Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

ترقی پسندی اور فیض کی غزلوں کا اسلوب – ڈاکٹر مستفیض احد عارفی

by adbimiras دسمبر 9, 2021
by adbimiras دسمبر 9, 2021 0 comment

ترقی پسندی ایک نظریہ ہے جو انسانی ضرورتوں پر مبنی ہے۔ مادیت اور ارضیت سے رشتہ استوار کرنا اس کی سرشت میں داخل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کائنات اور انسان کے درمیان جو رشتہ استوار ہے وہ ہر لحاظ سے حرکی اور انسانیت کی جدلی تاریخ کا نچوڑ ہے۔ جب اس تصور کر شعر وادب نے مستعار لیا تو اس کی صورت ہر اعتبار سے بدل گئی۔ اس لئے شاعری جب حکمت و دانائی سے رشتہ استوار کرتی ہے تو نہ صرف خیال بلکہ اس کے لوازم کو بھی کشید کرلیتی ہے ۔ اردو شعر وادب نے جب یہ دانائی اختیار کیا تو صورت دگر گوں تھی۔ اس لئے کہ اردو میں ترقی پسند شعراء نے تخلیقی سطح پر اس اشتراکی نظریے کو اپنی فکر کو محور بنایا تھا جو انسانی دلچسپیوں اور مشاغل کے وسیع تر کرّے پر رقصاں تھیں۔ ایسا اس لئے ہوا کہ اردو میں ترقی پسندی کے انتظامی عروج کا زمانہ مختصر گذرا ہے۔ تقریباً ۱۹۳۶ء سے ۱۹۴۷ء تک کا عرصہ بہت زیادہ نہیں ہوتا۔ تقسیم ہند کے بعد ترقی پسند ی کی حیثیت ثانوی تسلیم کی گئی لیکن اس کی جمالیت ہنوز باقی تھی ۔ اس حیثیت سے اس کے اثرات دور تک اور دیر تک ہوتے رہے۔ میرا ماننا ہے کہ تقسیم ہند کے بعد ۱۹۷۰ء سے پہلے تک کے اہم شعراء اس تحریک کے پروردہ ہیں۔ مثلاً سردار جعفری، مخدوم محی الدین، فیض احمد فیض، اسرار الحق مجاز، جمیل مظہری، معین احسن جذبی، مجروح سلطان پوری، فراق گورکھپوری ، ساحر لدھیانوی ، کیفی اعظمی، پرویزشاہدی، احمد ندیم قاسمی اور دیگر غزل گو شعراء اس تحریک کے نمائندہ شعرا ء ہیں۔ ان لوگوں میں مجروح کے سوا جو بھی تھے سب کے سب ترقی پسندی کی نظریاتی اور انقلابی فضائوں میں نظم گوئی کو اپنے اظہار کا موثر ذریعہ بنایا تھا ۔ ان لوگوں کو اس میں کامیابی بھی ملی ۔ اس سب کے باوجود یہ لوگ غزلیں بھی کہہ لیا کرتے تھے۔ غزلیہ شاعری کے تعلق سے یہ زمانہ ذرا مشکل تھا پھر بھی مخدوم، مجروح ، جمیل مظہری، فراق ، جذبی، مجاز اور فیض نے غزلیہ شاعری میں اسالیب کا ایک نیا نقش پیدا کیا۔ تعجب ہے ان لوگوں نے کلاسیکی لفظیات میں ہی رنگ و آہنگ کا ایک ایسا اسلوب اخذ کیا جو ہر اعتبار سے ماقبل شاعری میں اضافے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں اشعار پیش کرنا ضروری نہیں اسے ہر اہل نظر محسوس کرتے ہیں۔ اس لئے اس سے قطع تعلق میرا خیال ہے کہ ترقی پسند شاعری کی تکنیک ہمیں دو طرح کے اسلوب سے آشنا کراتی ہے ۔ اسے ہم اجتماعی اسلوب اور انفرادی اسلوب کہہ سکتے ہیں۔

اجتماعی اسلوب فنکار کا ایک ایسا اسلو ب ہوتا ہے جسے فنکار اپنے عہد کے رجحانوں کی پیروی میں اخذ کرتا ہے ۔ اس تعلق سے فنکار اپنے موضوعات کو پیش کرتے ہوئے میلان و رجحان یا پھر اپنے زمانے کی تحریک کا محتاج ہوتا ہے۔ یہ محتاجی معاصرین کے مزاج ، لہجہ اور موضوع سے قدر مشترک ہم آہنگی کی وجہ سے راہ پاتی ہے۔ انفرادی اسلوب کا تعلق فنکار کی ذات سے ہے۔ جو ہر لکھنے والے کا بنیادی وصف ہوا کرتا ہے۔ اپنے اس وصف یا طرز اد ا کی بنیاد پر ہی فنکار کیا کہتا ہے؟ اور کیسے کہتا ہے؟ کو ملحوظ رکھتا ہے۔ اس طرح ہر فنکار اپنا ایک علاحدہ اسلوب خلق کرتا ہے۔ فیض کے تعلق سے یہ باتیں اس لئے بھی اہم ہیں کہ آج تک انہیں ترقی پسندنظریوں کے وسیع کینوس میں ہی دیکھا جاتا رہا، حالانکہ اردو غزل کی روایت ہمیشہ سے اس بات کو دہراتی رہی ہے کہ آیا شعر کا تعلق کس کے جذبات سے ہے اور کیوں؟ شاعر کے جذبات سے یا سامع کی جذبات سے یا دونوں کی ملی جلی صورتوں سے۔ ارباب ادب نے دنیا کی تمام جذباتی شاعری میں ایک بات قدر مشترک تسلیم کیا ہے کہ شاعر اور سامع کے جذبات کی ملی جلی صورتیں ہی اہم اور وقیع ہیں کہ ہر دور کا اپنا اک تقاضا ہے ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ شاعری شاعر کی جان ہوا کرتی ہے ا س لئے اس کی قدر ومنزلت لازمی ہے۔ ہمیں اس کا احساس ان کے اسلوب سے ہوتا ہے کہ اسلوب ہی شاعری اور شاعر کے خصائص کو واضح کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ فیض کی غزلیہ شاعری میں تراکیب لفظی، صرفی، نحوی اور صنائع و بدائع کی تکنیک میں ایک انفرادی رنگ ہے۔ یہ رنگ ان کی شاعری کے داخلی خصائص کو بھی واضح کرتا ہے۔ ملاحظہ ہو چند اشعار:

نہ جانے کس لئے امید وار بیٹھا ہوں

اک ایسی راہ پہ جو تیری رہگذر بھی نہیں

میری خاموشیوں میں لرزاں ہے

میرے نالوں کی گم شدہ آواز

تمہاری ہر نظر سے منسلک ہے رشتۂ ہستی

مگر یہ دور کی باتیں کوئی نادان کیا سمجھے

فریب آرزو کی سہل انگاری نہیں جاتی

ہم اپنے دل کی دھڑکن کو تیری آواز پا سمجھے

ہم پر تمہای چاہ کا الزام ہی تو ہے

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے

چلے بھی آئو کہ گلشن کا کاروبار چلے

رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام

موسم گل ،ہے تمہارے بام پر آنے کا نام

جو محتسب کی خیر، اونچا ہے اسی کے فیض سے

رند کا، ساقی کا، مے کا، خم کا پیمانے کا نام

چمن پہ غارت گلچیں سے جانے کیا گذری

قفس سے آج صبا بے قرار گذری ہے

صبا نے پھر در زنداں پہ آکے دستک دی

سحر قریب ہے دل سے کہو نہ گھبرائے

غزل کے مذکورہ اشعار میں مانوسیت ، اقلیمی طلسم اور یادوں کی دلکش فضائوں کے ساتھ نئی زندگی کی تخریب و تعمیر سے ٹکراتی ہوئی پر انتشار فضا ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ ماضی کی یادوں کو جدید حسیت کے پیراہن میں پیش کرنے کے لئے فیض نے انفرادی رویوں کو بروئے کار لایا ہے۔ اس سے فضا آفرینی، تہذیب کی زبوں حالی اور معنی کی تہہ داری کے نئے امکانات وا ہوگئے ہیں۔ فیض کے یہاں ایسا ہی کچھ ان کی نظمیہ شاعری کی پہچان ہے۔ ان کی نظمیہ شاعری کے تعلق سے عام طور پر کبھی کبھار یہ گمان غالب ہوجاتا ہے کہ فیض کی یہ غزلیہ شاعری کا ٹکڑا ہے یا نظمیہ شاعری کا۔ یہ مسئلہ علامہ اقبال کے یہاں بھی ہے اور کثرت سے ہے لیکن فیض زمانے کے ارضی نقش و نگار میں ایسے محو نظر آتے ہیں کہ اقبال سے خود بخود ممتاز ہوجاتے ہیں۔ مجھے چونکہ فیض کی غزلیہ شاعری کے حوالے سے خامہ فرسائی کرنا ہے اس لئے اس نکتہ کو یہیں چھوڑتا ہوں۔ لیکن ایک بات عرض کئے دیتا ہوں کہ مسلسل غزل ابتدا سے ہی اردو شاعری کی روایت رہی ہے۔ مثلاً قلی قطب شاہ ، نظیر اکبر آبادی ، انشا ، مصحفی ، اقبال ، وغیرہ ،کہ جس پر عنوان لگادیا جائے تو غزلیہ شاعری کے فارم میں نظم لگے گی ۔ فیض نے بھی غزلیہ شاعری کے باب میں اس سا  لمیت کو برقرار رکھا ہے۔ مثلاً

گلوںمیں رنگ بھرے باد نو بہار چلے

چلے بھی آئو کہ گلشن کا کاروبار چلے

رنگ پیراہن کا، خوشبو زلف لہرانے کا نام

موسم گل، ہے تمہارے بام پر آنے کا نام

ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے

دشنام تو نہیں ہے یہ اکرام ہی تو ہے

اور بھی غزلیں ہیں جس کا حوالہ دیا جاسکتا ہے لیکن ۔۔۔۔۔حقیقت میں غزل کا ہر شعر اپنی جگہ مکمل اور خود مختار ہوتا ہے۔ لیکن شعر کی خود مختاری اور منفرد تقاضوں پر مبنی التزام اسے ایک موڈ، ایک آہنگ ، ایک فضا کے ایسے طلسمی ڈورے میں باندھ دیتی ہے کہ مسلسل غزل پر نظم کا گمان غالب ہوجاتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ فیض کی غزلوں کے رنگ و آہنگ کا تعین ناقدین و شارحین کے نزدیک حتمی نہیں۔ اس لئے کہ ہر آفاقی اور عالمی شاعری نظریاتی دائروں کے اصول سے پڑے ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کی غزلیں اک نئے زاویئے سے مطالعے کا تقاضا کرتی ہیں۔عام طور پر جد ت ادا اور انفرادی لب ولہجہ ہر اک شاعر کا پیدائشی وصف ہوا کرتا ہے۔ سو فیض کے یہاں بھی یہ چیزیں پائی جاتی ہیں ۔ ان کی یہ انفرادیت موضوع سے لے کر ان کے احساس ، فضا آفرینی، تہہ داری اور لب ولہجہ کے تمام پہلو پر محیط ہے۔ لیکن انداز اور انداز پیشکش کے متعلق خود فیض نے یہ احساس دلایا ہے کہ:

ہم نے جو طرز فغاں قفس میں کی ہے ایجاد

فیض گلشن میں وہی طرز بیاں ٹھہری ہے

میرا خیال ہے کہ فغاں والی کیفیت حرماں نصیبی ، احساس محرومی اور بے بسی کے عالم میں تکمیل آرزو کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ لیکن فیض کی شاعری میں تکمیل آرزو کا اشارہ تو ہے پر طرز فغاں سے در آنے والی کیفیت نظر نہیں آتی ۔ بلکہ طمانیت ، صبر و سکون، چین و قرار اور اک توانا احساس مضمر نظر آتا ہے۔ شاعر ایک گوشت پوست کا متحرک اک بیدار مغزانسان ہے۔ جس کا تعلق اس دارفانی سے ہے جہاں پر ہر مخلوق اپنی کیفیت کے پیش نظر اردو گرد کے ماحول سے برسر پیکار ہے۔ انسانی ضرورتوں، فطری رہنمائوں کی ایک ارضی سچائی ہے جس سے فیض لگاتار جوجھتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاعرمختلف وقتوں میں مختلف احساس سے دو چار ہوئے ہیں۔ اور اس تعلق سے نامعلوم کیفیتوں ، خواہشوں کی اور خیالوں کی دنیا آباد کئے ہیں۔ یہ انجانی اور ان کہی باتیں ہی ان کی شاعری کے اوصاف ہیں جسے فیض نے رمزیہ اسلوب کے پیرائے میں بیان کیا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہو:

پھر نکلا ہے دیوانہ کوئی پھونک کے گھر کو

کچھ کہتی ہے ہر راہ ہر اک راہگذر سے

قفس اداس ہے، یارو صبا سے کچھ تو کہو

کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے

ہم اہل قفس تنہا بھی نہیں، ہر روز نسیم صبح وطن

یادوں سے معطر آتی ہے اشکوں سے منور جاتی ہے

متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے

کہ خونِ دل میں ڈبولی ہیں انگلیاں میں نے

تم آئے ہو نہ شب انتظار گذری ہے

تلاش میں ہے سحر، بار بار گذری ہے

نہ گل کھلے ہیں نہ ان سے ملے نہ مے پی ہے

عجیب رنگ میں اب کے بہار گذری ہے

تم آرہے ہو کہ بجتی ہیں میری زنجیریں

نہ جانے کیا مرے دیوار و بام کہتے ہیں

صبا نے پھر در زنداں پہ آکے دستک دی

سحر قریب ہے دل سے کہو نہ گھبرائے

شفق کی راکھ میں جل بجھ گیا ستارئہ شام

شب فراق کے گیسو فضا میں لہرائے

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات ان کو بہت ناگوار گذری ہے

آخر شب کے ہم سفر فیض نہ جانے کیا ہوئے

رہ گئی کس جگہ صبا، صبح کدھر نکل گئی

دوستو اس چشم ولب کی کچھ کہو جس کے بغیر

گلستاں کی بات رنگیں ہے نہ میخانے کا نام

مری چشم تن آساں کو بصیرت مل گئی جب سے

بہت جانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی

عشق جب دل میں رہے تو رسوا ہو

لب پہ آئے تو راز ہوجائے

سچ پوچھئے تو زندگی میں فنا ہوکر زندہ رہنا بہت مشکل ہے لیکن فیض نے اس مشکل کو اپنے لئے آسان بنالیا تھا کہ ’’رنج کا خوگر ہو انسان تو مٹ جاتا ہے رنج‘‘ یہ قید و بند کا ہی تقاضا تھا کہ انہوں نے اپنے خیالات و جذبات کو رمزیہ اسلوب کا ایک حسیں پیکر عطا کیا۔ مثلاً

دل میں مختلف تار کا ہونا؍خون دل میں انگلیوں کو ڈبو لینا؍ان کہی باتوں کا ناگوار گذرنا؍ اک عجیب سی رنگ میں بہار کا گذرنا؍ قفس سے صبا کا بیقرار گذرنا ؍ ہر اجنبی کومحرم سمجھنا؍ شفق کی راکھ میں شام کے ستاروں کاجل بجھ جانا؍ صبا کا در زنداں پہ دستک دینا ؍ نظر میں پھول کا مہکنا؍خون کی مہک کو لب یار کی خوشبو پر قیاس کرنا؍ اپنے دل کی دھڑکن کو آوازپا سمجھنا  وغیرہ وغیرہ یہ سب شاعرکا ذاتی تصور ہے جسے شاعر نے اپنے ماحول سے اخذ کیا ہے ۔ اس میں زمانے کا شور، مزاج، لہجہ، رنگ ، آہنگ، تصادم، انس، رنجش، شکوہ شکایت، محبت، نفرت اور وہ سارا کچھ ہے جو ایک فعال قوم کی ضامن ہوا کرتی ہے۔

فیض کا مجموعہ ’’نقش فریادی‘‘ ۱۹۴۱ء میں شائع ہوا جس میں ایام جوانی کی دھندلی دھندلی فضا ہے۔ زمانے کے انہیں ایام میں موصوف کا تعلق انقلابی رنگ و آہنگ سے ہوگیا تھا ۔ ا س لئے بھی نقش فریادی اور ان کے دیگر مجموعۂ کلام ’’دست صبا‘‘ ، زنداں نامہ، دست تہ سنگ وغیرہ میں ایک انقلاب پرور رومانی فضا ہے جو تلوار سے بھی زیادہ تیز ہے یقینا’’ پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر‘‘ اس کے لئے فیض نے قربانیاں دی ہیں، بار بار قید و بند کی صعوبتوں سے گذرے ہیں۔ محرومیوں اور اذیتوں کا زہر پیا ہے۔ تب جاکر کے یہ تیزی آئی ہے اس  لئے ان کی شاعری میں خصوصاً غزلیہ شاعری میں رمزیہ اسلوب کا کینوس بہت وسیع ہوگیا ہے۔’’ رمزیت‘‘ شعری لوازم کا ایک وصف ہوا کرتی ہے اس کے بغیر شاعری میں شعریت ممکن نہیں لیکن اس وصف کو فیض نے اپنی پہچان کا حصہ بنایا ہے۔ پچھلے ساٹھ ستر سالہ دور کے اندر جو غزلیہ شاعری کا مزاج ہے اس میں فراق کے بعد سب سے اہم رول فیض کا ہے ۔ اس لئے کہ فیض نے حالات کی جبریت کا احساس جھیلا ہے ۔ سماج میں افراد کے باہمی رشتوں کو محسوس کیا ہے۔ شہری زندگی میں شخصیت کا کچلا جانا، پرسکون گائوں کی فضائو ں میں زہر آلودگی اور سرمایہ دارانہ نظام کی کرامت سب فیض کی آنکھو ں کے سامنے تھے۔ یہ ساری باتیں فیض کے معاصرین نے بھی محسوس کیا لیکن جیل کی سلاخوں سے لگاتار دیکھتے رہنا کسی کے بس کا نہ تھا کہ ’’خون دل میں ڈبولی ہیں انگلیاں میں نے‘‘۔ ان کا یہ رویہ حالات کی جبر کو پیہم جھیلتے رہنے سے پیدا ہوا ہے۔ وہاب ا شرفی ساقی فاروقی کی ایک رائے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’حشر کے میدان میں فیض واحد ترقی پسند شاعر ہیں جو سرا ٹھاکر چل سکتے ہیں‘‘ اور خلیل الرحمن اعظمی کا ماننا ہے کہ ’’ان کی شاعری میں خون جگر کی نمود کچھ اس طرح ہوئی کہ خالص ادب کے پرستاروں نے بھی ان کی فنی اور جمالیاتی خوبیوں کا اعتراف کیا ہے ‘‘۔ خود فیض کو بھی اس کا احساس تھا کہ

میری خاموشیوں میں لرزاں ہے

میرے نالوں کی گمشدہ آواز

یہ صحیح ہے کہ ان کی غزلوں میں اداسی ہے ، ظلم و بربریت ہے ۔ ناانصافی ہے اور سیاسی دباؤ کے خلاف ایک خاموش احتجاج ہے۔ لیکن فیض نے اس موضوعات کو برتنے میں روایتی اور کلاسیکی لفظیات کا انتخاب اک خاص انداز میں کیا ہے کہ ہر لفظ اپنے اصل معنی اور مفہوم سے جدا ہوکر بھی جدا نہیں ہے۔ یہ ان کے رمزیہ اسلوب اور اس کی تکنیک کا کمال ہے جسے طرز فغاں کے پیرائے میں اپنی شناخت کا ذریعہ بنایا مثلاً کرداروں کی تشکیل میں جو الفاظ استعمال کئے وہ روایتی ہیں اس تعلق سے جگہ، ماحول، انسانی اعضا، انسانی کیفیت اور قدرتی مناظر کی تشکیل میں جو الفاظ استعمال کئے ہیں وہ بھی روایتی اور کلاسیکی ہیں۔ ملاحظہ ہو:

(الف)            راہگذر،  دیوانہ،  مجنوں،  پاگل،  گدا،  گلچیں،  گل،  ناصح

اجنبی،  محرم،  صنم،  دلبر،  رند،  ساقی،  خرد،  ہم سفر،  درد مند

محتسب وغیرہ

(ب)             قفس ،  زنداں ،  منزل،  کعبہ،  بزم،  میخانہ،  شہر،  گھر

گلی،  مقام،  گلستاں،  راہ،  رہگذر،  در،  کو بکو،  وغیرہ

(ج)              جگر،  انگلی،  نظر،  نگاہ،  گیسو،  زلف،  قدم،  دماغ

(د)               حسن،  عشق،  محبت،  الفت،  راحت،  وفا،  جفا

تصور،  خیال،  حسرت،  رسوا،  ہوس،  نشاط،  ہجر،  وصال

خاموش،  غم،  لرزش،  سوزش،  رنجش،  تڑپ،  گذند

فغاں ،  نالہ،  فریاد،  زخم،  قرار،  بیقرار،  چین،  بے چین

انتظار،  حیران،  پہچان،  راکھ،  بصیرت،  جنوں  وغیرہ

(ذ)               فضا،  صبا،  جلوہ،  بہار،  گرجنا،  کھنکنا،  شجر،  شفق،  خوشبو

صبح،  آسمان،  چاند،  ستارہ  وغیرہ

(ر)               لوح،  قلم،  شراب،  مے،  زنجیر،  دیوار،  دامن،  ساغر  وغیرہ

فیض نے انہیں مفرد الفا ظ میں زمانے کے نقش و نگار کو اجاگر کیا ہے اور مختلف گل بوٹے کھلائے ہیں۔ واضح رہے کہ مفرد الفاظ معنوی فضا اور فضا آفرینی کی کیفیت سے اس وقت تک متاثر نہیں کر سکتا جب تک اسے مرکب لفظوں سے نہ جور دیا جائے۔ اس کے لئے فیض نے بڑی دل جمعی اور جاں سوزی کے ساتھ مرکب الفاظ کے ایسے نمونے لائے جو حقیقتاً روایتی بھی ہے اور نہیں بھی۔ ایسا اس لئے ہوا کہ معاشرہ بدل رہا تھا، تہذیب و تمدن کی نئی صدا دستک دے رہی تھی ایسے ادبی سفر بھی ترقی پسندی سے جدیدیت کی طرف گامزن تھا۔ چنانچہ فیض نے جو اسلوب خلق کیا تھا یعنی رمزیہ اسلوب اس کے لئے مندرجہ ذیل مرکب الفاظ کے استعمال کی تکنیک کار آمد ثابت ہوئی۔ مطلب یہ کہ فیض کے یہاں جو صوتی نغمگی اور معنوی حس ہے اور اس کے رنگ وآہنگ میں جو توانائی اور صد جلوہ رونمائی کی کیفیت ہے وہ اسی وجہ سے ہے۔

گدائے عشق،  حریم ہوس،  دولت حسن،  سکون قلب،  راز الفت،  حسن دو عالم خانہ ویرانی،  چشم حیراں،  چشم تن آساں،  متاع لوح و قلم،  خون دل،  شب انتظار  حدیث یار، علاج درد،  دست صیاد،  بوئے گل،  کوچۂ قاتل،  درد دل،  شام فراق  گمشدہ آواز  وغیرہ

کہنے کوتو بہت کچھ ہے لیکن ۔۔۔۔؟مختصر یہ کہ فیض رمزیہ اسلوب کے وسیع دائرہ میں رہ کر شعری لوازم کے برتنے کی تکنیک کو بحسن و خوبی سمجھتے تھے ۔ ورنہ روایتی لفظیات و علائم، تشبیہات و استعارات اور علامتوں کی پیکر تراشی میں غزلیہ شاعری کے مروجہ لغت سے انحراف کی صورت پیدا ہی نہیں ہوتی۔ ان کی شاعری کی جو لفظیات ہے اسے اردو غزل کے شعرا ابتدا سے ہی استعمال کرتے رہے ہیں۔ لیکن فیض نے تجربے کی صداقت، تخیل کی انفرادیت اور شخصیت کی آنچ سے محض روایتی نہیں رکھا تو اس کا جواز کیا ہے؟ یہ شاعر کا اسلوب ہے جو رمزیت کے صد رنگ پیرائے میں ادا ہوا ہے۔ فیض کے یہاں ایسے اشعار بھی ہیں جس کی معنویت قدیم تصورات کو پیش کرتے ہیں۔ لیکن فیض کی شعری تکنیک سامع یا قاری کے ذہنوں کو قدیم تصورات سے گریز کرنے پر مجبور کر دیتی ہے اس لئے فیض کو رمزیہ اسلوب کا متحرم شاعر تسلیم کیا جانا چاہئے۔

٭٭٭

Dr. Mustafiz Ahad Arfi

Assistant Professor

Department of Urdu

L.S.College, Muzaffarpur – 842001

Mob: 9955722260

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
بھوپال کی خطاط مدثرہ ندیم نے بنایا ورلڈ ریکارڈ
اگلی پوسٹ
حکیم وسیم احمد اعظمی : اپنی طبی تصانیف کے آئینے میں – انصار احمد معروفی

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں