ترقی پسندی ایک نظریہ ہے جو انسانی ضرورتوں پر مبنی ہے۔ مادیت اور ارضیت سے رشتہ استوار کرنا اس کی سرشت میں داخل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کائنات اور انسان کے درمیان جو رشتہ استوار ہے وہ ہر لحاظ سے حرکی اور انسانیت کی جدلی تاریخ کا نچوڑ ہے۔ جب اس تصور کر شعر وادب نے مستعار لیا تو اس کی صورت ہر اعتبار سے بدل گئی۔ اس لئے شاعری جب حکمت و دانائی سے رشتہ استوار کرتی ہے تو نہ صرف خیال بلکہ اس کے لوازم کو بھی کشید کرلیتی ہے ۔ اردو شعر وادب نے جب یہ دانائی اختیار کیا تو صورت دگر گوں تھی۔ اس لئے کہ اردو میں ترقی پسند شعراء نے تخلیقی سطح پر اس اشتراکی نظریے کو اپنی فکر کو محور بنایا تھا جو انسانی دلچسپیوں اور مشاغل کے وسیع تر کرّے پر رقصاں تھیں۔ ایسا اس لئے ہوا کہ اردو میں ترقی پسندی کے انتظامی عروج کا زمانہ مختصر گذرا ہے۔ تقریباً ۱۹۳۶ء سے ۱۹۴۷ء تک کا عرصہ بہت زیادہ نہیں ہوتا۔ تقسیم ہند کے بعد ترقی پسند ی کی حیثیت ثانوی تسلیم کی گئی لیکن اس کی جمالیت ہنوز باقی تھی ۔ اس حیثیت سے اس کے اثرات دور تک اور دیر تک ہوتے رہے۔ میرا ماننا ہے کہ تقسیم ہند کے بعد ۱۹۷۰ء سے پہلے تک کے اہم شعراء اس تحریک کے پروردہ ہیں۔ مثلاً سردار جعفری، مخدوم محی الدین، فیض احمد فیض، اسرار الحق مجاز، جمیل مظہری، معین احسن جذبی، مجروح سلطان پوری، فراق گورکھپوری ، ساحر لدھیانوی ، کیفی اعظمی، پرویزشاہدی، احمد ندیم قاسمی اور دیگر غزل گو شعراء اس تحریک کے نمائندہ شعرا ء ہیں۔ ان لوگوں میں مجروح کے سوا جو بھی تھے سب کے سب ترقی پسندی کی نظریاتی اور انقلابی فضائوں میں نظم گوئی کو اپنے اظہار کا موثر ذریعہ بنایا تھا ۔ ان لوگوں کو اس میں کامیابی بھی ملی ۔ اس سب کے باوجود یہ لوگ غزلیں بھی کہہ لیا کرتے تھے۔ غزلیہ شاعری کے تعلق سے یہ زمانہ ذرا مشکل تھا پھر بھی مخدوم، مجروح ، جمیل مظہری، فراق ، جذبی، مجاز اور فیض نے غزلیہ شاعری میں اسالیب کا ایک نیا نقش پیدا کیا۔ تعجب ہے ان لوگوں نے کلاسیکی لفظیات میں ہی رنگ و آہنگ کا ایک ایسا اسلوب اخذ کیا جو ہر اعتبار سے ماقبل شاعری میں اضافے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں اشعار پیش کرنا ضروری نہیں اسے ہر اہل نظر محسوس کرتے ہیں۔ اس لئے اس سے قطع تعلق میرا خیال ہے کہ ترقی پسند شاعری کی تکنیک ہمیں دو طرح کے اسلوب سے آشنا کراتی ہے ۔ اسے ہم اجتماعی اسلوب اور انفرادی اسلوب کہہ سکتے ہیں۔
اجتماعی اسلوب فنکار کا ایک ایسا اسلو ب ہوتا ہے جسے فنکار اپنے عہد کے رجحانوں کی پیروی میں اخذ کرتا ہے ۔ اس تعلق سے فنکار اپنے موضوعات کو پیش کرتے ہوئے میلان و رجحان یا پھر اپنے زمانے کی تحریک کا محتاج ہوتا ہے۔ یہ محتاجی معاصرین کے مزاج ، لہجہ اور موضوع سے قدر مشترک ہم آہنگی کی وجہ سے راہ پاتی ہے۔ انفرادی اسلوب کا تعلق فنکار کی ذات سے ہے۔ جو ہر لکھنے والے کا بنیادی وصف ہوا کرتا ہے۔ اپنے اس وصف یا طرز اد ا کی بنیاد پر ہی فنکار کیا کہتا ہے؟ اور کیسے کہتا ہے؟ کو ملحوظ رکھتا ہے۔ اس طرح ہر فنکار اپنا ایک علاحدہ اسلوب خلق کرتا ہے۔ فیض کے تعلق سے یہ باتیں اس لئے بھی اہم ہیں کہ آج تک انہیں ترقی پسندنظریوں کے وسیع کینوس میں ہی دیکھا جاتا رہا، حالانکہ اردو غزل کی روایت ہمیشہ سے اس بات کو دہراتی رہی ہے کہ آیا شعر کا تعلق کس کے جذبات سے ہے اور کیوں؟ شاعر کے جذبات سے یا سامع کی جذبات سے یا دونوں کی ملی جلی صورتوں سے۔ ارباب ادب نے دنیا کی تمام جذباتی شاعری میں ایک بات قدر مشترک تسلیم کیا ہے کہ شاعر اور سامع کے جذبات کی ملی جلی صورتیں ہی اہم اور وقیع ہیں کہ ہر دور کا اپنا اک تقاضا ہے ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ شاعری شاعر کی جان ہوا کرتی ہے ا س لئے اس کی قدر ومنزلت لازمی ہے۔ ہمیں اس کا احساس ان کے اسلوب سے ہوتا ہے کہ اسلوب ہی شاعری اور شاعر کے خصائص کو واضح کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ فیض کی غزلیہ شاعری میں تراکیب لفظی، صرفی، نحوی اور صنائع و بدائع کی تکنیک میں ایک انفرادی رنگ ہے۔ یہ رنگ ان کی شاعری کے داخلی خصائص کو بھی واضح کرتا ہے۔ ملاحظہ ہو چند اشعار:
نہ جانے کس لئے امید وار بیٹھا ہوں
اک ایسی راہ پہ جو تیری رہگذر بھی نہیں
میری خاموشیوں میں لرزاں ہے
میرے نالوں کی گم شدہ آواز
تمہاری ہر نظر سے منسلک ہے رشتۂ ہستی
مگر یہ دور کی باتیں کوئی نادان کیا سمجھے
فریب آرزو کی سہل انگاری نہیں جاتی
ہم اپنے دل کی دھڑکن کو تیری آواز پا سمجھے
ہم پر تمہای چاہ کا الزام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
چلے بھی آئو کہ گلشن کا کاروبار چلے
رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام
موسم گل ،ہے تمہارے بام پر آنے کا نام
جو محتسب کی خیر، اونچا ہے اسی کے فیض سے
رند کا، ساقی کا، مے کا، خم کا پیمانے کا نام
چمن پہ غارت گلچیں سے جانے کیا گذری
قفس سے آج صبا بے قرار گذری ہے
صبا نے پھر در زنداں پہ آکے دستک دی
سحر قریب ہے دل سے کہو نہ گھبرائے
غزل کے مذکورہ اشعار میں مانوسیت ، اقلیمی طلسم اور یادوں کی دلکش فضائوں کے ساتھ نئی زندگی کی تخریب و تعمیر سے ٹکراتی ہوئی پر انتشار فضا ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ ماضی کی یادوں کو جدید حسیت کے پیراہن میں پیش کرنے کے لئے فیض نے انفرادی رویوں کو بروئے کار لایا ہے۔ اس سے فضا آفرینی، تہذیب کی زبوں حالی اور معنی کی تہہ داری کے نئے امکانات وا ہوگئے ہیں۔ فیض کے یہاں ایسا ہی کچھ ان کی نظمیہ شاعری کی پہچان ہے۔ ان کی نظمیہ شاعری کے تعلق سے عام طور پر کبھی کبھار یہ گمان غالب ہوجاتا ہے کہ فیض کی یہ غزلیہ شاعری کا ٹکڑا ہے یا نظمیہ شاعری کا۔ یہ مسئلہ علامہ اقبال کے یہاں بھی ہے اور کثرت سے ہے لیکن فیض زمانے کے ارضی نقش و نگار میں ایسے محو نظر آتے ہیں کہ اقبال سے خود بخود ممتاز ہوجاتے ہیں۔ مجھے چونکہ فیض کی غزلیہ شاعری کے حوالے سے خامہ فرسائی کرنا ہے اس لئے اس نکتہ کو یہیں چھوڑتا ہوں۔ لیکن ایک بات عرض کئے دیتا ہوں کہ مسلسل غزل ابتدا سے ہی اردو شاعری کی روایت رہی ہے۔ مثلاً قلی قطب شاہ ، نظیر اکبر آبادی ، انشا ، مصحفی ، اقبال ، وغیرہ ،کہ جس پر عنوان لگادیا جائے تو غزلیہ شاعری کے فارم میں نظم لگے گی ۔ فیض نے بھی غزلیہ شاعری کے باب میں اس سا لمیت کو برقرار رکھا ہے۔ مثلاً
گلوںمیں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
چلے بھی آئو کہ گلشن کا کاروبار چلے
رنگ پیراہن کا، خوشبو زلف لہرانے کا نام
موسم گل، ہے تمہارے بام پر آنے کا نام
ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
دشنام تو نہیں ہے یہ اکرام ہی تو ہے
اور بھی غزلیں ہیں جس کا حوالہ دیا جاسکتا ہے لیکن ۔۔۔۔۔حقیقت میں غزل کا ہر شعر اپنی جگہ مکمل اور خود مختار ہوتا ہے۔ لیکن شعر کی خود مختاری اور منفرد تقاضوں پر مبنی التزام اسے ایک موڈ، ایک آہنگ ، ایک فضا کے ایسے طلسمی ڈورے میں باندھ دیتی ہے کہ مسلسل غزل پر نظم کا گمان غالب ہوجاتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ فیض کی غزلوں کے رنگ و آہنگ کا تعین ناقدین و شارحین کے نزدیک حتمی نہیں۔ اس لئے کہ ہر آفاقی اور عالمی شاعری نظریاتی دائروں کے اصول سے پڑے ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کی غزلیں اک نئے زاویئے سے مطالعے کا تقاضا کرتی ہیں۔عام طور پر جد ت ادا اور انفرادی لب ولہجہ ہر اک شاعر کا پیدائشی وصف ہوا کرتا ہے۔ سو فیض کے یہاں بھی یہ چیزیں پائی جاتی ہیں ۔ ان کی یہ انفرادیت موضوع سے لے کر ان کے احساس ، فضا آفرینی، تہہ داری اور لب ولہجہ کے تمام پہلو پر محیط ہے۔ لیکن انداز اور انداز پیشکش کے متعلق خود فیض نے یہ احساس دلایا ہے کہ:
ہم نے جو طرز فغاں قفس میں کی ہے ایجاد
فیض گلشن میں وہی طرز بیاں ٹھہری ہے
میرا خیال ہے کہ فغاں والی کیفیت حرماں نصیبی ، احساس محرومی اور بے بسی کے عالم میں تکمیل آرزو کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ لیکن فیض کی شاعری میں تکمیل آرزو کا اشارہ تو ہے پر طرز فغاں سے در آنے والی کیفیت نظر نہیں آتی ۔ بلکہ طمانیت ، صبر و سکون، چین و قرار اور اک توانا احساس مضمر نظر آتا ہے۔ شاعر ایک گوشت پوست کا متحرک اک بیدار مغزانسان ہے۔ جس کا تعلق اس دارفانی سے ہے جہاں پر ہر مخلوق اپنی کیفیت کے پیش نظر اردو گرد کے ماحول سے برسر پیکار ہے۔ انسانی ضرورتوں، فطری رہنمائوں کی ایک ارضی سچائی ہے جس سے فیض لگاتار جوجھتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاعرمختلف وقتوں میں مختلف احساس سے دو چار ہوئے ہیں۔ اور اس تعلق سے نامعلوم کیفیتوں ، خواہشوں کی اور خیالوں کی دنیا آباد کئے ہیں۔ یہ انجانی اور ان کہی باتیں ہی ان کی شاعری کے اوصاف ہیں جسے فیض نے رمزیہ اسلوب کے پیرائے میں بیان کیا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہو:
پھر نکلا ہے دیوانہ کوئی پھونک کے گھر کو
کچھ کہتی ہے ہر راہ ہر اک راہگذر سے
قفس اداس ہے، یارو صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے
ہم اہل قفس تنہا بھی نہیں، ہر روز نسیم صبح وطن
یادوں سے معطر آتی ہے اشکوں سے منور جاتی ہے
متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خونِ دل میں ڈبولی ہیں انگلیاں میں نے
تم آئے ہو نہ شب انتظار گذری ہے
تلاش میں ہے سحر، بار بار گذری ہے
نہ گل کھلے ہیں نہ ان سے ملے نہ مے پی ہے
عجیب رنگ میں اب کے بہار گذری ہے
تم آرہے ہو کہ بجتی ہیں میری زنجیریں
نہ جانے کیا مرے دیوار و بام کہتے ہیں
صبا نے پھر در زنداں پہ آکے دستک دی
سحر قریب ہے دل سے کہو نہ گھبرائے
شفق کی راکھ میں جل بجھ گیا ستارئہ شام
شب فراق کے گیسو فضا میں لہرائے
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گذری ہے
آخر شب کے ہم سفر فیض نہ جانے کیا ہوئے
رہ گئی کس جگہ صبا، صبح کدھر نکل گئی
دوستو اس چشم ولب کی کچھ کہو جس کے بغیر
گلستاں کی بات رنگیں ہے نہ میخانے کا نام
مری چشم تن آساں کو بصیرت مل گئی جب سے
بہت جانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی
عشق جب دل میں رہے تو رسوا ہو
لب پہ آئے تو راز ہوجائے
سچ پوچھئے تو زندگی میں فنا ہوکر زندہ رہنا بہت مشکل ہے لیکن فیض نے اس مشکل کو اپنے لئے آسان بنالیا تھا کہ ’’رنج کا خوگر ہو انسان تو مٹ جاتا ہے رنج‘‘ یہ قید و بند کا ہی تقاضا تھا کہ انہوں نے اپنے خیالات و جذبات کو رمزیہ اسلوب کا ایک حسیں پیکر عطا کیا۔ مثلاً
دل میں مختلف تار کا ہونا؍خون دل میں انگلیوں کو ڈبو لینا؍ان کہی باتوں کا ناگوار گذرنا؍ اک عجیب سی رنگ میں بہار کا گذرنا؍ قفس سے صبا کا بیقرار گذرنا ؍ ہر اجنبی کومحرم سمجھنا؍ شفق کی راکھ میں شام کے ستاروں کاجل بجھ جانا؍ صبا کا در زنداں پہ دستک دینا ؍ نظر میں پھول کا مہکنا؍خون کی مہک کو لب یار کی خوشبو پر قیاس کرنا؍ اپنے دل کی دھڑکن کو آوازپا سمجھنا وغیرہ وغیرہ یہ سب شاعرکا ذاتی تصور ہے جسے شاعر نے اپنے ماحول سے اخذ کیا ہے ۔ اس میں زمانے کا شور، مزاج، لہجہ، رنگ ، آہنگ، تصادم، انس، رنجش، شکوہ شکایت، محبت، نفرت اور وہ سارا کچھ ہے جو ایک فعال قوم کی ضامن ہوا کرتی ہے۔
فیض کا مجموعہ ’’نقش فریادی‘‘ ۱۹۴۱ء میں شائع ہوا جس میں ایام جوانی کی دھندلی دھندلی فضا ہے۔ زمانے کے انہیں ایام میں موصوف کا تعلق انقلابی رنگ و آہنگ سے ہوگیا تھا ۔ ا س لئے بھی نقش فریادی اور ان کے دیگر مجموعۂ کلام ’’دست صبا‘‘ ، زنداں نامہ، دست تہ سنگ وغیرہ میں ایک انقلاب پرور رومانی فضا ہے جو تلوار سے بھی زیادہ تیز ہے یقینا’’ پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر‘‘ اس کے لئے فیض نے قربانیاں دی ہیں، بار بار قید و بند کی صعوبتوں سے گذرے ہیں۔ محرومیوں اور اذیتوں کا زہر پیا ہے۔ تب جاکر کے یہ تیزی آئی ہے اس لئے ان کی شاعری میں خصوصاً غزلیہ شاعری میں رمزیہ اسلوب کا کینوس بہت وسیع ہوگیا ہے۔’’ رمزیت‘‘ شعری لوازم کا ایک وصف ہوا کرتی ہے اس کے بغیر شاعری میں شعریت ممکن نہیں لیکن اس وصف کو فیض نے اپنی پہچان کا حصہ بنایا ہے۔ پچھلے ساٹھ ستر سالہ دور کے اندر جو غزلیہ شاعری کا مزاج ہے اس میں فراق کے بعد سب سے اہم رول فیض کا ہے ۔ اس لئے کہ فیض نے حالات کی جبریت کا احساس جھیلا ہے ۔ سماج میں افراد کے باہمی رشتوں کو محسوس کیا ہے۔ شہری زندگی میں شخصیت کا کچلا جانا، پرسکون گائوں کی فضائو ں میں زہر آلودگی اور سرمایہ دارانہ نظام کی کرامت سب فیض کی آنکھو ں کے سامنے تھے۔ یہ ساری باتیں فیض کے معاصرین نے بھی محسوس کیا لیکن جیل کی سلاخوں سے لگاتار دیکھتے رہنا کسی کے بس کا نہ تھا کہ ’’خون دل میں ڈبولی ہیں انگلیاں میں نے‘‘۔ ان کا یہ رویہ حالات کی جبر کو پیہم جھیلتے رہنے سے پیدا ہوا ہے۔ وہاب ا شرفی ساقی فاروقی کی ایک رائے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’حشر کے میدان میں فیض واحد ترقی پسند شاعر ہیں جو سرا ٹھاکر چل سکتے ہیں‘‘ اور خلیل الرحمن اعظمی کا ماننا ہے کہ ’’ان کی شاعری میں خون جگر کی نمود کچھ اس طرح ہوئی کہ خالص ادب کے پرستاروں نے بھی ان کی فنی اور جمالیاتی خوبیوں کا اعتراف کیا ہے ‘‘۔ خود فیض کو بھی اس کا احساس تھا کہ
میری خاموشیوں میں لرزاں ہے
میرے نالوں کی گمشدہ آواز
یہ صحیح ہے کہ ان کی غزلوں میں اداسی ہے ، ظلم و بربریت ہے ۔ ناانصافی ہے اور سیاسی دباؤ کے خلاف ایک خاموش احتجاج ہے۔ لیکن فیض نے اس موضوعات کو برتنے میں روایتی اور کلاسیکی لفظیات کا انتخاب اک خاص انداز میں کیا ہے کہ ہر لفظ اپنے اصل معنی اور مفہوم سے جدا ہوکر بھی جدا نہیں ہے۔ یہ ان کے رمزیہ اسلوب اور اس کی تکنیک کا کمال ہے جسے طرز فغاں کے پیرائے میں اپنی شناخت کا ذریعہ بنایا مثلاً کرداروں کی تشکیل میں جو الفاظ استعمال کئے وہ روایتی ہیں اس تعلق سے جگہ، ماحول، انسانی اعضا، انسانی کیفیت اور قدرتی مناظر کی تشکیل میں جو الفاظ استعمال کئے ہیں وہ بھی روایتی اور کلاسیکی ہیں۔ ملاحظہ ہو:
(الف) راہگذر، دیوانہ، مجنوں، پاگل، گدا، گلچیں، گل، ناصح
اجنبی، محرم، صنم، دلبر، رند، ساقی، خرد، ہم سفر، درد مند
محتسب وغیرہ
(ب) قفس ، زنداں ، منزل، کعبہ، بزم، میخانہ، شہر، گھر
گلی، مقام، گلستاں، راہ، رہگذر، در، کو بکو، وغیرہ
(ج) جگر، انگلی، نظر، نگاہ، گیسو، زلف، قدم، دماغ
(د) حسن، عشق، محبت، الفت، راحت، وفا، جفا
تصور، خیال، حسرت، رسوا، ہوس، نشاط، ہجر، وصال
خاموش، غم، لرزش، سوزش، رنجش، تڑپ، گذند
فغاں ، نالہ، فریاد، زخم، قرار، بیقرار، چین، بے چین
انتظار، حیران، پہچان، راکھ، بصیرت، جنوں وغیرہ
(ذ) فضا، صبا، جلوہ، بہار، گرجنا، کھنکنا، شجر، شفق، خوشبو
صبح، آسمان، چاند، ستارہ وغیرہ
(ر) لوح، قلم، شراب، مے، زنجیر، دیوار، دامن، ساغر وغیرہ
فیض نے انہیں مفرد الفا ظ میں زمانے کے نقش و نگار کو اجاگر کیا ہے اور مختلف گل بوٹے کھلائے ہیں۔ واضح رہے کہ مفرد الفاظ معنوی فضا اور فضا آفرینی کی کیفیت سے اس وقت تک متاثر نہیں کر سکتا جب تک اسے مرکب لفظوں سے نہ جور دیا جائے۔ اس کے لئے فیض نے بڑی دل جمعی اور جاں سوزی کے ساتھ مرکب الفاظ کے ایسے نمونے لائے جو حقیقتاً روایتی بھی ہے اور نہیں بھی۔ ایسا اس لئے ہوا کہ معاشرہ بدل رہا تھا، تہذیب و تمدن کی نئی صدا دستک دے رہی تھی ایسے ادبی سفر بھی ترقی پسندی سے جدیدیت کی طرف گامزن تھا۔ چنانچہ فیض نے جو اسلوب خلق کیا تھا یعنی رمزیہ اسلوب اس کے لئے مندرجہ ذیل مرکب الفاظ کے استعمال کی تکنیک کار آمد ثابت ہوئی۔ مطلب یہ کہ فیض کے یہاں جو صوتی نغمگی اور معنوی حس ہے اور اس کے رنگ وآہنگ میں جو توانائی اور صد جلوہ رونمائی کی کیفیت ہے وہ اسی وجہ سے ہے۔
گدائے عشق، حریم ہوس، دولت حسن، سکون قلب، راز الفت، حسن دو عالم خانہ ویرانی، چشم حیراں، چشم تن آساں، متاع لوح و قلم، خون دل، شب انتظار حدیث یار، علاج درد، دست صیاد، بوئے گل، کوچۂ قاتل، درد دل، شام فراق گمشدہ آواز وغیرہ
کہنے کوتو بہت کچھ ہے لیکن ۔۔۔۔؟مختصر یہ کہ فیض رمزیہ اسلوب کے وسیع دائرہ میں رہ کر شعری لوازم کے برتنے کی تکنیک کو بحسن و خوبی سمجھتے تھے ۔ ورنہ روایتی لفظیات و علائم، تشبیہات و استعارات اور علامتوں کی پیکر تراشی میں غزلیہ شاعری کے مروجہ لغت سے انحراف کی صورت پیدا ہی نہیں ہوتی۔ ان کی شاعری کی جو لفظیات ہے اسے اردو غزل کے شعرا ابتدا سے ہی استعمال کرتے رہے ہیں۔ لیکن فیض نے تجربے کی صداقت، تخیل کی انفرادیت اور شخصیت کی آنچ سے محض روایتی نہیں رکھا تو اس کا جواز کیا ہے؟ یہ شاعر کا اسلوب ہے جو رمزیت کے صد رنگ پیرائے میں ادا ہوا ہے۔ فیض کے یہاں ایسے اشعار بھی ہیں جس کی معنویت قدیم تصورات کو پیش کرتے ہیں۔ لیکن فیض کی شعری تکنیک سامع یا قاری کے ذہنوں کو قدیم تصورات سے گریز کرنے پر مجبور کر دیتی ہے اس لئے فیض کو رمزیہ اسلوب کا متحرم شاعر تسلیم کیا جانا چاہئے۔
٭٭٭
Dr. Mustafiz Ahad Arfi
Assistant Professor
Department of Urdu
L.S.College, Muzaffarpur – 842001
Mob: 9955722260
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

