِ منت ہوجاتا ہے کیوںکہ ہر موضوع انفرادی ٹریٹمنٹ(Treatment)کا متقاضی ہوتا ہے اور تکنیک افسانے میں وحدت اور تاثر پیدا کرنے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔اطہر پرویز لکھتے ہیں:
’’ہر فن پارے کی اپنی تکنیک ہوتی ہے۔چنانچہ ہر افسانہ اپنی تکنیک خود وضع کرتا ہے۔بڑا افسانہ نگار وہ ہے جو اس تکنیک کو سمجھ لیتا ہے۔معمولی فنکار کہنا کچھ چاہتا ہے اور انداز کچھ اور ہوتا ہے۔ چنانچہ افسانے کے مواد کا اس کی زندگی سے بڑا گہرا رشتہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افسانے کی تکنیک اپنے اندر ہر دَور میں اور ہر مواد کے ساتھ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘‘۱؎
مذکورہ مبحث کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ کہانی میں کوئی واقعہ، مسئلہ، حادثہ، نکتہ، خیال یعنی زندگی کی بحرِ بیکرانی سے کسی ایک لہر کو ایجاز و اختصار کے ساتھ اس تکنیک سے پیش کیا جائے کہ قاری کو واقعہ کے علم کے ساتھ اس پر ایک تاثر قائم ہوجائے، افسانہ ہے۔افسانہ کی تعریف وقار عظیم کے مطابق:
’’مختصر افسانہ، ایک ایسی مختصر فکری داستان ہے جس میں کسی ایک خاص واقعہ کسی ایک خاص کردار پر روشنی ڈالی گئی ہو۔اس میں پلاٹ ہو اور اس پلاٹ کے واقعات کی تفصیل اس طرح گٹھی ہوئی اور اس کا بیان اس قدر منظم ہو کہ وہ ایک واحد تاثر پیدا کرسکے لیکن افسانہ فن کی حیثیت سے برابر اس طرح آگے بڑھتا جارہا ہے کہ اس کی جو تعریف آج کی جاتی ہے، اس میں کل کچھ نہ کچھ خامی پیدا ہوجاتی ہے۔‘‘۲؎
اس سے انکار ممکن نہیں کہ افسانہ ایک مکمل نثری صنفِ ادب کی حیثیت رکھتا ہے۔افسانہ کا فن بھی اسی اجزائے ترکیبی کا متقاضی ہے جو فکشن کی دیگر اصناف رکھتی ہیں یعنی پلاٹ، واقعات، کردار، نقطۂ عروج، وحدتِ تاثر اور اسلوب آپس میں ہم آہنگ ہوکر ایک خاص محلِ وقوع پیدا کرتے ہیں جو افسانے کا قالب اختیار کرلیتا ہے۔افسانے کی فنی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے گوپی چند نارنگ تحریر کرتے ہیں:
’’افسانے کے بھی کچھ اپنے فنی تقاضے ہیں۔نثری علامت نگاری کے چکر میں پڑکر انھیں یکسر فراموش کرنا اور مہمل نگاری اور ہذیان گفتاری کا شکار ہوجانا بھی کوئی قابلِ فخر بات نہیں۔ افسانے یاکہانی کی تعریف میں کتابوں کے صفحے کے صفحے بھرے ہوئے ہیں لیکن یہ بات نظر انداز کردینے کی نہیں کہ بحیثیت ایک صنف کے کہانی کا CARNEL کہیے یا ’تتویہ‘جوہر تو لازماً افسانے میں ہونا ہی چاہیے۔اس جوہر کی حفاظت میں ہمارے اساطیر، کتھاؤں اور حکایتوں نے صدیاں کھپادیں۔اس جوہر کو کلیتاً مسترد کرنا، دراصل خود اپنے رد کو دعوت دینا ہوگا۔‘‘ ۳؎
افسانے کی تشکیل میں اس کے فنی لوازم کلیدی حیثیت رکھتے ہیں جس کو نارنگ صاحب نے ’’کہانی کا جوہر‘‘ قرار دیا ہے۔یہ جوہر اس وقت نمایاںہوتا ہے جب افسانے کے عناصر ترکیبی کو سلیقے سے برتا جائے۔افسانہ خواہ روایتی ہو یا علامتی و تجریدی، بیانیہ ہو یا جدید، اجزائے ترکیبی اور تکنیک کی آویزش سے ہی افسانہ تکمیل پاتا ہے، بصورتِ دیگر وہ کوئی دوسری تحریر ہوسکتی ہے۔افسانہ کے عناصر ترکیبی کے تعین میں اختلاف ممکن ہے۔ پلاٹ، موضوع، واقعات، ارتقائی عمل، کردار، وحدتِ تاثر، نقطۂ عروج، زمان ومکان، پس منظر، انجام، مکالمات اور زبان و بیان کو افسانہ نگاری کے لیے ملحوظِ نظر رکھاجاتاہے۔
پروفیسر گوپی چند نارنگ نے منشایاد کا افسانہ’’تماشا‘‘ کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے ایک کامیاب ترین افسانہ میں جن نکات کی نشاندہی کی ہے ملاحظہ فرمائیں:
’’کہانی میں پلاٹ ہے۔واقعات ارتقائی عمل سے گزرتے ہیں۔ان میں وحدتِ تاثر ہے۔ زماں اور مکاں کی ترتیب منطقی ہے۔ کہانی میں کردار بھی ہیں۔ مداری جمہور اور تماشائی۔کردار؛ واقعات اور مکالمات سے جڑے ہوئے ہیں۔کہانی میں نقطۂ عروج بھی ہے اور انجام بھی۔‘‘ ۴؎
درحقیقت پلاٹ، موضوع اور واقعات ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔ان کی ڈانڈیں آپس میں اس طرح ملتی ہیں کہ ان کا جداگانہ ذکر مناسب معلوم نہیں ہوتا، نیز ارتقائی عمل بھی پلاٹ و واقعات کی ایک کیفیت ہے۔لہٰذا اس کو بھی پلاٹ سے وابستہ کرکے دیکھنا جانا چاہیے جب کہ کردار نگاری اپنی انفرادی حیثیت رکھتی ہے اور فکشن کے لیے ایک لازمی عنصر ہے۔وحدتِ تاثر اور نقطۂ عروج افسانے کے اہم اجزا ہیں ۔زمان ومکاں اور پس منظر ذیل کے عنصر ہیں ۔مکالمات اور زبان و بیان کا ایک جز کے طور پر جائزہ لینے میں قباحت نہیں ہونی چاہیے۔اس تناظر میں پلاٹ، کردار، وحدتِ تاثر، نقطۂ عروج، زمان ومکان اور زبان و بیان کو افسانے کے چھ عناصر ترکیبی کے ذیل میں رکھ کرمحاسبہ کیا جاسکتا ہے۔
(۱) پلاٹ :
انگریزی لفظ PLOTاردو فکشن کی تنقید میں اس طرح مروّج ہوگیا ہے کہ اردو کا قالب اختیار کرچکا ہے اور پہلی نظر میں یہ اردو کا لفظ معلوم ہوتا ہے۔پلاٹ، افسانے کا بنیادی عنصر ہے۔اس کے بغیر افسانے کا تصور بے معنی ہے اس لیے افسانے میں پلاٹ کلیدی حیثیت اختیارکرلیتا ہے۔ پلاٹ سے فکر و تخیل کا ایک مرکز بنتا ہے کیوںکہ افسانے میں تصوراتی ارتکاز کامیابی کا ضامن ہے۔ دراصل قصہ کے ڈھانچہ کو پلاٹ کہتے ہیں جس کے ارد گرد پوری کہانی گھومتی ہے۔کوئی واقعہ، حادثہ یا معاملہ جب افسانہ نگار کے دل پر دستک دیتا ہے تو اس کا دل ودماغ دونوں حرکت میں آجاتے ہیں، ذہن میں ترنگیں اٹھنے لگتی ہیں اور کئی طرح کے تصورات و خیالات اُبھرنے لگتے ہیں جن کی تربیت کے ساتھ ترتیب و تنظیم سے کہانی کا ڈھانچہ تیار ہوتا ہے۔ لہٰذا یہی ڈھانچہ کہانی کی تعمیر و تشکیل میں پلاٹ کا کام انجام دیتا ہے اور افسانہ ارتقائی عمل سے گزرتا ہے۔
افسانہ نگار چھوٹے چھوٹے واقعات یا معاملات کو بھی ایک دھاگے میں پروکر پلاٹ تیار کرتا ہے۔تاہم اس صورتِ حال میں بڑی فنی مہارت کی ضرورت پڑتی ہے۔اگر واقعات کی کڑی جوڑنے میں تھوڑی بھی لغزش ہوئی تو افسانہ چیزے دیگر بن سکتا ہے۔ جس طرح تالاب میں ایک کنکڑ پھینکنے کے بعد لہریں ابھرنے اور پھیلنے لگتی ہیں لیکن جیسے ہی وہ اپنے مرکز سے دور ہوتی ہیں فنا ہوجاتی ہیں۔ ان کا وجود ختم ہوجاتا ہے۔اسی طرح جب کوئی سانحہ فنکار کے دل پر ضرب لگاتا ہے۔ افسانہ نگار کے تصورات اور جذبات ہچکولے لینے لگتے ہیں۔ نتیجتاً کئی واقعے ابھرتے ہیں۔تصورات و خیالات کے سوتے پھوٹتے ہیں جس سے افسانہ نگار پلاٹ کا مینار تعمیر کرتا ہے تاہم جو واقعہ حقیقت سے قریب ہوتا ہے اس سے فنکار افسانہ کی تعمیر و تشکیل کرتا ہے۔افسانہ نگار اپنی فہم و ادراک سے واقعات کو صداقت کا چولا پہناتا ہے اور تصورات وتخیلات کو بھی اس تناظر میں پیش کرتا ہے کہ اس پر سچائی کا گمان ہوتا ہے۔ لہٰذا منظرکشی، سادہ طریقۂ کار اور فطری انداز، واقعہ یا واقعات کو قابلِ وثوق بناتے ہیں جس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مناظر سامنے کے ہیں یا ایسا ہوا ہوگا یا ایسا ہوسکتا ہے۔
افسانے کا پلاٹ اکہرا ہونے کے باوجود کافی وقیع ہوتا ہے کیوںکہ اس کے جلو میں افسانوی مراحل طے ہوتے ہیں اور کہانی ارتقائی عمل سے گزرتی ہے۔ افسانہ چاہے نفسیاتی پیچیدگیوں کو مرکز بناکر لکھا جائے یا تصوراتی اور تخیلاتی دنیا آباد کرکے،غور و فکر کے ارتکاز کے وسیلہ ہی سے کوئی واقعہ تراشا جاتا ہے اور جب کوئی واقعہ گڑھا جائے گا تو فکر کا کوئی مرکز بنے گا ہی جس کے دائرے میں افسانہ ارتقائی عمل سے گزرے گا اور یہ پلاٹ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
افسانے کا موضوع بہت وسیع ہے۔ خارجی حالات و معاملات سے لے کر داخلی کیفیات و نفسیاتی عمل اس کے موضوع بنتے ہیں۔ معاشرتی پیچ و خم، سیاسی بازیگری و شعبدہ بازی، اقتصادی حالات و معاملات، اخلاقی معیار و کردار، اصلاحی مقاصد و نقطۂ نظر، مذہبی نکات و امور کو یا فرد و معاشرے سے متعلقہ واقعات افسانے کے موضوع بنتے ہیں۔ نیز خارج کے ساتھ داخلی کیفیات، نفسیاتی پیچیدگی اور شعور و ادراک کو بھی موضوع بناکر افسانے لکھے جارہے ہیں۔انسان کے ساتھ جانور کے آداب و خصائل کو بھی پس منظر بناکر افسانے تحریر ہوتے ہیں۔ دورِ حاضر میں سائنس و ٹیکنالوجی کے مضرو مفید اثرات کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے پھیلے وائرس اور اس کے تدارک پر مبنی افسانے لکھے جارہے ہیں لیکن اس طرح کے افسانوں میں ، افسانوی ماحول و فضا کا ہونا ناگزیر ہے۔ لہٰذا افسانوی فضا و کیفیت پیدا کرنے میں افسانہ نگار کا وسیع مطالعہ، متنوع و بے پناہ تجربے، نوع بہ نوع مشاہدے ہی معاون ہوتے ہیں۔ افسانہ نگار اپنے سنجیدہ مطالعہ اور قدرتِ مشاہدہ کے توسط سے ہی کوئی کامیاب افسانہ تحریر کرسکتا ہے۔
(۲) کردار:۔
افسانہ کے لیے کردار دوسرا لازمی عنصر ہے کیوںکہ کردارو ں کی حرکت و عمل سے ہی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے اور کہای ارتقائی عمل سے گزرتی ہے۔ تاہم افسانہ میںکردار نگاری ممکن نہیں کیوں کہ کردار نگاری پوری توجہ چاہتی ہے اس میں کرداروںکی شکل و شباہت اور عادات و خصائل کے ساتھ ان کے خارجی حالات، داخلی کیفیات اور نفسیاتی عمل نیز جس ماحول اور فضا میں ان کی ذہنی نشو ونما ہوتی ہے، اس کی تفصیلات دی جاتی ہے جو افسانہ میں نہیں ناول میں ممکن ہے۔لہٰذا افسانے کا مزاج، پلاٹ اور فضا اس امر کی متحمل نہیں کہ اس میں کردار نگاری کا جوہر دکھایاجائے۔افسانہ میں کردار یا کرداروں کے خارجی یا داخلی نفسیاتی عوامل پر ایک سرسری مگر پُراثر نظر ڈالی جاتی ہے تاآں کہ کردار صرف اپنا تعارف یا دوسری صورت میں راوی کرداروں سے متعلق اپنی آرا کو پیش کرتے ہیں۔ اس لیے بعض ناقدین کا خیال ہے کہ افسانہ میں کردار لازمی نہیں ہے جب کہ سچائی یہ ہے کہ کردار کے بغیر افسانہ تحریر کرنا ممکن نہیں ہے۔ شمس الرحمن فاروقی صاحب کا یہ جملہ ملاحظہ کریں:
’’کردار محض ایک کھونٹی ہے جس پر کسی بھی قسم کا لباس ٹانگا جاسکتا ہے۔‘‘۵؎
مذکورہ جملہ سے واضح نہیں ہوتا کہ وہ کردار کی حمایت میں ہے کہ مخالفت میں لیکن کردار کو ’’محض ایک کھونٹی‘‘ بھی تسلیم کرلیا جائے تو افسانہ میں کردار کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
افسانہ چونکہ فرد ومعاشرہ کا عکاس ہے اس لیے اس میں ہر طرح کے کردار کی جلوہ گری ہوتی ہے۔ انسان کے ساتھ جانور بھی بطور کردار افسانہ میں اپنی شناخت بناتے ہیں۔ منشی پریم چند کہ کہانی ’’دوبیل‘‘ میں ہیرا اور موتی ؛دو بیلوں کی جوڑی سے کون واقف نہیں ہے۔غیاث احمد گدی نے اپنے افسانہ ’’آخ تھو‘‘ میں ایک بکری کے کردارکو بڑے مؤثر انداز میں پیش کیا ہے اور بکری کی نفسیات کو فطری تناظر میں پیش کرکے افسانہ کو مثالی بنادیا ہے۔ایک بوڑھی بیوہ جس کا بیٹا اور بہو دونوں انتقال کرگئے ہیں، وہ اپنے چھوٹے پوتے کے ساتھ رہتی ہے۔ اس نے ایک بکری پال رکھی ہے، جس کا دودھ پی کر اس کا پوتا پرورش پا رہا ہے۔ بوڑھی بیوہ نے قصاب سے کچھ روپئے بطورقرض لیے ہیں جس کو وہ ادا نہیں کرپارہی ہے۔اس لیے ایک روز وہ قصاب بکری لے جاتا ہے۔بکری قصاب کے ریوڑ کے ساتھ بڑی مشکل سے جاتی ہے لیکن کچھ دور جانے کے بعد بھاگ کرکے کسی طرح بوڑھی بیوہ کے یہاں آتی ہے۔ بوڑھی اس کو دیکھ کر خوش ہوجاتی ہے اور بچہ کو بکری کا دودھ پلاتی ہے، اس کے بعد بکری کی بے چینی دور ہوجاتی ہے۔ تب تک پھر قصاب پہنچ جاتا ہے اور بکری کو زبردستی پکڑ لے جاتا ہے اور بکری کو ذبح کرکے اس کے گوشت کو بیچتا ہے لیکن بکری کی نفسیات پر اس کا اتنا گہرا اثر ہوتا ہے کہ اس کا گوشت، چمڑا اور بدمزہ ہوجاتا ہے۔ جو خریدار اس بکری کا گوشت لے جاکر پکاتے اور کھاتے ہیں گوشت کے چمڑے پن اور بدمزگی سے آخ تھو کرتے ہیں۔ یہ افسانہ بالکل فطری انداز میں لکھا گیا ہے لہٰذا کسی طور واقعہ یا بکری کے افعال و نفسیاتی عمل سے کہانی کے مصنوعی ہونے کا احساس نہیں ہوتاہے۔
افسانے میں بہت سے جاندار کردار کے ساتھ غیرجاندار کردار بھی ملتے ہیں جن کو قاری یاد رکھتے ہیں۔’’بجوکا‘‘ کو بھی افسانہ نگاروں نے ایک یادگار کردار بنادیا ہے۔ اسی طرح دورِ حاضر میں روبوٹ اور دوسری ایجادات بھی افسانے کے کردار بنائے جارہے ہیں جواپنی حرکت و عمل سے اپنی پہچان بنارہے ہیں۔
(۳) وحدتِ تاثر:۔
اثر آفرینی ہی کسی افسانے کو شاہکار بناتی ہے۔ واقعہ چاہے جتنا اہم کیوں نہ ہو اورکردار بھی اپنے افعال کا خوبصورت مظاہرہ کرتے نظر آئیں مگر افسانے میں اثر آفرینی نہیں ہو، نیز افسانہ وہ احساس و جذبات پیدا کرنے میں ناکام ہوجائے جس نقطۂ نظر کی ترسیل کے لیے تحریر ہوا ہے تو وہ کامیاب افسانہ نہیں ہوگا۔افسانہ میں نقطۂ نظر کی صراحت ممکن نہیں ہے تاہم افسانہ تحریر کرنے کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے۔افسانہ نگار کسی واقعہ، حادثہ یا کردار کے کسی فعل و عمل سے متاثر ہوکر یا اپنے تجربے ومشاہدے کی بناپر کوئی نظریہ وضع کرنا چاہے یا پھر کسی اختراع و ایجاد کے تاثر سے مغلوب ہوکر افسانہ تحریرکرتا ہے اور اپنے تاثرات کو قاری کے دل و دماغ پر مرتسم کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ اس عمل کو’وحدتِ تاثر‘ کہتے ہیں۔افسانہ نگار جس کیفیت سے گزرتا ہے، وہی کیفیت قاری پر قائم کرنا بڑا مشکل فن ہے۔
افسانے کے کینوس میں ایک کیفیت پیدا کرنا اور احساسات وجذبات کو منظم ومؤثر انداز میں پیش کرنے سے وہی صورتِ حال قاری کے دل و دماغ پر مرتسم کرنا وحدتِ تاثر ہے۔اس دشوار مرحلہ کو ایک کامیاب افسانہ نگار ہی طے کرپاتا ہے۔ موجودہ دور کے افسانوں میں وحدتِ تاثر پر پوری توجہ دی جاتی ہے اور کئی زاویے سے افسانے کی فضا میں وحدتِ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے احساس ہوتا ہے کہ اردو افسانہ مائل بہ ارتقا ہے۔
(۴) نقطۂ عروج:۔
منتہا اردو افسانے کاایک اہم عنصر ہے اور پلاٹ کا معاون ہے۔ فنکار، کرداروں کے حرکات و افعال یا اپنے تجربات ومشاہدات کی بناپر تصورات کو ارتقائی عمل سے گزارتے ہوئے اس مقام تک پہنچادیتا ہے،جہاں قاری متحیرہوجائے کہ اب کیا ہوگا؟کیا ہوسکتا ہے یا کیا ہونا چاہیے؟ اور حیرت و تجسس کی شدت کی وجہ سے بقیہ افسانہ پڑھنے پر قاری مجبورہوجائے۔اس منزل کو نقطۂ عروج کہتے ہیں۔
عام طور پر ڈرامہ کے لیے منتہا کو لازمی قرار دیا جاتاہے کیوںکہ ڈرامہ میں خیر و شر کے تصادم سے اسکرین پر شرارے پھوٹتے ہیں اور کہانی اپنے کلائمکس پر پہنچ جاتی ہے جب کہ افسانہ میں صورتِ حال دیگر ہوتی ہے۔افسانہ میں واقعات کے ارتقائی عمل یا کردار کے افعال سے تجسس کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو اپنی انتہا کو پہنچ کر قابلِ غور بنادیتی ہے۔لہٰذا تجسس اور تحیر کی منزل ہی افسانے کا کلائمکس ہے اور گاہے اس موڑ پر افسانہ ختم ہوکر غور و فکر کے دروازے کھول دیتا ہے۔ گاہے کہانی کے انجام تک افسانہ پہنچ کر ختم ہوجاتاہے۔ علاوہ ازیں ایسے بھی افسانے لکھے جاتے ہیں جس میں کلائمکس نہیں ہوتے اور علامت و تمثیل کی مدد سے تحیر و تجسس کی فضا بنائی جاتی ہے اس لیے بیشتر ناقدین نے افسانے کے لیے نقطۂ عروج کو غیرضروری قرار دیا ہے لیکن افسانوی ادب کے لیے کلائمکس ایک ضروری نکتہ ہے۔یہ ضرور ہے کہ افسانے میں نقطۂ عروج الگ انداز میں ملتا ہے۔ کبھی پلاٹ کے ارتقائی عمل میں کلائمکس ملتا ہے، کبھی کرداروں کی حرکات و افعال سے۔علاوہ ازیں مکالمات اور تمثیلی و تجریدی ٹریٹمنٹ بھی افسانے میں حیرت و استعجاب کی فضا مرتب کرکے کہانی کو منتہا تک پہنچا دیتا ہے۔بعض افسانوں میں پلاٹ بالکل سپاٹ ہوتا ہے جس میں کلائمکس یا تحیر کی صورت پیدا نہیں ہوتی لیکن ایسے افسانے کم ملتے ہیں یا کم لکھے جاتے ہیں جو نہایت کامیاب ہوں اور اس میں نقطۂ عروج عنقا ہو۔اس لیے افسانے کا فن پر گفتگو کرتے ہوئے کلائمکس کو نظرانداز نہیںکیاجاسکتا۔
(۵) زمان ومکان:۔
عام طور پر افسانے میں وقت اور مقام کا تعین نہیں ہوتا۔تاہم کوئی واقعہ کب اور کہاں ظہور میں آیا اس کی بڑی اہمیت ہے۔کیوںکہ افسانے کا پلاٹ کسی واٹقعہ، حادثہ، معاملہ یا تصورات کی بنیاد پر مبنی ہوتا ہے اور یہ سب کچھ کسی وقت اور مقام کے محتاج ہوتے ہیں۔ واقعہ یا حادثہ مکمل طور پر زمان ومکان کے متقاضی ہیں۔ چہ جائیکہ تصورات کے تانے بانے بھی وقت اور مقام کے مرہونِ منت ہوتے ہیں۔زمان ومکان کی وحدانیت کو ناول اور ڈرامے کے لیے لازمی عنصر قرار دیاجاتاہے اور افسانے کو فرد ومعاشرے کے ایک پہلو کا ترجمان سمجھ کر وقت اور مقام سے مبرا تصور کیا جاتا ہے۔ جب کہ افسانے میں بھی وقت اور مقام اہمیت رکھتے ہیں۔ناول اور ڈرامے کو زمین پر اُگے ہوئے پودے اور پھول کہہ سکتے ہیں تو افسانے کو گملے کے پھول سے تشبیہ دے سکتے ہیں اور گملے کے پھول اس وقت نمو پاتے اور کھلتے ہیں جب اس میں مٹی ہو۔لہٰذا گملا اور مٹی وقت اور مقام کی حیثیت رکھتے ہیں ا س لیے کسی بھی افسانہ کا ڈھانچہ ، کردار اور مکالمہ زمان ومکان کے پس منظر میں ہی مرتب ہوتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ وقت اور زمانہ گزرنے کے ساتھ بہت سارے واقعات اپنی معنویت کھو دیتے ہیں اور کردار، مکالمے بھی اپنے اثرات قائم نہیں رکھ پاتے ہیں لیکن جس افسانے میں جمالیاتی، اخلاقی اور سماجی قدریں ہوتی ہیں، وہ افسانے کو زوال آمادہ نہیں ہونے دیتی ہیں۔بہت سارے افسانے وقت اور حالات کی کوکھ سے نکلتے ہیں اور انسان کی بہبود اور انسانیت کے فروغ میں اہم مقام رکھتے ہیں اس لیے زمانہ گزرنے کے بعد بھی ان کی معنویت اور اثر آفرینی برقرار رہتی ہے۔ مثلاً ’ان داتا‘، ’مہالکشمی کا پل‘، ’پشاور ایکسریس‘، ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘،’الاؤ‘ وغیرہ قبیل کے افسانے آج بھی اپنی جاذبیت، دل پذیری اور اثر آفرینی کی وجہ سے یاد رکھے جاتے ہیں۔کشمیر کی وادی، پنجاب، اترپردیش اور بہار کے گاؤں کو بھی پس منظربناکر بہت سارے افسانے تحریر ہوئے ہیں اور یادگار افسانے ثابت ہوئے ہیں۔ لہٰذا افسانے میں براہِ راست یا بالواسطہ زمان ومکان کی عکاسی ہوتی ہے۔ تمثیلی اور تخیّلی افسانے کا ارتکاز بھی وقت اور حالات کے تناظر میں ہوتا ہے۔جدید افسانے نہ صرف داستانوی رنگ و آہنگ میں لکھے جارہے ہیں بلکہ کہانی کا ڈھانچہ، کردار اور اسلوب بھی داستانی ہوتے ہیں جس میں داستان کی بازگشت سنائی دیتی ہے جو قاری کے ذہن کو ماضی بعید کے ماحول و فضا میں منتقل کردیتی ہے اور قاری افسانے میں دلچسپی لینے لگتا ہے۔ تحیر اور تجسس کی فضا میں قاری زمان و مکان کی قید سے آزا د ہوکر افسانہ نگار کی بنائی ہوئی دنیا میں خود کو محسوس کرنے لگتا ہے۔ تقریباً تمام کامیاب افسانوں میں عصری حسیت کی کشید ملتی ہے۔اس تناظر میں زمان و مکان بھی افسانے کا عنصر قرار پاتا ہے۔
(۶) زبان و بیان:۔
افسانہ کی زبان انفرادی شان رکھتی ہے۔اس کی زبان میں تخلیقیت کے ساتھ قطعیت ہوتی ہے اور ایک پیراگراف کے تمام جملے آپس میں پیوست ہوتے ہیں۔ایک ایک لفظ معنوی تہہ داری رکھتا ہے اور جملے بھرپور مفہوم ادا کرتے ہیں۔
افسانہ میں بھی شعر کی طرح ناپ تول کر الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں اور بیان ولب ولہجہ پر بھی پوری توجہ کی جاتی ہے۔اشارے اور کنائے کی زبان میں بہت سے راز سربستہ وا ہوتے ہیں اور کہانی کا کیوس وسیع ہوتا ہے۔افسانہ چاہے بیانیہ ہو یامکالماتی یا مکتوبی جس نوعیت کا بھی افسانہ ہو ، عمدہ زبان اور شائستہ بیان کا متقاضی ہوتا ہے۔ شگفتہ، رواںدواں اور کرداروں کے حسبِ حال و برمحل زبان ہی افسانہ کو کامیاب بناتی ہے۔نیز کرداروںکی مناسبت سے لب ولہجہ اختیار کرکے افسانے کے فن کو بلندی تک پہنچایا جاسکتا ہے اس لیے زبان و بیان کو افسانے کا اہم عنصر قرار دیا جاتا ہے۔
افسانہ نگار خود راوی بن کر افسانہ تحریر کرے یا کسی کردارکو آگے بڑھاکر اس کی زبان اور تہذیب میں کہانی بیان کرے، ہرحال میں واقعات اور کردار کی مناسبت سے زبان و بیان کا استعمال ہی افسانے کو کامیاب بناتا ہے۔مکالماتی افسانے میں زبان اور لب ولہجہ کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں کیوںکہ کردار جس ماحول، تہذیب، ثقافت اورمعیار کا ہوتا ہے، اسی کے مطابق زبان اور لب ولہجہ اختیارکیا جاتا ہے۔عالم، جاہل، اجڈ، مجرم، مہذب، دیہاتی، شہری، فلسفی یعنی معاشرہ کے جس طبقہ یا قبیل کا کردارہوتا ہے جس کے متعلق واقعہ بیان کیا جاتا ہے،اسی کے مطابق زبان استعمال ہوتی ہے۔بیانیہ افسانے میں اسلوب پوری توجہ چاہتا ہے۔افسانہ نگار جب راوی ہوتا ہے تو اس کو دوہرا کردار نبھانا پڑتا ہے۔ایک طرف اس کی اپنی شخصیت، اپنا نقطۂ نظر، اپنا لہجہ ہوتا ہے تو دوسری طرف کرداروں اورواقعات کی نوعیت کے تقاضے ہوتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان اعتدال پیدا کرنا، اظہار پر قدرت اور فنی مہارت چاہتا ہے۔زبان و بیان کے توسط سے ہی افسانے میں تاثر اور کیف آفرینی پیدا کی جاتی ہے۔ لہٰذا زبان و بیان افسانے کی کامیابی کا ضامن ہے۔
حواشی:
(۱) ’’ادب کا مطالعہ‘‘:اطہر پرویز۔ص۱۰۲۔ ایڈیشن ۱۹۸۰ء
(۲) ’’فن افسانہ نگاری‘‘: وقار عظیم۔ص ۳۰۔ ایڈیشن ۲۰۰۹ء
(۳) بحوالہ ’’نیا اردو افسانہ:انتخاب، تجزیے اور مباحث‘‘۔ مرتب: گوپی چند نارنگ۔ ص ۸۷۔ ایڈیشن ۱۹۹۵ء
(۴) ایضاًص ۶۸
(۵) بحوالہ’’اردو افسانہ روایت اور مسائل‘‘، مرتب : گوپی چند نارنگ۔ص۴۴۔ ایڈیشن ۲۰۱۳ء
Correspondence Address :-
Dr. Abdul Barkat
University Professor
Mehdi Hasan Road,, Qila Chowk,
Near Nadi, P.O. M.I.T., Brahampura
Muzaffarpur-842003 (Bihar)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

